Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17

” ارسل تمہیں فون کرے گا، پچھلے صحن میں جا کے اس سے بات کر لینا”
وہ بتا کے چلی گئیں اور میرا جسم پسینہ پسینہ ہونے لگا
ہمت کرکے میں نے موبائل الماری سے نکالا اور پچھلے صحن میں آگئی. ساتھ ہی فون کی سکرین روشن ہوئی
ارسل کا نام سکرین پہ جگمگانے لگا. میں نے کال اٹینڈ کی
“محترمہ..! اور کتنے امتحان لینے ہیں؟ “
اسکی بھاری بھرکم آواز سنتے ہی مجھے سانپ سونگھ گیا
“کیا آپ مجھے سن رہی ہیں۔۔۔؟”
وہ پھر سے بولا
“جی۔۔۔!”
میں نے ہلکے سے جواب دیا
“شکر ہے۔۔۔ کچھ تو سنائی دیا۔۔۔”
“آپ نے اس وقت خیریت سے فون کیا۔۔۔؟”
“اوہ۔۔۔ ہاں۔۔۔ آپ کو نئے فون کی مبارکباد دینی تھی۔۔۔”
میں چپ ہوگئی
“کیا ہوا۔۔۔؟”
وہ بولا
“کچھ نہیں۔۔۔۔”
میر ادل پتا نہیں کیوں زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔ سانسیں بھاری ہورہی تھیں
“میرا فون کرنا اچھا نہیں لگا آپکو تو میں بند کردیتا ہوں۔۔۔”
وہ سنجیدہ ہو کے بولا
“نہیں۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔”
“تو کیسی بات ہے۔۔۔؟”
“میں بس۔۔۔ پریشان ہوگئی تھی۔۔۔”
“کیوں۔۔۔ آپ پریشان کیوں ہوگئی تھیں۔۔۔؟”
“بس۔۔ ایسے ہی۔۔۔۔”
“اچھا۔۔۔ پھر آپکو زیادہ پریشان نہیں کرتے۔۔ میں فون بند کردیتا ہوں۔۔۔”
میں نے کوئی جواب نہیں دیا
“کر دوں بند۔۔۔؟”
اس نے پوچھا
“جی۔۔! کر دیں۔۔”
میں نے بوکھلا کے جواب دیا
اس نے فون بند کردیا۔۔۔
میں تھوڑی دیر موبائل کی سکرین دیکھتی رہی۔ اسکے بعد دادی کے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔ ابھی دروازے تک پہنچی تھی۔۔ تو خیال آیا
“رانی۔۔! یہ تم نے کیا کیا۔۔۔؟ وہ بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔ میں نے ایسے ہی فون بند کرنے کا کہہ دیا۔۔ اسے بر الگا ہوگا۔۔۔”
میں دوبارہ پچھلے صحن میں آگئی ۔۔۔۔ ڈرتے ڈرتے میں نے اسکا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔ بیل جاتی رہی لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا۔۔
“ہو نہ ہو۔۔۔ وہ ناراض ہو گیا ہے مجھ سے۔۔۔”
میں خود سے باتیں کرنے لگی
اتنے میں اسکا فون آگیا۔۔۔ میں نے جلدی سے کال اٹینڈ کی۔۔۔
“جی۔۔۔۔! آپ نے کیسے یاد کیا۔۔۔”
وہ بولا
“وہ ۔۔۔ میں نے پوچھنا تھا۔۔۔”
“کیا پوچھنا تھا۔۔۔؟”
“آپ کیسے ہیں۔۔۔؟”
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ کیسی ہیں۔۔۔؟”
“میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
پھر خاموشی چھا گئی
“کیا ہوا۔۔۔؟ بس یہی پوچھنا تھا۔۔۔؟”
“نہیں ۔۔ اور بھی پوچھنا تھا۔۔۔۔ “
“تو پوچھیں نا۔۔۔۔”
“آپکو برا تو نہیں لگا میں نے پہلے فون بند کرنے کا کہا۔۔۔؟”
“تھوڑا سا تو برا لگا ۔۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ شائد آپکا دل ہی نہیں کرتا ہوگا مجھ سے بات کرنے کے لیے۔۔۔”
“نہیں۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔”
“اچھا۔۔۔ تو کیا آپکا دل کرتا ہے مجھ سے بات کرنے کو۔۔۔؟”
میں پھر سے چپ
“ایک تو آپ اتنی اتنی بات پہ سوچ میں پڑ جاتی ہیں۔۔۔”
“ایسا نہیں ہے۔۔۔۔”
“تو کیسا ہے۔۔۔ وہی تو پوچھ رہا ہوں۔۔۔ اب بتا دیں کہ آپکا مجھ سے بات کرنے کو دل کرتا ہے یا نہیں۔۔۔؟”
“کرتا ہے۔۔۔ لیکن مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔”
“ڈر کیوں۔۔۔۔؟”
“پتا نہیں۔۔۔۔ میں جب بھی آپکو دیکھتی ہوں۔۔۔ تو میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگتے ہیں۔۔۔”
“ہیں۔۔۔ اور ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟”
“پتا نہیں۔۔۔ دل زور زور سے دھڑکتا ہے۔۔۔۔”
“اور کیا ہوتا ہے۔۔۔۔؟”
“سانس۔۔۔ بند ہونا شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔”
میری بات سن کے وہ ہنسنے لگا
میں خاموش ہوگئی
“بولیں۔۔۔ بولیں۔۔۔ آپ چپ کیوں ہوگئیں۔۔۔؟”
میری خاموشی کے جواب میں وہ بولا
“آپ ہنس رہے ہیں میری باتوں پہ۔۔۔”
میں خفا ہوئی
“مجھے مزہ آرہا ہے یہ باتیں سن کے۔۔۔۔ بہت معصوم ہو تم۔۔۔ شائد اسی لیے۔۔۔ میرا دل۔۔۔۔”
وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔۔۔
“آپ نے بات ادھوری کیوں چھوڑ دی۔۔۔۔؟”
میں نے سوال کیا۔۔۔
“تمہیں پتا ہے۔۔۔ جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو مجھے صوبیہ کی گڑیا یاد گئی۔۔۔۔”
“صوبیہ کی گڑیا۔۔۔؟”
میں حیران ہوئی۔۔۔
“ہم جب چھوٹے تھے تو خالو صوبیہ کے لیے ایک گڑیا لائے تھے۔۔۔ وہ گڑیا بہت اچھی لگتی تھی مجھے۔۔۔ گم صم سی۔۔۔ معصوم سی۔۔۔۔ میں گھنٹوں بیٹھ کے اسے دیکھتا رہیتا تھا۔۔۔ اور اس بات پہ مجھے سبھی چھیڑا کرتے تھے کہ گڑیا سے تو لڑکیوں کو دلچسپی ہوتی ہے۔۔۔ تو میں ان سے کہتا کہ مجھے یہ گڑیا۔۔ اپنی سی لگتی ہے۔۔۔ جیسے میرے لیے بنائی گئی ہو۔۔۔۔”
وہ بولتا چلا گیا۔۔۔ اور میں مدہوش ہوکے سنتی رہی۔۔۔
“اور آپکو پتا ہے۔۔۔ جب پہلی بار میں نے آپکو دیکھا تو۔۔۔ مجھے ایک پل کے لیے ایسے لگا۔۔۔ کہ صوبیہ کی گڑیا میں جان آگئی ہے اور وہ زندہ سلامت میرے سامنے کھڑی ہے۔۔۔ ویسی ہی گم سم سی۔۔۔۔ خیالوں ڈوبی۔۔ ڈری سہمی۔۔۔۔ “
میں اسکی باتوں میں ڈوبی تھی
“کیا آپ مجھے سن رہی ہیں۔۔۔؟”
میری خاموشی اسے پریشان کردیتی تھی
“ہاں۔۔ میں سن رہی ہوں۔۔۔۔”
“اب آپ بتاؤ۔۔۔ جب پہلی بار مجھے دروازے پہ دیکھا تھا تو کیا محسوس ہوا۔۔۔”
“اس وقت میں نے آپکے صرف جوتے دیکھے تھے۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔”
“کیا۔۔۔ جوتے۔۔۔ صرف جوتے دیکھے تھے۔۔۔۔؟”
اس نے زور دار قہقہہ لگایا
“ہاں۔۔۔ میں ڈر گئی تھی کہ کون اجنبی آگیا ہے۔۔۔۔”
میں اپنے تاثرات بتانے لگی۔۔۔
“اسکا مطلب آپ نے میرا چہر دیکھا ہی نہیں۔۔۔”
وہ بولا
“دیکھا تھا۔۔۔ جب اس دن میں آپ سے اکیلے میں ملی تھی بس تبھی دیکھا تھا۔۔۔”
“تم شروع سے ہی ایسی ہو۔۔۔؟”
اس نے ایکدم سے سوال کیا
“ایسی کیا مطلب۔۔۔؟”
“میرا مطلب سیدھی سادی سی۔۔۔”
“ہاں۔۔۔ میں ایسی ہی ہوں۔۔۔ “
میں نے جواب دیا
“تم نے کبھی سوچا کہ جس بندے سے تمہاری شادی ہوگی ۔۔وہ کیسا ہونا چاہیے۔۔۔؟”
“میں نے کبھی یہ تک نہیں سوچا تھا کہ میری شادی بھی ہوگی۔۔۔”
“کیوں۔۔۔؟۔۔۔ سبھی سوچتے ہیں۔۔ پھر تمہیں یہ سوچ کیوں نہیں آئی۔۔۔؟”
“دادی بچپن سے مجھے کہتی تھیں کہ وہ میری شادی نہیں کریں گی۔۔ میں ہمیشہ ہی انکے ساتھ رہوں گی۔۔۔ اس لیے میں نے شادی کا خیال ہی دل سے نکال دیا تھا”
“آہاں۔۔ اسکا مطلب آپکی دادی بہت پیار کرتی ہیں آپ سے۔۔۔”
“پیار۔۔۔۔۔؟ ہاں ۔۔ شائد۔۔۔”
اسکے اس سوال کا میرے پاس جواب نہیں تھا
“مجھے خالہ نے بتایا تھا کہ جب تم چھوٹی تھی تبھی تمہاری ماں کی وفات ہوئی تھی۔۔۔”
“ہاں۔۔ میں چھوٹی سی تھی۔۔۔ بابا مجھے یہاں لے آئے۔۔۔ پورا راستہ میں یہی سوچتی رہی تھی کہ میں اپنی ماں سے ملنے جارہی ہوں۔۔ لیکن۔۔ یہاں پہنچ کے پتا چلا کہ میں اب کبھی اپنی ماں سے نہیں مل سکتی”
“تمہیں انکی یاد آتی ہے۔۔۔۔؟”
“نہیں۔۔۔ زندگی نے کبھی موقع ہی نہیں دیا کہ میں انھیں یاد کرسکوں۔۔۔”
“اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپکے بابا اور دادی نے بہت پیار دیا ہے آپکو۔۔۔”
میں ایک بار پھر لاجواب ہوگئی
“آپکو پتا ہے۔۔۔ جب میں چھ سال کا تھا۔۔ میرے والدین بھی ایک حادثے میں وفات پاگئے۔۔۔ خالہ مجھے اپنے گھر لے آئیں۔۔۔ انھوں نے مجھے بہت پیار دیا۔۔۔ اپنے بچوں سے بھی بڑھ کے۔۔۔ پڑھایا لکھایا۔۔۔ اور آج میں زندگی کے ایک اچھے مقام پہ ہوں۔۔۔”
اس سے ایک بات تو صاف ظاہر تھی کہ وہ مجھ سے کہیں زیادہ خوش قسمت تھا
نا جانے کون کون سی باتیں تھیں۔۔۔ جو آج تک میں نے کسی سے نہیں کیں۔۔۔ اسکے سامنے فر فر بولتی جارہی تھی۔۔۔ وہ ڈرنا اور سہمنا۔۔ سب ختم ہونے لگا۔۔۔ ایک نئی شروعات تھی۔۔ جس میں وہ مجھے جاننے کی کوشش کررہا تھا اور میں اسے۔۔۔۔ پتا ہی نہیں چلا کب رات بیت گئی۔۔۔ صبح کی اذانیں ہونے لگیں
“خدایا۔۔ خیر۔۔۔ اتنی جلدی فجر ہوگئی۔۔۔۔”
میں چونک گئی
“فجر اپنے وقت پہ ہوئی ہے۔۔ لیکن۔۔۔ یہ وقت پر لگا کے اڑ گیا۔۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے بولا
“میں اب جاتی ہوں۔۔۔۔ دادی اٹھتی ہی ہوں گی۔۔۔ میں انھیں کمرے میں نہیں ملی تو پریشان ہوں گی”
“کتنا خیال ہے آپکو اپنی دادی کا۔۔۔ میں انتظار کروں گا جس دن آپ میرا بھی ایسے ہی خیال رکھیں گی”
اسے کتنی امیدیں تھیں مجھ سے۔۔۔۔ پر وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ دادی کے خیال سے زیادہ مجھے وہ ہنگامہ ڈرا رہا تھا جو میرے کمرے میں نہ ملنے پہ دادی نے کرنا تھا۔۔۔
بلآخر فون بند ہوا اور میں بھاگتی بھاگتی کمرے میں پہنچی۔۔
میں ابھی بستر تک نہیں پہنچی تھی دادی کروٹ لے کے اٹھ بیٹھیں
“تم سوئی نہیں تھی۔۔۔؟”
انھوں نے مجھ سے پوچھا
“سو گئی تھی دادی۔۔۔ ابھی اذان ہوئی تو آنکھ کھل گئی۔۔۔”
میں نے جھوٹا بہانہ لگایا
“چل ہڈ حرام۔۔۔ ! ہر روز تو گھوڑے بیچ کے سوئی ہوتی ہو۔۔۔ آج ایسا کیا انوکھا ہوگیا۔۔۔ “
انھیں میری بات کا یقین نہیں تھا
“دادای۔۔ مجھے بھی نماز پڑھنی ہے نا۔۔۔ اس لیے اٹھی ہوں۔۔”
میں کھڑی ہوکے بولی
انھوں نے بغور میرا چہرہ پڑھا۔۔۔ میں جلدی سے غسل خانے کے طرف بھاگی۔۔۔ اس سے پہلے چوری پکڑی جائے۔۔ اللہ سے مدد مانگتی ہوں۔۔۔
نماز کے بعد میں آکے بستر پہ لیٹی۔۔۔
کیسی عجیب بات تھی۔۔ پوری رات جاگنے کے بعد بھی نہ تو تھکاوٹ کے آثار تھے اور نہ ہی نیند کا خمار۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
“چل تو اپنا بہت خیال رکھنا۔۔۔۔ اور وقتاً فوقتاً مجھے فون کرتی رہنا۔۔۔۔”
سعدیہ باجی نے مجھے گلے سے لگایا۔۔ وہ جانے کے لیے تیار تھیں۔۔۔
میں نے سرہلایا اور انھیں رخصت کیا۔۔۔
اس بار سبھی گھر والے انھیں دروازے تک چھوڑنے کے لیے آئے۔۔۔ اوپر سے سوتیلی امّی اور میری بہنیں بھی آگئی تھیں۔۔ اور ان سب کے پیچھے پیچھے رخسانہ کھڑی تھی۔۔۔ سعدیہ باجی کے جانے کے بعد میں نے رخسانہ کو اشارہ کیا کہ وہ موقع دیکھ کے مجھے سے ملنے آئے ۔۔۔۔
دوپہر میں وہ سٹور کے پاس پہنچی۔۔
“مجھے کچھ بتانا ہے تمہیں۔۔۔۔”
میں نے اسکا ہاتھ پکڑا
“کیا۔۔۔؟ سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔؟”
وہ پریشان سی ہوگئی
“ہاں۔۔ بابا سب ٹھیک ہے۔۔۔”
“تو۔۔ بات کیا ہے۔۔۔؟”
“کل رات میری اس سے بات ہوئی تھی۔۔۔”
“کس سے۔۔۔؟”
“ارسل سے۔۔۔۔”
“ارے واہ۔۔۔ رانی۔۔۔ تْو تو بڑی تیز نکلی۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں شرارت تھی۔۔۔
“اس نے خود مجھے فون کیا تھا۔۔۔۔”
“اچھا تو کیا باتیں ہوئیں۔۔۔۔؟”
“بہت ساری باتیں ہوئیں۔۔۔۔ “
“جیسے کے۔۔۔۔؟”
“مجھے یاد بھی نہیں کہ میں کیا کیا بولتی رہی ہوں۔۔ بس اتنا یاد ہے کہ فجر کی اذانیں ہونے لگی تھیں۔۔۔”
“یااللہ۔۔۔ ! ابھی سے یہ حال ہے ۔۔۔ آگے چل کے کیا ہوگا۔۔۔”
اس کی آنکھیں پھیل گئیں
“اچھا جی۔۔۔ ! تم بھی تو شفیق سے صبح تک باتیں کرتی ہو۔۔ میری باری پہ اتنی حیران کیوں ہورہی ہو۔۔۔”
شفیق کا نام سن کے اسکے چہرے پہ اداسی چھا گئی
“کیا ہوا۔۔ ؟”
“کچھ نہیں چھوڑو۔۔ میں نے تمہیں بولا تھا نا مجھ سے شفیق کے بارے میں تم کچھ نہیں پوچھو گی۔۔۔”
اسکے تیور یکا یک بدلے۔۔۔
“رخسانہ۔۔۔! مجھے بتاؤ تو سہی۔۔۔ بات کیا ہے۔۔۔ ابھی تک جو بھی ہوا میں نے تم سے نہیں پوچھا۔۔۔ لیکن اب حد ہوگئی ہے۔۔۔۔ تمہیں بتانا پڑے گا۔۔۔ کہ تمہارے شفیق کے بیچ میں چل کیا رہا ہے۔۔۔”
میں نے ضد کی
“رانی۔۔۔! چھوڑو اس بات کو تمہاری مہربانی ہوگی۔۔۔”
وہ وہاں سے جانے لگی۔۔ میں نے اسے کلائی سے پکڑ کے روکا
“آج نہیں۔۔۔۔ جب تک تم مجھے سب سچ سچ نہیں بتاؤ گی میں تمہیں جانے نہیں دے سکتی۔۔۔”
“کچھ ہے ہی نہیں بتانے کے لیے۔۔۔۔”
“کیوں نہیں ہے۔۔۔ شفیق سے رشتہ ٹوٹنے کے بعد سے لے اب تک تم نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔۔ جب کہ میں اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات تمہیں بتاتی ہوں۔۔۔۔”
مجھے شدیدغصہ آنے لگا
“تم یہ سب چھوڑو۔۔۔ اور اپنی آنے والی زندگی پہ دھیان دو۔۔۔ “
“تم مجھے کچھ نہیں سمجھتی ہو۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔ نہیں پوچھوں گی کبھی۔۔”
میں نے اسکا ہاتھ چھوڑا
“سنو۔۔۔۔ ! میں بتاتی ہوں۔۔۔ لیکن وعدہ کرو یہ بات تم اپنی حد تک رکھو گی۔۔۔”
میں نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا
“تم یقین رکھو ۔۔۔ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔۔۔۔”
میں نےاسے تسلی دی۔۔۔
“رانی۔۔! میں نے شفیق سے شادی کرلی ہے۔۔۔”
اس کی آنکھوں سے آنسو برسنے لگے
“شادی کرلی۔۔۔! کب۔۔۔۔ اور کسی کو پتا کیوں نہیں ہے۔۔۔”
میرے دماغ میں ہزاروں سوال گردش کرنے لگے۔۔۔۔
“میں نے چھپ کے شادی کی ہے۔۔۔ امّاں کو بھی نہیں پتا۔۔۔۔”
اسکی بات سن کے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی۔۔۔
“رخسانہ تم نے اتنا بڑا قدم اٹھایا اور کسی کو بتایا تک نہیں۔۔۔۔”
وہ روتے روتے فرش پہ بیٹھ گئی۔۔۔
“میں اسے کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔ مر جاتی اگر اس سے شادی نہ کرتی تو۔۔۔”
میں بھی اسکے ساتھ نیچے بیٹھ گئی۔۔۔
“تمہیں چھپ کے شادی کرنی کیا ضرورت تھی۔۔۔ اگر وہ مان گیا تھا تو سب کی رضامندی سے ہی یہ سب ہوجاتا۔۔۔”
میری حیرانی ابھی تک اپنی جگہ پہ قائم تھی۔۔۔
“کہاں راضی تھا وہ۔۔۔۔ “
وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
“تو۔۔۔ پھر شادی کیسے ہوئی۔۔۔۔؟”
“میں اسکے پاؤں پڑ گئی تھی۔۔۔ منت سماجت کی کہ ایسے مت چھوڑو۔۔۔۔”
“پھر۔۔۔ پھر کیا ہوا۔۔۔؟”
“وہ اس شرط پہ مانا کہ وہ مجھ سے چھپ کے شادی کرنے کو تیار ہے لیکن وہ اپنی پسند کی ایک اور شادی بھی کرے گا۔۔۔ “
“کیا۔۔۔۔؟ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے رخسانہ۔۔۔ یہ تم نے کیا کیا۔۔۔۔؟”
میں اٹھ کے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
“میں کیا کرتی۔۔ مجبور تھی۔۔۔ سچا پیار کرتی ہوں اس سے۔۔۔”
“ایسے پیار پہ لعنت بھیجو۔۔ جسے تمہاری قدر ہی نہیں ہے۔۔ ایسے آدھے ادھورے ساتھ کے لیے تم نے اپنی پوری زندگی تباہ کردی۔۔۔۔”
مجھے ترس آرہا تھا اس پہ۔۔۔۔
وہ زارو قطار روتی رہی۔۔۔ اور میں بے بس ہوکے یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی۔۔۔
اوپر سے رخسانہ کو کسی نے آواز دی تو وہ آنکھیں صاف کرتی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔۔
“یہ کیسی محبت ہے۔۔۔ جو اتنی اندھی ہے۔۔۔ جسے نا اچھا دیکھائی دیتا ہے نا برا۔۔۔ گر محبت ایسے سفاک جذبے کا نام ہے جو دامن میں صرف بربادی بھر دے تو میں کبھی کسی سے محبت نہیں کرو گی۔۔۔ “
میں سوچوں میں ڈوب گئی۔۔۔
*****
“امّاں جی۔۔۔! پورا بازار چھان مارا۔۔ تب جا کے صحیح قیمت پہ یہ تین جوڑے پسند کر کے آئی ہوں۔۔۔ “
چچی نے تینوں جوڑے دادی کے بستر پہ پھیلائے تھے۔۔۔ تائی اور دادی بغور جائیزہ لے رہی تھیں۔۔
“یہ سرخ جوڑا مہنگا ہے۔۔۔ سب سے۔۔ باقی دونوں ایک ہی قیمت کے ہیں۔۔۔ زرینہ کے خاوند کے جاننے والے ہیں۔۔ وہاں سے اٹھوائے ہیں یہ۔۔۔ اب آپ لوگ خود ہی پسند کرلیں۔۔۔”
میں کچھ فاصلے پہ کھڑی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی
“نسمیہ۔۔۔ ! بات سن۔۔۔”
دادی نے نئی نوکرانی کو آواز دی
“ایک تو یہ سنتی نہیں ہے ۔۔ اللہ جانے یہ کام چور کہاں سے مل گئی تمہیں۔۔۔ رخسانہ اس معاملے میں بڑی تیز تھی”
دادی تائی کو کوستے ہوئے بولیں
میری ہنسی نکل گئی۔۔۔ دادی کو رخسانہ کی قدر آ ہی گئی۔۔۔
“کام کیا ہے۔۔ آپ مجھے بتائیں۔۔۔۔ “
تائی نے دادی کو جواب دیا
“میں کہہ رہی تھی کہ نادیہ کو بھی بلا لیتے۔۔۔ اس کی پسند ہم سب سے اچھی ہے۔۔۔ مشورہ کر لینا چاہیے”
دادی کہنے لگی
“نہیں۔۔۔ نادیہ کو کوئی نہیں بلائے گا۔۔۔۔ “
تائی جلال میں آگئیں۔۔۔ وہ ابھی تک نادیہ باجی سے خفا تھیں
“ہائے۔۔۔۔ اب بھول بھی جا۔۔۔ پوری زندگی ایک ہی بات کو پکڑ کے بیٹھی رہے گی۔۔۔۔ “
دادی انھیں سمجھانے لگیں
“امّاں جی۔۔۔۔ آپ بھی ماں ہیں۔۔۔ آ پ ہی بتائیں جو درد اس لڑکی نے مجھے دیے ہیں۔۔ کیسے بھول جاؤں۔۔ قبر تک نہیں بھولوں گی۔۔۔۔”
تائی رونے لگیں
“آپا۔۔۔ چھوڑیں نا۔۔ اب بند کریں رونا دھونا۔۔۔۔ “
چچی نے انھیں دلاسہ دیا
“سن رانی۔۔۔! چھوڑ سب کو۔۔۔ تو بتا تمہیں ان تینوں میں سے کونسا جوڑا پسند ہے۔۔۔ “
دادی نے مجھے قریب آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
“امّاں جی۔۔۔ ایک بات بتائیں۔۔۔ یہ آپکے رسم و رواج تو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔۔۔ ہمارے ہاں تو یہی چلتا آیا ہے کہ لڑکی کی شادی کا جوڑا لڑکے والوں طرف سے آتا ہے۔۔۔ اور لڑکے کا سوٹ لڑکی والے پسند کرتے ہیں۔۔۔ اور ایک آپ ہیں۔۔۔ رانی کی شادی کا جوڑا آُ خود ہی پسند کررہی ہیں۔۔”
تائی پوچھنے لگیں
“تم لوگوں کو کیا پتا۔۔۔ رسم و رواج کا۔۔۔ ہمارے خاندان میں صدیوں سے یہی ریت چلتی آرہی ہے۔۔۔ شادی کا جوڑا لڑکی والے ہی دیتے ہیں۔۔۔ یہی تو ماں باپ کی دی ہوئی خاص نشانی ہوتی ہے۔۔۔ ایک مان ہوتا ہے”
دادی بولنے لگیں
“اچھا بابا۔۔۔ ! جیسے آپکو بہتر لگے۔۔۔۔”
تائی بولیں
“رانی بیٹا جلدی سے ایک جوڑے پہ ہاتھ رکھ دو۔۔۔ میں نے جانا ہے۔۔ بہت کام ہیں ابھی۔۔۔ ایک تو سعدیہ کے جانے بعد تیری شادی کی ساری خریداری میرے سر پہ ڈال دی گئی ہے۔۔۔۔ “
چچی اپنا راک الاپنا شروع ہوئیں
“آجا۔۔ جلدی۔۔۔”
دادی نے اشارہ کیا
میں نے تینوں جوڑوں پہ نگاہ دوڑائی۔۔۔۔۔ اور ایک جوڑے پہ جا کے میرے نظریں رک گئیں۔۔۔۔
“یہ۔۔۔ سرخ جوڑا۔۔۔۔ یہ مجھے پسند ہے۔۔۔۔”
میں نے اشارہ کیا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *