Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11

رخسانہ کی بات سن کے مجھے حوصلہ ہوا۔۔۔ دل میں امید کی ایک چنگاری جلی۔۔۔
بدنامی کے اس داغ کو مٹانے کے لیے مجھے ضرور کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔
رخسانہ مجھے تسلی دے کے اوپر چلی گئی اور میں کیچن کی طرف بڑھی۔۔۔
اب دیکھتے ہیں نصیب اور کیا رنگ لاتا ہے
٭٭٭٭٭
ایک نوک دار چیز سیدھی میرے بازو سے آ کے لگی۔۔۔ خوف کے مارے میری چیخ نکل گئی۔ ہاتھ میں دادی کے دھلے ہوئے سفید کپڑے تھے۔۔ وہ نیچے جا گرے۔۔ میرا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا۔
“رانی۔۔۔!”
کسی کی سرگوشی میرے کانوں میں پڑی
میں نے گردن گھما کے اوپر کی طرف دیکھا۔۔ چھت سے رخسانہ جھانک رہی تھی۔
میں نے وجہ پوچھی تو اس نے فرش پہ دیکھنے کا اشارہ کیا۔ دراصل جو نوک دار چیز مجھے آکے لگی تھی وہ کنکری پہ لپٹی رخسانہ کی چٹھی تھی۔۔ جو میرے پاؤں میں پڑی تھی۔
میں نے وہ چٹھی اٹھا کی دیکھی تو اس میں درج تھا۔۔۔
“سادیہ کا نبر مل ہے، ساٹور کے پاس آجاؤ 2 بج۔۔۔”
جوڑ توڑ کرکے میں نے حساب لگا لیا کہ اسے سعدیہ باجی کا نمبر مل گیا ہے۔ دو بجے سٹور کے پاس جانا ہے۔۔۔
میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بتایا کہ میں آجاؤں گی۔۔
کتنی جھوٹی ہے رخسانہ کہتی ہے میں نے چھ کلاسیں پڑھی ہیں۔۔ اسکی لکھائی سے تو ایسے لگتا ہے کہ سکول کا منہ بھی نہیں دیکھا ہوگا۔۔۔ بے شک میں میڑک فیل تھی پر اتنی سمجھ تو رکھتی ہوں۔۔
میں نے چار بار اسکی چٹھی پڑھی۔۔
جہاں ایک طرف اسکے اس انداز پہ مجھے ہنسی آرہی تھی وہیں پیار پہ آرہا تھا کہ دو دن کی جدوجہد کے بعد اس بے چاری نمبر ڈھونڈ نکالا تھا۔
دادی ظہر کی نماز کے بعد کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹ گئیں اور میں موقع پا کر صحن کے چکر کاٹنے لگی۔ دو کے ڈھائی بج گئے تھے لیکن رخسانہ کی کوئی خبر نہیں آئی۔۔ بلآخر میں نے بھی آس چھوڑ دی۔ دادی اور تائی کے باہر آنے کا وقت ہوچکا تھا۔۔ مایوس ہے کے میں برآمدے میں آکے بیٹھ گئی۔۔
رخسانہ نے سیڑھیوں سے سرگوشی کی۔۔ میں جلدی سے سٹور کی طرف آگئی۔۔
“کہاں رہ گئی تھی تم۔۔۔؟”
میں چڑ کے بولی
“کیا کرتی ۔۔ کام ہی اتنا تھا۔۔۔ اوپر سے تمہاری سوتیلی ماں سر پہ سوار کھڑی تھی۔۔ بڑی مشکل سے موقع ملا۔۔۔”
وہ بتانے لگی
“اچھا جلدی سے نمبر ڈائل کرو۔۔۔دادی ابھی اٹھتی ہوں گی۔۔۔ انھیں بھنک بھی پڑی کے میں سٹور کے پاس ہو قیامت برپا کردیں گی۔۔۔”
میری سانسیں پھول رہی تھیں۔۔۔
رخسانہ نے اپنے ٹوٹے پھوٹے موبائل سے نمبر ڈائل کیا۔۔۔ بیل جانے لگی۔۔
“سعدیہ باجی۔۔۔ جلدی فون اٹھائیں۔۔۔”
میں بے تاب ہو رہی تھی۔۔۔ بیل بند ہوگئی پر انھوں نے فون نہیں اٹھایا۔۔
“یہ نمبر ٹھیک تو ہے نا۔۔؟”
میں نے پوچھا
“ہاں ٹھیک ہے۔۔۔ سو فیصد۔۔”
“اچھا ایک بار پھر کوشش کرو۔۔۔”
دوبارہ بیل جانے لگی۔ لیکن اس بار بھی فون نہیں اٹھایا گیا
“مجھے لگتا ہے تم غلط نمبر لے آئی ہو۔۔۔”
“نہیں بابا۔۔۔ بالکل صحیح نمبر ہے۔۔۔”
“اچھا تمہیں کیسے پتا صحیح نمبر ہے۔۔۔؟”
“میں نے خود تمہاری بہن کے موبائل سے یہ نمبر نکالا ہے۔۔۔”
“تم انگلش پڑھ لیتی ہو۔۔۔؟”
“ہاں تو اور کیا۔۔۔ میں چھٹی تک سکول جاتی تھی۔۔ پڑھائی میں بھی اچھی تھی”
“خدا کا خوف کرو رخسانہ۔۔۔ تمہاری لکھائی دیکھی میں نے۔۔۔ اردو تو ٹھیک طرح سے لکھ نہیں سکتی ہو۔۔۔ انگلش کہاں سے پڑھ لی۔۔۔”
مجھے اس پہ بالکل یقین نہیں تھا
“ہو ہائے۔۔۔ وہ تو میں نے جلدی میں لکھا۔۔۔ “
“جو بھی ہو۔۔۔ مجھے لگتا ہے یہ غلط نمبر ہے”
“میرا یقین کرو یہ نمبر بالکل ٹھیک ہے۔۔۔”
“تم کیسے کہہ سکتی ہو۔۔۔؟”
“آئے ہائے۔۔ میں کہہ رہی ہوں نا۔۔۔ نمبر نکالنے کے بعد میں نے تمہاری بہن سے بھی پوچھا تھا۔۔۔ اس نے کہا یہی سعدیہ کا نمبر ہے۔۔۔”
میں غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔
“رخسانہ۔۔ سچ سچ بتا۔۔۔ چکر کیا ہے۔۔۔ میں اپنی بہنوں کو بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں اتنی آسانی سے وہ تمہیں نمبر نہیں دیں گی”
میرا شک بڑھتا جارہا تھا
“مت مانو۔۔۔! میں کہہ رہی ہوں کہ یہی سعدیہ کا نمبر ہے۔۔ جو اگر میں غلط ثابت ہوئی تو تیری جوتی میرا سر۔۔۔”
اس کی اس درجہ یقین دہانی پہ مجھے مزید تشویش ہوئی
“تم نے کہا کہ یہ نمبر تم نے چوری نکالا ہے۔۔۔ پھر کیسے میری بہن نے نمبر کی تصدیق کی۔۔۔؟”
میں اسکی باتوں میں آنے والی نہیں تھی
“اف ۔۔۔! تم بس فضول چیزوں میں وقت برباد کرلو۔۔۔۔ نہیں کرنی بات تو میں جارہی ہوں”
وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھی
“رخسانہ۔۔۔! مجھے سب سچ بتاؤ۔۔اسکے بعد میں بات کروں گی۔۔۔”
میں نے اسے کلائی سے پکڑا
“اچھا میں سچ سچ بتا دیتی ہوں۔۔۔”
وہ گہری سانس لے کے بولی
میں بغور اسکے چہرے کے تاثرات کا جائیزہ لینے لگی۔۔۔
“دراصل میں نے تمہاری سوتیلی ماں سے بات کی تھی کہ تمہاری تائی کے پاس میری پچھلے مہینے کی تنخواہ ہے وہ نکلوا دیں۔۔۔ تو وہ بولیں کہ میں اس میں تمہاری مدد نہیں کرسکتی ۔۔ بس میرے لیے موقع غنیمت تھا۔۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ میری مدد نہیں کرسکتی تو سعدیہ کا نمبر دے دیں میں اس سے مدد لیتی ہوں۔۔ بس انھوں نے نمبر دے دیا۔۔”
اس بار اس کا بہانہ حقیقت سے قریب تر تھا۔۔لیکن میرے شک کا کیڑا ابھی بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ اگر یہی بات تھی تو وہ مجھے پہلے ہی بلا جھجک بتا سکتی تھی۔۔ خیر۔۔ ایک بات تو سمجھ گئی کہ وہ اصل بات مجھے بتانا نہیں چاہتی۔۔۔ اس لیے مزید بحث فضول ہے۔
“اچھا ۔۔ ٹھیک ہے مجھے یقین ہے تم پہ۔۔ اب ایک آخری بار کوشش کرتے ہیں۔۔”
میں نے اسے کہا
تیسری بار بیل جانے لگی۔۔۔ امید تھی کہ اب تو وہ فون اٹھا لیں گی۔۔ پر عین اسی وقت رخسانہ کا موبائل دو بار ٹوں ٹوں کرکے بند ہوگیا۔۔۔
“بیڑا غرق۔۔۔ ! اسکی بیٹری پھر سے گئی۔۔۔ پوری رات چارجنگ پہ لگا کے رکھتی ہوں۔۔ آدھا دن نہیں نکالتا۔۔۔ “
لو بھلا۔۔۔ اب تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔۔ میں بھی مایوس ہوگئی
“شفیق سے کہا بھی تھا کہ بیٹری بدلوا دے۔۔۔ پر وہ کہتا ہے نیا موبائل لے دوں گا”
“شفیق۔۔۔ ! شفیق سے تو تمہارا رشتہ ٹوٹ چکا تھا۔۔۔۔؟”
میں حیرانی سے اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔
“نہیں۔۔۔ شفیق نہیں۔۔۔ وہ امّاں ۔۔ امّاں سے کہا تھا۔۔۔۔ میں بھی کتنی پاگل ہوں۔۔۔ ہر وقت وہی دماغ میں چلتا رہیتا ہے۔۔۔”
وہ مجھے وہیں چھوڑ کے ایسے سیڑھیوں کی طرف بھاگی جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔۔۔
اللہ جانے رخسانہ کو ہوا کیا ہے۔۔۔ عجیب و غریب حرکتیں کررہی ہے۔۔۔ ضرور کوئی نے کوئی چکر ہے۔ اس وقت تو وہ جان چھڑا کے بھاگ گئی لیکن اس سے پوچھنا پڑے گا کہ چل کیا رہا ہے۔۔۔ میرے دل میں اسکے لیے پہلے کبھی ایسے شکوک و شبہات نہیں آئے تھے۔۔۔
تیں دن گزر گئے۔۔ میں نے کئی بار کوشش کی کہ رخسانہ سے بات چیت ہو پائے۔۔۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔۔ میں بار بار یہی سوچ رہی تھی کہ ہو سکتا ہے رخسانہ کی سعدیہ باجی سے بعد میں بات ہوئی ہو۔۔ لیکن پھر یہ سوچ کہ چپ ہو جاتی کہ اگر سعدیہ باجی کو اصل معاملے کی خبر ہوئی ہوتی اب تک وہ گھر والوں کو فون تو ضرور کرلیتیں۔۔۔ پھر یہ بھی خیال آتا کہ انھیں میری بات پہ یقین ہی نہ ہو۔۔ اس لیے اس معاملے سے خود کو دور رکھ رہی ہوں۔۔۔
ان سارے سوالوں کے جواب رخسانہ کے پاس تھے جو میرے ہاتھ نہیں لگ رہی تھی۔ دو ایک بار آنکھوں کے اشاروں سے بات کرنی کہ کوشش بھی کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔ کئی بار تو لگتا کہ جان کے نظر انداز کررہی ہے۔۔۔
٭٭٭٭٭
تائی تین مہینوں سے تایا کے پیچھے پڑی تھیں کہ صحن کا فرش مرمت کرادیں۔۔۔ صحن کے بیچوں بیچ اینٹیں ٹوٹ گئیں تھیں اور ایک گڑھا سا بن گیا تھا۔ تایا ہر بار پیسوں کی کمی کا بہانہ کرکے بات کو ٹال دیتے تھے۔۔ اب تو تائی بھی چپ ہو گئی تھیں۔۔۔
ایک دن اچانک سے دروازے پہ دستک ہوئی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے گردو غبار سے اٹی شکل والا آدمی کھڑا تھا۔۔ جس نے گدھا گاڑی پہ کچھ اینٹیں لاد رکھی تھیں۔۔۔ پتا چلا کہ تایا نے فرش کی مرمت کے لیے یہ اینٹیں منگوائی ہیں۔۔
ہمارے گھر کا دراوازہ چھوٹا تھا اور دہلیز کافی اونچی۔۔ گدھا گاڑی اندر نہیں آسکتی تھی۔۔ میں نے تائی کو بتایا تو بھاگی بھاگی آئیں۔۔ گدھا گاڑی والے سے منت سماجت کہ اینٹیں اندر صحن میں رکھ دے۔۔ لیکن اس نے تائی کی ایک نہ سنی۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اینٹوں سے لدی گاڑی گلی میں الٹائی اور چلتا بنا۔۔۔
اب اتنی ساری اینٹیں۔۔۔۔ گلی سے اٹھا کے صحن تک کون لے جائے گا۔۔۔۔ ؟
تائی اور دادی کی نظریں مجھ پہ جم گئیں۔۔۔ تیمور تین دن سے اپنی خالہ کی طرف گیا ہوا تھا۔ جب سے رشتہ پکا ہوا تھا نادیہ باجی صبح صبح گھر سے نکلتیں اور دوپہر میں واپس آتی تھیں۔۔۔ کبھی سہیلی کا بہانہ تو کبھی کسی کام کا۔۔۔ دادی کی عمر ایسی تھی کہ یہ کام ان سے ہو نہیں پاتا۔۔ تائی نے پہلے ہی کمر پکڑ لی۔۔ تایا اور بابا دیر رات گھر واپس آتے تھے
“چل رانی۔۔۔! یہی تیرا نصیب ہے۔۔۔”
میں نے کمر کس لی۔۔۔ لیکن اتنی ساری اینٹیں اٹھانا میرے بس میں نہیں تھا۔۔ کچھ ہی دیر میں ہمت جواب دے گئی۔۔۔ اب تو چاہے کچھ بھی ہوجائے میں تو نہ کر پاؤں گی۔۔۔ میں فرش پہ جا کے لیٹ گئی۔۔
تائی کو مجھ پہ ترس آگیا اور بولیں کہ کسی آدمی کو چند پیسے دے اینٹیں اندر ڈلوا لیتے ہیں۔۔ لیکن دادی ایک ٹکا خرچنے کو تیار نہیں تھیں۔۔۔ پیسے بچانے کی ایک صحیح ترکیب ان کے دماغ میں آئی۔۔۔
“اپنی دیوارنی کو کہہ کے رخسانہ کو بلوا لے۔۔۔ وہ اسکے ساتھ مل کے اینٹیں اندر رکھوا دے گی”
دادی نے تائی کو مشورہ دیا۔۔۔
“نا اماں جی۔۔۔ میں تو نہ کہوں گی۔۔۔ دیکھا نہیں اس دن کیسے تیور تھے اسکے۔۔ ایسی شرمندگی میں تو نہیں اٹھا سکتی۔۔۔”
تائی نے ہاتھ کھڑے کیے۔۔۔
میں تو خود دعائیں کررہی تھی کہ کسی طرح رخسانہ سے میری بات چیت ہو۔۔ اور اس بار تو سب کے سامنے ہی میں اسے مل سکتی تھی۔۔ پر تائی اپنی ضد پہ اڑی رہیں۔۔۔ دادی نے تھوڑا سا دماغ لڑایا۔۔۔ اور ایک اچھا سا منصوبہ تیار کیا۔۔۔ جس سے ان لوگوں کی ناک بھی نیچی نہ ہو اور کام بھی ہوجائے۔۔۔
پلان کے مطابق میں فرش پہ نیم بے ہوشی کی ایکٹنک کرتے ہوئے لیٹ گئی۔۔ دادی نے واویلہ مچایا
“ہائے۔۔۔۔ مر گئی۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ ارے لوگو۔۔ دیکھو کیا ہوا اس لڑکی کو۔۔۔”
تائی دور کھڑی یہ تماشہ دیکھتی رہیں۔۔ دادی کا شور سن کے رخسانہ سمیت سبھی نیچے آگئے۔۔۔
دادی میرے منہ پہ پانی کے چھینٹے مارنے لگیں۔۔۔ میں نے بھی کمال کی ایکٹنگ کی۔۔۔ مجھے فرش پہ ایسی حالت میں پڑا دیکھ کے سب کے چھکے چھوٹے گئے۔۔۔ رخسانہ کسی کی پرواہ کیے بنا میرے پاس آئی اور مجھے ہلانے لگی
“کیا ہوا ۔۔۔ امّاں جی۔۔۔!”
سوتیلی امی نے پوچھا
“ہونا کیا ہے۔۔۔ فرش کی مرمت کے لیے اینٹیں منگوائی تھیں۔۔۔ نگوڑا گدھا گاڑی والا گلی میں ڈال کے چلا گیا۔۔۔ اب گھر میں کوئی مرد تو موجود نہیں ہے ۔۔ کیا کرتے۔۔ ہم تینوں عورتیں ہی اینٹیں اٹھا اٹھا کے اندر لاتے رہے۔۔۔ اب کیا میری عمر ہے اینٹیں اٹھانےکی۔۔۔۔ اور اپنی آپا کو دیکھو بے چاری چار دن سے کمر کے درد میں مبتلا ہے پھر بھی لگی رہی۔۔ ہماری ہمت ٹوٹی تو سارا بوجھ اس بچی پہ آگیا۔۔۔ اب یہ اکیلی بھی کیا کرسکتی تھی۔۔۔ بے ہوش ہوگئی۔۔۔۔ دیکھو ذرا اسکی حالت۔۔۔ مر مرا جاتی تو سارا زمانہ ہمیں تانے دیتا کہ کام کرا کرا کے یتیم کی جان لے لی۔۔۔۔”
دادی کتنی شاطر دماغ ہیں۔۔۔ میں آنکھیں بند کیے انھیں داد دے رہی تھی۔۔
“ائے۔۔۔ ہائے۔۔ ایک تو آپا ہمیشہ مجھے پرایا سمجھتی ہیں۔۔ مجھ سے کہا ہوتا۔۔ میں رخسانہ کو بھیج دیتی۔۔۔۔ “
سوتیلی امی بولیں
رخسانہ لگاتار مجھے ہلاتی رہی۔۔ میرے منہ میں پانی ڈالا۔۔۔
“تمہیں کیسے کہتی ۔۔۔ اپنے اتنے کام ہوتے ہیں تمہارے۔۔۔”
تائی بولیں
“لو بھلا۔۔۔ آپ بھی حد کرتی ہیں۔۔ جب یہ لڑکی آپکے گھر میں کام کرتی تھی تو ضرورت پڑنے پہ میں بھی بلا لیتی تھی۔۔۔ “
انھوں نے کہا۔۔
“اچھا ۔۔۔ ! تم لوگ بحث چھوڑو اب۔۔۔۔ “
دادی بولیں۔۔ اور ساتھ ہی انھوں نے مجھے چنٹی کاٹی تو میں اٹھ بیٹھی۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں دادی۔۔۔ اب فکر نہ کریں۔۔۔ “
میں بولی۔۔ اور ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی
“اب کیا کررہی ہے۔۔۔؟”
وہ پوچھنے لگیں۔۔۔
“اتنی ساری اینٹیں اب بھی باہر پڑیں۔۔ اندر نہیں لانی کیا۔۔۔”
میں نے جواب دیا
“رخسانہ۔۔۔ جا مدد کر۔۔ گھر کا کام میں خود دیکھ لوں گی۔۔۔”
سوتیلی امّی رخسانہ کو آرڈر دے کے اوپر چلی گئیں۔۔۔ دادی کا پلان کام کرگیا۔۔۔
سب ایک ایک کرکے وہاں سے چلے گئے۔۔ اب مجھے رخسانہ سے بات کرنے کی پوری آزادی تھی۔۔
“کیا ڈرامہ لگایا ہوا ہے تم نے اتنے دن سے۔۔۔”
میں نے اسے گھورا
“کیسا ڈرامہ۔۔۔؟”
“تمہارے یہ بدلے ہوئے تیور صاف پتا دے رہے ہیں۔۔۔”
“ہا۔۔۔ میں نے کیا کیا۔۔۔؟”
وہ انجان بننے لگی۔۔۔
چل باہر آ اینٹیں اٹھاتے ہیں۔۔
“سعدیہ باجی سے بات ہوئی تمہاری۔۔۔؟”
گلی میں آتے ہی میں نے سوال کیا
“نہیں ہوئی۔۔۔ ہوتی تو میں تمہیں بتاتی نا۔۔۔”
اس نے جواب دیا
“تم نے دوبارہ کوشش کی انکے نمبر پہ ۔۔؟”
“نہیں کی۔۔۔”
“کیوں۔۔۔”
“مجھے لگتا ہے اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔۔۔۔”
“کیوں۔۔۔”
میں اسکا چہرہ دیکھنے لگی
“دیکھو ۔۔ ! کچھ بھی ہو۔۔۔ تمہارےسر سے یہ بدنامی تبھی ٹل سکتی ہے جب نادیہ کی حقیقت سب کو پتا چلے۔۔۔ ہم اگر اس وقت سعدیہ کی مدد لیں بے شک وہ تم سے کتنا پیار کرتی ہو لیکن بہن کو بدنام نہیں ہونے دے گی۔۔۔”
اسکی یہ بات سن کے میں سوچ میں پڑ گئی۔۔۔ کافی حد تک اسکی یہ بات صحیح تھی
“تو اب۔۔۔ اب کیا میں چپ ہو کے بیٹھ جاؤں۔۔۔؟”
میں اداس ہوگئی
“نہیں نا پگلی۔۔۔ میرے دماغ میں ایک بہت اچھا منصوبہ ہے۔۔۔۔”
“کیسا منصوبہ۔۔۔۔؟”
وہ چپ ہوگئی۔۔۔
ہم دو چار کرکے اینٹیں اندر لا رہے تھے۔
“بتاؤ نا۔۔۔ “
میں نے پھر سے پوچھا
“میں ایسے تمہیں بتا سکتی پہلے تم مجھ سے ایک وعدہ کرو۔۔۔”
میں چلتے چلتے رک گئی
“کیسا وعدہ۔۔۔”
“وعدہ یہ کہ تم شفیق کے بارے میں مجھ سے کوئی سوال نہیں کرو گی۔۔۔”
“یہ کیسی شرط ہے۔۔۔۔ ؟”
“جو بھی ہے۔۔۔ لیکن تم اسکے بارے میں کچھ نہیں پوچھو گی۔۔۔”
“رخسانہ کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔۔ اب تم بھی مجھ سے باتیں چھپاؤ گی۔۔؟”
“ایسی بات نہیں ہے۔۔۔”
“تو کیسی بات ہے۔۔۔۔؟”
“دراصل میرا شفیق سے رابطہ بحال ہوا ہے۔۔۔ لیکن اس بار رشتے کے لیے نہیں۔۔۔”
“کیا مطلب اس بات کا۔۔۔؟”
مجھے حیرانی ہوئی
“بس۔۔ ! یہی نا۔۔۔ یہی جو تمہارے مطلب ہیں میرا دماغ خراب کرتے ہیں۔۔۔”
یکایک اسکے چہرے کا رنگ بدلا۔ اسکی ایسے برتاؤ پہ مزید کچھ بات کرنا مناسب نہیں تھا۔ اس لیے میں نے اسے نہیں کریدا
“اچھا چھوڑو۔۔۔ تمہیں جو سہی لگتا ہے تم کرو۔۔۔ لیکن جب دل کرے تو ضرور بتانا۔۔”
“تمہارے اس کام میں شفیق ہماری مدد کردسکتا ہے۔۔۔”
“کیسے۔۔۔؟”
“تمہارے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے۔ اسکے بارے میں میں نے شفیق کو سب کچھ بتایا۔۔۔”
وہ جھک اینٹیں اٹھانے لگی
“پھر۔۔۔۔ ؟”
میں نےپوچھا
اس نے وہ بات وہیں ادھوری چھوڑی اور ایک نیا قصہ سنانے لگی۔۔۔
“تمہیں پتا ہے، نادیہ ہر روز بہانے سے کہاں جاتی ہے۔۔۔؟”
وہ کھڑی ہوکے بولی
“مجھے کیسے پتا ہوگا۔۔۔ گھرسے تو یہی کہہ کے نکلتی ہے کہ سہیلی سے ملنے جارہی ہوں۔۔”
“بکواس کرتی ہے۔۔ وہ ہر روز نوید سے ملنے جاتی ہے۔۔۔”
