Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25
میرے معصوم بچپن کی کھلکلاریاں اور میری ماں کی درد بھری آہیں۔۔۔ میرے کانوں میں گونجنے لگیں۔۔۔
“رانی۔۔! تو مر کیوں نہیں جاتی۔۔۔۔ میرے درد کے لیے پیدا ہوئی”
مجھے میری ماں کا پیار یاد آنے لگا
“کیا ہوا۔۔۔!”
رخسانہ بولی
“کچھ نہیں۔۔۔۔ “
میں نےجواب دیا
رخسانہ نے اپنی بیٹی کو گود میں اٹھا لیا۔۔۔
سیڑھیاں چڑھ کے ہم اس صحن میں آگئے جس کے ایک کونے میں بیٹھ کے میں ٹوٹے ہوئے کھلونے سے کھیلا کرتی تھی۔۔ ہر ذرے میں وہی درد چھپا تھا۔۔۔۔ میں نے آنسو نہ بہانے کی قسم تو کھائی تھی پر دل سے اٹھتی آہیں بے قابو ہورہی تھیں۔۔۔
“آؤ اندر آؤ۔۔۔۔”
رخسانہ نے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
میں اسکے پیچھے اسی چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوئی
چاروں طرف گھوم کے جائزہ لیا۔۔۔
“یہاں کب سے رہیتی ہو۔۔۔”
میں نے پوچھا
“چند مہینے پہلے ہی آئی ہوں یہاں۔۔۔”
اس نے اپنے بیٹی کو چارپائی پہ لٹایا۔۔۔
“اب کیا سوچا ہے تم نے۔۔۔۔؟”
میں چار پائی پہ بیٹھ گئی۔۔۔ اقبال رخسانہ کا سامان اور دوائیاں چھوڑ کے نیچے چلا گیا
“کس بارے میں۔۔۔؟”
“اپنی زندگی کے بارے میں۔۔۔ اس معصوم جان کے بارے میں ۔۔۔؟”
“آگے بس بد نصیبی ہے۔۔ زندگی بھر اس بدنصیبی کے رونے روتی رہوں گی اور کیا۔۔۔”
اسکی آنکھیں نم ہونے لگیں
“رونا بند کرو رخسانہ۔۔۔ رونے سے نصیب بدلتے تو آج میں اس جگہ نہ کھڑی ہوتی۔۔۔”
“تو کیا کروں۔۔۔ تْو ہی بتا۔۔۔ رانی!”
“سب سے پہلے تو انے نصیب کو کوسنا بند کرو۔۔۔ یہ زندگی تم نے خود چنی ہے اپنے لیے۔۔ “
“شفیق کی محبت میں اندھی ہوگئی تھی میں۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔۔ پر اب سب بربار ہوچکا ہے۔۔۔”
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
میں نے اٹھ کے اس گلے سے لگایا
“تیری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔ اتنا روئے گی تو اور زیادہ خراب ہوگی۔۔۔”
میں نے اسے چارپائی پہ لٹایا
“بے بس ہوچکی ہوں۔۔۔ اس بھنور سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔۔۔”
وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
“مجھ پہ بھی یہ وقت آیا تھا۔۔۔ میں بھی ایسے ہی بے بس تھی۔۔۔ لیکن میں نے ایک بات ٹھانی تھی کہ اتنی جلدی ہار نہیں مانوں گی۔۔۔ اور دیکھو نا۔۔ تب سے لڑ رہی ہوں۔۔۔ ٹوٹتی ہوں۔۔ بکھرتی ہوں۔۔ پر پھر سے سنبھال لیتی ہوں خود کو۔۔۔۔”
“تم ہمت والی ہو۔۔۔۔ میرے اندر تمہارے جیسا حوصلہ نہیں ہے۔۔۔”
“یہ بات تم کررہی ہو۔۔۔۔ ؟ کیا تم جانتی میں کتنی کم ہمت اور بزدل لڑکی تھی”
“پر اب تم بدل چکی ہو۔۔ تم وہ والی رانی نہیں رہی۔۔۔”
“ایسا اس لیے ہے کیوں کہ میں اپنن زندگی بدلنا چاہتی تھی۔۔۔ اس لیے آج میں کمزور نظر نہیں آرہی۔۔ تمہیں بھی اس رخسانہ کو مارنا ہوگا۔۔۔۔ “
“مجھے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔۔۔۔ “
“لیکن مجھے آرہا ہے۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔ ؟”
“حالات کا مقابلہ کرو۔۔ بدلو خود کو۔۔۔ اپنے لیے نہ سہی اس معصوم کے لیے جس نے ابھی ابھی جنم لیا ہے۔۔۔”
“اللہ پاک کے بھی نرالے قانون ہیں۔۔۔ پہلے مصائب کم تھے جو بیٹی کا بوجھ ڈال دیا”
“بیٹی بوجھ نہیں ہوتی۔۔ سب سے پہلے تو یہ بات اپنے ذھن نشین کرلو۔۔۔”
“تم تو ایسی باتیں مت کرو۔۔۔۔جس حال میں جیتی رہی ہو وہ میں اچھی طرح سے جانتی ہوں۔۔۔”
“صحیح کہہ رہی ہو تم۔۔۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ پہ اتنی ہی سچ ہے کہ اگر میرے اوپر وہ حالات نہ آئے تو آج میں اتنی مظبوط نہ بنتی”
“مجھے بتاؤ میں کیا کروں۔۔۔۔؟”
“تم بس یہ سوچو کہ یہوہ زندگی نہیں ہے جو تم جینا چاہتی ہو۔۔۔ بلکہ وہ زندگی ڈھونڈو جس پہ تمہارا اور تمہاری بیٹی کا حق ہے۔۔۔ میں ساتھ دون گی تمہارا۔۔۔”
میں نے اسکا ہاتھ پکڑا
“رانی۔۔! تجھ پہ پہلے ہی اتنی بڑی ذمہ داری ہے۔۔۔ تو میری فکر چھوڑ۔۔ میں جیسے کیسے لوگوں کے گھروں میں کام کرکے اپنا گزارا کرلوں گی۔۔۔ مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے۔۔۔”
“کیسے تمہیں اس حال میں چھوڑ دوں۔۔۔ تم سہیلی نہیں بہن ہو میری۔۔۔۔ “
“قسمت والوں کو ایسی بہنیں ملتی ہیں۔۔۔”
“بس میں جیسے کہتی ہوں ویسے کرو۔۔۔۔”
“کرنا کیا ہے۔۔۔۔؟”
“تمہیں یاد ہے کام سے فارغ ہوکے ہم اکثر کڑھائی کا کام کیا کرتے تھے۔۔۔۔”
“ہاں یاد ہے مجھے ہے۔۔۔ تمہارے ہاتھ کی کڑھائی کی تو میں معترف ہوں۔۔۔”
“ہم تمہارے اس گھر میں سلائی کڑھائی کا سکول بنائیں گے۔۔۔۔”
“سکول۔۔۔؟”
“ہاں۔۔۔ جس میں گلی محلے کی لڑکیاں داخلہ لیں گی ہم انھیں سلائی اور کڑھائی سکھائیں گے۔۔۔”
“ایسا کیسے ممکن ہے۔۔۔؟”
“سب کچھ ممکن ہے اگر صاف نیت اور سچے دل سے کرو تو۔۔۔۔”
رخسانہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔
میں نے آواز دے کے اقبال کو نیچے سے بلایا اور اپنا سارا منصوبہ اسے بتایا۔۔ اقبال نے بھی میری تائید کی۔۔۔
اگلے کچھ ہی دنوں میں ہم نے اس کام کو انجام دینا تھا۔۔۔
میں کچھ دیر رخسانہ کے ساتھ بیٹھی اسکے بعد اقبال کو لے کے واپس جانے لگی۔۔۔ میں سیڑھیاں اتر کے گلی میں پہنچی تو ساتھ والے دروازے کی دہلیز پہ ایک خاتون بیٹھی تھیں۔۔ میں انھیں پہچاننے لگی۔۔۔ سر کے سفید بال اور چہرے پہ پڑی جھریاں مجھے انکی شناخت کرنے سے روک نہیں پائیں۔۔۔
“جی بیٹا۔۔۔۔!”
انھوں نے سر اٹھا کے میری طرف دیکھا۔۔۔
“آپ تنّو کی امّی ہیں نا۔۔۔؟”
میں بولی
وہ اپنی آنکھوں پہ ہاتھ کا سایا بنا کے مجھے پہچاننے کی کوشش کرنے لگیں۔۔۔
“میں نے پہچانا نہیں تمہیں ۔۔۔۔۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کے کھڑی ہوئیں۔۔۔
میں ان کے مزید پاس آگئی
“آپ مجھے نہیں پہچان پائیں گی۔۔۔ یہ بتائیں تنّو کیسی ہے۔۔۔۔؟”
میں مسکرا کے پوچھا
“تم تنّو کو کیسے جانتی ہو۔۔۔۔؟”
“وہ میری بچپن کی سہیلی تھی۔۔۔”
میں نےانھیں بتایا
“تنّو تو جب ساتھ سال کی تھی تبھی اللہ پاک نے لے لیا اسے۔۔۔۔ اب تو سالوں گزر گئے۔۔ کسی کو یاد ہی نہیں ہے۔۔۔ تم نے کیسے یاد رکھا ہوا ہے۔۔۔”
انکی آنکھیں برسنے لگیں
میں انھیں گلے سے لگا لیا
“میں رانی ہوں۔۔۔ تنّو اور میں بچپن میں ساتھ کھلیتے تھے۔۔۔۔۔”
میں نے انھیں بتایا
“کون رانی۔۔۔! وہ ایک بار پھر میرا چہرہ دیکھنے لگیں۔۔۔۔”
“میں اور میری ماں اوپر رہیتے تھے۔۔”
میں نے رخسانہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
انھوں نے پھر بھی نہیں پہچانا
“میری ماں کی وفات ہوئی تھی۔۔۔ دو دن آپ نے مجھے اپنے گھر رکھا اور پھر میرے بابا مجھے لے گئے تھے۔۔۔”
“ہاں۔۔۔ مجھے یاد ہے۔۔۔ سب یاد ہے۔۔۔ تْو وہ چھوٹی سی بچی ہے۔۔۔”
انھوں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ میرے گالوں پہ رکھے۔۔۔۔
میں پھر سے ان سے لپٹ گئی۔۔۔
“اتنی بڑی ہوگئی ہے۔۔۔۔ میری تنو زندہ ہوتی تو اسکا قد کاٹھ بھی تیرے جیسا ہوتا۔۔۔”
انھوں نے میرے کندھوں پہ ہاتھ رکھا
میں نے انکے آنسو صاف کیے
“تنو نہیں ہے تو کیا ہوا۔۔۔ میں ہوں نا۔۔۔۔”
“جیتی رہو۔۔۔! آج اتنے سالوں بعد کیسے آنا ہوا۔۔۔”
“بس نصیب میں لکھا تھا۔۔ تو آگئی۔۔۔۔”
“چل آجا۔۔۔ اندر آ۔۔۔۔ “
انھوں نے اپنے گھر دروازہ کھولا
“پھر کبھی آؤں گی۔۔۔ فلحال جلدی میں ہوں۔۔۔۔”
میں نے بولی
اقبال رکشہ سٹارٹ کرکے میرا انتظار کررہا تھا
“اچھا۔۔! ضرور آنا۔۔۔۔”
وہ میرے سر پہ ہاتھ رکھ کے بولیں
“آؤں گی۔۔ اور آپ سے ڈھیر ساری باتیں کروں گی۔۔”
“شادی ہوگئی تیری۔۔۔؟”
انھوں نے سوال کیا
“ہاں جی۔۔ ہوگئی۔۔۔۔”
میں نے جواب دیا
“ماشاء اللہ۔۔۔۔۔!شوہر کیاکرتا ہے تمہارا۔۔۔؟”
انکے اگلے سوال نے مجھے لا جواب کردیا
“خالہ۔۔! ابھی میں جاتی ہوں۔۔ پھر کبھی آؤں گی۔۔۔”
“اچھا ۔۔ اچھا ٹھیک ہے۔۔ خاوند کو بھی ساتھ لانا۔۔۔۔۔”
وہ دعائیں دیتے ہوئے بولیں
“کاش۔۔! ایسا ممکن ہو کبھی۔۔۔۔ “
میں نے ایک گہری سانس لی اور جا کے رکشے میں بیٹھ گئی۔۔۔
٭٭٭٭٭
رخسانہ کے گھر کو سلائی کڑھائی کا سکول بناتے بناتے ہمیں پورا ایک مہینہ لگ گیا۔۔۔
میرے اوپر ذمہ داری اور بڑھ گئی تھی۔۔ صبح کے وقت میں رکشہ چلاتی اور عصر کے بعد رخسانہ کے گھر لڑکیوں کو سلائی سکھاتی۔۔۔ شروع شروع میں تو چند ایک لڑکیاں ہی سلائی سیکھنے آئیں۔۔ اقبال نے مشورہ دیا کہ ہم اپنے رکشوں کے پیچھے اگر سکول کے اشتہار چسپاں کردیں تو زیادہ سے زیادہ لڑکیاں سکول میں داخل لینے آئیں گی۔۔۔ اقبال کی منصوبہ بندی کام کرگئی تین مہینوں کے اندر اندر ہمارے پاس جگہ کم پڑ گئی۔۔۔
میں نے رخسانہ کو یہ بات کبھی نہیں بتائی کہ میں رکشہ چلاتی ہوں۔۔۔ اقبال نے ہر موڑ پہ میرا ساتھ دیا۔۔۔ میرا کوئی سگا بھائی بھی ہوتا شائد وہ بھی ایسے ساتھ نہ دیتا۔۔۔ شام میں میں رخسانہ کے گھر سے نکلتی تو وہ خود مجھے اسپتال چھوڑنے جاتا تھا۔۔۔
“رانی باجی۔۔!”
رکشہ گلی سے نکال کے وہ بولا
“جی ۔۔!”
“ایک بات کہوں۔۔۔؟”
“ہاں۔۔! کہو۔۔۔”
“اب آپ رکشہ چلانا چھوڑ دیں۔۔۔۔ ماشاء اللہ اب تو سکول بھی چل پڑا ہے۔۔۔”
“ابھی نہیں اقبال۔۔۔ ! میری منزل ابھی دور ہے۔۔۔”
“کیوں۔۔۔؟”
“ارسل کے آپریشن کے لیے بہت ساری رقم چاہیے وہ صرف سکول کی کمائی سے ممکن نہیں ہے۔۔”
“لیکن ایک نہ ایک دن تو رقم جمع ہوجائی گی۔۔۔۔”
“مجھے اس آگ میں جلتے ڈیڑھ سال گزر چکا ہے۔۔۔ میں بس جلد از جلد یہی چاہتی ہوں کہ ارسل کا آپریشن ہو ۔۔ اسکے لیے اب مجھے زیادہ سے زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔۔۔۔”
میں نے اسے سمجھایا۔۔۔
اس نے مجھے اسپتال چھوڑا
میں وہاں پہنچی تو عارفہ خالہ میرا ہی انتظار کررہی تھیں۔۔۔
“رانی بیٹا۔۔۔! میں اب تھک چکی ہوں۔۔۔”
وہ بنچ پہ بیٹھتے ہوئے بولیں
“کیا ہوا۔۔۔؟”
“بیٹا۔۔۔ ارسل کی حالت اب دن بدن خراب ہورہی ہے۔۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ جلد سے جلد آپریشن کرنا پڑے گا۔۔۔”
انکی بات پہ میں خود پریشان ہوگئی
“ہمارے پاس کتنا وقت مزید ہے۔۔۔؟”
“وہ کہتے ہیں جتنا وقت گزرتا جائے گا ۔۔ آپریشن کی کامیابی کے آثار اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔۔۔۔”
وہ گہری سانس لے کے بولیں
“آپ اللہ پاک کی ذات پہ بھروسہ رکھیں۔۔۔ انشاء اللہ جلدی کچھ نا کچھ ہوجائے گا۔۔۔”
“کیسے بیٹا۔۔۔ تم نے دن رات ایک کردیے۔۔ ابھی تک ہم اتنی رقم جمع نہیں کر پائے۔۔۔ اب کیسے ہوگا۔۔۔”
“میں کروں گی۔۔۔ “
“اتنے عرصے سے تم ہی تو کررہی ہو۔۔۔۔ “
“آپکا ساتھ ہے تو ہی کررہی ہوں۔۔۔”
“میرا کیا ساتھ۔۔۔ میں تو بس اپنی بہن سے کیا ہوا وعدہ نبھا رہی ہوں، جو مرتے دم تک نبھاتی رہوں گی”
“آپ فکر مت کریں۔۔ کوئی نا کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا”
میں نے انکو تو تسلی دے دی لیکن خود کو کیسے اس مشکل سے نکالوں۔۔۔
انکے جانے بعد میں اسپتال کی راہدریوں میں یہاں سے وہاں گھومتی رہی۔۔۔ آدھی رات گزر جانے کے بعد میں نے اپنے آپ سے فیصلہ کیا اور ارسل کے پاس آئی۔۔
“شائد ۔۔ کچھ عرصے کے لیے تمہیں میرا ساتھ کم ملے۔۔۔ تمہیں واپس لانے کے لیے دن کی روشنی کم پڑ رہی ہے۔۔ اب رات کے اندھیروں میں تمہیں کھوجنا پڑے گا”
