Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16

” میرے دل میں ایک اور وہم جاگا ہے۔۔۔ کہ یہ پلکوں کے دریچے ابھی کھلیں گے۔۔۔ اور انکے پیچھے چھپی کسی کی جھیل سی گہری آنکھوں سے اٹھتی موجیں میرے دل کےطوفان سے جا ٹکرائیں گی۔۔۔”
وہ بولا
“پھر دیکھتے ہیں۔۔ طوفان تھمتا ہے یا لہریں پلٹی ہیں۔۔۔”
میں نے اسی کے انداز میں جواب دیا
میری پلکیں اٹھیں۔۔۔ اور نظر اسکے چہرے پہ جم گئی۔۔ اس بار میں نے ٹھان لی تھی۔۔۔ تب تک یہ پلکیں نہیں جھکیں گی جب تک وہ نظریں نہیں جھکا لیتا۔۔۔۔ اس نے اپنی شرارتی مسکراہٹ سے مجھے زیر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی پر اس بار میں جیتنا چاہتی تھی۔۔۔
“لو ۔۔! میں ہار مانتا ہوں۔۔۔۔۔”
اس نے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔
میں اپنی مسکراہٹ چھپا نہیں پائی۔۔۔
جن لمحوں پہ احساسات کے گہرے بادل منڈلاتے ہوں۔۔۔ ان پہ جب چاہتوں کی طوفانی بارشیں برسنے لگیں۔۔تو وہ لمحے بیش قیمت بن جاتے ہیں۔۔۔ انسان پل میں صدیاں جی لیتا ہے اور پھر وہ صدیوں پلکیں جھپکتے ہی گزر جاتی ہیں۔۔۔
عارفہ خالہ نے لڑکے والوں کو آواز لگائی کہ جانے کا وقت ہوگیا ہے۔
سعدیہ باجی اور چچی پھر سے مجھے کمرے میں لے جانے کے لیے پاس آئیں۔۔۔
ہم دونوں کی نظریں ایکدوسرے پہ جمی تھیں۔۔۔
“ابھی سے۔۔۔ ابھی تو بس ایک مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں سے میرے ہونٹوں کا سفر طے کیا تھا۔۔۔”
“اگر آپ اجازت دیں تو ہم اسے اب لے جائیں۔۔؟”
سعدیہ باجی نے سرگوشی کی۔۔
ہم دونوں چونکے۔۔۔
“جی۔۔ جی۔۔ ضرور۔۔۔ ہم کون ہوتے ہیں روکنے والے۔۔”
اس نے جواب دیا
“اب آپ ہی تو سب کچھ ہیں۔۔۔ قانونی طور پر۔۔۔۔ یہ آپکی امانت ہے ہمارے پاس”
وہ بولیں
“اگر بات قانون کی ہے تو۔۔۔ جیسے آپ امانت لے رہیں ہیں ۔ ویسے ہی واپس کرنی پڑے گی۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولا
“آپ بے فکر رہیں۔۔۔ “
سعدیہ باجی نے تسلی دی
میں کھڑی ہوگئی۔۔۔
“بہت جلدی ہے آپکو جانے کی۔۔۔۔؟”
اس نے میری طرف دیکھا۔۔۔
میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔
“بیٹا ۔۔! آپ نے یہیں ڈیرے ڈالنے ہیں۔۔۔ ؟”
عارفہ خالہ اسکے پاس آکے کھڑی ہوگئیں
“نہیں خالہ۔۔ چلیں۔۔۔۔ بس میں بھی اٹھ ہی رہا تھا۔۔”
وہ شرمندہ سا ہوا۔۔۔
میں کمرے میں آگئی۔۔۔
جاتے ہوئے سونیا مجھے سے ملنے آئی۔۔
“پرفیکٹ کپل۔۔۔۔”
اس نے اپنا موبائل فون میرے سامنے کیا۔۔ جس میں تھوڑی دیر پہلے لی گئی ہماری تصویریں تھیں۔۔
وہ ایک ایک کرکے تصویریں دکھانے لگی۔۔۔ میں دیکھتی رہی۔۔۔ عارفہ خالہ اور صوبیہ بھی آگئے۔۔۔ دونوں مجھ سے ملے اور سونیا کو لے کے وہاں سے چلے گئے۔۔۔
سونیا کے جانے کے بعد ایکدم سے مجھے خیال آیا۔۔۔
“میں کتنی پاگل ہوں۔۔۔ سونیا نے اتنی تصویریں دیکھائیں لیکن میں اپنے آپکو دیکھ ہی نہیں پائی۔۔۔ بس اسے ہی دیکھتی رہی۔۔۔ کیا ہو رہا ہے مجھے۔۔”
“اسے پیار کہتے ہیں میری جان۔۔۔۔”
سعدیہ باجی کی آواز گونجی
“اف۔۔ انھوں نے میرے دل کی آواز کیسے سن لی”
میں بوکھلا سی گئی۔۔
وہ ہنس پڑیں۔۔۔
“رنگ کیوں اڑ گیا تمہارا۔۔۔؟”
وہ میرے پاس آکے بیٹھیں۔۔۔
“وہ۔۔۔ آپ نے ایسا کیوں کہا،۔۔۔۔ “
“کیسا۔۔۔؟”
“پیار۔۔۔ پیار کا کچھ کہہ رہی تھیں نا آپ۔۔۔۔”
“اوہ ہاں۔۔۔ تم اتنی کھوئی کھوئی سی جو لگ رہی ہو۔۔۔ اپنے انکے جانے کے بعد۔۔۔ جب کسی کی ایسی حالت ہو تو سمجھ لو اسے پیار ہوگیا ہے۔۔۔۔”
وہ ہنس پڑیں۔۔۔
میں حسب معمول شرمانے لگی۔۔۔
“دیکھو تو سہی۔۔۔ ہماری رانی کو کیسے گال لال ہورہے ہیں۔۔۔”
انھوں نے میرا گال تھپتھپایا۔۔۔ میں نے نظریں جھکا لیں۔۔۔
اتنے میں رخسانہ اندر آئی
“آئے ہائے۔۔۔ آج تو کمر ٹوٹ گئی۔۔ بہت کام تھا۔۔”
وہ بھی پاس آکے بیٹھ گئی
سعدیہ باجی کو تائی نے آواز دی تو وہ اٹھ کے باہر چلی گئیں
“جا۔۔۔ میں تجھ سے ناراض ہوں۔۔”
میں نے خفا ہوئی
“کیوں۔۔۔ کیا ہوا۔۔؟”
“کیس سہیلی ہو۔۔۔ پورا دن گزر گیا۔۔۔ لیکن تْو ایک بار بھی اندر نہیں آئی۔۔”
“آتی کیسے۔۔۔ یہ جو تمہاری دادی ہے نا۔۔ ہٹلر کی رشتہ دار لگتی ہے مجھے۔۔۔ پورا دن سر پہ سوار رہی ہے”
“بس تمہیں بنانے ہی آتے ہیں۔۔۔ ایک منٹ کے لیے تو آسکتی تھی۔۔”
“میری جان۔۔۔ میں آنا چاہتی تھی۔۔ دو تین بار دروازے تک آئی بھی تھی لیکن۔۔۔ اندر پہلے ہی لوگوں کی بھیڑ لگی تھی۔۔۔ کیا کرتی”
اس نے مجبوری ظاہر کی۔۔۔
میں جب پھر بھی نہیں مانی تو وہ بولی
“اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں تمہارے ساتھ بیٹھ کے تمہاری خوش میں شرکت کروں یا دور رہ کے۔۔ میرے لیے اتنا ہی بہت ہے کہ تم خوش ہو۔۔۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔۔۔”
اس نے مجھے گلے سے لگایا۔۔۔
٭٭٭٭٭
میری آنکھ کھلی تو دن چڑھ چکا تھا۔۔۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ابھی تک کسی نے مجھے نہیں جگایا تھا۔۔ دادی کی صحن سے آوازیں آرہی تھیں۔۔۔ میں جلدی سے اٹھی۔۔۔ کپڑے درست کیے اور باہر نکل آئی۔۔۔
“اٹھ گئی مہارانی۔۔۔۔”
دادی مجھے دیکھتے ہی بولیں
میں ڈر گئی صبح صبح ہی ڈانٹ پڑنے والی ہے۔۔
جلدی سے غسل خانے کا رخ کیا ۔۔۔ ترو تازہ ہوکے باہر نکلی تو سیدھا ہی جھاڑو پکڑ لیا۔۔۔ ایسا نہ ہو پھر سے دادی کے عتاب کا شکار ہوجاؤں۔۔۔
“اے۔۔ تْو کیا کررہی ہے۔۔۔؟”
تائی نے برآمدے سے آواز آئی
“میں صحن میں جھاڑو لگانے لگی ہوں۔۔”
“تْو پاگل ہوگئی ہے۔۔۔ ؟”
انھوں نے مجھے گھورا۔۔
میں بت بن کے کھڑی ہوگئی کہ اب کیا ہوا ہے
“دیکھ لو امّاں جی۔۔۔ اب پھر لوگ ہم پہ چڑھائی کردیں گے کہ بے چاری کو شادی کے دنوں میں بھی نہیں چھوڑا۔۔۔”
وہ دادی کے پاس آکے کھڑی ہوگئیں
“نگوڑی۔۔۔! اب تک پلنگ توڑتی رہی ہے تجھے کسی نے کام کے لیا بلایا تھا۔۔۔ ابھی آکے جھاڑو پکڑ لیا۔۔ شادی کے بعد جا کے اپنے سسرال والوں کی خدمت کرنا۔۔۔ ہمیں نہیں چاہیے۔۔۔”
دادی نے مجھے جھاڑنا شروع کیا
“پر دادی۔۔۔ گھر کے اتنے سارے کام کون کرے گا۔۔؟”
میں نے پوچھا
“وہ میں خود دیکھ لوں گی۔۔۔ ایک لڑکی کو کام پہ رکھ لیا ہے میں نے ابھی آتی ہی ہوگی”
تائی نے نیا انکشاف کیا۔۔۔ میں چپ چاپ ان لوگوں کے منہ تکنے لگی۔۔۔
“کیا بحث چل رہی صبح صبح۔۔۔”
سعدیہ باجی کمرے سے نکلتے ہوئے بولیں
“لو آگئی۔۔۔ وکالت کرنے۔۔۔۔ “
دادی چڑ گئیں
“ارے دادی۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ اتنا کس پہ تپی ہوئی ہیں۔۔۔؟”
سعدیہ باجی دادی کے پاس آئیں اور انکے کندھے پہ سر رکھ کے بولیں۔۔
“دیکھ لو اس لڑکی کو۔۔ جھاڑو پونچھے لگانے کے لیے کمر کسی ہوئی ہے اس نے۔۔ ہم نے کوئی کام وام نہیں بتایا اسے۔۔۔ خود ہی سمجھاؤ۔۔۔”
دادی نے میری شکائیت لگا دی
“رانی۔۔! تم اب سے کوئی کام نہیں کرو گی۔۔ بس تم نے آرام کرنا ہے۔۔۔ پھینکو یہ جھاڑو۔۔۔”
سعدیہ باجی میری طرف آئیں۔۔۔
“لیکن۔۔ میں ایسے فارغ نہیں بیٹھ سکتی نا۔۔۔؟”
میں بولی
“ہاں۔۔ تو کس نے کہا فارغ بیٹھنے کو۔۔۔ اپنے ان کے خیالوں میں مصروف رہنا تم۔۔۔”
انھوں نے میرے کان میں سرگوشی کی
“سعدیہ باجی۔۔۔! آپ بھی حد کرتی ہیں۔۔۔”
میں خفا ہوئی
“اچھا چل چھوٹے کاموں میں امّی کا ہاتھ بٹا دینا۔۔۔ لیکن جھاڑو پونچھا اور آگ سے دور رہنا۔۔۔۔”
انھوں نے تنبہیہ کی۔۔۔
میں نے سر ہلایا۔۔۔
دروازے پہ دستک ہونے لگی۔۔میں نے دروازہ کھولا
ماتھے پہ لاکھوں سلوٹیں سجائے ایک عورت کھڑی تھی۔۔۔
میں نے پوچھا کون ہو۔۔۔
“آنے دے۔۔۔ میں نے بلایا ہے اسے”
تائی کی آواز گونجی
وہ محترمہ مجھے عجیب نظروں سے گھورتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔۔
تائی نے اب اسے کام پہ رکھا تھا۔۔۔ میں تو اسکے تیور دیکھ کے حیران تھی کہ کیسے یہ اس گھر کو سنبھالتی ہے۔
٭٭٭٭
شادی میں سے دس دن رہ گئے۔۔۔۔ ان دنوں میں بس انھی سوچوں میں ڈوبی رہیتی کہ شادی کے بعد ہوگا کیا۔۔۔
“لو ۔۔ کام دیکھو اس لڑکی کے۔۔۔۔”
تائی کی آواز پہ میں چونکی۔۔۔
“کیا کیا یہ۔۔۔۔؟”
انکا اشارہ میرے ہاتھ کی طرف تھا۔۔۔ میری نظر پڑی تو جسم سے سرد لہریں دوڑنے لگی۔۔۔ آلو کاٹتے کاٹتے میری انگلی کٹ گئی اور مجھے خبر ہی نہیں ۔۔۔۔
انھوں نے سعدیہ باجی کو آواز دی۔۔ وہ فرسٹ ایڈ کٹ لے کے آئیں اور میری مرہم پٹی کرنے لگیں۔۔۔
“کہاں کھوئی رہیتی ہو۔۔۔۔؟”
انھوں نے مجھے گھورا
“کہیں۔۔نہیں۔۔ بس وہ۔۔۔۔ “
میں ہڑ بڑا گئی۔۔۔
“کوئی پریشانی ہے۔۔۔؟”
پٹی کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“نہیں ۔۔ کوئی پریشانی نہیں ہے۔۔۔ بس یونہی۔۔۔”
میں پھر سوچ میں پڑ گئی
“سب سمجھتی ہوں میں۔۔۔۔”
وہ میرے چہرہ پڑھنے لگیں۔۔۔
میں نے سوالیہ نظروں سے انھیں دیکھا
“اچھا سن۔۔ میں کل چلی جاؤں گی۔۔۔”
سعدیہ باجی بولیں
“کیوں۔۔۔۔ ایسے کیسے چلی جائیں گی۔۔۔”
انگلی کٹنے کا درد اب زیادہ محسوس ہونے لگا تھا۔۔
“بابا۔۔۔! دو چار دن بعد واپس آجاؤں گی۔۔۔ سکالر شپ کے لیے اپلائی کیا تھا۔۔ اسی سلسلے میں جانا ہے”
انھوں نے جانے کی وجہ بتائی۔۔۔۔
“لیکن آپ جب پچھلی بار گئی تھیں تو پیچھے کیا کچھ ہوگیا۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔”
میں گھبرا گئی
“پگلی۔۔۔ پچھلی بار جو بھی ہوا اسے بھول جاؤ۔۔۔ اب تمہارا نکاح ہوچکا ہے۔۔ کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اب۔۔۔”
انھوں نے تسلی دی
“میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔۔۔ آپ شادی کے بعد چلی جائیے گا۔۔۔”
میں نے التجا کی
“گڑیا۔۔۔! جانا ضروری ہے۔۔ لیکن میں نے کچھ اور سوچا ہے تمہارے لیے۔۔۔۔”
وہ بولیں
“کیا۔۔۔! “
میں نے پوچھا
“شام میں بتاؤں گی۔۔۔۔”
وہ مسکرانے لگیں
میں بھی چپ ہوگئی۔۔۔
٭٭٭٭
نکاح کے بعد رخسانہ صبح آتے ہوئے اور شام میں جاتے ہوئے مجھ سے ضرور ملتی تھی۔۔ اور اب تو دادی نے بھی اسے کوسنا بند کردیا تھا۔۔ یہ اور بات ہے کہ وہ زیادہ دیر رکتی نہیں تھی۔۔۔ عشاء کے بعد اسے چھٹی ہوئی تو وہ سیدھی دادی کے کمرے میں مجھے ملنے آئی۔۔۔
“رانی۔۔۔! ماشاء اللہ شادی سے پہلے بہت روپ چڑھ رہا ہے تجھے۔۔۔”
وہ میری رنگت کا جائیزہ لیتے ہوئے بولی
“چل جھوٹی۔۔۔!”
میں شرمانے لگی
“ارے سچی کہہ رہی ہوں۔۔۔ دلہن بن کے تو چمکنے لگو گی تم۔۔۔”
وہ بولی
“آہاں۔۔۔ تم لوگوں کی محفل جمی ہے۔۔۔”
سعدیہ باجی پچھلے تین گھنٹے سے غائب تھیں۔۔ تیمور کو لے شاپنگ کرنے گئی ہوئی تھیں۔۔ آتے ہی سیدھی میرے پاس آئیں۔۔۔
ہم دونوں نے مسکرا کے انکا استقبال کیا۔۔۔
“چلو اچھا ہے تم بھی یہیں ہو۔۔۔”
وہ رخسانہ کو دیکھ کے بولیں۔۔۔
“میں تمہارے لیے کچھ لائی ہوں۔۔”
پاس بیٹھتے ہوئے بولیں
“کیا۔۔۔؟”
میں نے پوچھا
“یہاں نہیں۔۔۔ دادی آنے ہی والی ہوگی۔۔۔ پچھلے صحن میں چلو۔۔۔۔”
انھوں نے سرگوشی کی
ہم تینوں پچھلے صحن میں پہنچے۔۔۔
“یہ لو۔۔۔”
انھوں نے ایک ڈبہ میری طرف بڑھایا
“یہ کیا ہے۔۔۔؟”
میں نے حیران ہوکے پوچھا
“خود ہی دیکھ لو۔۔۔”
وہ بولیں
میں نے کھول کے دیکھا تو اس میں ایک موبائل فون تھا۔۔۔
میں حیرانی سے انھیں دیکھنے لگی
“یہ کس لیے۔۔۔؟”
“یہ تمہارے لیے ہے۔۔۔۔۔ “
انھوں نے میرا ہاتھ تھاما
“میں کیا کروں گی اسکا۔۔۔۔؟”
“تم ڈر رہی تھی نا کہ میرے جانے کے بعد اگر ایسا ویسا کچھ ہوگیا تو۔۔۔ “
“ہاں تو۔۔۔؟”
“تو یہ کہ یہ موبائل تم اپنے پاس رکھو گی۔۔۔ جب بھی کبھی کچھ ایسا ویسا ہونے لگے مجھے فوراً فون کردینا۔۔ میں نے اپنا نمبر اس میں سیو کر دیا ہے”
“پر دادی کو اگر پتا چل گیا تو۔۔۔۔؟”
“اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے تم کتنا اسے چھپا کے رکھ سکتی ہو۔۔۔”
انھوں نے کہا
“رخسانہ تم بھی اپنا نمبر اسے بتاؤ۔۔۔ تاکہ ضرورت پڑنے پہ یہ تمہیں بھی مدد کے لیے بلا سکے۔۔۔”
سعدیہ باجی رخسانہ سے بولیں
میں نے فون نکالا انھوں نے رخسانہ کا نمبر بھی سیو کردیا ۔۔۔ اور مجھے سرسری طور پہ موبائل کا استعال بھی بتا دیا۔۔۔
“اب جلدی سے اسے چھپا لو،۔۔۔ اس سے پہلے کے کوئی دیکھ لے۔۔۔”
وہ ادھر ادھر دیکھ کو بولیں
میں موبائل دوپٹے کی تہوں میں چھپانے لگی۔۔۔
“سن۔۔! “انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا
میں حیرانی سے انھیں دیکھنے لگی
“اس میں ایک اور نمبر بھی سیو ہے۔۔۔۔”
میں انکی بات نہیں سمجھی
“ارے۔۔۔ تمہارے ان کا نمبر بھی اس میں ہے۔۔۔ دل کرے تو اس سے بھی بات کرلینا۔۔۔ لیکن محتاط رہ کے۔۔۔”
وہ مسکرانے لگیں
“سعدیہ باجی۔۔۔ ! آپ کیسی کرتی ہیں۔۔ میں ۔۔ میں کیوں کروں گی اس سے۔۔۔”
“بھئی۔۔! اب کیوں کا تو مجھے نہیں پتا۔۔۔ لیکن یہ ارسل کی خواہش تھی۔۔ اس لیے میں نے تمہارا نمبر اسے دے دیا ہے اور اسکا نمبر تمہارے پاس ہے۔۔۔ اب یہ تم پہ ہے۔۔ بات کرنا چاہو تو کرلینا۔۔۔”
سعدیہ باجی اور رخسانہ مسکرانے لگیں
میں ہمیشہ ک طرح نیچے دیکھنے لگی۔۔۔
“چلو ۔۔ اب جاؤ۔۔۔ “
انھوں نے میرا کندھا تھپتھپایا۔۔۔
***
رات کے گیارہ بج چکے تھے اور میں بےچینی میں کروٹیں بدل رہی تھی. کمرے کے دروازے پہ ہلکی سی دستک ہوئی. میں نے اٹھ کے دروازہ کھولا. سامنے ہی سعدیہ باجی کھڑی تھیں.
” موبائل کہاں ہے تمہارا؟”
انھوں نے پوچھا
“الماری میں رکھا ہے”
میں نے معصومیت سے جواب دیا تو وہ ہنس پڑیں
“الماری سے موبائل نکالو.. کوئی تم سے بات کرنا چاہتا ہے “
وہ بولیں
” کون؟ “
میں سوچ میں پڑ گئی
” اف.. کتنی سیدھی ہو تم لڑکی.. کیا ہوگا تمہارا؟ “
انھوں نے سر پکڑ لیا
میں چپ چاپ انکا چہرہ دیکھتی رہی
” ارسل تمہیں فون کرے گا، پچھلے صحن میں جا کے اس سے بات کر لینا”
وہ بتا کے چلی گئیں اور میرا جسم پسینہ پسینہ ہونے لگا
ہمت کرکے میں نے موبائل الماری سے نکالا اور پچھلے صحن میں آگئی. ساتھ ہی فون کی سکرین روشن ہوئی
ارسل کا نام سکرین پہ جگمگانے لگا. میں نے کال اٹینڈ کی
“محترمہ..! اور کتنے امتحان لینے ہیں؟ “
اسکی بھاری بھرکم آواز سنتے ہی مجھے سانپ سونگھ گیا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *