Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode (Watching)
Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode
Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode
“رانی باجی۔۔! میں نہیں چاہتا آپ رات میں رکشہ چلائیں۔۔۔ شہر کے حالات پہلے ہی بہت خراب ہیں۔۔۔”
اقبال میرے فیصلے پہ پریشان ہوگیا
“میرے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔ کچھ بھی ہو مجھے یہ قدم اٹھانا پڑے گا۔۔”
“ٹھیک ہے۔۔ اگر ایسی بات ہے تو میں آپکے ساتھ رہوں گا۔۔۔۔ “
“نہیں اقبال۔۔! تمہارے گھر والوں کا ضرورت ہے تمہاری دن بھر تم ویسے ہی کام پہ ہوتے ہو رات کے دو پہر ہی تو ہوتے ہیں جس میں تم اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے ہو۔۔۔”
“آپ یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ آپ بھی میرے خاندان کا حصہ ہیں۔۔ اس حال میں کیسے آپکو چھوڑ دوں”
“مجھے فخر ہے کہ تمہارے جیسے دوست اور بھائی پہ۔۔ لیکن کچھ بوجھ انسان کو اکیلے اٹھانے ہوتے ہیں۔۔۔ “
“نہیں۔۔ میں یہ بوجھ آپکو اکیلے نہیں اٹھانے دوں گا۔۔۔۔”
اقبال کی ضد کے آگے میں نے گھٹنے ٹیک دیے۔۔۔
“آپ کی خالہ اجازت دیں گی آپکو رات میں کام پہ جانے کی؟”
اقبال بولا
“کبھی نہیں دیں گی۔۔ “
“تو پھر کیسے ہوگا یہ۔۔۔؟”
“انکے جانے کے بعد ہی میں وہاں سے نکل سکوں گی۔۔۔۔ ایک دو نرسیں جاننے والی ہیں انھیں اعتماد میں لے لوں گی۔۔۔”
“دیکھ لیں۔۔ کل کلاں کچھ غلط نہ ہو جائے۔۔۔”
“ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ بس چند مہینوں کی بات ہے اس کے بعد مجھے یقین ہے سب بدل جائے گا”
“آپ کے اس حوصلے اور ان تھک کوشش کا پھل آپکو ضررو ملے گا۔۔۔”
“انشاء اللہ۔۔۔۔”
اب محنت دوگنا ہوگئی تھی۔۔۔ ارسل کو واپس پانے کی کوشش عروج بھی تھی۔۔ اور میری ساری امیدیں اس ذات سے تھیں۔۔ جس نے مجھے اس امتحان میں ڈالا تھا۔۔۔
چند مہینوں بعد میں نے ارسل کے آپریشن کے لیے رقم جمع کر لی۔۔۔
“خالہ۔۔!”
میں عارفہ خالہ کے پاس آکے کھڑی ہوئی۔۔۔
“جی بیٹا۔۔۔!”
وہ سر جھکائے بیٹھی تھیں
“آپ ڈاکٹرز سے آپریشن کا وقت لے لیں۔۔۔۔”
میں نے بتایا
وہ حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگیں
“لیکن رقم۔۔۔؟”
“میں نے رقم کا انتظام کرلیا ہے۔۔۔۔”
“کیسے۔۔۔۔؟”
وہ بولیں
“بس اللہ پاک کی مدد سمجھ لیں۔۔۔”
“رانی۔۔! آج میں جان کے رہوں گی کہ آخر تم ایسا کیا کام کرتی ہو۔۔۔؟”
وہ کھڑی ہوگئیں
“خالہ۔۔! میں نے پہلے بھی آپ سے کئی بار یہ بات کی ہے کہ اس بارے میں مجھ سے کچھ نہ پوچھیں۔۔۔”
“کیوں نا پوچھوں بیٹا۔۔۔ تم ذمہ داری ہو میری۔۔۔۔ میں ہر بار تمہاری ضد پہ چپ ہوجاتی ہوں لیکن میرے دل میں اٹھتے وسوسے ختم نہیں ہوتے۔۔۔۔ اگر مجھے کچھ سمجھتی ہو تو بتا دو۔۔۔۔”
“آپ میرے لیے سب کچھ ہیں۔۔۔ میری بس اتنی سے درخواست ہے۔۔ بس ایک بار ارسل کا آپریشن ہونے دیں اسکے بعد میں سب کچھ بتاؤں گی۔۔۔۔ “
میں نے انکے کندھے پہ ہاتھ رکھا
“مرضی ہے تمہاری بیٹا۔۔۔۔”
وہ چپ ہوگئیں
اگلے دن عارفہ خالہ نے ڈاکٹرز سے بات کی انھوں نے ایک ہفتہ بعد کی تاریخ دے دی۔۔۔
اب صرف دعائیں ہی کام آ سکتی تھیں۔۔۔ رخسانہ ہر روز سکول میں ارسل کے آپریشن کے لیے خاص دعا کراتی۔۔ میں دن بھر شہر کی گلیوں میں گھومتی رہیتی لیکن دل اور دماغ میں بس ایک ہی چیز چل رہی ہوتی تھی۔۔ خدایا۔۔۔ سرخرو کرنا۔۔
ارسل کے آپریشن میں سے ایک ہی دن رہ گیا تھا۔۔ میری پریشانی بڑھتی جارہی تھی۔۔۔ عارفہ خالہ نے کام پہ جانے سے منع کیا کہ اب مجھے ارسل کے پاس رہنا چاہیے لیکن میری ہمت نہیں ہورہی تھی کہ میں اس کے پاس رک سکوں۔۔۔ اپنے دماغ کو ٹھکانے پہ لانے کے لیے میں رکشہ پہ آہی گئی۔۔
سواریوں کی پراوہ کیے بنے میں کبھی ادھر جاتی تو کبھی ادھر۔۔۔ کل کا دن کونسا سورج طلوع کرکے گا۔۔ میرے دل و دماغ میں طوفان برپا تھا۔۔۔
ایک سواری نے ہاتھ کھڑا کرکے رکنے کا اشارہ کیا۔۔ اس جانے پہچانے چہرے کو میں نظر انداز نہیں کر پائی۔۔۔
وہ کوئی اور نہیں بلکہ سعدیہ باجی تھیں۔۔۔
میں نے انکے پاس رکشہ روکا۔۔۔ میرے مرادنہ لباس اور ڈھکے ہوئے چہرے سے وہ بھی پہچان نہیں پائیں۔۔۔ انھوں نے جس پتے پہ جانا تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ اسپتال ہی تھا۔۔ وہ مجھ سے ملنے آرہی تھیں۔۔۔ میں نے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا
“میں دو سال بعد واپس آئی ہوں۔۔ لیکن اس شہر کی حالت اب بھی ویسی ہے۔۔۔”
شہر کے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی حالت دیکھ کے وہ بولیں
میں باقی سواریوں کی طرح انکے سامنے بھی خاموش رہی
“آپ کب سے رکشہ چلا رہا ہیں۔۔۔۔؟”
انھوں نے سوال کیا
میں پھر بھی چپ رہی۔۔۔
وہ بھی چپ ہوگئیں۔۔۔
میں نے انھیں اسپتال کے گیٹ پہ اتارا انھوں نے کرایہ میری طرف بڑھایا۔۔ میرا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دے رہا تھا کہ ان سے پیسے لوں۔۔ لیکن اگر میں ایسا نہیں کرتی تو انھیں ضرور شک ہو جاتا۔۔۔ میں نے چپ چاپ پیسے پکڑے اور رکشہ موڑ لیا۔۔۔
جیسے کیسے مجھے اسپتال پہنچنا تھا۔۔۔ میں نے چند قدم کے فاصلے پہ اسپتال کی دیوار کے ساتھ رکشہ پارک کیا اور نیچے اتر کے اپنی حالت ٹھیک کرنے لگی۔۔ تا کہ جلد از جلد سعدیہ باجی سے جا کے ملوں۔۔۔ میں نے اپنے سر سے پگڑی اتاری اور اپنے گھنے بالوں کو قید سے آزاد کیا۔۔۔
“بھیا۔۔۔! غلطی سے میرا کچھ سامان آپکے رکشہ میں رہ گیا ہے۔۔۔”
سعدیہ باجی کی آواز میرے کان میں پڑی۔۔۔
میں اس حالت میں نہیں تھی کے پیچھے مڑ کے انھیں دیکھ سکوں۔۔۔ میں ساکت کھڑی رہی۔۔۔
دل ہی دل میں دعا کررہی تھی کہ وہ واپس پلٹ جائیں۔۔ میرے اس راز سے پردہ نہ اٹھے۔۔۔ لیکن کئی بار قسمت تبھی ساتھ چھوڑ جاتی ہے جب آپکو اسکی سب سے زیادہ ضرورت ہو۔۔۔۔۔ وہ چلتے چلتے میرے سامنے آکے کھڑی ہوگئیں۔،۔
میں نے آنکھیں بند کرلیں۔۔۔۔ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے۔۔۔ پتا نہیں وہ کیا سمجھیں۔۔۔میرا دل سینے سے باہر آرہا تھا۔۔۔ میرے کان اس انتظار میں تھے کہ وہ کیا کہتی ہیں۔۔ لیکن کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔۔۔ بلآخر میں نے آنکھیں کھول دیں۔۔۔۔
وہ میرے سامنےکھڑی نہیں تھیں۔۔ بلکہ نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ تھیں۔۔۔ اور انکا سر جھکا ہوا تھا۔۔۔
“سعدیہ باجی۔۔۔!”
میں انھیں اس حال میں دیکھ کے تڑپ گئی۔۔۔
“اٹھیں۔۔۔۔! آپ یہاں کیوں بیٹھ گئیں۔۔”
میں نے بازو سے پکڑ کے انھیں اٹھایا۔۔ اور گلے لگا لیا
“آج تم نے مجھے بہت چھوٹا کردیا ہے اپنے سامنے۔۔۔۔ جہاں میں خود کو خوش نصیب تصور کررہی ہوں کہ میری بہن دنیا کی عورتوں کے لیے ایک مثال ہے۔۔۔ وہیں یہ بھی افسوس کہ ہم لوگ تمہیں پہچان نہیں پائے۔۔۔”
وہ بولیں
“یہ سب قسمت کے کھیل ہیں۔۔ اس میں کسی کہ کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔”
وہ کافی دیر یونہی روتی رہیں۔۔ میں نے انھیں دلاسہ دیا۔۔۔ اور اسپتال میں لے آئی۔۔۔
“آپ عارفہ خالہ سمیت کسی کونہیں بتائیں گی کہ آپ نے کیا دیکھا۔۔”
اندر جاتے ہی میں نے انہیں تنبیہ کی۔۔۔ انھوں نے ایک نظر میرا چہرہ دیکھا اور بنا کچھ بولے آگے بڑھ کے عارفہ خالہ سے ملیں۔۔۔
عارفہ خالہ نے انھیں پڑھائی مکمل ہونے کے مبارکبار دی۔۔۔ اور گھر والوں کا بھی پوچھا۔۔۔ جو کہ میں نہیں پوچھ پائی۔۔۔ پر انھوں نے جو بتایا اس سے یہی لگ رہا تھا کہ اب بھی سب ویسا ہے۔۔۔
ہم لوگوں نے عارفہ خالہ کو گھر بھیج دیا۔ سعدیہ باجی کی جان پہچان کے ایک دو جونئیر ڈاکٹر بھی مل گئے۔۔ ارسل کے آپریشن کے حوالے سے انھوں نے ان سے مشورہ کیا۔۔۔ رات کافی ہوگئی تو میں نے انھیں گھر جانے کا کہا۔۔ لیکن انھوں نے آج رات میرے ساتھ رکنے کا ارادہ کر لیا تھا۔۔۔
پورے اسپتال میں جب خاموش چھا گئی تو ہم دونوں ایک کونے میں جاکے بیٹھ گئے۔۔۔ انھوں نے بیتے دو سالوں کے ہر ایک پل کی داستان مجھ سے سنی۔۔۔ جہاں میں چہرے پہ مسکراہٹ سجائے انھیں سب بتاتی رہی وہیں انکے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔ وہ کبھی میرا ماتھا چومتی کبھی ہاتھ پہ لکھی کہانیوں پہ بوسہ دیتیں۔۔۔ جب میرے قصے ختم ہوئے تو میں نے ہمت کرکے دادی اور بابا کے بارے میں پوچھ ہی لیا
“سب ٹھیک ہیں۔۔۔۔ اپنی اپنی زندگی میں مگن۔۔۔”
“مجھے تو کبھی کسی نے یاد نہیں کیا ہوگا۔۔۔۔”
ایک سرد آہ میرا کلیجہ چیر کے باہر نکلی۔۔
“تمہیں پتا ہے ۔۔۔ اس دنیا کا ایک قانون ہے۔۔۔”
وہ کچھ سوچ کے بولیں
میں نے سوالیہ نظروں سے انکی طرف دیکھا۔۔۔
“امر وہی ہوتے ہیں۔۔ جو مٹ جائیں۔۔۔۔۔ تم بھی مٹ کے امر ہوئی ہو۔۔۔۔۔”
میں انکی بات کا مطلب نہیں سمجھی۔۔۔ تو وہ مسکرانے لگیں
اتنے میں فجر کی اذان ہوئی میں نماز نے نماز پڑھ اور دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے۔۔۔ اس بار لب خاموش تھے۔۔ آج لب خاموش تھے۔۔۔ دل کی دھڑکنیں اسے مانگ رہی تھیں۔۔۔
صبح دس بجے آپریشن ہونا تھا۔۔۔ اقبال رخسانہ، بابا نذیر اور چھوٹو کو لے اسپتال پہنچ گیا۔۔ عارفہ خالہ ، سونیا اور صوبیہ سب ہی پہنچ گئے تھے۔۔۔ سب ایک ہی دعا کررہے تھے۔۔۔ میں دور ایک کونے بیٹھی گم صم تھی۔۔۔
“جس منزل کو پانے کے لیے میں ننگے پاؤں پتھروں پہ چلتی رہی آج وہ منزل میرے بہت قریب تھی۔۔ جہاں اس ذات پہ بھروسہ تھا وہیں۔۔ قسمت پھر سے ساتھ نہ چھوڑ جائے۔۔۔ یہ خوف بھی منڈلا رہا تھا”
“تسلی رکھو۔۔۔۔! ارسل ٹھیک ہو جائے گا”
سعدیہ باجی میرے پاس آکے بیٹھ گئیں۔۔۔
میں نے انکی گود میں اپنا سر رکھ دیا۔۔۔ سالوں کی تھکان نے مجھے چور چور کردیا تھا۔۔۔
آپریشن تھیٹر کی لائٹ ہری ہوئی تو سب کی نظریں دروازے پہ لگ گئیں۔۔ جیسے ہی ڈاکٹر باہر نکلا سبھی ان کے گرد جمع ہوگئے
“آپریشن تو ٹھیک ہو گیا ہے۔۔ لیکن اس آپریشن کی کامیابی اور ناکام اگلے چوبیس گھنٹوں پہ منحصر ہے”
تسلی دے کے بھی انھوں نے ایک اور خود طاری کردیا تھا۔۔۔۔
عارفہ خالہ نے اپنی دیور کے بیٹے تیمور کو بلایا تھا۔۔۔ جو کہ باہر سے نیرو سرجری کا امتحان پاس کرکے لوٹا تھا۔۔ اس نے عارفہ خالہ کو تسلی دی کہ جب ارسل ٹھیک نہیں ہوتا تب تک وہ اسکے ساتھ ہی رہے گا۔۔ سب ایک ایک کرکے گھر لوٹ گئے۔۔۔ میں نے سعدیہ باجی کو بھی گھر بھیجا کیوں کہ وہ چوبیس گھنٹے سے میرے ساتھ تھیں۔ عارفہ خالہ نے ضد کی کہ آج رات میں بھی گھر آجاؤں۔۔۔ اس بار انکار کا کوئی بہانہ نہیں تھا میرے پاس۔۔۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ شام تک میں آجاؤں گی۔۔۔ وہ بار بار تیمور کو فون کرتی رہیں ۔۔۔ بلآخر مجھے جانا ہی پڑا۔۔۔
اپنی زندگی بیتے پلوں میں ڈوب کے میں نے ایک اور رات ارسل کے کمرے میں گزار دی۔۔۔۔
“سرخ جوڑا” اپنے ہاتھوں میں لیے۔۔ میں ایک بار پھر وہ سارے پل جیے۔۔۔۔ جو اب میں پیچھے چھوڑ آئی تھی۔۔۔۔ صبح کی نماز کا وقت ہوچکا تھا
میں جیسے ہی نماز سے فارغ ہوئی تو سامنے خالہ کا مسکراتا ہوا چہرہ تھا، انھوں نے مجھے گلے لگا لیا اور میں بس اتنا ہی سن پائی ” تم جیت گئئ ہو ۔۔۔ اسے ہوش آگیا ہے” اپنی زندگی میں اس سے زیادہ میٹھے لفظ میں نے نہیں سنے تھے۔ تب میں زمین پر نہیں ہواؤں میں تھی۔ اور وہ آنسو جن پہ میں نے ابت بند باندھا تھا وہ بند توڑ کے آنکھوں سے باہر آرہے تھے۔ پتا ہی نہیں چلا کہ کب اتنے لوگ میرے آس پاس جمع ہو گئے۔ میں سر خرو ہو گئی تھی۔ سب اپنے اور پرائے جمع تھے اور سب کی نظروں میں اپنے لیے عزت دیکھ کے اندر ہی اندر میرا سر فخر سے بلند ہو رہا تھا۔ میں جنگ جیت چکی تھی۔
خالہ نے مجھے بتایا کہ وہ شام میں وہ مجھے اسپتال لے جائیں گی۔ سونیا اور سعدیہ باجی نے ضد کے کہ میں ارسل کے سامنے ا”سرخ جوڑے” میں جاؤں۔ میں شرما گئی۔۔۔ جہاں وہ سب ضد کررہے تھے وہیں میرے میں بھی اس خواہش نے جنم لیا کہ جہاں سے جینا چھوڑا تھا۔۔۔ وہیں سے شروع کرتے ہیں۔۔۔
“اپنے جسم سے اداسی لا لبادہ اتار کے میں نے سرخ جوڑا زیب تن کیا۔۔۔۔ “
پھر سے دلہن بنی۔۔۔
کمرے کے دروازے پہ دستک ہوئی۔۔۔ میں نے دروازہ کھولا تو میرے بابا سر جھکائے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔
” مجھے معاف کر دو، میں ایک باپ کا فرض نبھانے میں ناکام رہا، لیکن جیسے تم نے میرا سر آج فخر سے بلند کیا ویسا تو کوئی بیٹا بھی نہیں کر سکتا۔ میں ایک خوش نصیب باپ ہوں کیونکہ تم میری بیٹی ہو، اور تم بد نصیب ہو جو میں تمہارا باپ ہوں” چاہے میرے دل میں لاکھ شکوےاور شکائتیں تھیں لیکن میں انھیں اس حالت میں کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی، اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتے میں ان سے لپٹ گئی۔ باپ کی وہ خوشبو جس کے لیے میں ترستی رہی آج محسوس کر رہی تھی۔ اپنی ہی قسمت پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ سب کچھ کیسے بدل گیا ۔۔۔۔ انکے پیچھے دادی کھڑی تھیں
“کل ہم نے تم سے تعلق توڑا تھا۔۔ آج وہ تعلق پھر سے جوڑنے کی درخواست لے کے آئے ہیں۔۔ کیا پھر سے ہماری رانی بنو گی”
وہ بولیں
میں بابا کو چھوڑ کے ان سے لپٹی
“میں کب سے اس دن کا انتظار کررہی تھی کہ کب آپ مجھے گلے لگائیں:
میں بولی۔۔ انھوں نے میرے ماتھے پہ بوسہ دیا
شام میں سعدیہ باجی اور خالہ کے ساتھ میں اسپتال پہنچی۔۔۔ باقی سب لوگ پہلے ہی چلے گئے تھے۔۔۔
کوریڈرو میں پہنچے تو سب کے جھکے ہوئے سر مجھے وہم میں مبتلا کررہے تھے۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔!”
میں صوبیہ کے پاس جا کے کھڑی ہوئی
وہ چپ رہی
“سونیا۔۔! تم بتاؤ نا۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔”
سونیا کے کندھے سے ہلایا۔۔۔۔
اس نے بھی کوئی جواب نہیں دیا
میرے سبھی عزیز رشتہ دار وہاں جمع تھے۔۔ میں گڑ گڑا کے سب سے پوچھنے لگی کہ بتائیں سب اتنے خاموش کیوں ہیں۔۔۔
جب کسی سے کوئی جواب نہیں ملا تو میں ڈاکٹر تیمور کی طرف بڑھی
“خدارا۔۔ آپ ہی کچھ بتائیں۔۔۔ارسل ٹھیک ہے۔۔۔”
انھوں نے میرے ہاتھ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا تھمایا جس پہ کچھ درج تھا
” زندگی وہ تھی جسے میں تمہارے بن جیتا رہا، جب میرا جسم حرکت میں تھا اور آنکھوں میں نور تھا۔ یا وہ تھی جب جسم ساکت اور آنکھیں بے نور تھیں اور تب تم آئی میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے بولی ” چاہے کچھ بھی ہو جائے میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی” میری روح جو میرے جسم کو چھوڑ کے چلی گئی تھی وہ ایک بار پھر لوٹ آئی ۔۔۔ اور میں جی اٹھا۔ تم نے مجھے زندہ کردیا۔ تمہاری آنکھوں سے میں دنیا دیکھنے لگا اور تمہارے پاؤں سے فاصلے طے کیے۔ ہر بار جب تمہارے زخمی ہاتھ میرا ہاتھ چھوتے، وہ درد میرے دل میں اٹھتا تھا۔ تمہارے پاؤں کے چھالوں کی تکلیف میری روح محسوس کرتی تھی۔ لیکن تمہاری ہمت مجھے اور جینے پر مجبور کر دیتی تھی۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے تمہیں اپنا جیون ساتھی چنا ۔ میرے پاس زیادہ سانسیں نہیں بچیں کے تمہارے ساتھ چل سکوں، لیکن تم اسے اپنی ہار مت سمجھنا۔ یہ جیت ہے تمہاری ۔۔۔۔ شائد میں تمہیں سامنے کبھی نظر نہ آؤں لیکن تمہاری دھڑکنوں میں رہوں گا۔ تمہارے قدم سے قدم ملائے تمہاری سانسوں میں میری سانسیں چلیں گی۔ دیکھنے والے اب کبھی تمہیں اکیلا نہیں دیکھیں گے ہر بار میں انھیں تمہارے ساتھ نظر آؤں گا”
ارسل کی اس آکر تحریر کو پڑھنے کے بعد میں بھاگتی ہوئی اس کمرے میں داخل ہوئی جہاں وہ سفید چارد میں لپٹا تھا۔۔۔۔
“ارسل۔۔۔! مت جاؤ۔۔۔۔”
میں نےاسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔
“تم نے تو ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا تھا۔۔۔۔ پھر کیوں اس موڑ پہ لا کے چھوڑ رہے ہو۔۔۔”
اسکے ہاتھ کی ہتھیلی پہ میں نے اپنے گال رکھ دیا۔۔۔۔
“جس کی ہم سفر ایسی ہمت والی ہو ۔۔۔ وہ بھلا کیسے اتنی جلدی ہار مان لیتا۔۔۔۔۔ “
میں نے چونک کے آنکھیں کھول دیں۔۔۔
اسکے ہونٹوں پہ مسکراہٹ تھی۔۔۔ اور آنکھیں میں وہ شرارت جسے دیکھنے کے لیے میں نے اتنا انتظار کیا تھا۔۔۔۔
“ہم نے تو بس ایک چھوٹا سا مذاق کیا تھا”
سونیا اند داخل ہوئی ۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔ سب اندر آنے لگے۔۔۔
سب چہروں پہ مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
“دیکھیں۔۔۔ اندر رش نا لگائیں۔۔۔ مریض کو آرام کی سخت ضروت ہے۔۔۔۔”
نرس اندر داخل ہوئی اور سب کو باہر نکالنے لگی۔۔۔
میں اسی طرح ارسل کے ساتھ چپک کے بیٹھ رہی۔۔۔
“دلہن صاحبہ آپکو بھی باہر جانا پڑے گا۔۔”
وہ میرے پاس آکے کھڑی ہوئی
میں نے اسکا حکم نظر انداز کیا۔۔۔۔
“میرا چین مجھ سے دورکرکے آپ کیسے مجھے آرام دے سکتی ہیں۔۔۔۔؟”
ارسل بولا
نرس مسکراتے ہوئے باہر چلی گئی۔۔۔
میں نے ارسل کی چھاتی پہ سر ٹیک دیا۔۔۔۔
ختم شد
