Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22
میں نے منزل تو متعین کرلی تھی۔ پر سوال یہ تھا کہ رستہ کونسا چنوں۔۔۔ ساری کشتیاں تو پہلے ہی جلا چکی ہوں۔۔۔ اور عارضی سہارے بھی چھوڑ دیے۔۔۔ اب صرف ایک ہی سہارا ہے اور وہی مجھے راستہ دکھائے گا۔۔۔ پوری رات سوچوں میں گزر گئی۔۔۔ صبح ہوئی تو وارڈ کی صفائی ہونے لگی۔۔ میں باہر آکے کھڑی ہوگئی۔۔۔
“کیسی گزری رات۔۔۔؟”
عارفہ خالہ صبح صبح ہی آ گئیں
میں انکی طرف مڑی
“بہت اچھی۔۔۔”
میں نے مسکرا کے جواب دیا۔۔
“یہ لو۔۔۔ میں ناشتہ لائی ہوں تمہارے لیے۔۔۔۔”
“آپ نے خوامخواہ تکلیف کی۔۔۔ اسکی بالکل کوئی ضرروت نہیں تھی۔۔۔”
“ضرورت کیوں نہیں تھی۔۔۔ ؟ میری بہادر بیٹی نے دنیا سے لڑنے کی ٹھانی ہے۔۔ بھوکے پیٹ تھوڑی نہ یہ جنگ لڑی جا سکتی ہے”
انکی آنکھوں میں پیار تھا میرے لیے
“اسپتال والے لواحقین کو دو وقت کا کھانا دیتے ہیں۔۔۔”
میں نے بتایا
“جانتی ہوں۔۔ جو کھانا ملتا ہے یہاں پہ۔۔۔ مریضوں والا۔۔۔ “
“پیٹ ہی بھرنا ہے نا۔۔۔ “
“اب تم بحث بند کرو۔۔ اور چپ چاپ چلو میرے ساتھ بیٹھ کے ناشتہ کرو۔۔۔”
انھوں نے حاکمانہ انداز میں کہا۔۔
میں انکے پیچھے پیچھے چل پڑی۔۔
ارسل جس وارڈ میں داخل تھا وہ دوسری منزل پہ تھا۔۔ میں اور عارفہ خالہ نیچے آگئے۔۔۔ موسم اچھا تھا۔۔ ہلکے ہلکے بادل تھے۔۔ میں نے لان کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔
لان کے چاروں طرف اسپتال کی بڑی سی عمارت تھی۔۔۔ اوپر نیچے وارڈز ہی وارڈز بنے تھے۔۔۔
عارفہ خالہ نے ٹفن کھولا۔۔۔
“یہ دیکھو میں تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے پراٹھے بنا کے لائی ہوں۔۔۔ ارسل کو میرے بنائے ہوئے پراٹھے بے حد پسند ہیں۔۔”
وہ بتانے لگیں
“اور کیا کیا پسند ہے ارسل کو۔۔۔؟”
میں نے پوچھا
“اور۔۔۔ اسکو کڑی اچھی لگتی ہے۔۔۔۔ پالک گوشت ۔۔۔۔ کریلے بھی شوق سے کھاتا ہے۔۔۔۔”
وہ اسکی پسند کی ساری چیزیں انگلیوں پہ گننے لگیں۔۔۔
میں دھیان سے یاد کرنے لگی
“لو بھلا۔۔۔ تم باتوں میں لگ گئی۔۔۔ ناشتہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔۔۔”
انھوں نے میرے گھٹنے پہ ہاتھ مارا۔۔۔
میں چونکی
“کبھی ایسا دن بھی آئے گا جب میں یہ سب خود ارسل کو بنا کے کھلاؤں گی۔۔۔۔”
“انشاء اللہ ضرور وہ دن آئے گا”
انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا
میں نے پہلا نوالا گلے سے نیچے اتارا۔۔۔
سامنے ہی میری نظر سعدیہ باجی پہ پڑی۔۔ جو اسپتال میں شائد مجھے ہی ڈھونڈ رہی تھیں۔۔ آتے جاتے لوگوں سے پوچھ رہی تھیں۔۔۔
“سعدیہ باجی۔۔۔! آئی ہیں۔۔۔”
میں نے عارفہ خالہ کی طرف دیکھا
وہ بھی مڑ کے انکی طرف دیکھنے لگیں
“سعدیہ باجی۔۔۔!”
میں نےاٹھ کے انھیں آواز دی
لوگوں کا کافی شور شرابا تھا اس لیے ان تک میری آواز پہنچ نہیں پائی۔۔۔ میں انکے پیچھے چل پڑی
“رکو۔۔۔! میں بلا لاتی ہوں۔۔۔ “
عارفہ خالہ نے کہا لیکن میں نے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا
“سعدیہ باجی۔۔۔۔!”
چند قدم کے فاصلے سے میں نے پھر سے آواز دی۔۔ اس بار بھی انھوں نے نہیں سنا
میں لگ بھگ بھاگتی ہوئی انکے قریب پہنچی۔۔۔ اور کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا
وہ چونک کے مڑیں۔۔۔
“رانی۔۔۔! “
نظر پڑتے ہی وہ مجھ سے لپٹ گئیں
“کیسی ہو تم۔۔۔۔!”
گلے سے لگا کے بولیں
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
میں نے جواب دیا
انکے آنسو سے میری قمیص تر ہونے لگی۔۔
“آپ رو کیوں رہی ہیں۔۔۔؟”
میں پریشان ہوکے بولی
وہ سسکیاں لینے لگیں
“رانی۔۔! ہمارے گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔۔”
میں نے انھیں تسلی دی اور خود سے الگ کیا۔۔۔ رو رو کے انکا برا حال تھا
میں نے انکے گالوں سے آنسو صاف کیے۔۔۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔”
میں نے دلاسہ دیا
وہ حیران ہوکے مجھے دیکھنے لگیں
“تم رانی ہو نا۔۔۔۔؟”
وہ بولیں
“آپ نے ابھی سے نہیں پہچانا۔۔۔۔”
میں مسکرائی
“دو ہی دن میں تم بدل گئی ہو۔۔۔ “
“بدلا تو وقت ہے۔۔ میں کہاں بدلی ہوں۔۔۔؟ چلیں ۔۔ عارفہ خالہ وہاں بیٹھی ہیں ان سے بھی مل لیں”
میں نے اشارہ کیا
ہم دونوں چلتے چلتے عارفہ خالہ کے پاس پہنچے۔۔ وہ اٹھ کے سعدیہ باجی سے گلے ملیں۔۔
“چلو۔۔! تم بھی آگئی ہو تو رانی کے ساتھ ناشتہ کرلو۔۔۔۔”
عارفہ خالہ نے بیٹھتے ہی کہا
“نہیں آنٹی۔۔ میں ناشتہ کرکے ہی آئی ہوں۔۔ میں تو پہلے ہی آنا چاہتی تھی لیکن امّی اسپتال میں داخل رہی تو انکے ساتھ مجھے ہی رکنا پڑا۔۔۔ کل رات ہی وہ اسپتال سے ڈسچارج ہوئی ہیں۔۔۔ “
وہ بتانے لگیں
“اللہ پاک تمہاری ماں جی کو صحت دیں۔۔۔ بہت بڑے صدمے سے دوچار ہیں۔۔۔”
عارفہ خالہ بولیں
“بس آنٹی۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا کہ ہمارے گھر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔۔۔ ایک کے بعد ایک مصیبت نے ہمیں گھیر لیا۔۔”
انکی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگیں
“بس کریں۔۔۔ کب تک ایسے روتی رہیں گی۔۔۔”
میں نے انکے کندھے پہ ہاتھ رکھا
“آپ خود ہی دیکھیں۔۔۔ سب کچھ کیسے اچانک بدل گیا ہے۔۔ کل تک اس لڑکی کو میں دلاسے دیتی تھی اور آج یہ مجھے دے رہی ہے۔۔۔”
وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگیں
“بیٹا۔۔! جب اللہ پاک امتحان میں ڈالتا ہے تو ہمت بھی عطا ضرور کرتا ہے۔۔۔ اور یہ بچی بہت ہمت والی ہے۔۔۔۔ ہر کسی کے بس کی بات نہیں جوا تنا بڑا قدم اٹھائے۔۔۔۔”
عارفہ خالہ مجھے سرہانے لگیں
“کیسا قدم۔۔۔؟”
سعدیہ باجی نے سوال کیا
“ارسل کا ساتھ نبھانے کا۔۔۔ باپ اور دادی کے سامنے ڈٹ گئی یہ لڑکی۔۔۔”
عارفہ خالہ بولیں
سعدیہ باجی کو شائد اس بارے میں علم نہیں تھا
“رانی۔۔! کیا ہوا۔۔۔ دادی نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا”
وہ حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگیں
“چھوڑیں نا آپ۔۔۔ یہ بتائیں۔۔ تائی اب ٹھیک ہیں۔۔؟”
میں بات بدلنا چاہ رہی تھی
“باقی سب باتیں بعد میں۔۔ پہلے مجھے اصل بات بتاؤ۔۔۔۔”
انھوں نے مجھے بیچ میں ٹوکا
“سعدیہ باجی۔۔۔! کچھ نہیں ہوا۔۔۔ آپ چھوڑ دیں اس بات کو۔۔۔”
میں سر جھکا کے بولی
“رانی۔۔۔! تم اتنی بڑی ہوگئی اب مجھ سے باتیں چھپاؤ گی۔۔۔۔؟”
انکے چہرے پہ غصے کے آثار نمایاں تھے۔۔
مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ پوری بات جان کے ہی دم لیں گی
“بابا اور دادی نے میرے ساتھ سارے تعلاقات ختم کردیے ہیں۔۔۔ “
“کیا۔۔۔؟ پر کیوں۔۔؟”
“کیوں کہ میں نے ارسل کا ساتھ چنا۔۔۔۔”
“میں سمجھی نہیں۔۔۔۔”
“بیٹا ۔۔! میں بتاتی ہوں۔۔۔”
عارفہ خالہ بولیں
سعدیہ باجی انکی طرف متوجہ ہوئیں
“دراصل۔۔ ارسل کے ایکسیڈنٹ کے بعد ہم لوگوں نے یہی سوچا تھا کہ رانی کو واپس تمہارے گھر بھجوا دیتے ہیں۔۔ جوان امان لڑکی ہے۔۔ ایسی حالت میں کب تک اکیلے تڑپتی رہے گی۔۔ اس جینے کا پورا حق حاصل ہے۔۔۔ ارسل کے ساتھ کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا یہ تو اس ذات پاک کو پتا ہے۔۔ لیکن اس بے چاری کو کس چیز کی سزا ملے۔۔۔۔ “
وہ تمہید باندھنے لگیں
سعدیہ باجی کا پورا دھیان ان پہ تھا
“بس اسی سوچ پہ میں نے تمہارے بابا کو فون کیا تھا کہ وہ رانی کو واپس لے جائیں۔۔۔ اس لیے کل وہ لوگ آئے تھے اسے لینے۔۔۔ لیکن”
وہ کہتے کہتے رکیں اور میرا چہرہ دیکھنے لگیں
“لیکن کیا۔۔۔۔؟”
سعدیہ باجی نے پوچھا
“میں نے انکے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔۔۔”
میں بولی
سعدیہ باجی چپ تھیں۔۔۔
“شائد میں چلی جاتی۔۔۔ جاتے جاتے میں بس ایک بار ارسل کو دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ بابا نے میری ضد مانی اور اسپتال لے آئے۔۔۔ یہاں آکے جب میں نے اسکی حالت دیکھی تو میں نے جانے کا ارادہ بدل دیا۔۔۔ ارسل کو میری ضرورت ہے۔۔۔۔ میں اسے چھوڑ کے نہیں جا سکتی۔۔”
میں نے سر اٹھا کے انکی طرف دیکھا
وہ اب بھی خاموش تھیں
“میں نے فیصلہ کیا کہ اب سے جب تک ارسل اس اسپتال میں ہے۔۔ میں بھی یہیں رہوں گی۔۔”
“تو اسکا مطلب تم عارفہ خالہ کے گھر نہیں رہ رہی ہو۔۔۔؟”
انکی آنکھیں پھیل گئیں
“نہیں۔۔۔ میں کل سے یہیں ہوں۔۔۔”
میں نے جواب دیا
“بیٹا۔۔۔! تم لوگ باتیں کرو۔۔ میں ذرا ارسل کے پاس چکر لگا کے آتی ہوں”
عارفہ خالہ ہم دونوں کو اکیلے میں بات کرنے کا موقع دے کے وہاں سے چلی گئیں
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔۔۔؟ تم اس اسپتال میں زندگی بسر کرو گی۔۔۔”
سعدیہ باجی بھڑک گئیں
“پوری زندگی نہیں۔۔ پر جب تک ارسل یہاں پہ ہے۔۔۔”
“کون جانے۔۔۔ کب اسے ہوش آئے۔۔۔ کب تک تم اسکے جاگنے کا انتظار کرو گی۔۔۔؟”
“میں نہیں جانتی کب تک۔۔۔ پر جب تک یہ ساتھ قائم ہے میں اسے چھوڑ کے نہیں جاؤں گی”
“تم نے یہ فیصلہ جذبات میں کیا ہے۔۔۔۔ آسان کام نہیں ہے”
“میں نےسوچ سمجھ کے یہ فیصلہ کیا ہے۔۔۔”
“ان لوگوں نے تمہیں کچھ کہا؟”
سعدیہ باجی کا ارشارہ عارفہ خالہ کی طرف تھا
“نہیں۔۔۔ یہ لوگ مجھے کیا کہیں گے۔۔۔۔؟”
“پھر یہ کیسے مان گئے کہ تم اسپتال میں رہو گی۔۔۔”
وہ جھلا کے بولیں
“ان لوگوں نے تو مجھے بھاگنے کا کھلا راستہ دیا تھا۔۔۔ میں خود ہی رکی ہوں”
“میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔۔ ہاں اگر تم ان لوگوں کے گھر میں رہ رہی ہوتی تو اور بات تھی۔۔ پر اس اسپتال کے ماحول میں تن تنہا۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ میں عارفہ خالہ سے بات کرتی ہوں”
وہ کسی طور میری بات سننے کو راضی نہیں تھیں
“سعدیہ باجی۔۔۔! ارسل اسپتال میں پڑا ہے۔۔ میں کس حق سے انکے گھر میں جا کے رہوں۔۔۔؟”
میں بولی
“رانی۔۔۔! دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا۔۔ اگر انھیں کوئی مسئلہ ہے تمہیں اپنے ساتھ رکھنے میں تو گھر چلو۔۔۔ ابھی کے ابھی گھر چلو۔۔۔۔ تم ہر روز ملنے آنا ارسل سے۔۔۔۔ “
“میں بتا چکی ہوں۔۔ بابا اور دادی میرے ساتھ سارے تعلاقات ختم کرچکے ہیں۔۔۔۔ “
“وہ سب تم مجھ پہ چھوڑ دو۔۔۔ میں سنبھال لوں گی انھیں۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ اب نہیں۔۔۔ “
میں نے نفی میں سر ہلایا
“کیا نہیں۔۔۔تم گھر سے کبھی نہیں نکلی۔۔۔ اجنبی لوگوں سے ٹھیک طرح سے بات نہیں کر سکتی۔۔۔۔ہو۔۔۔”
“سیکھ جاؤں گی۔۔۔”
“بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔ “
“آپ مجھے نہیں سمجھ رہی ہیں۔۔۔۔”
“خدا نا خواستہ ارسل کو کچھ ہوجاتا ہے پھر۔۔۔۔؟ پھر کیا کرو گی”
“وہاں تک نہیں سوچا میں نے۔۔۔ ابھی بس اتنا سوچا ہے کہ مجھے ارسل کے آپریشن کے لیے پیسے جمع کرنے ہیں”
“کیا۔۔۔؟ تمہیں پیسے جمع کرنے ہیں۔۔۔۔؟”
انکی حیرانی انتہا پہ تھی
“ہاں۔۔۔ میں اسکا آپریشن کراؤں گی۔۔”
“او میرے خدا۔۔۔ کیا ہوگیا اس لڑکی کو۔۔۔۔”
میں نے کوئی جواب نہیں دیا
“تمہیں پتا بھی کہ دماغ کے آپریشن پہ کتنا خرچہ آتا ہے۔۔۔۔؟”
وہ میرا کندھا ہلا کے بولیں
“جانتی ہوں۔۔۔ لاکھوں روپے لگیں گے۔۔۔۔”
“کہاں سے لاؤ گی ۔۔۔؟”
“نہیں جانتی کہاں سے۔۔۔ پر لاؤں گی۔۔ اتنا یقین ہے”
“رانی ۔۔! بس کرو اب۔۔۔ یہ سراسربے وقوفی ہے۔۔۔”
“یقیناً ایسا ہی ہوگا۔۔۔ لیکن میں یہ بے وقوفی کرنے کا ٹھان چکی ہوں۔۔۔”
“مجھے یقین نہیں ہوتا۔۔۔ تم میری وہی معصوم سی گڑیا ہو۔۔۔”
انھوں نے میرا گال چھوا
“سعدیہ باجی۔۔! وقت بدل چکا ہے۔۔۔ مجھے بھی بدلنا پڑے گا۔۔۔”
“تم اگر کوشش کرنا چاہتی ہو تو ضرور کرو۔۔۔۔ لیکن ایک وعدہ کرو۔۔۔”
“کیسا وعدہ۔۔۔۔؟”
“اگر تم تھک گئی۔۔۔ تو واپس لوٹو گی۔۔۔۔؟”
انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا
“اب میں واپس نہیں لوٹ سکتی۔۔۔۔”
میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا
“مت کرو ایسا۔۔۔”
میں نے سر جھکا لیا
وہ رونے لگیں
“آپ مت روئیں۔۔۔۔”
“کیوں نہ روؤں۔۔۔۔ تم کنوئیں میں کودنے جارہی ہو اور میں تمہیں روک بھی نہیں سکتی”
“آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں کنوئیں میں کودنے جارہی ہوں۔۔۔۔ جو امید کی کرن مجھے نظر آرہی ہے وہ آپ لوگوں کو نظر کیوں نہیں آتی۔۔”
میں انکی آنکھوں میں دیکھنے لگی
وہ چپ رہیں
“آپ ہی میری شادی کرانا چاہتی تھیں تاکہ میری زندگی بدل جائے۔۔۔تو بدل رہی ہے زندگی۔۔۔”
“لیکن میں ایسا بدلاؤ نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اس سے تو اچھی وہی زندگی تھی جو تم پیچھے چھوڑ آئی ہو”
“آپ چاہتی ہیں میں پوری زندگی بزدلی میں گزار دوں۔۔۔؟”
“نہیں۔۔۔۔ مجھے خوشی ہے تم مظبوط بن گئی ہو۔۔۔ لیکن یہ سب بہت کٹھن ہے۔۔۔”
“منزل پہ جانے والے سبھی راستے کٹھن ہوتے ہیں۔۔۔”
“میں تمہارے جذبات سمجھ سکتی ہوں لیکن اکیلی کیسے کرو گی یہ سب۔۔۔؟”
“مجھے اس ذات پہ بھروسہ ہے۔۔۔۔”
وہ میرے چہرے کو غور سے دیکھنے لگیں
“اچھا میرے ایک سوال کا جواب دیں”
میں نے انھیں دیکھا
“پوچھو۔۔!”
وہ بولیں
“سوچیں۔۔ میں ارسل کو چھوڑ کے چلی جاتی ہوں۔۔۔ اور کچھ عرصے میں وہ ٹھیک ہوجاتا ہے۔۔۔ میں اسے کیا منہ دکھاؤں گی۔۔۔ ؟”
وہ خاموشی سے میری طرف دیکھتی رہیں
“وہ اگر آکے پوچھے گا۔۔۔ کہ میں نے اس وقت تمہارا ہاتھ تھاما جب کوئی بھی تمہارے ساتھ نہیں تھا۔۔ اور جب مجھے تمہاری ضرورت تھی تم مجھے مرنے کے لیے چھوڑ گئی۔۔۔۔ کیا وہ لمحہ میرے لیے موت نہیں ہوگا۔۔۔؟”
میری آنکھوں میں سوال تھا
“کتنی بڑی ہو گئی ہو تم۔۔۔۔۔”
وہ بولیں
“یقین نہیں ہورہا ہے۔۔ تم وہی رانی ہو۔۔۔”
میں نے سر جھکا لیا
“میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔”
انھوں نے میرا ہاتھ تھاما
میرے چہرے پہ خوشی اتر آئی
انھوں نے مجھے گلے سے لگایا
اور پھر سے رونے لگیں
“مجھے ایسا ساتھ نہیں چاہیے جس میں آپ روتی رہیں۔۔۔”
میں بولی
انھوں نے آنسو صاف کیے
“اب ٹھیک ہے۔۔۔؟”
وہ مسکرانے لگیں
“تائی کیسی ہیں۔۔۔؟”
میں نے بات بدلی
“امّی کافی بہتر ہیں۔۔ نادیہ کو یاد کرکے بہت روتی ہیں۔۔۔”
وہ بولیں
“اللہ پاک انھیں صبر دے۔۔۔۔”
“آمین۔۔۔”
“اور آپکی سکالر شپ کا کیا بنا۔۔۔؟”
“سکالر شپ کا سارا کام مکمل ہوچکا ہے لیکن میں امّی اور بابا کو اس حال میں چھوڑ کے نہیں جانا چاہتی”
“انھیں سنبھالنے کے لیے گھر میں اور لوگ موجود ہیں۔۔ اتنا بڑا موقع ہاتھ سے نا جانے دیں۔۔”
“بابا اور امّی نے بھی یہی کہا ہے۔۔۔ اس لیے اب میں تیار ہوں ۔۔۔ شائد ہفتہ دس دن تک میں چلی جاؤں”
“اتنی جلدی۔۔۔؟”
“اگر یہ سارا کچھ نہیں ہوا ہوتا تو شائد اب تک جا چکی ہوتی میں۔۔۔”
“اچھا۔۔۔ ! پھر تو اب سالوں بعد ہی ملاقات ہو پائے گی۔۔۔۔ اگر زندگی رہی تو۔۔۔۔”
میں بولی
“جانے سے پہلے میں تم سے ضرور ملنے آؤں گی۔۔۔۔ اور دادی اور چچا کو سمجھا دوں گی کہ وہ تم سے خفا نہ ہوں”
“نہیں سعدیہ باجی۔۔! آپکو میری قسم ہے۔۔ میرے حوالے سے آپ ان سے کوئی بات نہیں کریں گی”
“تم پاگل ہو۔۔۔ “
“آپ جو بھی سمجھیں۔۔۔ لیکن اس بات کو یہیں ختم کردیں۔۔۔”
وہ میری ضد کے آگے بے بس ہوگئیں۔۔۔
٭٭٭٭
دو دن گزر گئے۔۔ ابھی تک میں یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ کس راستے پہ چلوں۔۔ کہاں سے آئے گا اتنا پیسہ۔۔۔
شدید گرمی میں سنسان سڑک پہ چلتے میں اپنے آپ میں ڈوبی تھی۔۔۔
تعلیم اتنی نہیں ہے کہ کہیں نوکری پہ لگ جاؤں۔۔ لے دے کے سلائی کڑھائی آتی ہے۔۔ اس سے اتنی کمائی نہیں ہوگی کہ ارسل کے آپریشن کے لیے رقم جمع ہوسکے۔۔۔۔ لوگوں کے گھروں میں بھی کام کرنا شروع کردوں تب بھی چند ہزار اکھٹے کر پاؤں گی۔۔۔
چلتے چلتے تھک گئی تھی۔۔ سڑک کے کنارے ایک درخت کے نیچے سستانے بیٹھ گئی۔۔۔
اس سنسان سڑک سے کچھ فاصلے پہ تعمیراتی کام چل رہا تھا۔۔۔
میں وہاں سے اٹھ کے اس طرف چل پڑی جہاں مزدور کام کررہے تھے۔۔۔
