Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09

“”زہے نصیب۔۔۔ آپ نے مجھے کیسے یاد کیا” اس نے ایک گہری سانس لی۔۔
اسکی سانس میری روح کے اندر تک سرائیت کرنے لگی
“آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔۔ ” میرا پورا جسم لرز رہا تھا
“جی۔۔ حکم کریں آپ۔۔۔۔ ” وہ بولا
میں پھر سے گونگی ہوگئی۔۔۔
کیسے کہوں۔۔۔ مجھے تم سے نجات چاہیے ۔۔۔ چھوڑ دو مجھے۔۔۔ تمہارا ساتھ میرے نصیب میں ہے ہی نہیں۔۔۔ کیسے کہوں میں کس مشکل میں ہوں۔۔۔ اس مشکل کی وجہ بھی تم ہو اور نجات بھی تم سے ممکن ہے۔۔۔
میری مسلسل خاموشی پہ وہ بولا
“آپ بتائیں۔۔۔ ! کیا بات کرنی ہے۔۔؟”
نادیہ باجی میرے سر پہ سوار کھڑی اشارے کررہی تھیں
“میں ۔۔۔ !۔۔۔”
پھر سے الفاظ نے ساتھ چھوڑ دیا
“جی۔۔ ! جی۔۔ ! میں سن رہا ہوں”
“میں آپ سے کہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ “
میں رک گئی۔۔۔
“اب بول بھی دیں۔۔۔۔ کتنا تڑپانا ہے اور۔۔۔؟”
“میں یہ شادی نہیں کر سکتی۔۔۔۔ !”
ایک سسکی گلے میں اٹک سی گئی۔۔۔۔ سانسیں پل بھر کے لیں تھم سی گئیں
“رانی۔۔۔ ! یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔ تم پاگل ہوگئی۔۔۔ اوہ میرے خدایا۔۔۔۔”
نادیہ باجی ایک دم سے چلانا شروع ہوئیں۔۔ اور میرے ہاتھ سے فون پکڑ لیا۔۔
“دیکھیں۔۔۔ ! آپ اسکی بات بالکل نہ سنیں۔۔۔ یہ تو پاگل ہے۔۔۔ شادی سے پہلے سب کسی نہ کسی کو پسند کرتے ہیں۔۔۔ یہ بھی کرتی ہے۔۔۔ پر اب تو رشتہ پکا ہوگیا ہے۔۔۔۔ “
نادیہ باجی جھوٹ موٹ کا روتے ہوئے۔۔ واویلہ مچا رہی تھیں۔۔۔ اور اس کو پتا نہیں کون کون سی جھوٹی کہانیاں سنا رہی تھیں۔۔۔ میری سمجھ سے باہر تھا کہ اس طرح کا ڈرامہ کرکے وہ کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہیں۔۔۔
مجھے نہیں پتا کہ اس نے آگے سے کیا جواب دیا۔۔۔ لیکن نادیہ باجی لگاتار بولتی جارہی تھیں
“خدارا۔۔۔ ! آپ اسکی نادانی پہ رشتہ مت ختم کیجئے گا۔۔۔۔ میں ابھی اپنے گھر والوں سے بات کرتی ہوں۔۔ ہم لوگ اسے سمجھائیں گے۔۔۔ آپ بے فکر ہوجائیں۔۔۔۔ “
انھوں نے فون کاٹ دیا
“رانی۔۔ ! یہ تم نے کیا کر دیا۔۔۔۔ دادی۔۔۔ ! ۔۔۔ امّی۔۔۔ یہ دیکھیں۔۔۔ آپکی لاڈلی نے کیا کردیا۔۔۔۔ “
وہ شور مچاتی وہاں سے چلی گئیں
میرے تو حواس بے قابو ہونے لگے۔۔۔ یہ سارا ڈرامہ کیا ہے۔
“کیا۔۔۔ ہے یہ سب۔۔۔ یہ اتنا چلا کیوں رہی ہے۔۔۔۔ ؟” رخسانہ پاس آگئی۔۔۔
میں بس اسکا چہرہ دیکھتی رہی۔۔۔ کوئی جواب نہیں تھا میرے پاس۔۔ لیکن ایک بات کا مجھے یقین تھا کہ نادیہ باجی بہت بڑا بم پھوڑنے والی ہیں۔۔۔۔
“رخسانہ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔”
میں خوفزدہ ہوکے بولی
“ہوا کیا ہے۔۔۔ مجھے بتاؤ تو سہی۔۔۔۔ “
اسکی آنکھوں میں حیرانی اور پریشانی کے آثار تھے
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ پاتی۔۔۔ دادی کی اونچی اونچی آوازیں میرے کان میں پڑیں۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پچھلے صحن میں آگئیں
“بدذات۔۔۔۔ کمینی۔۔۔۔ تجھے ذرا شرم نہیں آئی۔۔۔۔ کیا کیا یہ تونے۔۔۔۔ “
وہ دونوں ہاتھوں سے مجھے پیٹنے لگیں۔۔۔
“ہائے۔۔۔ ہائے۔۔۔۔ میں تو اسے معصوم سمجھتی تھی۔۔۔ کیا کانڈھ کردیا۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔۔ “
تائی بھی آگئیں
دادی بنا دیکھے مجھ پہ تھپڑوں کی بارش کررہی تھیں۔۔۔ انکے منہ سے گالیاں اور بد دعائیں نکلتی رہیں
“خاندان کی عزت خاک میں ملا دی۔۔۔ ہم نے یتیم سمجھ کے اس کا خیال رکھا اس نے ننگا کردیا ہمیں۔۔۔ “
محلے بھر میں انکی آوازیں گونجنے لگیں۔۔۔
دادی نے بال نوچنا شروع کردیا ۔۔۔ میں خود کو سنبھال نہیں پائی وہیں فرش پہ بیٹھ گئی۔۔۔ میری نظر نادیہ باجی پہ پڑی۔۔ جو دور کھڑی اس سارے منظر کا مزہ لے رہی تھیں۔۔۔ شیطانی مسکراہٹ ان کے چہرے پہ تھی۔۔
دادی کا جوش اور غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔ رخسانہ نے چھڑانے کی کوشش کی تو وہ اسے بھی شروع ہوگئیں
“نادیہ۔۔۔ پہلے تو اس لڑکی کو نکال یہاں سے۔۔۔ ابھی کے ابھی۔۔۔ ساری بربادی کی جڑ یہی لڑکی ہے۔۔۔ اس کی نقش قدم پہ چل کے آج اس نے یہ بربادی کی ہے۔۔۔۔ “
نادیہ باجی رخسانہ کو بازو سے پکڑ کے وہاں سے لے گئی۔۔۔
دادی نے میر کلائی سے پکڑا اور سامنے والے صحن میں لے آئیں۔۔۔۔ آس پاس کی عورتیں بھی گھر میں جمع ہونے لگیں۔۔۔ میری سوتیلی ماں اور بہنیں بھی یہ سار تماشہ دیکھنے کے لیے آگئے۔۔۔۔
“یہ سب تو پہلے سے جانتی تھی تو بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔ ؟”
دادی نے نادیہ باجی سے پوچھا
“دادی۔۔۔۔ ! میں تو اسے کئی دن سے سمجھا رہی تھی کہ نوید اچھا لڑکا نہیں ہے۔۔۔ وہ کبھی تم سے شادی نہیں کرے گا۔۔۔ لیکن اسے اس پہ یقین تھا۔۔۔۔ کل تو حد ہی ہوگئی تھی۔۔۔۔ میں نے جو منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ دل کررہا تھا زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاؤں۔۔۔۔ میرا تو ہاتھ بھی اٹھ گیا تھا اس پہ۔۔۔۔۔ “
ایک اور جھوٹی کہانی وہ رو رو کے سب کو سنا رہی تھیں۔۔۔
جس مصیبت سے بچنے کے لیے میں نے یہ سب کیا تھا۔۔۔ وہ میرے سر پہ پڑ ہی گئی۔۔۔۔ میرے چہرے پہ موت کی زردی تھی۔۔۔
“بد بخت ۔۔۔ ناک کے نیچے تو یہ سب کررہی تھی۔۔۔۔ “
دادی چلاتی رہیں
“نادیہ۔۔۔ ! کاش تو پہلے بتا دیتی اس لڑکی کے کرتوت تو ان شریفوں کو ہم ایسے ذلیل تو نہ کرتے۔۔۔”
تھک کے دادی چار پائی پہ بیٹھ گئیں
“ارے دادی۔۔۔ کیا بتاؤں۔۔۔ میں اسکی عزت آپ سب کے سامنے اچھالنا نہیں چاہتی تھی۔۔ اس لیے کونے کھدروں میں اسے سمجھا رہی تھی۔۔۔ کل کی بات ہے آدھی رات تک میں اسے اپنے کمرے میں سمجھاتی رہی ہوں کہ اب رشتہ پکا ہوگیا ہے غلط حرکتیں چھوڑ دو۔۔۔ اس نے وعدہ بھی کیا تھا کہ نوید کے ساتھ مزید تعلق نہیں رکھے گی۔۔۔”
اللہ جانے کہاں سے وہ اتنے جھوٹے قصے بنا رہی تھیں
“آپکو میری بات کا یقین نہیں ہے تو سعدیہ کو ابھی فون کریں۔۔۔ اس نے کل رات ارسل کا نمبر مانگا اس سے۔۔۔ میں تو اس بات پہ چپ ہوگئی کہ چلو ارسل سے بات کرکے گی تو نوید جیسے گھٹیا لڑکے کو بھول جائے گی۔۔۔۔ “
“ہائے۔۔۔۔ ! میرا خدا۔۔۔ مجھے موت دے دے۔۔۔۔ مر جانا چاہتی ہوں میں۔۔۔ ایسی ذلت کی زندگی نہیں جی سکتی”
دادی اپنا دوپٹا پھیلا کے دعائیں مانگنے لگیں
“تو نے بات ہی کیوں کرائی اسکی۔۔۔۔ ؟ مجھے تو بتایا ہوتا۔۔۔”
تائی محلے کی عورتوں اور بچوں کو باہر نکال کے نادیہ باجی سے بولیں
“امّی۔۔۔ ! مجھے کیا پتا تھا اس نے اس بیچارے سے ایسی بات کرنی ہے۔۔۔ سعدیہ نے جیسے نمبر بھیجا تو میں اسکے پاس آئی۔۔۔ نمبر ڈائل کرکے دیا۔۔۔ پاس کھڑے ہوکے بات کرا رہی تھی۔۔ ایکدم سے یہ اس سے کہنا شروع ہوئی کہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔۔ آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔ یہ رشتہ ختم سمجھیں۔۔ اسکی ایسی باتیں سن کے میرے تو پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔۔۔”
جھوٹی کہانی اور جھوٹا رونا
“میری بچی۔،۔۔ !تو کیوں رو رہی ایسی بد ذات کے لیے۔۔۔۔ تْو تو اسکا بھلا کرنا چاہتی تھی۔۔۔”
تائی نے بیٹی کو سینے سے لگایا
میں جوں کی توں دیوارسے ٹیک لگائے یہ سب دیکھتی رہی۔۔۔ کیا بولوں میں ۔۔۔ کیا صفائی پیش کروں۔۔۔ اس وقت میرا ہر سچ جھوٹ ہو جائے گا۔۔۔۔ کوئی میری بات پہ یقین نہیں کرے گا۔۔۔ میں تہمت کے جس داغ سے بچنا چاہتی تھی وہ ویسے ہی میرے دامن پہ لگ چکا تھا۔۔۔
میں حیران تھی کہ دادی، تائی، اور نادیہ باجی کے اس ڈرامے میں نہ تو میری بہنوں نے ساتھ دیا اور نہ ہی میری سوتیلی ماں کچھ بولیں۔۔۔ وہ بس سیڑھیوں میں کھڑی یہ سب دیکھتی رہیں۔۔۔
یہ ڈرامہ شام ہونے تک ایسے ہی زور شور سے چلتا رہا۔۔۔ اور جیسے ہی تایا اور بابا کے گھر آنے کا وقت ہوا۔۔ اس میں اور زیادہ شدت آگئی۔۔۔
اور تبھی میری سوتیلی ماں نیچے آئی اور دادی سے بولی
“ماں جی۔۔۔ اس لڑکی نے کچھ کیا ہے یا نہیں۔۔ اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتی لیکن آپ کا یہ رونا دھونا لوگو ں کے کانوں تک ضرور پہنچ رہا ہے۔۔۔ آپ کیوں اپنے ہاتھوں سے رہی سہی عزت اتار رہی ہیں۔۔۔ یہ بات جتنا آپ دبائیں گی اتنا ہی سب کا بھلا ہے۔۔۔”
دادی کے دل کو انکی بات لگی۔۔۔ انھوں نے تائی اور نادیہ باجی کو خاموش کرایا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سب کے نظریں مجھ پہ تھیں اور میں ملزم کے کٹہرے میں سر جھکائے کھڑی تھی
“نادیہ جو کچھ کہہ رہی یہ سچ ہے۔۔۔۔؟”
تایا نے پوچھا
میں نے نفی میں سر ہلایا
“اف۔۔! توبہ۔۔۔ کتنی جھوٹی ہے یہ لڑکی۔۔۔۔”
نادیہ باجی کھڑی ہوکے بولیں
“نادیہ ۔۔ تم نے جو بولنا تھا بول چکی ہو،۔۔۔ اب اسکی باری ہے۔۔ بنا اسکی بات سنے کوئی فیصلہ نہیں لیا جا سکتا۔۔۔”
تایا نے اسے گھورا
بابا بھی وہاں سرجھکائے بیٹھے تھے۔۔ ضرور پچھتا رہے ہوں کہ خدا نے کیسی بیٹی انکے نصیب میں لکھ دی ہے
” دیکھو۔۔۔ ! میں خود بیٹیوں والا ہوں۔۔۔ تم سے ایسے سوال پوچھتے ہوئے میرا ضمیر مجھے ملامت کررہا ہے۔ لیکن صورت حال ایسی ہے کہ یہ سب پوچھنا میری مجبوری بن گئی ہے۔ تمہارا نوید کے ساتھ کوئی تعلق ہے یا نہیں۔۔۔؟”
تایا سے ایسا سوال سننے سے پہلے میں مر کیوں نہیں گئی
میں نے ایک بار پھر نفی میں سر ہلایا
“نادیہ نے تمہیں اور اس لڑکے کو سٹور میں دیکھا ہے۔۔ کیا سچ نہیں ہے۔۔۔”
میرا سر پھ سے نفی میں ہلا۔۔۔
“تم نے سعدیہ سے ارسل کا نمبر مانگا تھا۔۔۔ ؟”
اس بار میں نے اثبات میں سر ہلایا
“کیوں۔۔۔ ؟ “
میں چپ رہی ۔۔۔
“بابا۔۔! آپکو بتایا تو ہے اس نے سعدیہ سے دھوکے سے نمبر لیا اور میرے فون سے اس بیچارے سے بات کی اور بولی کہ میں تم سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔۔ “
نادیہ باجی پھر سے بولیں
“کیا نادیہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔؟”
تایا نے پوچھا
میں نے پھر سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
“لو بھائی صاحب۔۔ ! اب بچتا کیا ہے۔۔۔ میری بیٹی کی ساری باتیں سچ ثابت ہورہی ہیں۔۔۔ مزید کچھ کہنے اور سننے کو باقی نہیں ہے۔۔۔۔ “
تایا بابا سے مخاطب تھے۔۔
“ہائے۔،، ! اب ہم عارفہ کو کیا جواب دیں گے۔۔۔ میں تو سوچ سوچ کے مر رہی ہوں۔۔۔ “
تائی کی کمنٹری شروع ہوئی
“میں نے کہا تھا۔۔۔ کہا تھا کہ مت شادی کراؤ اسکی ۔۔۔ لیکن کون سنتا ہے میری۔۔”
دادی تسبیح ہلاتے ہوئے بولیں
“بھائی صاحب۔۔۔ ! جو بھی کرنا ہے۔۔ سوچ سمجھ کے کریں۔۔۔ کہیں جلد بازی میں غلط قدم نہ اٹھ جائے۔۔۔”
سوتیلی امّی تایا سے بولیں
بابا کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جارہی تھی۔۔۔ دور کھڑے میں انکا درد محسوس کررہی تھی۔۔۔ کیا کرتی کچھ نہ کرکے بھی میں آج اس حالت میں تھی۔۔۔ پوری زندگی سر جھکا کے گزاری۔۔۔ لیکن آج یہ صلہ مل رہا ہے۔
“بھائی۔۔۔ اس طرح سر جھکا کے بیٹھنے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ کوئی نہ کوئی فیصلہ تو کرنا پڑے گا”
تایا پھر سے بولے
بابا میرے سامنے آکے کھڑے ہوگئے۔۔۔ میں نے سر اٹھا کے انکے چہرے پہ نظر دوڑائی۔ میں ایسی بے بس بیٹی تھی جسے یقین تھا کہ اور کوئی میرے بے گنہائی تسلیم کرے نہ کرے لیکن میرا باپ ضرور کرکے گا۔۔۔ انکی آنکھیں سرخ تھیں۔۔۔ اور ان آنکھوں میں پیار تھا یا نفرت میں سمھنے سے قاصر تھی۔۔ پل بھر کے لیے میں سب بھول گئی۔۔۔ انکے چہرے میں اپنے لیے احساس اور محبت ڈھونڈنے لگی۔۔۔
اگلے ہی پل۔۔ اس آخری امید نے بھی دم توڑا۔۔۔ ایک زور دار چانٹا مجھے یہ بات سمجھا گیا کہ جھوٹ کہتے ہیں دنیا والے۔۔ کہ ماں باپ چہرہ دیکھ کے اولاد کی سچائی پڑھ لیتے ہیں۔۔۔ وہ چانٹا نہیں ۔۔ ایک بیٹی کی موت تھی۔۔۔ میں سیدھی فرش پہ جا گری۔۔۔
ان سے مجھے زیادہ امیدیں نہیں تھیں لیکن پھر بھی ہمیشہ ایک باپ ضرور نظر آتا تھا۔۔۔ اور آج وہ اس باپ کا گلا گھونٹ کے وہاں سے چلے گئے۔۔۔۔ جب سے نادیہ باجی کا ڈرامہ شروع ہوا میں ایک پل کے لیے نہیں روئی۔۔ نہ جانے کونسا بھرم تھا۔۔ جس نے مجھے ٹوٹنے نہیں دیا تھا۔۔۔ پر اب سب ٹوٹ چکا تھا۔۔۔
ایک درد بھری آہ میرا گلا چیرتی ہوئی چیخ کی صورت میں باہر آئی۔۔۔ ایک ایسی چیخ جو بچپن سے میرے اندر قید تھی۔۔۔ جسے میں نے کبھی باہر نہیں نکلنے دیا۔۔۔ پر آج وہ سارے بند توڑ کے باہر آگئی تھی۔۔۔
٭٭٭٭٭
نا جانے رات کا کونسا پہر تھا۔۔ میں برآمدے کے فرش پہ ٹانگیں پھیلائے بیٹھی تھی۔۔۔ سب کچھ لٹوا کے ہر امید مار کے۔۔ کیوں میں اب بھی زندہ تھی۔۔ موت کیوں نہیں آئی۔۔۔۔ سانسیں کیوں چل رہی ہیں۔۔۔ میں خود سے سوال پوچھنے لگی۔۔۔
“کیسا لگ رہا ہے؟”
نادیہ باجی کی آواز میرے کانوں میں پڑی
“کیا ملا یہ سب کرکے۔۔۔؟”
میں نے بنا دیکھے سوال کیا
“سکون۔۔۔ تسلی۔۔۔ آرام۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے بولیں
“سکون آرام تو آپ کو مل گیا۔۔ لیکن میری اس بربادی کے پیچھے آپکا مقصد کیا تھا؟”
“ہاہاہا۔۔۔ بہت بھولی ہو تم۔۔۔”
میں خاموش رہی
“ابھی تو میں نے صرف ایک تیر چھوڑا ہے۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کتنا نشانے پہ بیٹھتا ہے۔۔۔”
وہ سرگوشی کرتے ہوئے بولیں
“بتا دیں۔۔۔ آپ جانتی ہیں ۔۔ میں اب بھی کچھ نہیں کر پاؤں گی۔۔۔۔ “
میں نے سر اوپر اٹھایا
“صبر۔۔۔ صبر میری جان۔۔۔ جلد ہی پتا چل جائے گا۔۔۔ “
وہ پھر سےہنس پڑیں۔۔
“اب تک صبر ہی تو کیا ہے۔۔۔ یہ اور بات ہے کبھی پھل نہیں ملا۔۔۔”
میں نے نظریں جھکا لیں
“مجھے سچ میں تم پہ ترس آرہا ہے۔۔۔ لیکن میں بے بس تھی۔۔۔ میرا مقصد پورا ہونے کے لیے تمہیں اس حالت میں پہنچانا ضروری تھا”
یہ کہہ کے وہ واپس اپنے کمرے میں چلی گئیں۔۔۔
فجر کی اذان ہونے لگی۔۔۔ میں صحن میں آئی اور آسمان کی طرف دیکھا
“کیا میں تیری مخلوق نہیں ہوں۔۔۔؟”
میں نےسوال کیا۔۔۔ پر کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔ آتا بھی کیسے۔۔۔ سب کی طرح اسے بھی میری پرواہ نہیں تھی۔۔
دن چڑھا۔۔۔ سب بیتی رات بھول کے اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے۔۔۔
“کب تک سوگ منانا ہے اپنے کارناموں کا۔۔۔؟”
دادی اپنے کمرے سے باہر نکلتے ہی بولیں
“چل اٹھ۔۔۔ کمرے کی صفائی کر اور تائی کا ہاتھ بٹا۔۔۔ “
وہ ایسے بول رہی تھیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہوا۔۔۔ میں انکے روّیے پہ حیران تھی
رخسانہ کو کام سے نکالنے کے بعد اتنی جلدی کوئی اور ملازمہ تو ملنے سے رہی۔۔ اس لیے اب تائی نے بھی بات چیت شروع کردی۔۔
“کیسے۔۔ لوگ ہیں یہ۔۔۔ میرے اوپر قیامت برپا کرکے سب کچھ اتنی جلدی بھول بھی گئے۔۔۔۔ “
میں اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ کمر کسی۔۔۔ سب بھلا کے پھر سے اسی دلدل میں پاؤں رکھ دیے ۔۔ جس سے نکلنے کا آخری موقع میں اپنے ہاتھوں سے گنوا چکی تھی۔۔۔
شام میں ایک نیا انکشاف ہوا۔۔۔ ارسل اپنی خالہ اور خالو کے ہمراہ رات کے کھانے پہ مدعو تھا۔
ان لوگوں کے آنے سے پہلے دادی نے مجھے اپنے کمرے میں بٹھا دیا ۔۔ اور سختی سے منع کیا کہ میں انے کے سامنے نہ آؤں۔۔۔
مجھے نا کردہ جرم کی ایسی سزا مل رہی تھی جس نے میری روح تک کو جھنجوڑ دیا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *