Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas NovelR50675 Teri Yaad Ki Anch (Episode 25)
Rate this Novel
Teri Yaad Ki Anch (Episode 25)
Teri Yaad Ki Anch by Ana Ilyas
بالکل ٹھيک۔ مبارک ہو” فاتک نے اسکی بات پر ايک بار پھر محبت سے اسے گلے لگايا۔
اگر غازی اس کا ساتھ نہ ديتا تو يہ سب کبھی ممکن نہ ہوسکتا۔
لاؤنج سے آتی باتوں کی آواز سے وہ جان گئ تھی کہ غازی آچکا ہے۔
سب کے کپس ٹرے ميں سجاۓ وہ کچن سے باہر آئ۔
غازی کی نظر کچن سے آتی مناب پر پڑی تو وہ احتراما کھڑا ہوگيا۔
اسے استحقاق سے گھر ميں چلتے پھرتے ديکھ کر غازی کو بے حد خوشی ہوئ۔
“کيسے ہو” مناب کے لہجے ميں ہميشہ والی محبتيں گھلی ہوئيں تھيں۔
بھابھی کم اور اس کے لئے ہميشہ اس نے دوست والے انداز اپناۓ تھے۔ صبغہ سے پسنديدگی سے لے کر انکی شادی ہونے تک اس نے ہر طرح سے غازی کا ساتھ ديا تھا۔
وہ کيسے نہ اسکی خوشيوں کے لئے دعا گو ہوتا۔
“بالکل ٹھيک ۔۔۔ويلکم ٹو يور آن ہاؤس” غازی نے بيٹھتے ہوۓ چاۓ کی پہلی چسکی ليتے شرارت سے اسے ديکھ کر کہا۔
مناب کے چہرے پر سنجيدگی کی جگہ ہلکی سی شرم کی لالی بکھری جسے اس نے چہرہ وشہ کی جانب موڑ کر سب سے چھپانے کی کوشش کی۔
“چلو وشہ اب چل کے سوتے ہيں۔ صبح آپ نے سکول بھی جانا ہے” مناب اپناچاۓ کا کپ ختم کرتے ہی اٹھی۔
وشہ کے کھلونے سميٹ کر اسکے ٹوائ باکس ميں ڈالنے لگی۔
“اوکے بھائ ميں بھی اب چلتا ہوں۔ آپ لوگ بھی ريسٹ کريں۔ جلد ہی گھر کا چکر لگانا۔ ہم سب بہت اداس ہوگۓ ہيں آج” اپنا کپ سينٹر ٹيبل پر رکھ کر غازی بھی ان سے اجازت ليتے ہوۓ اٹھا۔ وشہ کے قرب جاکر اسے ڈھير سارا پيار کيا۔
“اب پاپا کے آنے کے بعد چاچو کو نہ بھول جانا” وشہ کے گال کھينچتے اسے مصنوعی غصے سے کہا۔
“نہيں” وہ محبت سے مسکراتے اسکی ٹانگوں سے لپٹ گئ۔
غازی کے جاتے ہی کريم بھی باہر کی جانب لپکا۔
“کريم کہاں رہتا ہے” اسے باہر جاتے ديکھ کر وشہ نے پوچھا۔
“جو بيک يارڈ کی جانب ايريا ہے وہاں ہی پچھلے دنوں کريم نے کنسٹرکشن کروا کر اپنے لئے چھوٹا سا کاٹيج بنوا ليا ہے” مناب کے پوچھنے پر وہ جو دروازے چيک کررہا تھا مڑ کر اسے جواب ديتے ہوۓ کھڑکياں چيک کرنے لگا۔
“صبح ديکھوں گی” مناب خوکلامی کے سے انداز ميں بولی۔
نيند ميں جھومتی وشہ کو گود ميں اٹھايا۔
“پاپا بھی آئيں نا” وشہ کے کہنے پر مناب کے قدم لمحہ بھر کو منجمد ہوۓ۔
يہ تو اس کے وہم و گمان ميں بھی نہ رہا تھا کہ وشہ نہيں جانتی کے انکے درميان کيا طے ہوا ہے۔ نہ ہی ابھی وہ ان باتوں کو سمجھ سکتی ہے۔
وہ تو ان دونوں سے نارمل ماں باپ والا بی ہيوئير چاہے گی۔
فاتک اس کا ٹھٹھکنا نوٹ کرچکا تھا۔
“وشہ ابھی ميں اور آپ بھی تھکے ہوۓ ہيں اور پاپا بھی آج ہم اس روم ميں سو جاتے ہيں کل سے پاپا کے روم ميں سوئيں گے” مناب نےنرمی سے اسے سمجھايا جو اسکی گود ميں اکڑ رہی تھی۔
“نہيں پاپا کے ساتھ سونا ہے” وہ ہاتھ پاؤں چلانے لگی۔
وشہ نے کبھی يوں ضد نہيں کی تھی۔
“وشہ۔۔” مناب نے تنبيہہ کی۔
“اوکے جاؤ۔۔ پاپا کے ساتھ سو جاؤ۔ ميں ابھی آتی ہوں” اسے ٹس سے مس نہ ہوتے ديکھ کر مناب نے وشہ کو گود سے اتار کر فاتک کی جانب بڑھايا۔
اور قدم اپنے کمرے کی جانب موڑے اس سے پہلے کے وہ دروازہ کھول کر اندر جاتی۔
فاتک نے دو قدم تيزی سے آگے بڑھاتے اسے بازو سے پکڑ کر روکا۔
“بچوں کے ساتھ ضد نہيں کرتے۔ جب وہ سو جاۓ گی تب آپ آجانا” فاتک نے رسانيت سے کہتے اسکا بازو پکڑے رخ اپنے کمرے کی جانب کيا۔
مناب ٹھنڈی سانس بھر کر اسکے کمرے ميں داخل ہوئ۔
يہ کمرہ يہاں کی ايک ايک چيز اس نے خود اپنے ہاتھ سے سجائ تھی۔ کيا پتہ تھا کہ ان سب چيزوں کو وہ خود برتے گی۔
وشہ کو لئيے وہ جھجھکتی ہوئ بيڈ کے قريب آئ۔ فاتک نے کمبل کھولا۔
“ميں اس کا نائٹ سوٹ لے آؤں” مناب کچھ ياد آنے پر کمرے سے باہر نکلی۔
کچھ دير بعد واپس آئ تو وشہ مزے سے باپ کے کندھے سے سر ٹکاۓ اسکی باتيں سننے ميں مگن تھی۔ دونوں بيڈ پر نيم دراز بيڈ کی پشت سے سر ٹکاۓ ہوۓ نجانے کيا راز و نياز کررہے تھے۔
مناب کے اندر آتے ہی فاتک اٹھ کر کپڑے بدلنے کی غرض سے ڈريسنگ روم کی جانب بڑھ گيا۔
مناب نے اتنی دير ميں وشہ کو کپڑے بدلواۓ۔
“اب چپ کرکے سوجانا نہيں تو مار لگاؤں گی” فاتک کے آنے سے پہلے مناب نے جلدی سے اسے وارننگ دی۔ اسے وارننگ ديتے مناب کو خود بھی ہنسی آئ۔
جب وشہ نے منہ بسور کر کمبل ميں منہ چھپايا۔
کيسا احساس تھا جو مناب نے پہلی بار محسوس کيا تھا۔
ماؤں والی وہ عادت جب اکثر مائيں باپ سے چھپ کر بچوں کو ڈانٹتی ہيں کہ کہيں باپ کو خبر نہ ہو۔ اور شامت نہ آجاۓ۔ مناب کو ايسا لگا وہ بھی آج پہلی بار ٹيپکل ماؤں والی حرکت کر گئ ہے۔
مسکراتے لب يکدم سکڑے۔
ايسے احساسات صرف شوہر کی موجودگی ميں ہی ہو سکتے ہيں۔ تو کيا واقعی وہ آج پہلی بار نارمل انداز ميں ہر منظر کو ديکھ رہی ہے اور سوچ رہی ہے۔
بيڈ سے ٹيک لگاۓ وشہ کے بالوں ميں ہاتھ پھيرتے وہ اپنی سوچوں ميں مگن تھی۔ جب فاتک نے کمرے ميں آتے سوئچ بورڈ کی جانب بڑھ کر لائٹس بند کيں اور ڈم لائٹ آن کرکے بيڈ کی جانب بڑھا۔
مناب نہ جانے کيا سوچ رہی تھی کہ فاتک کی موجودگی کو محسوس ہی نہ کرپائ۔
جو بيڈ پر بيٹھے محويت سے اسے ديکھنے ميں مگن تھا اور وہ کمبل کے ڈيزائن ميں مگن تھی۔
“اچھا ڈيزائن ہے نا” فاتک کے لہجے ميں شرارت تھی۔
“کيا؟” مناب نے ہونق چہرے سے اسکا سوال سنا۔
“کس کا ڈيزائن” حيرت سے اسے ايسا ديکھا جيسے اسکی دماغی حالت پر شک ہوا ہو۔
“کمبل کا۔۔جس ميں آپ گم تھيں”فاتک نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
“اتنا بھی خوبصورت نہيں”وہ سمجھ گئ کہ اسکی محويت پر فاتک نے چوٹ کيا ہے۔
وشہ کو ايک نظر ديکھا وہ سوچکی تھی۔ اسکے ماتھے پر پيار کرتے وہ اٹھنے لگی جب فاتک کی آواز آئ۔
“يہيں پر کيوں نہيں سوجاتيں” فاتک کی بات پر اس نے مڑ کر اسے ديکھا۔
جس کی آنکھوں ميں عجيب سی التجا تھی۔
“آپ نے کہا تھا جيسے چاہو رہ لينا” مناب نے اسکے الفاظ ياد دلاۓ۔
“ميں اب بھی ان پر قائم ہوں۔ جب تک فيصلہ نہيں کرتيں تب تک يقين کرو۔۔” فاتک نے پھر سے يقين دہانی کراتے بات ادھور چھوڑی۔
اور اسکی ادھوری بات کا مفہوم وہ بآسانی سمجھ گئ۔
پھر بھی خاموشی سے بيڈ سے اتر کر دروازے کی جانب بڑھ گئ۔
فاتک نے لب بھينچے۔ وشہ کے ساتھ ليٹتے اس پر اپنے بازو کا حصار باندھا۔
آنکھيں موند کر سونے کی کوشش کی۔
_____________________
“ٹھيک تھی آپا” جيسے ہی غازی کمرے ميں داخل ہوا بے چين سی صبغہ کو ديکھ کر مسکرايا
کب سے وہ ادھر سے ادھر ٹہل کر غازی کا انتظار کررہی تھی۔ نجانے کيوں پريشانی سی لگی ہوئ تھی۔
“الحمداللہ بالکل ٹھيک ہيں۔ آپ کيوں اتنی پريشان ہو رہی ہو” غازی اسکے قريب آکر ٹھہرا۔
محبت سے اسکے چہرے پر آئ لٹيں اسکے کانوں کے پيچھے اڑسيں۔
“بس پتہ نہيں کيوں ٹينشن ہورہی ہے۔”الجھی نظروں سے پاس کھڑے غازی کو ديکھا۔
“اللہ سب بہتر کرے گا۔ چلو ليٹو” اسکا ہاتھ تھامے وہ بيڈ تک لايا۔
اسے بيڈ پر بٹھا کر کمرے کی لائٹس آف کرکے سائيڈ ٹيبل کا ليمپ آن کيا۔
صبغہ نے پاؤں اوپر کرکے کمبل اپنے اوپر ليا۔
“گھر ميں کتنی خاموشی لگ رہی ہے۔ وشہ کے دم سے کتنی رونق تھی” وہ اداس لہجے ميں بولی۔
اس کے قريب ليٹے غازی نے مسکرا کر اسکی جانب ديکھا۔
“اللہ نے بندوبست تو کرديا ہے” اسکی بات پر صبغہ کے چہرے پر گلال بکھرے۔
چند دن پہلے ہی تو وہ طبيعت خراب ہونے کے سبب ڈاکٹر کے پاس گئ۔ اور وہاں اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ملی کہ وہ پريگننٹ ہے۔
“اچھا سو جائيں اب” شرم کے باعث نظريں چراتے وہ تکيہ سيدھا کرکے ليٹنے لگی۔
“اچھا اب اپنی باری آئ تو ليٹ جائيں۔۔بالکل بھی نہيں سونا۔ ميں خود بہت اداس ہورہا ہوں۔ باتيں کرتے ہيں” غازی نے اسکا کمبل منہ تک لے جاتا ہاتھ تھام کر اسے آنکھيں کھولنے پر مجبور کيا۔
اور پھر وہ تمام رات انہوں نے ماضی، حال اور مستقبل ہر طرح کی بات کی۔
“بس کرديں غازی اب سو جائيں” گھڑی پر چار بجتے ديکھ کر اس نے غازی کو احساس دلايا۔
“صبح ليٹ ہونے پر جوتے پڑيں گے ماموں سے” وہ اسے دھمکانے لگی۔
“ميں تو بابا کو کہہ دوں گا کہ آپکی بہو نے ساری رات جگايا ہے” غازی مزے سے اسے اپنے ارادے بتانے لگا۔
“ہاں۔۔۔” صبغہ کا منہ کھل گيا۔
“شرم نہيں آۓ گی آپکو ايسی فضول بات کرتے ” وہ اسے شرم دلانے لگی۔
“نہيں۔ ميں کہوں گا ساری رات طبيعت خراب ہونے کا ڈرامہ کرتی رہی ہے نہ خود سوئ ہے نہ مجھے سونے ديا ہے” غازی کی بات پر وہ اس پر مکے برسانے لگی۔
“بہت فضول انسان ہيں آپ” آخر اسکے قوی ہيکل وجود کے سامنے ہار گئ۔
جس پر اسکے مکوں کا کوئ اثر نہيں تھا۔
“اپنی نازک سی جان پرظلم مت کرو اور اب سوجاؤ” اسے بازو کے گھيرے ميں ليتے وہ مزے سے آنکھيں موند گيا۔
جبکہ صبغہ کا منہ پھول چکا تھا۔
______________
الارم کی آواز پر مناب کی آنکھ کھلی۔ رات بہت دير سے نيند آئ تھی۔ اسی وجہ سے سر ابھی تک بھاری ہورہا تھا۔
چند لمحے تو اجنبی نظروں سے اردگرد ديکھتی رہی۔ پھر ياد آيا کہ آج وہ فاتک کے گھر ميں موجود ہے۔
بھاری ہوتے سر کو تھام کر وہ اٹھی۔
نماز کا وقت ہورہا تھا۔ اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھی۔
نماز ادا کرکے وشہ کا خيال آيا۔ رات بھر تو وہ جاگی نہيں تھی۔ ورنہ فورا مناب کے پاس آتی۔
جاءنماز لپيٹ کر وہ کمرے سے باہر نکلی۔
ساتھ والے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھولا۔ تاکہ ديکھ سکے کہ وشہ سکون سے ليٹی ہوئ ہے نا۔ يہ پہلی رات تھی جب وشہ اسکے پاس نہيں تھی۔ بے چينی فطری تھی۔
دروازہ کھولا تو سامنے وشہ سکون سے ليٹی ہوئ تھی۔
فاتک کمرے ميں ايک جانب جاءنماز بچھاۓ دعا مانگ رہا تھا۔
دروازے کھلنے کی آواز پر گردن موڑ کر ديکھا۔
مناب کھڑی دکھائ دی۔
مناب نے ہولے سے سلام کيا۔ اور دروازہ بند کرکے کچن کی جانب بڑھی۔
وشہ کا لنچ تيار کرنے لگی۔ ساتھ ساتھ چاۓ کا بھی بندوبست کيا تاکہ سر درد ختم ہو۔
کچن کے پاس ہونے والی آہٹ پر مڑ کر ديکھا۔
“ميں جاگنگ کے لئے جارہا ہوں” فاتک اسے اطلاع دے کر نکل گيا۔
مناب جانتی تھی کہ قاتک کی صبح ميں جاگنگ کرنے کی عادت کافی پرانی ہے۔ جاگنگ سے آکر وہ جوس پيتا تھا۔ مگر اب وہ کيا ليتا تھا وہ نہيں جانتی تھی۔
پھر بھی جوس بنا کر ٹيبل پر رکھ ديا۔
وشہ کا لنچ تيار کيا ساتھ ساتھ چاۓ بن گئ تو دو ٹيبلٹس لے کر چاۓ پی ۔ کچھ دير بعد اسے لگا کہ اب سر کو سکون آيا ہو۔
وشہ کو سکول کے لئے اٹھانے ميں ابھی کچھ وقت تھا۔ وہ خاموشی سے باہر لان کی جانب آگئ۔
کچھ دير واک کرنے کے بعد وہاں موجود بينچ پر خاموشی سے بيٹھ کر اردگرد پھيلے سکون کو اپنے اندر اتارنے لگی۔
مارچ کی اٹھائيس تاريخ تھی۔ موسم خوشگوار تھا۔
ابھی بيٹھے زيادہ دير نہيں گزری تھی کہ فاتک جاگنگ سے واپس آکر اسکی جانب بڑھا۔
ايک نظر اسے ديکھ کر مناب وہيں بيٹھی رہی۔
فاتک بھی قريب بيٹھ گيا۔
“جب ہم نوجوان ۔۔دوسرے الفاظ ميں اميچور ہوتے ہيں نا۔ تب نتائج کے بارے ميں کبھی نہيں سوچتے۔ جو سوچا ہے وہ کر گزرنا ہے۔” سامنے درختوں کی جانب ديکھتے فاتک خودکلامی کے سے انداز ميں بولا۔
“ميں بھی ايسا ہی تھا۔ جب جنون سر ميں سما گيا تب يہ سوچا ہی نہيں کہ ايک چيز کو حاصل کرنے کے نتيجے ميں کيا کچھ کھو دوں گا۔ احساس تب ہوا جب سب ہاتھ سے نکل گيا” سر جھکا کر اس نے اپنے ہاتھوں کی جانب ديکھا۔
مناب اپنے سے چند گز کے فاصلے پر بيٹھے اس چھے فٹ سے بھی اونچے شخص کو انتہائ نادم ديکھ رہی تھی۔
“اور پھر جب ميچورٹی آتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ہم سراب کے پيچھے بھاگ رہے تھے۔ ميں ہجوم ميں ہو کر بھی شديد تنہا تھا۔ مجھے لوگ انٹرويوز کے لئے بلاتے تھے ميں نہيں جاتا تھا۔ مجھ سے کوسنگرز بات کرتی تھيں۔ ميں جواب نہيں ديتا تھا۔ ميں ميں ہو کر بھی ميں نہيں تھا مناب۔۔ صرف آپ تھی ميرے اندر باہر۔ ہر جانب۔ ” سر اٹھا کر بائيں جانب بيٹھی مناب کو ديکھا۔ جس کی نظريں اسکی محبت پاش نظروں کو خود پر اٹھتا ديکھ کر ساکت ہوگئيں تھيں۔
وہاں محبت نہيں تھی۔۔ يہ جنون محبت کا مرہون منت نہيں ہوتا۔ يہ تو کوئ عشق کی منزل تھی۔
جہاں اندر باہر صرف عاشق ہو۔
اللہ اسے کيا کچھ دکھا رہا تھا۔ کتنی حقيقتيں وہ کب تک ان سے انجان رہتی۔
“ميں اپنی ہر صبح کا آغاز رب کے بعد آپ سے معاف مانگتے ہوۓ کرنا چاہتا ہوں۔ اور ہر دن کا اختتام بھی اسی معافی کے ساتھ چاہتا ہوں۔ مجھ جيسے خود غرض مرد تہی داماں رہ جاتے ہيں۔ اللہ نے مجھے تو احساس دلا ديا۔ ميری دعا ہے کہ ايسے تمام مرد جو اپنی خواہشوں کی تکميل کے لئے اپنے پياروں کو سولی پر لٹکا جاتے ہيں اللہ ان سب کو وقت گزر جانے سے پہلے عقل دے دے” بينچ پر دھرے مناب کے ہاتھ کو ديکھتے اس نے ہولے سے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
مناب جيسے ہوش ميں آئ۔
“ميں بابا کو ہر بات کا الزام اسی لئے نہيں دوں گا کہ شايد انہوں نے ميری اور آپکی محبت ميں يہ سب کيا۔ اولاد واقعی آپکو وہ کچھ کرنے پر اکسا ديتی ہے جو آپ نے کبھی سوچا بھی نہيں ہوتا۔ ميں اپنی وشہ کے ساتھ محبت ديکھتا ہوں تو ماں اور باپ کو دئيے جانا والا دکھ اور شدت سے محسوس ہوتا ہے” فاتک کے اداس لہجے پر نجانے کيا ہوا مناب نے دوسرا ہاتھ اسکے اسی ہاتھ پر رکھا جس ميں مناب کا ہاتھ قيد تھا۔
فاتک کی حيران نظروں نے اسکے چہرے کا طواف کيا۔
حيرت خوشگوار حيرت ميں بدل گئ۔
مناب اسکی مسکراہٹ پر چونکی۔بنا کچھ کہے ہاتھ چھڑا کر اندر کی جانب قدم بڑھا دئيے۔
فاتک اپنے خالی ہاتھ ديکھ کر افسردہ ہونے کی بجاۓ پہلی بار دل سے ہنسا۔
_____________________
دو دن ہوگۓ تھے اسے وہاں رہتے ہوۓ اور ہر نيا دن اسے لگتا کہ فاتک کی وکالت کررہا ہے۔
اسکے دل سے تکليفوں کا زنگ آہستہ آہستہ ہٹ رہا تھا۔ تو کيا واقعی اسکے ساتھ سے يہ سب فرق پڑ رہا تھا؟ وہ خود حيرت زدہ تھی۔ وہ کيسے اسے اپنے سحر ميں جکڑ رہا تھا۔ کيا وہ اتنا ہی اچھا ہميشہ رہے گا يا يہ صرف وقتی طور پر تھا۔
جيسے محبوب تبھی اچھا لگتا ہے جب وہ دور ہو ۔۔
جيسے ہی اس پر تسلط قائم ہوتا ہے اس کی محبت اور اس محبت کا اثر ماند پڑ جاتا ہے ۔
وہ اب خوفزدہ تھی۔
شام ميں جس وقت وہ گھر آئ فاتک کی دو بار کال آچکی تھی جسے وہ گاڑی ڈرائيو کرنے کی وجہ سے سن نہيں سکی تھی۔
وشہ کو دو دن سے پک کرنے کی ذمہ داری کريم نے اپنے سر لے لی تھی۔ سکول سے آکر مناب کے آنے تک کريم ہی وشہ کا سايہ بنا رہتا۔
وشہ بھی کريم انکل کے ساتھ بہت خوش رہتی تھی۔
“ہيلو۔ سوری ميں ڈرائيو کررہی تھی اسی لئے آپکے فون کا پتہ نہيں چلا” صوفے کی بيک سے ٹيک لگا کر آنکھيں موندتے ہوۓ وہ فاتک سے فون پر مخاطب تھی۔
“اٹس اوکے۔ ايکچولی ميرے برينڈ کی آج انوگريشن تقريب ہے تو ميں مآپکو اور وشہ کو لے جانا چاہتا ہوں۔ آپ تھکی ہوئ تو نہيں۔۔” فاتک نے اپنا مدعا بيان کرکے اسکی رائے جاننی چاہی۔
“نہيں۔ تو” مناب نے آنکھيں کھولتے ہوۓ کہا۔
“ميں تھوڑی دير تک آرہا ہوں” فاتک نے کہتے ساتھ ہی فون رکھ ديا۔
مناب کچھ سوچ کر اٹھی۔
وشہ کے کپڑے پريس کردئيے اپنے بھی کردئيے مگر جانے کا ارادہ نہيں تھا۔
آدھے گھنٹے بعد ہی فاتک کی گاڑی گھر ميں داخل ہوئ۔
کچھ دير بعد وہ بھی گھر کے اندر تھا۔
“ميرے کپڑے نکال ديں” فاتک تيز قدموں سے چلتا مناب کو مخاطب کرتا کمرے کی جانب بڑھا۔
مناب ناچار صوفے سے اٹھ کر کچن ميں آئ۔
وشہ کو تيار کرچکی تھی۔ کريم بھی تيار تھا وہ دونوں کچن ميں بيٹھے نوڈلز کھانے ميں مصروف تھے۔
مناب اندر داخل ہوئ۔
فاتک موبائل سائيڈ ٹيبل پر رکھ کر واچ اتار رہا تھا۔
“کيا ہمارا جانا ضروری ہے؟” مناب کے سوال پر اسکا کف لنکس کھولتا ہاتھ لمحہ بھر کو رکا۔
وہ پورے کا پورا مناب کی جانب مڑا۔
“آپ ميری فيملی ہو” فاتک استہزائيہ انداز ميں ہنسا۔
“مگر ہم آپکے ساتھ رہتے ہيں يا نہيں اس کا فيصلہ نہيں ہوا۔ تو پھر آپ ہميں ہر جگہ کيوں لے کر جارہے ہيں۔ اگر کل کو کوئ فيصلہ۔۔” مناب کی بات ابھی منہ ميں ہی تھی کہ فاتک چںد قدموں کا فاصلہ مٹا کر بے اختيار اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گيا۔
جيسے اس سے دوری کی بات سننے کا متحمل نہ ہو۔
مناب کی گہری آنکھوں ميں آنکھيں ڈال کر اس نے گويا کوئ التجا کی۔
