Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10

مجھے نا کردہ جرم کی ایسی سزا مل رہی تھی جس نے میری روح تک کو جھنجوڑ دیا تھا۔۔
بار بار میرے دل میں یہ بات آرہی تھی کہ آخر نادیہ باجی کا ایسا کونسا مقصد ہے جس کا وہ کل رات ذکر کررہی تھیں۔ میرے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا لیکن یہ جاننا بھی ضرروی ہے کہ وہ کونسا گندا کھیل کھیل رہی ہیں۔
کافی دیر بعد دادی کمرے میں آئیں
انکا موڈ قدرے خوش گوار تھا۔۔ آتے ہی وہ الماری کی طرف بڑھیں۔۔
“اس دن تو ٹھیک طرح سے لڑکے سے ملاقات ہو نہیں پائی ۔۔۔ ماشاء اللہ کافی اچھا ہے”
وہ اپنے آپ سے بول رہی تھیں یا مجھ سے اس بات کا مجھے اندازہ نہیں ہوا پایا۔ لیکن میں حیران ضرور ہورہی تھی کہ اس تبدیلی کے پیچھے آخر راز کیا ہے۔
جہاں میں یہ سوچ رہی تھی کہ میری بیوقوفی کی وجہ سے ان لوگوں کو باتیں سننی پڑی ہوں گی۔۔ پورا گھر اداس ہوگا۔۔۔ لیکن سب کچھ اسکے برعکس ہی ہورہا تھا۔ بلآخر میں نے ہمت کرکے دادی سے پوچھ ہی لیا
“دادی۔۔ ! وہ لوگ خفا ہوں گے۔۔۔؟”
“ہاں۔۔ خفا تو بہت تھے۔۔۔ تم نے کیا کم کی ان لوگوں کے ساتھ۔۔۔ بے چارے”
وہ مجھے گھورتے ہوئے بولیں
میں چپ ہوگئی
“لیکن بڑی مشکل سے بات کو سنبھالا ہے۔۔۔۔ “
انھوں نے الماری بند کی۔۔ مٹھی میں کچھ نوٹ تھے۔ جنھیں وہ مجھ سے چھپانے کی کوشش کررہی تھیں۔
میں نے بغور انکا جائزہ لیا۔۔
“تم جسے اپنی سب سے بڑی دشمن سمجھتی ہو۔۔ اسی نے قربانی دی ہے۔۔۔”
میں انکی بات سمجھ نہیں پائی
“نادیہ کا رشتہ کردیا ہے اس لڑکے کے ساتھ۔۔ تم نے تو ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔۔ اچھے شریف لوگ ہیں۔ ہم نے یہی سوچا کہ چلو تم نے جو منہ کالا کیا سو کیا۔۔ اس میں ان لوگوں کی کیا غلطی۔۔۔ ویسے بھی یہ رشتہ نادیہ کے لیے آیا تھا۔۔۔ پر تمہاری تائی اس وقت راضی نہیں تھیں۔۔ مل بیٹھ کے ابھی اسے بھی راضی کر لیا ہے”
ساری تفصیل بتاتے ہوئے وہ وہاں سے چلی گئیں
“اوہ میرے خدایا۔۔۔۔ ! تو یہ تھا انکا مقصد۔۔۔۔ “
میرے سچ مچ رونگٹے کھڑے ہوئے۔۔ اتنی دور کی منصوبہ بندی کی تھی انھوں نے۔۔۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس سارے کھیل میں انھوں نے مجھے پھنسایا۔۔۔۔
مجھے دکھ ضرور تھا لیکن منہ سے انکے لیکن ابھی تک بدعا نہیں نکلی تھی۔ پر یہ سب جاننے کے بعد اتنا میرے دل میں ضرور آیا کہ۔۔ “وہ ذات منصف ہے۔۔ آج نہیں تو کل میرا انصاف ضرور ہوگا”
اب مجھے نا تو شادی میں دلچسپی تھی اور نہ اپن زندگی بدلنے کی۔۔۔ بس دل رو رہا تھا تو اس بات پہ کہ میرے کرادر پہ جو دھبہ لگاہے اب وہ کبھی نہیں مٹ سکتا۔۔۔ میرے اشکوں پہ ایک نہ ایک دن تو اللہ پاک کو رحم آئے گا۔
پھر سے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔۔ میں نے آنسو صاف کیے۔۔۔
“کب تک روتی رہو گی۔۔۔۔ بس کرو اب۔۔۔”
نادیہ باجی تھیں۔۔
انکی حقیقت جان لینے کے بعد میرا دل نہیں کررہا تھا کہ انکی شکل دیکھوں
“سنو ! میری بات۔۔۔ “
وہ میرے پاس آکے بیٹھ گئیں
“میں جانتی ہوں۔۔۔ میں نے تمہارے ساتھ ناانصافی کی ہے۔۔۔ دکھ ہے مجھے اس بات کا۔۔۔۔”
وہ میرا ہاتھ پکڑنے لگیں۔۔میں پیچھے ہٹی۔۔۔
“آئے۔۔۔ ہائے۔۔۔ ایک تو یہ لڑکی سمجھتی نہیں بات کو۔۔۔۔ “
وہ سیدھی ہوکے بیٹھ گئیں
“صرف یہ رشتہ پانا کے لیے کتنی آسانی سے آپ نے میری زندگی تباہ کر دی۔۔۔”
میں انھیں دیکھ کے بولی
“تمہارا غصہ بجا ہے۔۔۔ لیکن مجھے بتاؤ۔۔۔ اس کے علاوہ میرے پاس راستہ تھا کوئی۔۔۔ “
“آپ تائی کو منا سکتی تھیں۔۔۔ دادی سے بات کرسکتی تھیں۔۔۔ تھوڑی سی کوشش کرتیں تو آپکا رشتہ ہوجاتا۔۔۔ لیکن میرے دامن پہ جھوٹا داغ لگا کے آپ نے یہ سب کیا۔۔۔۔ “
“وہی تو۔۔۔ ! یہ کرنا ضروری تھا۔۔۔۔ “
میں نے حقارت سے انھیں دیکھا
“دیکھو۔۔۔ میں نے یہی سوچا تھا کہ نوید والا قصہ میں کبھی کسی کے سامنے نہیں لاؤں گی۔۔ اور مجھے لگ رہا تھا کہ تم دادی سے منت ترلے کرکے کسی طرح انھیں منا لو گی کہ وہ تمہاری شادی روک لیں۔۔۔ پر تم نے کوشش ہی نہیں کی۔۔۔ میں پھر بھی تم پہ تہمت نہیں لگانا چاہتی تھی۔۔۔ پر پرسوں رات تم نے ارسل سے بات کرنے والا پلان بتایا تو میرے کان کھڑے ہوگئے۔۔۔۔ “
میں دھیان سے انکے شیطانیت پہ مبنی ارادے سنتی رہی
“ہاں ۔۔۔ تو جب میں نے ان سے بات کرلی تھی ۔۔ اسکے بعد نوید والا الزام لگانے کی کیا ضرورت تھی”
میں انکی سوچ کی تہہ تک جاننا چاہتی تھی
“ضرورت تھی۔۔ بالکل ضرورت تھی۔۔ میں کوئی چانس نہیں لینا چاہتی تھی۔۔تمہیں کیا لگتا ہے تم نے اسے کہہ دیا تم شادی نہیں کرنا چاہتی اور وہ چپ کرکے مان جاتا۔۔۔۔ ؟ نہیں کبھی نہیں۔۔۔ وہ تم سے سوال پوچھتا۔۔ اور تم رو دیتی۔۔۔۔ تمہارا رونا اس کے دل میں شک ڈال دیتا۔۔۔ ضرور وہ وجہ جاننے کے لیے سعدیہ سے پوچھتا۔۔۔ اور سعدیہ تک یہ بات جاتی تو۔۔۔ میری پوری پلاننگ کا بیڑا غرق ہوجاتا۔۔۔۔۔ “
انکی بات سن کے میں نے گہری آہ بھری۔۔۔ بات ابھی جاری تھی
“اس سے پہلے کے وہ تم سے وجہ پوچھتا اور تم کوئی بونگی مار دیتی۔۔۔ اس کے لیے ایک بڑے سے ڈرامے کی ضرورت تھی۔۔۔۔ بس میں نے وہی کیا۔۔۔۔ “
“چلو۔۔۔! آپ نے اسکے سامنے جھوٹ بولا کہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں لیکن گھر والوں کے سامنے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ ؟”
“پگلی۔۔! اسے بتا کے زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا کہ وہ اس رشتے سے انکار کردیتا۔۔۔۔ لیکن اس سے میرا مقصد پورا ہونے کے امکانات کم تھے۔۔۔ بہت کم۔۔۔۔ گھر والوں کے سامنے یہ ڈرامہ کرنا اس لیے ضروری تھا کہ ایک تو تمہارے دل میں انکے لیے نفرت پیدا ہو۔۔۔ دوسرا انھیں افسوس ہو کہ تمہارے اس عمل کی وجہ سے ہم سب نا صرف بدنام ہوں گے بلکہ ان لوگوں کے ساتھ تعلاقات بھی خراب ہوجائیں گے۔۔۔ بس میرے اسی چکر میں دادی اور بابا آگئے۔۔۔ اب صورت حال ایسی بن گئی تھی امّی بھی چاہ کہ یہ رشتہ نہیں روک سکتی تھیں۔۔۔ “
یہ سب بتا کے انھوں نے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کیا۔۔۔ اور دادی کے بستر پہ آڑی ترچھی لیٹ گئیں۔۔۔
مجھے اس لڑکی پہ ترس آرہا تھا۔۔۔ جس نے اپنی انا اور ناجائز خواہش کے لیے نا صرف میری زندگی تباہ کہ بلکہ ایک اور زندگی کے ساتھ جڑ کے اسے بھی تباہ کرنے پہ تلی تھیںا۔۔۔
“اب آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہیں۔۔۔۔ ؟”
میں نے اپنے اندر کی آگ کو قابو میں لاتے ہوئے پوچھا
“اس لیے کہ تم میری مجبوری سمجھ سکو۔۔۔۔ “
وہ اٹھ بیٹھیں۔۔۔
میرا اندر جل رہا تھا
“میں نے تم سے نفرت ضرور کی ہے۔۔ لیکن اس حد تک کبھی نہیں کی کہ تم اس حال میں پہچ جاؤ۔۔ اب میرے دل میں تمہارے لیے ہمدردی ہے۔۔۔ میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔ “
وہ میرا چہرہ پڑھتے ہوئے بولیں
“مجھے اب آپکی ہمدردی سے کوئی سروکار نہیں۔۔ جس کنوئیں میں آُ پ نے مجھے دھکیلا ہے اب میں اس میں سے کبھی نہیں نکل پاؤں گی۔۔۔”
میں نے منہ دوسری جانب موڑا
“اچھا مجھے بات بتاؤ۔۔۔ صبح سے دادی اور امّی کا بدلا ہوا برتاؤ تمہیں نظر نہیں آرہا۔۔۔؟”
ان کے اس سوال پہ میں پھر اس انکا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ اب یہ کیا ڈرامہ ہے
“یقین مانو یہ سب میری وجہ سے ہے۔۔۔ یہ لوگ تو شائد تمہیں گھر سے نکال بھی دیتے۔۔۔ لیکن میں نے ناصرف امّی اور دادی کو سمجھایا بلکہ بابا کو بھی یہ بات کی کہ تم کمسن ہو۔۔ غلطی ہوگئی ہے تم سے۔۔۔ لیکن اس گھر میں رہ کے جتنا تم نے سب کا خیال رکھا۔۔۔ اس کے لیے تمہیں ایک اور موقع ضرور ملنا چاہیے۔۔۔ اگر سب نے تم سے موڑ لیا تو تم اور زیادہ تباہ ہوجاؤ گی۔۔۔ اب جو بھی ہو۔۔ دنیا جانتی ہے تم ہمارا خون ہو۔۔۔۔ بس یہ بات انھیں سمجھ آئی کہ تم پہ سختی کرنا مناسب نہیں ہے۔۔۔ تبھی تو سب تم سے اچھے موڈ میں بات کررہے ہیں۔۔۔۔ “
واہ میری بھلائی کرنے میں بھی وہ خود ہیرو بنیں۔۔۔ داد دیتی ہوں میں ایسے سوچ کو۔۔۔۔
میرے لب سل گئے
“رانی۔۔۔ ! تمہیں یہ رشتہ ٹوٹنے کا دکھ ہے؟ یا بدنامی کا۔۔۔۔؟”
یہ سوال میرے دل میں اٹھتی آگ پہ تیل کا کام کررہا تھا۔۔۔۔ میرے بدلتے تیور دیکھ کے وہ خود ہی صفائی دینے لگیں
“دیکھو۔۔۔ یہ رشتہ ویسے بھی تمہارے لیے موزوں نہیں تھا۔۔۔ تم سیدھی سادی سے ایک لڑکی ہو۔۔ وہ پڑھا لکھا ہے۔۔۔ اچھے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہوگا۔۔۔۔ شادی ہوجاتی تو تمہیں ہی مسئلہ ہونا تھا۔۔”
یہ بات حقیقت تھی یا صرف انکی سوچ اسکا تو تبھی پتا چلتا جب ایسا کچھ ہوتا۔۔۔
“نادیہ باجی۔۔۔ !”
میں کچھ سوچتے ہوئے بولی
“ہاں۔۔۔۔ بولو!”
وہ کھڑی ہو ئیں
“ابھی جو کچھ آپ نے مجھے بتایا یہ سب میں دادی کو بتا دوں تو۔۔۔ یا پھر سعدیہ باجی کو۔۔۔۔ ؟”
میں انکے چہرہ پڑھنے لگی
“ہاہاہاہا۔۔۔ کوشش کرلو۔۔۔۔ اس وقت تم جس حال میں ہو۔۔۔ تم پہ کوئی یقین نہیں کرے گا۔۔ اور رہی بات سعدیہ کی۔۔ جو کچھ تم کرچکی ہو اسکے بعد شائد وہ تمہیں کبھی منہ نا لگائے۔۔۔”
میرا منہ بند کراکے وہ بے فکر وہاں سے چلی گئیں۔۔۔
میری زندگی میں دو ہمدرد لوگ تھے۔۔۔ دونوں کو میں نے دکھی کیا
سعدیہ باجی کو جب پتا چلا ہوگا کہ میں نے اتنی بڑی حرکت کی ہے دل ٹوٹ گیا ہوگا انکا۔۔۔ سب سے لڑتی تھیں میرے لیے۔۔۔۔ اور رخسانہ۔۔۔۔ وہ بے چاری خود دکھ سے دو چار تھی۔۔ پر مجھے سہارا دے رہی تھی۔۔ سمجھا رہی تھی کہ میں ایسا کچھ نہ کروں۔۔۔۔ پر میں نے اسکی ایک نہ سنی۔۔۔۔ کاش میں اسے یہ سب بتا دیتی۔۔۔ اسے تو کام سے بھی نکال دیا گیا۔۔۔۔۔۔ کتنی بد نصیب ہوں میں۔۔۔۔
٭٭٭٭٭
رات گہری ہوتی جارہی تھی۔۔۔ لیکن مہمان جوں کے توں گھر میں موجود تھے۔۔۔ کمرے میں بیٹھ بیٹھ کے میں تھک چکی تھی۔۔۔ مجھے پیاس لگی تھی لیکن پانی کمرے میں نہیں تھا۔ دو تین بار کمرے سے باہر جانے کا سوچا تھا لیکن دادی کے دھمکی یاد آئی
“جتنی دیر مہمان گھر پہ ہیں خبردار تم یہاں سے نکلی۔۔”
پر اب تو حد ہی ہوگئی تھی۔ گلہ خشک ہونے لگا تھا۔ جو بھی ہو تھوڑی احتیاط برت کے میں نے باہر قدم رکھنے ٹھان ہی لی۔ تاکہ کیچن سے ایک جگ پانی ہی لے آؤں۔۔ میں برآمدے آئی۔۔۔ اور ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ ۔ آس پاس کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ میں چوروں کی طرح پاؤں پہ پاؤں رکھتی آگے بڑھ رہی تھی اور بار بار سر گھما کے پیچھے دیکھ رہی تھی۔ اس چکر میں پتا نہیں کہاں جا ٹکرائی۔۔۔
پہلے پہل تو لگا کے سر دیوار سے ٹکرایا ہے لیکن جس بھی چیز سے ٹکرایا۔۔۔ وہ مظبوط ضررو تھی لیکن دیوار کی طرح سخت نہیں تھی۔ ۔۔ لیکن مجھے ٹھیک ٹھاک جھٹکا لگا۔۔۔ خود کو سنبھالتے ہوئے میں نے سر اوپر اٹھایا۔۔۔
اگلے ہی لمحے مجھے احساس ہوا کہ سر اٹھا کے غلطی ہی کی ہے۔ اچھا تھا دیوار سے ہی ٹکرا جاتی۔۔
سامنے ارسل کھڑا تھا۔۔۔
“ٹھیک ہیں آپ۔۔۔؟”
اس نے پوچھا۔۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا
میں احساس ندامت سے اتنی چور تھی کہ یہ بھی بھول گئی کہ میں اسکا راستہ روک کے کھڑی ہوں
“رانی۔۔۔!”
وہ پھر سے بولا
میں نے نظریں اٹھائیں۔۔۔
میں سوچ رہی تھی کہ اسکی آنکھوں میں میرے لیے نفرت ہوگی۔۔۔ وہ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہے گا۔۔ پر اسکی آنکھیں کچھ اور ہی بتا رہی تھیں۔۔ ان میں درد ضرور تھا۔۔۔ پر نفرت نہیں تھی۔۔۔
“کیوں۔۔۔ اب تک مجھے اس نے اپنی نظروں سے نہیں گرایا۔۔۔ ؟”
جو چیز میں خون کے رشتوں میں ڈھونڈ رہی تھی۔۔ وہ مجھے اس اجنبی میں دیکھائی دی۔۔
میری بھی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔
کیسا پل تھا وہ۔۔؟ جس میں ہر چیز خاموش تھی بس آنکھیں بول رہی تھیں۔۔۔
نہ گلہ تھا۔۔ نہ شکائیت۔۔۔ بس درد کی ایک لہر تھی۔۔۔ جو ایک دل سے نکل کے دوسرے دل میں پیوست ہورہی تھی۔۔۔
دور سے آتی ایک آہٹ نے وہ پر درد خواب توڑا۔۔۔ میں واپس کمرے میں پلٹی۔۔
اندر آتے ہی مجھے احساس ہوا کہ اس سے معافی مانگنے کا ایک آخری موقع ملا تھا وہ بھی گنوا دیا۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
دروازے پہ دستک ہوئی۔۔ میں کیچن میں کام کررہی تھی۔۔۔ بھاگتی بھاگتی دروازے تک پہنچی
سامنے رخسانہ کھڑی تھی۔۔۔ اسے دیکھ کر میں خوشی سے اچھل پڑی۔۔۔ اسکے چہرے پہ بھی مسکراہٹ تھی۔۔
“کون ہے دروازے پہ۔۔۔؟”
دادی نے پوچھا
مجھے یقین تھا کہ رخسانہ کو دیکھتے ہی وہ غصے میں آجائیں گی۔۔۔ میں دیدے پھاڑے رخسانہ کا چہرہ دیکھنے لگی
لیکن وہ بڑے اطمینان سے اندر داخل ہوئی۔۔۔
“تْو۔۔۔۔ تْو یہاں کیا لینے آئی ہے۔۔۔۔ ؟”
دادی برآمدے سے نکل کے صحن میں آگئیں
“اماں جی ۔۔۔ ! میں نے بلایا ہے اسے۔۔۔۔”
سیڑھیوں سے سوتیلی امی کی آواز آئی
رخسانہ انکی طرف چل پڑی
“تجھے پتا نہیں ہم نے اسے کام سے نکال دیا ہے۔۔۔۔؟”
دادی تنک کے بولیں
“جانتی ہوں ۔۔۔ اب یہ آپا کے پاس کام نہیں کرتی۔۔ اس لیے تو میں نے اسے اپنے پاس رکھ لیا۔۔۔”
وہ بھی سیڑھیاں اتر کے نیچے آگئیں۔۔۔
“لو بھلا۔۔۔۔ ! اس لڑکی کی کالی کرتوتیں جانتے ہوئے بھی تم نے اسے کام پہ رکھ لیا۔۔۔؟”
دادی رخسانہ کا چہرہ دیکھنے لگیں
“امّاں جی۔۔۔اپنی کرتوتوں کا ہر انسان خود ذمہ دار ہے۔۔ مجھے کام والی کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک کوئی اور نہیں ملتی اسے کام پہ رکھنا میری مجبوری ہے۔۔۔۔”
وہ بھی پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھیں۔۔۔
“اپنی دیوارانی کا حال دیکھو۔۔۔۔ اس لڑکی کو کام پہ رکھ لیا۔۔۔”
تائی صحن میں داخل ہوئیں تو دادی ان سے شروع ہوگئیں
تائی کو بھی انکا یہ عمل پسند نہیں آیا
“بھائی صاحب سے پوچھا ہے۔۔۔یا اپنی مرضی چلا رہی ہو؟”
وہ تنک کو بولیں
“ہاں۔۔۔آپا۔۔۔ آپ تو جانتی ہیں انکی مرضی کے بنا میں کب کچھ کرتی ہوں۔۔۔۔؟”
“پھر کیسے اجازت دے دی۔۔۔ اس نے؟”
دادی نے پوچھا
“ارے اماں جی۔۔۔ انکو بھلا کیا اعتراض ہوگا۔۔۔ وہ تو خود کئی دن سے کہہ رہے تھے کہ کام والی رکھ لو۔۔ دو دن اس لڑکی نے میرے گھر پہ کام کیا ہے۔۔۔ میں مطمئن تھی اس لیے بلوا بھیجا۔۔۔”
انکے پاس ہر بات کا جواب تھا۔۔۔
“اچھا بابا۔۔۔! اس گھر میں جسکا جو دل کرتا ہے وہ وہی کرے۔۔۔ ہماری کیا اوقات ہے۔۔۔”
دادی نے اپنا مشہور زمانہ ڈائلاگ دہرایا
“سنو۔۔۔ ! لڑکی۔۔۔۔ ایک بات سمجھ لو ۔۔۔ اب تمہارا صرف اوپر کام ہے۔۔۔ میرے گھر کے چکر کاٹنے کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔”
تائی نے رخسانہ کو دھمکی دی
“ہاں۔۔۔ تو بھی سن لے۔۔۔ جو اگر میں نے تجھے اس لڑکی کے ساتھ دیکھ لیا تو ٹانگیں توڑ دوں گی تیری”
دادی مجھ پہ برس پڑیں
ڈر کے مارے میں رخسانہ سے چھ قدم دور جا کے کھڑی ہوگئی۔۔۔
سوتیلی امی رخسانہ کو لے کے اوپر چلی گئیں۔۔۔ ہم دونوں چورنظروں سے ایکدوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
میں خوش تھی کہ اب وہ اس گھر میں آگئی ہے تو بات کرنے کا موقع بھی مل ہی جائے گا۔۔۔
اور موقع ملنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔۔۔ دوپہر کے کھانے کے بعد حسب معمول تائی اپنے کمرے میں لیٹ گئیں اور دادی اپنی دنیان میں مگن۔۔۔ نادیہ باجی صبح سے ہی اپنی کسی سہیلی کی طرف گئی تھیں۔۔۔ میری نظریں بار بار چھت کی طرف اٹھ رہی تھیں۔۔۔ بلآخر رخسانہ نیچے جھانکی۔۔۔ میں نے اسے سٹور کی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔۔ موقع پا کہ وہ وہاں پہنچی
میں اس سے لپٹ گئی۔۔۔ وہی تو تھی جس سے میں دل کی بات کرسکتی تھی۔ اس نے مجھے تسلی دی اور چپ کرایا
“مجھے معاف کردو۔۔ میری وجہ سے تمہیں کام سے نکال دیا گیا۔۔۔”
میں آنسو صاف کرکے بولی
“دفع کرو ایسی نوکری کو۔۔۔۔ مجھے رتی برابر بھی افسوس نہیں ہے، لیکن میں تم سے ناراض ہوں”
“کیوں۔۔۔!” میں نے پوچھا
“میں تمہارے ترلے کرتی رہی کہ اصل بات بتا دو۔۔ پر تم نہیں پھوٹی۔۔۔”
“نادیہ باجی نے بڑے برے جال میں پھنسا لیا تھا مجھے۔۔۔ بے بس ہوگئی تھی”
“ارے بتا سکتی تھی۔۔۔ خیر چھوڑو اب کیا صورت حال ہے۔۔۔”
“صورت حال کیا ہونی ہے۔۔۔۔ وہ اپنی چال میں کامیاب ہوگئیں”
“کیسی چال۔۔۔؟”
“وہ میرا رشتہ تڑوانا چاہتی تھیں۔۔۔ سو ٹوٹ گیا رشتہ؟”
“پر ایسا کیوں۔۔۔؟”
“کیونکہ وہ خود وہاں شادی کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ اور دیکھو میرا رشتہ تڑوا کے انھوں نے اپنا رشتہ پکا کروا دیا۔۔”
“ہو ہائے۔۔۔ کتنی کمینی لڑکی ہے یہ۔۔۔ پر تم اسکی باتوں میں کیسے آگئی۔۔۔؟”
اب میرے پاس رخسانہ سے بات اصل بتا چھپانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔۔۔۔ اس لیے میں نے سٹور والی کہانی سے لے کے کل رات تک سارا قصہ اسکے گوش گزار کردیا
وہ سر پکڑ کے بیٹھ گئی۔۔۔۔
“کاش تم نے یہ سب مجھے پہلے بتایا ہوتا۔۔۔ میں کبھی ایسا نہیں ہونے دیتی”
“میں ڈر گئی تھی۔۔۔ بدنامی سے۔۔۔۔ “
“پر کیا فائدہ ہوا۔۔۔ بدنامی تو ویسے ہی لگ گئی۔۔۔”
“اب کیا ہوسکتا ہے۔۔۔ جو ہونا تھا ہوگیا۔۔۔”
میں مایوس ہوگئی
“کیوں نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ ؟ تم نادیہ کہ اصلیت سب کو بتا دو۔۔۔”
“پاگل ہو تم۔۔۔ میری بات کا یقین کون کرے گا۔۔۔۔”
وہ بھی چپ ہوگئی
“سن۔۔۔! تْو سعدیہ سے بات کر۔۔۔”
“اس سب کے بعد کس منہ سے ان سے بات کروں۔۔ مجھے تو لگتا ہے انھیں بھی مجھ سے نفرت ہوگئی ہوگی۔۔”
میں سوچ میں پڑ گئی
“لیکن ایک دفعہ کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔۔ ہو سکتا ہے وہ تمہاری بات سن لے۔۔۔۔”
“اب کیا فائدہ ہوگا گڑے مردے اکھاڑنے کا۔۔۔۔؟”
میں نے کہا
“رانی۔۔۔! مانا کہ وہ رشتہ دوبارہ نہیں جڑ سکتا لیکن یہ جو بدنامی کا داغ لگا اسے تو مٹایا جا سکتا ہے”
“پر کیسے۔۔۔ ؟”
“تم سعدیہ سے بات کرکے دیکھو۔۔۔ ساری صورت حال بتاؤ”
“کیسے بات کروں؟ میرے پاس نہ تو فون ہے اور نہ ہی انکا نمبر۔۔۔۔ “
“وہ تم مجھ پی چھوڑ دو۔۔۔ تمہاری بہنوں کے پاس ضرور سعدیہ کا نمبر ہوگا۔۔۔میں کوشش کرتی ہوں نمبر ڈھونڈنے کی۔۔۔۔ پھر اپنے موبائل سے تمہاری بات کرا دوں گی۔۔۔”
رخسانہ کی بات سن کے مجھے حوصلہ ہوا۔۔۔ اس نے میرے دل میں امید کی ایک چنگاری جلائی۔۔۔
بدنامی کے اس داغ کو مٹانے کے لیے مجھے ضرور کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔
رخسانہ مجھے تسلی دے کے اوپر چلی گئی اور میں کیچن کی طرف بڑھی۔۔۔
اب دیکھتے ہیں نصیب اور کیا رنگ دکھاتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *