Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03

میرا جسم ٹھنڈا پڑ نے لگا____میری بگڑتی حالت کو دادی بھانپ گئی تھی___اور مجھے اندر جانے کا بول دیا___میں اندھا دھند قدم اٹھاتی اندر جا گھسی___ جانا کہیں تھا __ جا کہیں اور گھسی ___”
اے____بی بی ___ جلدی سے سوٹ اتار اور دھو کہ دے____ اتنا ہی برداشت کر سکتی تھی__ ” میں نادیہ باجی کی آواز پہ چونکی____نادیہ باجی کے چہرے پر غصے کے آثار تھے___ میں اسوقت اس حالت میں نا تھی کہ جواب دیتی چپ کر کے سرہلاتی وہاں سے نکل گئی___اور تائی کے کمرے میں آ کہ نادیہ باجی کے کپڑے اتارے اور گیلے کپڑے پہنے اور دوبارہ سے کپڑے دھونے لگی___یہ کیا ہے____ کیوں ہے___ کئی سوال تھے جو میرے دماغ میں گھومنے لگے___
رخسانہ نے میرے کندھے پہ یاتھ رکھا تو میں چونکی___کیا ہوا___؟؟؟
وہ پوچھنے لگی__میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا_ان لوگوں نے تجھے پسند کر لیا___؟؟
وہ پوچھنے لگی___میری جواب دینے کی ساری قوتیں جواب دے چکی تھی___ میں چپ سادھے کھڑی رہی___”اے____رانی___کیا ہوا تجھے__؟؟
اس نے اپنی ساری قوت سے کندھوں کو پکڑ کے جھنجوڑا___میں اس کے کندھے پہ گر گئی___ اور بے موسم بارش کی طرح آنسو بہنے لگے__کیا ہو گیا ہے__؟؟؟
پاگل لڑکی___ وہ پریشاں ہو کہ بولی__میرے سسکیاں تھمیں تو اسکی آنکھوں میں دیکھ کے بولی___”یہ کیا ہے___؟؟؟کیا کیا ہے___؟؟؟ پگلی تمھارا رشتہ آیا ہے___ اس نے میرے گال پہ اپنا ہاتھ رکھاوہی تو میں پوچھ رہی ہوں___ میرا رشتہ کیسے؟؟ کیوں___؟؟؟
مجھے بتایا کیوں نہیں کسی نے __اور لوگ تو نادیہ باجی کو دیکھنے آئے تھے__ ان کے رشتے کا کیا بنا___ میں عجیب ہی الجھن میں تھی__”میں زیادہ کچھ نہیں جانتی بس جو کان لگا لگا کر سنا ہے وہ بتاتی ہوں__”میں غور سے اس کی باتیں سننے لگی__
جب وہ یہاں ئے تھے تب تک تو سب ٹھیک تھا___ تمھاری تائی بہت آگے پیچھے گھوم رہی تھی___ نادیہ بھی بن ٹھن کے بیٹھی رہی___ پھر اچانک ان کے چہروں کے رنگ فق ہو گئے__
تمہاری تائی بار بار کمرےمیں آتی جاتی___ یہی حال تمہاری دادی کا تھا میں سمجھ گئی کے کچھ ن کچھ تو گڑ بڑ ہے ___ پھر دادی نے مجھے تمہارے بابا کو بلانے کو کہا___ میں اوپر سے انھین بلا کہ لائی __ پھر کمرے سے بحث و تکرارکی آوازیں آنے لگی___
میں بھی بحانے سے اندر گھس گئی___ “میں دم سادھے سنے گئی وہ ایک سانس میں سارا وصہ بتا رہی تھی___ اور میں اصل وجہ جاننے کےلہے بے تاب تھی___ ااور وہ بولی___ “مجھے لگتا ہے جس لڑکے کےلہے نادیہ کو تیار کیا گیا تھا___ شاید اس کا نہیں کسی اور لڑکے کا رشتہ آیا ہے__”
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی___”لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے___ تائی اتنی بھی بے وقوف نہیں کہ انہیں اس بات کی خبر نا ہو___”