“ہیں۔۔۔؟ تمہیں کیسے پتا۔۔۔؟”
میری آنکھیں پھیل گئیں
“شفیق نے دونوں کو کئی بار ساتھ میں دیکھا ہے۔۔۔”
“یااللہ۔۔۔ نادیہ باجی سے ایسی امید نہیں تھی۔۔۔”
میں سراسیمگی میں بولی
وہ میرے اس انداز پہ ہنس پڑی۔۔
“اچھا۔۔۔ تو اب بھی اچھی امیدیں تھیں تمہارے دل میں۔۔۔؟”
وہ میرا کندھا ہلا کے بولی
اسکی اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا
“خیر ۔۔۔! مجھے تو دکھ ہورہا ہے نادیہ باجی نے میرے ساتھ جو کیا سو کیا۔۔ باقی سب کی آنکھوں میں بھی دھول جھونک رہی ہیں۔۔۔”
“وہی تو۔۔۔ اب بھی اگر ہم نے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھایا تو آگے چل کے جانے کیا کرے۔۔۔”
اسکے ماتھے پہ پریشانی کے آثار تھے۔۔۔
“لیکن ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔۔۔؟”
“کر تو ہم بہت کچھ سکتے ہیں۔۔۔ “
“کیا۔۔۔؟”
“رانی۔۔ ! نادیہ کی حقیقت سب کو پتا چلنا بہت ضروری ہے۔۔۔”
“ہماری بات کوئی بھی نہیں مانے گا۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔”
میں نے اسے سمجھایا
“مانتی ہوں۔۔۔ تم کہو گی تو وہ تمہیں جھوٹا بنا دے گی۔۔ میں کہوں گی تو میری بات پہ بھی کوئی یقین نہیں کرے گا۔۔۔ ہمیں کچھ ایسا کرنا پڑے گا جس سے اسکی حقیقت خودبخود سب کے سامنے آجائے۔۔”
باتوں باتوں میں اینٹیں بھی لگ بھگ ختم ہوگئی تھیں
“تو اب کیا کریں ہم۔۔۔؟”
“مجھے تھوڑا وقت دو۔۔۔۔ جلد ہی کچھ نہ کچھ کرتے ہیں”
اس نے مجھے تسلی دی
“لیکن کیا۔۔۔ پتا بھی تو چلے۔۔۔”
میں نے پوچھا
“ایک تو صبر نام کی چیز نہیں ہے تمہارے اندر۔۔۔”
وہ تپ گئی
“اچھا بابا۔۔۔ ناراض کیوں ہوتی ہو۔۔۔۔ جب کچھ سوچ لو تو مجھے بھی بتا دینا۔۔۔”
میں نے پھیکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائی۔۔۔۔
“چل ٹھیک ہے۔۔۔ میں جارہی ہوں۔۔۔ جب تک میں نہ کہوں مجھے اشارے کرکے مت بلانا”
وہ سنجیدگی سے بولی
“اللہ جانے رخسانہ کو ہوکیا گیا ہے۔۔۔ میری تو سمجھ سے باہر ہے”
میں لبوں ہی لبوں میں بڑبڑائی۔۔۔
ساری اینٹیں اندر آچکی تھیں۔۔۔
میں نے جونہی دروازہ بند کرنے کی کوشش کی کسی نے ایک دھکے سے دروازہ کھول دیا۔۔ میں وقت پہ پیچھے نہ ہٹتی تو میرا ماتھا زخمی ہوجاتا۔۔۔۔
میں حیران و پریشان سی سامنے دیکھنے لگی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *