Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05
میں نے سر جھکا کے دروازہ کھولا۔۔۔ میری نظر چمچماتے مرادنہ جوتوں پہ پڑی۔۔۔ پھر جیسے جیسے نظر اوپر اٹھتی گئی۔۔ میری دھڑکنیں بے قابو ہونے لگیں۔۔ ہاتھ پسینے سے بھیگنے لگے۔۔۔۔
دراز قد نو جوان کی چوڑی چھاتی تک پہنچ کے میری نظریں پھر سے جھک گئیں اور میں خوفزدہ ہوکے پیچھے مڑی۔۔۔۔
رخسانہ نے مجھے کمرے کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تو کیچن سے باہر آگئی۔۔۔
مہمان آچکے تھے۔ کھاتے پیتے لوگ تھے اس لیے تائی نے جھوٹے دل سے ہی سہی لیکن انکا استقبال کیا۔ میں دادی کے کمرے میں دبک کے بیٹھ گئی۔۔۔ سعدیہ باجی آئیں
“ماشاء اللہ۔۔۔۔ ! ہماری رانی کا ہونیوالا دولہا کسی راجہ سے کم نہیں ہے۔۔۔۔ “
وہ آتے ہی شروع ہوئیں
میرے پاس انکی اس بات کا جواب نہیں تھا۔۔۔ بس چہرہ لال پیلا ہورہا تھا۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔ ؟ رنگ کیوں اڑا ہوا ہے۔۔۔؟” وہ میرے پاس آکے بیٹھ گئیں
“وہ۔۔۔۔ ! وہ۔۔۔ آدمی۔۔۔ ” میں ہڑبڑانے لگی
“کون آدمی۔۔۔۔ ؟ کس کی بات کررہی ہو۔۔۔” وہ پریشان ہو کے بولیں
میری حالت ایسی تھی جیسے بھوت دیکھ لیا ہو۔۔۔
“بتاؤ نا۔۔۔۔ !” وہ بولیں
“جب میں نے دروازہ کھولا تو وہ لمبا سا آدمی۔۔۔ سامنے کھڑا تھا۔۔۔” میں آنکھیں پھاڑے انھیں بتانے لگی
“ہاہاہا۔۔۔۔۔ رانی۔۔۔۔ ! تْو بھی نہ کتنی پاگل ہے۔۔۔۔ ” سعدیہ باجی ہنس پڑیں
میں انکا چہرہ دیکھتی رہی
“بیوقوف لڑکی۔۔۔ وہ لمبا سا آدمی تمہارا ہونیوالا دولہا ہے۔۔۔۔ اور اسے دیکھ کے تم گھبرا کیوں گئی۔۔؟ پسند نہیں آیا تمہیں۔۔۔۔؟”
“سعدیہ باجی۔۔۔ ! میں نے اس کی شکل تو ابھی دیکھی نہیں تھی۔۔۔۔”
“واٹ۔۔۔ ! سامنے کھڑا تھا اور تم نے شکل نہیں دیکھی۔۔۔ ایسا کیسے۔۔؟”
“نہیں۔۔۔ وہ۔۔۔ میں۔۔۔ نے اسکے جوتے دیکھے۔۔۔ پھر۔۔۔ نظریں اوپر اٹھائیں۔۔۔ لیکن۔۔۔ چہرے تک پہنچتے پہنچتے۔۔۔ میں گھبرا گئی۔۔۔ اور پھر وہاں سے بھاگ کے یہاں آگئی۔۔۔” میں اپنے آپ بیتی انھیں سنا رہی تھی
ہنس ہنس کے انھوں نے پیٹ پکڑ لیا۔۔۔
میری بے بسی چہرے سے عیاں ہورہی تھی۔
“تمہیں پتا ہے۔۔۔ وہ بہت خوش شکل ہے۔۔۔ لمبا سا قد۔۔ چوڑی چھاتی۔۔۔ تیکھے نین نقش۔۔۔ سچ میں تم بہت خوش قسمت ہو۔۔۔” انکی آنکھوں میں میرے لیے بے انتہا پیار امڈآیا۔۔۔
وہ وہاں سے چلی گئیں۔۔ اور میں سوچ میں ڈوب گئی۔۔۔
“میرا نصیب ایکدم سے اتنا اچھا کیسے ہوگیا۔۔۔۔ اگر وہ لڑکا اتنا ہی اچھا ہے تو نادیہ باجی کا رشتہ کیوں نہیں کیا گیا۔۔۔ میں پچھلے کئی دن سے اسی ایک سوال کا جواب ڈھونڈ رہی تھی کہ آکر کیوں نادیہ باجی کی جگہ مجھے پیش کیا گیا۔۔۔ کاش کوئی تو ہوتا جو میری مشکل آسان کردیتا۔۔۔ رخسانہ نے بھی پتا لگانے کی بہت کوشش کی لیکن میری طرح وہ بھی ناکام رہی۔۔۔ میں نے جب بھی دادی کے سامنے اس بات کا ذکر چھیڑا یا تو وہ بات گول کر جاتیں یا پھر مجھے ڈانٹ کے چپ کرا دیتیں۔۔۔”
تھوڑی دیر میں رخسانہ میرے پاس آئی۔۔۔
“رانی۔۔۔۔ ! تیرا ہونیوالا دولہا تو بہت اچھا ہے۔۔۔ اتنا پڑھا لکھا سا۔۔۔۔ میرا منگیتر شفیق تو بس اویں ای ہے۔۔۔ تم بہت نصیب والی ہو۔۔۔”
وہ بھی آتے ساتھ اس کے گن گانے لگی۔۔۔ میں نےاسے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔
“تْونے دروازے پہ جی بھر کے دیکھ لیا نا اسے۔۔۔” وہ شرارت کے انداز میں بولی
“نہیں۔۔۔ ! میں نے نہیں دیکھا۔۔۔۔ ” میں بولی
“چل جھوٹی۔۔۔۔ !”
“سچی۔۔۔ میں نے اسکی شکل نہیں دیکھ۔۔۔۔”
اسے یقین نہیں آرہا تھا۔ میں نے پھر سے وہی کہانی اسے سنائی جس پہ تھوڑی دیر پہلے سعدیہ باجی لوٹ پوٹ ہورہی تھیں۔۔۔ میری بات سن کے رخسانہ کی حالت بھی کچھ ویسی ہی تھی۔۔
میں نے رخسانہ کو خونخوار نظروں سے دیکھا تو وہ چپ ہوگئی۔۔۔
“سن رخسانہ۔۔۔ ! تجھے نہیں لگتا کچھ گڑ بڑ ہے۔۔۔۔؟” میں بولی
“گڑ۔۔ بڑ۔۔۔۔ ؟ کیسی گڑ بڑ۔۔۔۔؟” وہ ایکدم سے سنجیدہ ہوگئی
“اگر لڑکا اتنا اچھا ہے تو نادیہ باجی سے اسکا رشتہ کیوں نہیں کیا گیا۔۔۔ اور لڑکے نے مجھے ابھی دیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔ تو پسند کیسے کرلیا۔۔۔۔؟”
اسکے ماتھے پہ بھی سوالوں کے شکن نموادر ہوئے۔۔۔
“تْو اتنا نہ سوچ۔۔۔ دیکھ جو نصیب میں ہوتا ہے وہی ہوکے رہیتا ہے۔۔۔ ان لوگوں نے سوچ سمجھ کے ہی ایسا قدم اٹھایا ہوگا نہ۔۔۔۔؟” وہ تسلی دینے لگی
“یہ بات میرے گلے سے نہیں اتر رہی۔۔۔۔ ” میری پریشانی اپنی جگہ قائم تھی
“اچھا۔۔۔ ! تجھے کیا لگتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہوگا۔۔۔۔” وہ مجھ سے پوچھنے لگی
“میری سمجھ سے باہر ہے۔۔۔ “
“تجھے کیا لگتا ہے لڑکا نشئی ہے ۔۔ یا پھر بے روزگار اس لیے تجھے اسکے پلے باندھا جا رہا ہے”
رخسانہ کے وہم نے غریب طبقے کی سوچ کی عکاسی کی
میں چپ ہوگئی۔۔۔
“چھوڑ نہ تْو۔۔۔ جو بھی ہوگا اچھا ہوگا۔۔۔ وہ اوپر والا ہے نا۔۔۔ اس پہ چھوڑ دے۔۔۔ مزید کوئی نا انصافی نہیں ہوگی تیرے ساتھ۔۔۔۔ تسلی رکھ۔۔۔” اس نے مجھے دلاسا دیا
اتنے میں سعدیہ باجی اندر آئیں۔۔۔
“چلو۔۔۔ رانی۔۔۔ ! اب وقت آگیا ہے تمہارے دولہا سے سامنا کرایا جائے۔۔۔۔”
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔
“اے۔۔۔ ! گھبرا کیوں رہ ہو۔۔۔؟ ” وہ پاس آکے بولیں
“سعدیہ باجی۔۔۔ ! میرا جانا ضروری ہے کیا۔۔۔؟” میں بولی
“کیسی پاگل لڑکی ہو تم۔۔۔۔ وہ لوگ تمہیں دیکھنے ہیں۔۔۔۔ تمہارا جانا ضروری ہے۔۔۔ تم تو ایسے پریشان ہورہی جیسے ابھی تمہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے۔۔۔” وہ سمجھانے لگیں۔۔
“باجی۔۔۔ ! آپکو تو پتا ہے نا۔۔۔ کتنی ڈرپوک ہے۔۔۔” رخسانہ نے بھی حصہ لیا
“چلو۔۔۔ ! چلو۔۔۔ جلدی سے۔۔۔ ” سعدیہ باجی نے میرا ہاتھ پکڑا
میں کھڑی ہوگئی۔۔۔
“میں ٹھیک تو لگ رہی ہوں نا۔۔۔؟” میں نے ان سے پوچھا
“ماشاء اللہ۔۔۔ تم بہت بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔ مجھے تو ڈر ہے اسکی نظر ہی نہ لگ جائے تمہیں۔۔۔ کیوں رخسانہ۔۔ صحیح کہہ رہی ہوں نہ میں۔۔۔؟” وہ بولیں
“ہاں۔۔ باجی۔۔ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔۔” رخسانہ نے بتیسی نکالی۔۔۔
میں سعدیہ باجی کے پیچھے چلنے لگی۔۔۔
مہمانوں کو ٹی وی والے کمرے میں بٹھایا گیا تھا۔۔۔ وہ کمرہ ڈرائنگ روم کے طور پہ بھی استعمال ہوتا تھا۔۔۔
“آپ سب اپنی دھڑکنیں تھام لیں۔۔۔ ہماری رانی ۔۔۔ تشریف لا رہی ہیں۔۔۔” سعدیہ باجی کمرے میں داخل ہوتے ہی بولیں۔۔۔ انکے اس انداز پہ میں اور زیادہ گھبرا گئی۔۔۔
بامشکل میں نے اندر قدم رکھا۔۔ کمرے میں گہری خاموش چھا گئی۔۔۔ میری نظریں اب بھی نیچے جھکی تھیں۔۔۔ میں نے آہستہ سے سلام کیا۔۔ سعدیہ باجی نے میرا ہاتھ پکڑ کے کرسی پہ بٹھایا۔۔۔
مجھے اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کے کمرے میں کون کون موجود ہے۔۔۔ میری نظریں کمرے کے فرش پہ یہاں سے وہاں گھوم رہی تھیں۔۔۔ کمرے میں بیٹھے لوگوں کے جوتوں تک گھوم کے پھر واپس پلٹ آتیں۔۔۔ پر ایک جگہ جا کے رک گئیں۔۔۔ وہی چمچماتے جوتے۔۔۔ میرے ہاتھ پھر پسینے سے بھیگنے لگے۔۔۔
“یہ بولتی نہیں ہیں کیا۔۔۔۔ !” ایک لڑکی کی آواز میرے کانوں میں گونجی
میرے کان کھڑے ہوگئے۔۔۔۔
“رانی۔۔۔ !” سعدیہ باجی نے سرگوشی کی
چاروناچار مجھے سر اٹھانا ہی پڑا۔۔۔
اس پورے کمرے میں سعدیہ باجی کے علاوہ سبھی انجان لوگ براجمان تھے۔۔
میرے سامنے دو نوعمر لڑکیاں بیٹھی تھیں۔۔۔ انکے ساتھ وہی خاتون تھیں جو مجھے پسند کرکے گئی تھیں۔۔ ایک ادھیڑ عمر عورت جس کے ہاتھ میں چھوٹا بچہ تھا۔۔۔ انکے ساتھ ادھیڑ عمر کا ایک مرد بیٹھا تھا اور میرے عین سامنے۔۔۔ وہی لمبا سا آدمی۔۔۔ میری نظر۔۔ اس تک پہنچتے پہنچتے پھر سے رک گئی۔۔۔ دل ایسے دھڑک رہا تھا کہ بس ابھی باہر آیا۔۔۔ اب بھی میں چہرہ نہیں دیکھ پائی۔۔۔
ایک لڑکی اپنی جگہ سے اٹھ کے میرے پاس آئی۔۔۔
“ہیلو۔۔۔ ! میرا نام سونیا ہے۔۔۔۔ میں ارسل بھائی کی سب سے پیاری اور چہیتی بہن ہوں۔۔۔۔ اس لیے آپکی اور میری دوستی ناگزیر ہے۔۔۔ ” اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا
میں نے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پہ سجائی اور ہاتھ ملایا۔۔ وہ مسکراتے ہوئے واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گئی۔۔۔
“بیٹا۔۔۔ ! آپ بھی کوئی بات کرو۔۔۔ ” خاتوں بولیں
“دراصل۔۔۔ ! رانی بہت ہی شرمیلی سی ہے۔۔۔ گھر والوں سے کم کم بات کرتی ہے۔۔۔ ” سعدیہ باجی میری حالت سے واقف تھیں۔۔۔
چند منٹ سعدیہ باجی انکے ساتھ باتیں کرتی رہیں۔۔۔ اسکے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔ میں بھی انکے ساتھ جھٹ سے کھڑی ہوگئی۔۔۔
“رانی۔۔۔ ! تم یہیں بیٹھو۔۔۔ میں ان لوگوں کو گھر کی سیر کراتی ہوں۔۔۔ ” انھوں نے میرا بازو پکڑ کے پھر سے بٹھا دیا۔۔
آنے والے خطرے سے بے خبر میں کرسی پہ بیٹھ گئی۔۔۔ سعدیہ باجی سے باتیں کرتے کرتے سبھی انکے پیچھے باہر چلے گئے۔۔۔ میں نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔ اب تک جو نظریں فرش پہ جمی تھیں۔۔۔ بلآخر بے باکی سے اوپر اٹھیں۔۔۔ پر اگلے ہی پل پھر سے جھک گئیں۔۔۔
“اف خدایا۔۔۔۔ ! یہ تو اب بھی یہیں ہے” میری سانس پھولیں۔۔۔
سعدیہ باجی باقی لوگوں کو بہانے سے وہاں سے لے گئی۔۔۔ تا کہ وہ مجھ سے بات کر پائے۔۔۔
میرا بس نہیں چل رہا تھا۔۔ میں جوتے اتار کے بھاگ جاؤں یہاں سے۔۔۔۔
چند پل کی خاموشی کے بعد اس نے گلہ صاف کیا۔۔۔ میں جوں کی توں بیٹھی رہی۔۔۔
“رانی۔۔۔ !” پہلی بار ایک انجان آدمی کے منہ سے میں نے اپنا نام سنا تھا۔۔۔
میں خاموش رہی۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ اسکے قدموں کی آہٹ مجھے اپنی طرف آتی محسوس ہوئی۔۔۔۔ میں خوفزدہ ہوکے کھڑی ہوگئی۔۔۔
“ایزی۔۔۔ ایزی۔۔۔۔۔ ! میں کچھ نہیں کہتا آپکو۔۔۔۔ ” میری حالت دیکھ کے وہ بھی پریشان ہوگیا
میں نے اپنے آپکو سنبھالا۔۔۔۔
“میں ۔۔۔ میں بس آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔ بس ۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔ آپ پلیز بیٹھ جائیں” وہ دو قدم پیچھے ہٹ کے بولا
میں پھر سے کرسی پہ بیٹھ گئی۔۔۔
وہ بھی بیٹھ گیا۔۔۔
“آپ میری خالہ کی پسند ہیں۔۔۔ اور مجھے انکی پسند پہ کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔ انھوں نے آپکو میرے لیے کچھ سوچ کے ہی پسند کیا ہوگا۔۔۔ لیکن میں ایک بار آپ سے ملنا چاہتا تھا۔۔ تاکہ آپ بھی مجھے دیکھ لیں۔۔۔ ہو سکتا ہے میں آپکو پسند نہ آؤں۔۔۔ ” وہ تمہید باندھتے ہوئے بولا
اسے کیا خبر کے وہ ایک پتھر سے باتیں کررہا ہے۔۔۔
“دیکھیں۔۔۔ اگر تو یہ رشتہ آپکی مرضی سے ہورہا ہے۔۔۔ تو ٹھیک ہے۔۔ ورنہ آپ انکار کرسکتی ہیں۔۔ میں آپ پہ کوئی بات نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔ اپنے طریقے سے اس رشتے کو یہیں ختم کر دوں گا۔۔۔۔ ” وہ مزید بولا
میرے لب سلے تھے۔۔۔ کیا بتاتی کہ میں پسند نا پسند جیسے الفاظ سے بالکل نا واقف ہوں۔۔۔
“آپکی خاموشی مجھے پریشان کررہی ہے۔۔۔ پلیز کچھ تو بولیں۔۔۔” وہ پھر سے بولا
“مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔” بلآخر میں نے لب کشائی کی
“اتنی کھنکتی ہوئی آواز ہے آپکی۔۔۔ کیوں اسے اندر ہی قید کررکھا ہے۔۔۔ ” اسکا لہجہ یکسر بدل گیا۔۔
میری نظریں غیر ارادی طور پہ اوپر اٹھیں۔۔۔
اس بار میری نظریں اسکے گلابی سے ہونٹوں تک جا ہی پہنچی۔۔۔ جن پہ پھیلی۔۔ سحر انگیز مسکان میرے جسم سے سرد لہریں گزار رہی تھی۔۔۔ میں نے پھر سے سر جھکا لیا۔۔۔
“آپ سب سے ہی اتنا گھبراتی ہیں یا پھر یہ خاص کرم میرے اوپر ہے۔۔۔ ؟” وہ بولا
یہ لہجہ اور یہ لفظ سب میرے لیے نیا تھا۔۔۔ ناواقف تھی میں ان جذبات سے جو میرا سینہ چیر رہے تھے۔۔۔۔
وہ باتوں کے بہنانے ڈھونڈ رہا تھا اور میرے پاس صرف خاموشیوں تھیں۔۔ اور ان خاموشیوں کے پیچھے درد کا ایسا طوفان جو آنکھوں کے دریچے پار کرکے باہر آنے کو تھا۔۔میں پل بھر میں خاک سے اٹھ کے ہواؤں میں اڑنے لگی۔۔۔
“لگتا ہے۔۔۔ آپ ایسے ہی خاموش رہیں گی۔۔۔ ” اسکی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔۔
“کیا بولوں میں تم سے۔۔۔۔ ؟ جسے تم ایک خاموش طبیعت لڑکی سمجھ رہ ہو۔۔۔ وہ مٹی کی ایک دیوار ہے۔۔۔۔ جس کے اندر جذبات نے کبھی جنم نہیں لیا۔۔۔۔ خشک پتے جیسی۔۔۔ جو وقت کے طوفانوں کے رحم کرم پہ اڑتا ہوا تمہارے قدموں میں آگرا ہے۔۔۔ اس سے پہلے کے تمہارے خوابوں سے اٹھتی لپٹیں۔۔۔ اس پتے کو جلا کے راکھ کردیں۔۔۔ چپ ہو جاؤ۔۔۔ مت دھکیلو مجھے امیدوں کے اس بھنور میں جہاں سے میں پھر نکل نہ پاؤں۔۔۔۔ ” میں چیخ چیخ کے یہ سب اس سے کہنا چاہتی تھی۔۔۔ پر خاموشی کی دیورا اسکے اور میرے بیچ میں حائل تھی
“آپ اگر جانا چاہتی ہیں تو جا سکتی ہیں۔۔۔۔ ” اس نے بلآخر میری مشکل آسان کر ہی دی۔۔۔
میں کھڑی ہوگئی۔۔۔ دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔
ابھی تو ہونٹوں تک کا سفر طے کیا تھا۔۔۔ کیا ہوگا جو آنکھوں تک رسائی ہو۔۔۔ رک جاؤ۔۔ تھوڑی ہمت اور کرلو۔۔۔۔ ان آنکھوں کا دیدار کرہی لو۔۔ جو اب تک میرا طواف کررہی تھیں۔۔۔
میرا ایک پاؤں دہلیز پہ تھا ۔۔۔ تھوڑا سر گھمایا۔۔۔ آنکھوں کی لگام ڈھیلی کی۔۔۔۔ جو سیدھی اس اسکی گہر ی نظروں سے اٹھتی موجوں سے جا ٹکرائیں۔۔۔۔
کون ہو تم ۔۔۔۔؟ اجنبی ہو یا اپنے۔۔۔۔ ؟ پر جو بھی ہو۔۔۔ سفاک شکاری ہو۔۔۔ جسکی ضرب سینے میں پیوست ہوئی ہے۔۔۔۔
کسی کے قدموں کی آہٹ سے میرے حواس واپس لوٹے اور میں برق رفتاری سے باہر چلی آئی۔۔۔۔
میں دادی کے کمرے میں آگئی۔۔۔۔ خیالوں میں ڈوبے آنکھیں موند لیں۔۔۔
اتنے میں دادی بھی اپنی جاننے والی کے گھرسے آگئیں۔۔۔
“ملی ہو ان سے۔۔۔۔ ؟” آتے ہی انھوں نے سوال کیا
میں نے اثبات میں سر ہلایا
“میں نے سعدیہ سے کہا بھی تھا کہ جب تک میں نہ آؤں تمہیں انکے پاس نہ لے جائے۔۔۔ پر کہاں سنتی ہے یہ لڑکی۔۔۔” انھوں نے تیوری چڑھائی
“اچھا۔۔۔ ! میں ان کے پاس جا کے بیٹھتی ہوں۔۔۔ ” وہ کمرے سے جانے لگیں
جاتے جاتے نہ جانے کیا سوچ کے وہ رک گئیں
“اری۔۔۔ ! لڑکے نے اکیلے میں بات چیت تو نہیں کی تجھ سے۔۔۔۔” انکے ماتھے پہ بل تھے۔۔
میں گھبرا گئی۔۔۔ اسکا مطلب دادی اگر یہاں ہوتیں تو مجھے اس سے کبھی نہ ملنے دیتیں۔۔
“دادی۔۔۔۔ ! لڑکا کیوں ملے گا اکیلے میں۔۔۔ ؟ آپ نے جو حکم دیا تھا اسی پہ عمل ہوا ہے۔۔۔ سب کے سامنے ہی اس نے اسے دیکھا اور یہ واپس آگئی۔۔۔۔” سعدیہ باجی عین موقع پہ پہنچ گئیں
میری آنکھوں میں کئی سوال اتر آئے۔۔ انھوں نے مجھ چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔ لیکن میرے اندر تو لرزہ طاری ہونے لگا۔۔۔ اگر دادی کو پتا چل گیا تو کیا ہوگا۔۔۔۔۔
وہ انہیں لے کہ وہاں سے چلی گئیں۔۔۔ میں پہلے کم پریشان تھی جو سعدیہ باجی نے ایک اور امتحان میں ڈال دیا تھا۔۔۔
مہمانوں نے کھانا کھایا۔۔۔ اور جانے کے لیتے تیار ہوئے۔۔۔ سبھی خواتیں جانے سے پہلے مجھ سے ملنے آئیں۔۔۔ انکے باہر نکلتے ہی رخسانہ میرے سر پہ سوار ہوگئی اور بولی کہ جاتے جاتے میں ایک بار اسے دیکھ لوں۔۔ میں نے سختی سے منع کردیا لیکن وہ تھی کہ کوئی بات سننے کو تیار نہ تھی۔۔۔ بالآخر اسکی بات مان کے میں دادی کے کمرے کی کھڑکی میں آگئی۔۔۔ ہلکا سا بردہ پیچھے کیا۔۔۔ وہاں سے باہر کے دروازے کا منظر صاف نظر آتا تھا۔۔۔
وہ لوگ ایک ایک کرکے باہر نکل رہے تھے۔۔۔ تائی، سعدیہ باجی، اور دادی انھیں دراوزے تک چھوڑنے گئے۔۔۔
وہ سب کے پیچھے تھا۔۔۔ اسکی پشت میری جانب تھی۔۔۔ میں بے دھڑک اسکو جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔ میں نے پردہ اور سرکایا ۔۔۔ گھر کی دہلیز پار کرتے ناجانے کیا سوچ کے وہ پلٹا۔۔۔ اسکی تیر کی طرح تیز نظریں میرے جسم سے آ ٹکرائیں۔۔۔ میں ہڑبڑا گئی۔۔۔
اسے کیسے خبر ہوئی کہ میں اسے دور کھڑی جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکے ہونٹوں پہ وہی مسکراہٹ پھر سے پھیل گئی۔۔ جیسے اس نے میری چوری پکڑ لی ہو۔۔۔
میں نے پردہ کھینچا اور حسین خواب جیسا وہ منظر میری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔۔۔
مجھے ڈر تھا۔۔۔ یہ دھڑکتا دل باہر ہی نہ آجائے۔۔۔ سینے پہ ہاتھ رکھ کے میں دل کو سمجھانے لگی۔۔۔۔