“ہاں تم صحیح کہہ رہہ ہو___لیکن کچھ تو گڑ بڑ ضرور تھی کہ انہوں نے اناً فاناً نادیہ جی جگہ تمہیں سامنے کھڑا کر دیا”رخسانہ کی یہ بات میرے گلے سے نہیں اتر رہی تھی___ ایسی کیا وجہ ہو سکتی ہے____تم نے جو کچھ سنا مجھے سب بتاؤ___ میں نے رخسانہ سے کہا___”
پہلے تمہاری دادی اور تائی کے درمیان خوب تکرار ہوئی______ پھر تمھارے بابا کے درمیان اور دادی کے درمیان بھی کافی بحث ہوئی___اب اصل بات تو اللہ ہی جانے___ سب بہت پریشان تھے___
جب تمھارے تائی نے تمہیں بلانے کے لیے بھیجا اور چائے کی ٹرے تیار کرنے کو کہا مجھے اندازہ تو تب ہی ہو گیا تھا___ کہ یہ لوگ نادیہ کی جگہ تمھیں پیش کریں گے__”رخسانہ جتنا جانتی تھی __ اس نے سب بتا دیا_ اس سے میری بے چینی اور بڑھ گئی___
تائی نے رخسانہ کو آواز دی اور وہ وہاں سے چلی گئی اور میں سر پکڑ کے بیٹھ گئی___اب نا تو میرا کپڑے دھونے کو دل کر رہا تھا نا ہی اندر جانے کو ____ میں یونہی کافی دیر بیٹھی رہی___شام ہونے کو آئی____ موقع ملتے ہی رخسانہ پھر میرےپاس آئی___
اور بتایا کہ مہمان چلے گئے ہیں___میں نے مزید پوچھنا چاہیے کہ اسے کچھ اور پتہ چلا___ مگر اس کا جواب انکاری میں ہی تھا___
میں نے جیسسے تیسے کام ختم کیا اور اندر آ گئی___ بھوک سے جان نکل رہی تھی___ صبح سے مہمانوں کی وجہ سے صبح سے کچھ کھانا نصیب نہیں ہوا تھا____ کمرے میں جا کر میں نے کپڑے بدلے اور کیچن میں گھس گئی___وہاں تائی پہلے سے موجود تھی___مجھے دیکھ کے ان کے چہرے پہ غصے کے آثار آ گئے__
میں فریج کی طرف بڑھی تو انہوں نے مجھے ٹوکا___”اے لڑکی___ فریج میں سے کچھ مت نکالیو___ مہمانوں نے جو چھوڑا ہے وہ میں نے اپنی بیٹیوں کےلیے رکھا ہے_ تم اپنے لیے کچھ اور بنا لو__”میں فریج اے پیچھے ہٹ گئی__ انکا رویہ مجھ سے شروع سے ہی روکھا تھا ___پر___!!
ایسی کڑواہٹ پہلے بار محسوس کی تھی____وہ پیر پٹختی کیچن سے باہر نکل گئی___ میری بھوک تو مر چکی تھی __میں بی کیچن سے باہر آ کہ دادی کے کمرے کی طرف آ گئی___
رخسانہ اوپر گئی ہوئی تھی کسی کام سے___ دادی کے کمرے میں پہنچی تو بابا دادی کے ساتھ بیٹھے تھے____ مجھے بابا سے بات کرنے یا ان کا سامنا کرنے کی اجازت بالکل نا تھی__ میں چپ کر کے واپس پلٹی ___تو دادی نے آواز دی آؤ بیٹئ آؤ___اندر آؤ___
میں سر جھکا کے اندر داخل ہوئی __ بابا نے نظریں جھکا لیں___ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے__ دادی نے مجھے اطلاع دی__میں چپ کر کے سنتی گئی___”ہو سکتا ہے___ وہ جلدی شادی مانگ لیں___ تو اپنے آپ کو ذہنی طور پہ تیار رکھ___”
رشتے ایسے ہوتے ہیں___ میں نے خود سے سوال کیا___؟؟؟”میری بات سمجھ رہی ہو نا ___ یا بت بن کے کھڑی رہو گی____”دادی کرخت آواز میں بولی___جی دادی میں نے جواب دیا______چلو اب میرے لیے قہوہ لے آؤ___ انہوں نے مجھے کیا اورمیں کنیزوں کی طرح کیچن میں چلی آئی___اتنے میں رخسانہ بھی آ گئی___”کچھ پتہ چلا___” رخسانہ نے پوچھا”کس بات کا __ ” میں نے پوچھآرشتے کا____
اس نے پوچھامجھے کس نے بتانا ہے ___ میں نے پوچھا”تم اپنی دادی سے پوچھو نا___گئی تھی کمرے میں __تو پھر کیا بات ہوئی کیا بات ہونی_ انہوں نے مجھے مطلع کیا کہ میرا رشتہ پکا کر دیا گیا ہے اور جلد ہی شادی بھی کر دی جائیگی___
“تم پوچھتی تو سہی کہ اچانک ایسا کیوں__”پوچھ کہ اپنی جان کیوں عذاب میں ڈالنی تھی_____ جو ہو رہا ہے کون سا میرے پوچھنےسے رک جانا ہے تو جو ہو رہا ہے ہو نے دو___”رانی____ تم خوش نہیں ہو___ تمھاری جان چھوٹ رہی اس جہنم سے___””خوش__!! تم بتاؤ مجھے خوش ہونے چاہیے___؟؟؟
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کے پوچھااس نے نظریں جھکا لیں__رخسانہ کچھ قیدی ایسے ہوتے ہیں جن کےلیے صرف کوٹھڑیاں بدلتی ہیں___ قسمت نہیں__میری آنکھیں نم ہونے لگیں”سن __ پگلی___ اچھی امیدیں رکھے گی تو اچھا ہی ہو گا___ ” اس نے مجھے تسلی دی___اچھی امیدیں لے کہ تو میں اس گھر میں بھی آئی تھی____ جو ہوا تیرے سامنے ہے سب _”
اس کے آگے ہم دونوں کے پاس خاموشی کے سوا کچھ ناتھا “میں نے بھی کیسے کیسے دل کو سمجھا کیا ہے جو ہونا ہے ہو نے دو___ کسی سے پوچھنے کا کوئی مطلب نہیں___ میں اس بات کو دل سے تسلیم کر چکی ہوں کہ میں یہاں رہوں یا کہیں اور مجھے ایسے ہی رہنا ہے___
اور شاید اس سے بہتر تسلی میں خود کو دے بھی نہیں سکتی “رات ہوئی تو میں جا کہ اپنے کمرے میں بستر پہ لیٹ گئی ___
دادی اپنے وظیفے میں مشغول تھے___ پہلےتو دن بھر کے کام کی وجہ سے سر رکھتے ہی آنکھ لگ جاتی تھی پر آج نیند بھی کوسوں دور تھی____ دائیں بائیں کروٹیں پلٹی جا رہی تھی___
دادی وظیفے سےفارغ ہو کر آ کہ لیٹنے لگی تو نظر مجھ پہ پڑی ___”تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا__؟؟ ” دادی نے پوچھآجی ٹھیک ہے____پھر نیند کیوں نہیں آ رہی___پتہ نہیں کیوں نہیں آ رہی___
بس ایسے ہی___اچھا ٹھیک ہے___ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں__دادی ___ ایک بات پوچھوں؟؟؟ہاں___ پوچھو___دادی__ آپ تو کہتی تھی میری شادی اتنی جلدی نہیں کریں گی___
پھر اب کیا ہوا؟؟؟میں تو اب بھی نہیں کرنا چاہ رہی یہ پتہ نہیں کیوں ___ تمھارے باپ کو جنون چڑھا ہوا ہے___ وہ چاہتا ہے جلد سے جلد تمھاری شادی کر دی جائے___ انکی آواز میں نیند کا خمار نمایاں تھا___دادی___نادیہ باجی کے رشتے کا کیا بنا___کانپتی آواز سے میں نے پوچھ لیا___دادی کی طرف سے جواب تو آیا مگر خراٹوں کی صورت میں___ میں نے بھی کروٹ بدل لی___
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *