Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24
“مجھے یقین ہے میرے ہاتھوں پہ لگے زخم تمہاری روح محسوس کررہی ہوگی۔۔ ان زخموں کا مداوا تبھی ممکن ہے جب تم آنکھیں کھولو گے۔۔ آج ہاتھ پہ چھالے ہیں ۔۔ کل اگر روح بھی چھلنی ہوگی تو بھی میں تمہیں واپس لے آؤں گی۔۔۔۔”
جب سے میں نے اپنے آپ سے ارسل کو واپس لانے کا عہد کیا تھا۔۔۔ تبھی خود سے ایک اور بھی وعدہ کیا کہ میرے آنسو اب نہیں نکلیں گے۔۔۔ اور میں اس وعدے پہ قائم تھی۔۔۔۔
٭٭٭٭
صبح میں کام پہ پہنچی تو سارے مزدور آچکے تھے۔ ٹھیکدار سب کو کام سمجھا رہا تھا۔ میں سلام کرکے ایک طرف کھڑی ہوگئی۔۔ سب ایک ایک کرکے وہاں سے جانے لگے۔۔ میں بابا نذیر کے پیچھے چل پڑی۔۔
“آپ رکیں۔۔۔!”
ٹھیکدار نے آواز دی
میں رک گئی
میرے ساتھ بابا نذیر بھی رک گئے۔۔۔ ٹھیکدار نے انھیں جانے کا اشارہ کیا۔۔ وہ ہچکچاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
“مجھے آپ سے ایک ضرروی بات کرنی ہے۔۔۔”
وہ بولا
میں اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھتی رہی
اس نے ایک شاپر میری طرف بڑھایا
“یہ کیا ہے۔۔۔؟”
میں نے شاپر ہاتھ میں پکڑتے ہوئے سوال کیا
“کھول کے دیکھ لیں۔۔۔”
اس نے جواب دیا
میں نے کھولا کے دیکھا تو اس میں مرادنہ لباس تھا
میری نظروں میں ابھی بھی سوال تھا
“آپ کو عورتوں کے لباس میں مردوں والا کام کرتے ہوئے جب ہم مرد دیکھتے ہیں تو مردانگی شرمندہ ہوجاتی ہے۔ نظریں جھک جاتی ہیں۔۔ اس لیے میں یہ لباس آپکے لیے لایا ہوں۔۔ اب جب مردوں کی اس قطار میں آپ شامل ہو ہی گئی ہیں تو پہناوا بھی مردوں جیسا کر لیں۔۔ اس ماحول میں آپکو کام کرنے میں آسانی رہے گی اور باربار ہماری نظریں نہیں جھکیں گی۔۔۔”
یہ کہہ کے وہ وہاں سے چلا گیا
میں سوچ میں پڑ گئی
“یہ مردوں کی کونسی قسم ہے۔۔ جس کے بارے میں میں نے کبھی نہیں سنا۔۔ اب تک میں اتنا جانتی تھی کہ مرد ظالم ہے، لا پرواہ ہے، سخت دل ہے۔۔۔ جسے کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ لیکن اینٹ پتھر کے بیچ یہ کونسا مرد ہے۔۔ جسے احساس ہے۔۔ جس میں حیا ہے۔۔ جو عزت دینا جانتا ہے۔۔۔”
اسکے بعد میں نے عورتوں والا لباس اتارا اور مردانہ لباس پہن کے کام کرنے لگی۔۔۔
اس مردانہ لباس نے میرے ارادوں میں مزید پختگی پیدا کردی۔۔
سر پہ پگڑی سجائے میں جب بابا نذیر کے پاس پہنچی تو وہ مجھے دیکھ کے چونک گئے۔۔ میں نے انھیں بتایا کہ ٹھیکدار نے یہ لباس دیا ہے کام کے لیے۔۔۔ وہ خوش ہوگئے۔۔۔،
جب انسان ایک بار کچھ کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو رستے خود بخود بننے لگتے ہیں۔ میں مشقت سے نہیں گھبرائی۔۔ گرمی سردی۔۔ دھوپ چھاؤں۔۔ ہر ایک چیز کو اپنے سامنے جھکنے پہ مجبور کردیا۔ میری لگاتار محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں ٹھیکدار کی ٹیم کا ایک اہم حصہ بن گئی۔ بابا نذیر، اقبال، چھوٹو اور میں ایک خاندان کا مانند تھے۔
چھ مہینے گزر گئے۔۔ میں اس قابل ہوگئی تھی کہ ارسل کے اسپتال کے اخراجات اپنے سر پہ اٹھا لوں۔۔ عارفہ خالہ کے ساتھ نے میری کئی مشکلیں آسان کیں۔۔
ایک دن جب میں صبح کام پہ پہچنی تو بابا نذیر سے پتا چلا کہ اقبال کام چھوڑ کے جارہا ہے۔۔ اور آج اسکی آخری دیہاڑی ہے۔۔ میں یہ بات سن کے اداس ہوگئی۔۔ اقبال نے مجھے صرف منہ سے بہن نہیں بولا تھا بلکہ بھائی ہونے کے سارے فرض نبھائے۔۔۔ مجھے یاد ہے جب ہمیں دور دراز کہیں مزدوری کا کام ملتا تو وہ مجھے شام میں اسپتال تک اپنی سائیکل پہ چھوڑ کے جاتا تھا۔۔۔
اقبال اینٹیں تر کررہا تھا۔۔ میں اس کے پاس جا کے کھڑی ہوئی
“بابا نذیر نے بتایا کہ تم کام چھوڑ رہے ہو۔۔۔”
میں نے پوچھا
“ہاں۔۔ رانی باجی۔۔! میں کام چھوڑ رہا ہوں۔۔۔”
وہ بھی تھوڑا اداس تھا
“لیکن کیوں۔۔۔؟ اب تو ٹھیکدار نے دیہاڑی بھی بڑھا دی ہے۔۔ پھر کیوں جارہے ہو۔۔۔؟”
“اس کام سے اب گزارا نہیں ہوتا۔۔۔ تین بہنوں کی شادی کرنی ہے۔۔ آسان تھوڑی نہیں ہے۔۔۔ “
اس نے وجہ بتائی
“لیکن اس کام کے علاوہ تم کرو گے کیا۔۔۔؟”
میں نے پوچھا
“میں نے سوچ لیا ہے جو کرنا ہے۔۔۔”
اس نے پانی کا پائپ دور پھینکا۔۔۔
“مجھے تو بتاؤ۔۔ ایسا کیا کرنے والے ہو تم۔۔۔؟”
“میں آٹو رکشہ لے رہا ہوں۔۔۔ اس میں بڑی کمائی ہے۔۔۔”
وہ میرے سامنے آکے کھڑا ہوگیا
“لیکن آٹو رکشہ کے پیسے تمہارے پاس کہاں سے آئیں گے۔۔۔؟”
“کچھ پیسے میرے پاس جمع ہیں۔۔۔ وہ دے کے آسان اقساط پہ رکشہ لے لوں گا۔۔۔ اس مزدوری سے بھی جان چھوٹے گی۔۔ اور کمائی بھی اچھی ہوجائے گی”
اس نے بتایا
“لیکن ہم لوگوں کے بغیر تم رہ لو گے۔۔۔؟”
میں نے پوچھا
“رانی باجی۔۔! ہم غریبوں کی یہی تو مجبوری ہے۔۔ اس پیٹ کی خاطر پتا نہیں کیا کیا چھوڑنا پڑتا ہے”
اسکی آنکھیں برسنے لگی
“آئے۔۔ ہائے۔۔۔ یہ کیا لڑکیوں کی طرح رونا شروع کردیا تم نے۔۔۔۔”
میں نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا
“آپکو پتا ہے۔۔۔ آپ سے پہلے گھر اور کام میرے لیے دو الگ چیزیں تھیں۔۔ لیکن جب سے آپ آئیں۔۔ اب کام بھی گھر لگتا ہے ۔۔ مجھے آپ بہت یاد آئیں گی۔۔ “
“ہم لوگ بھی تمہیں بہت یاد کریں گے۔۔۔”
میں نے اسے تسلی دی۔۔۔
“میں آپ لوگوں سے ملنے آیا کروں گا۔۔۔”
وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
ہم لوگوں کا پورا دن اداسی میں گزر گیا۔۔۔ شام ہوئی تو اقبال بولا کے وہ مجھے اپنی سائیکل پہ اسپتال چھوڑنے جائے گا۔۔۔ میں نے اسے منع کیا کہ آج آخری دن ہے اسکا اس لیے زحمت نہ کرے لیکن اس نے میری ایک نہ سنی۔۔۔
“رانی باجی۔۔۔! ایک بات پوچھوں۔۔۔؟”
“ہاں پوچھو۔۔۔!”
“میں نے کئی بار آپکو اسپتال چھوڑا ہے۔۔۔ لیکن کبھی یہ پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ آپکا کون اپنا اس اسپتال میں داخل ہے۔۔۔۔ بابا نذیر سمیت ہم سب یہ تو جانتے ہیں کہ آپ کسی مجبوری کی بنا پہ اتنا مشقت والا کام کررہی ہیں۔۔ لیکن کبھی پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔۔۔۔”
“تم جاننا چاہتے ہو۔۔۔ میں یہ سب کیوں کررہی ہوں۔۔۔۔؟”
“اگر آپ کو بتانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے تو۔۔۔۔”
“میرا شوہر اس اسپتال میں داخل ہے۔۔۔۔ اسکی کے علاج کے اخراجات اٹھانے کے لیے میں نے یہ کام شروع کیا”
میں نے اس بتایا
“وہ کس مرض میں مبتلا ہیں۔۔۔؟”
“کومہ۔۔۔! “
میں نے جواب دیا
“ہیں۔۔ وہ والی بیماری جس میں مریض ہر وقت نیند میں رہیتا ہے لیکن وہ سب کی باتیں سن رہا ہوتا ہے۔۔”
“ہاں وہ ہر وقت نیند میں رہیتا ہے لیکن وہ کچھ سن سکتا ہے یا نہیں۔۔ اس بارے میں میں لا علم ہوں۔۔۔”
“آپ ان سے باتیں کرتی ہیں۔۔۔؟”
“ہاں بالکل۔۔۔۔ “
“کیا باتیں کرتی ہیں آپ۔۔۔؟”
“اپنے پورے دن کے حالات بتاتی ہوں۔۔۔۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز ۔۔۔”
“جب جواب نہیں آتا تو تکلیف نہیں ہوتی آپکو۔۔۔؟”
“میرا بندھن اسکی روح کے ساتھ ہے۔۔۔ وہ اپنی آواز میں مجھے جواب نہ بھی دے تبھ بھی میں سن سکتی ہوں۔۔۔ اسکی ہر بات۔۔۔ میں جب اسکے دل پہ ہاتھ رکھتی ہوں تو اسکی دھڑکنیں سب بتا دیتی ہیں۔۔۔”
“انکے گھر والے آپکے سہارے چھوڑ گئے انھیں ۔۔۔۔؟”
“اسکی بس ایک خالہ ہیں جو میرا پورا ساتھ دے رہی ہیں۔۔ والدین اور بھائی بہن وغیرہ کوئی نہیں ہیں۔۔۔”
“اور آپ کا بھی کوئی نہیں ہے؟”
اسکا سوال بہت مشکل تھا، میں چپ ہوگئی
“بتائیں نا۔۔۔؟”
“چھوڑو نا اقبال۔۔ کن باتوں میں لگ گئے ہو۔۔۔ دیکھو مغرب کی اذان ہورہی ہے جلدی جلدی مجھے اسپتال پہنچادو۔۔۔”
میں نے اسے ٹالنے کی کوشش کی
“اس کا مطلب آپ بتانا نہیں چاہتی ہیں۔۔۔”
وہ بولا
“ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔۔”
“تو پھر آپ کیوں نہیں بتا رہی۔۔۔؟”
“کہنے کو تو پورا ایک خاندان ہے میرا۔۔۔ باپ، تایا۔۔ چچا۔۔۔ سب ہیں۔۔ لیکن”
ایک گہری سانس لے کے میں نے جواب دیا
“لیکن کیا۔۔۔؟”
“ان لوگوں نے مجھ سے سارے رستے ناطے توڑ دیے ہیں۔۔۔”
میں نے جواب دیا
اس نے سائیکل روکی۔۔ میں پریشان ہوکے سائیکل سے نیچے اتر گئی
“کیا ہوا ۔۔ اقبال۔۔!”
میں نے پوچھا
“آپ اس حال میں ہیں اس بات کا انھیں پتا ہے۔۔۔؟”
اقبال نے پوچھا
“کس حال میں۔۔۔۔؟”
“یہی کہ جو آپ نے اپنے شوہر کے بارے میں بتایا ۔۔ اور انکے علاج کے لیے آپکو اس طرح خوار ہونا پڑ رہا ہے۔۔ کیا یہ سب وہ جانتے ہیں۔۔۔؟”
“میرے شوہر کے بارے میں انھیں سب علم ہے لیکن یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ میں مزدوری کرکے کے اسکے علاج کے لیے پیسے جمع کررہی ہوں۔۔۔”
میں نے سر جھکا لیا
“وہ لوگ ملنے نہیں آتے آپ سے۔۔۔؟”
“نہیں ۔۔۔۔ “
“اتنے سنگدل ہیں۔۔۔؟”
“پتا نہیں۔۔۔ شائد میری ہی کوئی غلطی ہوگی۔۔۔”
“کیسی غلطی۔۔۔؟”
“میں نے انکی بجائے اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔۔۔ یہ بات انھیں ناگوار گزری۔۔۔۔”
“ایسی بیٹیاں اور بہنیں نصیب والوں کو ملتی ہیں۔۔۔ مجھے افسوس ہورہا ہے آپکے گھر والوں پہ۔۔۔”
اسکی آواز بھر آئی۔۔ میں چپ چاپ کھڑی رہی
“جب تک مجھے حقیقت پتا نہیں تھی۔۔ تب تک اور بات تھی۔۔ لیکن اب جب میں سب کچھ جان گیا ہوں کہ آپ اتنا بڑا کام کررہی ہیں تو میں اب آپ کو ایسے نہیں رہنے دوں گا۔۔ اب میں آپ کی مدد کروں گا۔۔۔”
“اقبال۔۔! تم پہلے ہی اپنے خاندان کی زمہ داری ہے۔۔ تم میری فکر مت کرو۔۔۔”
“میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں کما کے آپکو دوں گا۔۔۔ لیکن اس قابل بننے میں ضرور مدد کروں گا کہ آپ جلد از جلد اس مصیبت سے نکل آئیں۔۔۔۔”
“لیکن کیسے۔۔۔۔ میں بس یہ مزدوری ہی کرسکتی ہوں۔۔۔”
میں حیران ہوئی
“آپ میرے ساتھ رکشہ چلائیں گی۔۔۔۔”
وہ میری آنکھوں میں دیکھ کو بولا
“میں رکشہ چلاؤں گی۔۔۔؟”
میں اس کے بات پہ ہنس پڑی۔۔۔
“میں مذاق نہیں کررہا ۔۔۔ آپ سچ میں رکشہ چلا سکتی ہیں۔۔۔”
“کیسی باتیں کررہے ہو ۔۔ اقبال۔۔ ایک عورت رکشہ چلاتی ہوئی کیسی لگے گی۔۔”
میں سوچ میں پڑ گئی
“ایک عورت جب سیمنٹ اور بجری اٹھا سکتی ہے تو رکشہ چلانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔۔۔ اور ویسے بھی آج کے دور میں عورتوں کا گاڑی چلانا۔۔ موٹر سائیکل چلانا ۔۔ ایک عام سی بات ہے۔۔۔”
“گاڑی چلانا۔۔۔ ایک الگ بات ہے۔۔۔ لیکن سواریوں والا رکشہ چلانا ایک الگ چیز ہے۔۔۔ مجھ سے نہیں ہوگا۔۔ بلاوجہ کا تماشا بن جائے گا۔۔۔”
میں نے نفی میں سر ہلایا
“رانی باجی۔۔! آپ نے مردوں کے بیچ رہ کے مزدوری کی ہے۔۔۔ تب تو نہیں گھبرائیں۔۔۔ پھر اس کام کے لیے کیوں ہچکچا رہی ہیں۔۔۔؟”
“اقبال۔۔! چند مردوں کے بیچ میں مشقت کرنا اتنا مشکل نہیں ہے۔۔ لیکن پورے شہر کے سامنے عورت ہوکے کیسے۔۔۔”
میں بے بسی میں اسے دیکھنے لگی
“آپ کو کس نے کہا کہ آپ عورت کے لباس میں رکشہ چلائیں۔۔۔ آپ جس طرح مردانہ لباس میں مزدوری کرتی ہیں۔۔ رکشہ بھی اسی بھیس میں چلائیں گی۔۔۔”
میری پاس کوئی جواب نہیں تھا
“بس۔۔ اب ضد چھوڑیں۔۔۔ رکشہ میں بہت کمائی ہے۔۔۔ آپکی مشکل جلد آسان ہوجائے گی۔۔۔”
اقبال کو یقین تھا کہ میں یہ کرلوں گی۔۔ اس کے اس یقین پہ مجھے بھی یقین آنے لگا۔۔۔
اگلے دن کام پہ جا کے میں نے بابا نذیر سے مشورہ کیا انھوں نے بھی اقبال کے فیصلے کی تائید کی۔۔ چنانچہ اقبال کے ساتھ ساتھ میں نے بھی مزدوری کو الودع کہا۔۔ اور اسکے پیچھے چل پڑی۔۔
اقبال پہلے سے ہی رکشہ چلا لیتا تھا۔۔ اسکی منصوبہ بندی کے مطابق وہ ایک مہینے تک مجھے اپنے ساتھ رکھے گا اور رکشہ چلانے کی ٹریننگ دے گا۔۔ ایک بار میرا ہاتھ سیدھا ہوگیا تو پھر وہ اپنے جاننے والوں کی مدد سے ایک اور رکشہ قسطوں پہ لے گا۔۔ جسے میں چلاؤں گی۔۔۔
مزدوری تو جیسے کیسے میں نے کرلی تھی۔۔ لیکن اس کام کے کے لیے دل بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔ میں نے تو پہلے ہفتہ میں ہتھیار ڈال دیے تھے۔۔ لیکن اقبال نے ہمت نہیں ہاری۔۔۔ بلآخر میں نے اپنے آپکو دماغی طور پہ مظبوط کیا۔۔۔ اور ٹھان لی کہ اب یہی وہ رستہ ہے جس پہ مجھے چلنا ہے۔۔ میرا ہاتھ سیدھا ہونا میں ایک مہینے سے زیادہ عرصے لگ گیا۔۔۔ جب اقبال کو اس بات پہ بھروسہ ہوا کہ میں اب میں اپنے بل بوتے پہ رکشہ سنبھال لوں گی تو اس نے کچھ ہی دنوں میں ایک اور رکشہ نکلوایا۔۔۔ جس کی کچھ رقم میں نے اداکی اور کچھ اقبال نے ادھار کی صورت ادا کردی۔۔۔
سال بھر ہونے کو آیا تھا ۔۔ اب تو مردانہ لباس میرے جسم پہ جچنے لگا تھا۔۔ اور جو پگڑی میں سر پہ سجا کے رکھتی تھی ۔۔۔ اقبال کہتا کہ مجال ہے جو کسی کو کانوں کان خبر بھی ہوتی ہو کہ مردانہ بھیس میں کوئی عورت ہے۔۔۔
رکشے کی کمائی واضح طور پہ مزدوری سے زیادہ تھی۔۔ اب تو مجھے بھی یقین ہو چلا تھا کہ منزل زیادہ دور نہیں ہے۔۔ مزدوری سے صرف اسپتال کے اخراجات ہی پورے ہوتے تھے لیکن اب رقم بھی جمع ہونے لگی تھی۔۔۔
عارفہ خالہ مجھے سے اکثر پوچھتیں کہ میں کیا کام کرتی ہوں۔۔ لیکن ہر بار میں انکی بات ٹال جاتی۔۔ تو وہ کہتیں۔۔
“تمہارے چہرے کی کم ہوتی نزاکت اس بات کا پتا دیتی ہے کہ تم جو بھی کررہی ہو وہ آسان نہیں ہے”
میں انکی اس بات پہ مسکرا دیتی۔۔
کئی بار صوبیہ اور سونیا سے بھی میری ملاقات ہوئی۔۔ لیکن اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے تھے۔۔۔ وہ اب نہ صرف عزت سے بات کرتیں بلکہ اس چیز کا بھی احساس تھا انھیں کہ انکی سوچ میرے بارے میں کتنی غلط تھی۔۔ کئی بار سونیا نے ضد کی کہ میں انکے گھر کو چکر لگاؤں۔۔ لیکن میں ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ کرلیتی تھی۔۔۔ دل میں بس ایک عزم تھا جب تک ارسل ٹھیک نہیں ہوجاتا تب تک میں عارفہ خالہ کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گی۔۔۔
٭٭٭٭٭
آج پتا نہیں سواریاں کہاں گم ہیں۔۔ سڑکوں پہ رکشہ گھماتے میں اسی سوچ میں گم تھی۔۔۔ گھومتے گھماتے میں ایک چوک سے گزری تو لوگوں کا کافی رش لگا تھا۔۔۔ میں ایسی رش والی جگہوں سے بہت کتراتی تھی۔۔۔ میری کوشش ہوتی کہ جو ایک آدھ سواری ملتی ہے اٹھاؤں اور طے کردے پیسے لے کے نکلنے والی بات کروں۔۔ میں بھیڑ کے قریب سے گزری تو ایک دو لوگوں نے ہاتھ کھڑا کر کے مجھے رکنے کا اشارہ کیا۔۔۔
“بھائی۔۔! یہ بے چاری عورت بڑے برے حال میں سڑک پہ پڑی ہے۔۔ اسے کسی سرکاری اسپتال تک چھوڑ دے۔۔۔ دعا دے گی”
ایک آدمی پاس آکے بولا
میں نے سر ہلایا۔۔
دو لوگوں نے پکڑ کے عورت کو رکشے میں بٹھایا جو نیم بے ہوشی کے حالت میں اونگھ رہی تھی۔۔۔ میں نے اسکی درد بھری آوازیں سنتی رہی لیکن مڑ کے نہیں دیکھا۔۔۔ میں بس جلد از جلد اسے اسپتال پہنچانا چاہتی تھی۔۔
اسپتال کے ایمرجنسی گیٹ پہ میں رکشہ روکا اور رکشے اسے اتر کے عورت کو اتارنے لگی۔۔۔لیکن اس عورت کا چہرہ دیکھ کے میری روح کانپ گئی۔۔۔
“رخسانہ۔۔۔ تم۔۔۔”
میں حواس باختہ تھی
وہ حمل سے تھی۔۔۔ اور شائد اسی درد میں وہ اسی گھری ہوئی تھی کہ اس نے مجھے نہیں پہچانا۔۔۔ بامشکل سہارا دے کے میں نے اس اندر پہنچایا۔۔۔ ڈاکٹر سے پتا چلا کہ اسکی زچگی ہونے والی ہے۔۔۔ اس اندر لے جایا گیا۔۔۔ میں مرادنہ لباس میں زیادہ دیر تک وہاں نہیں رک سکتی تھی۔۔۔ اس لیے موقع پا کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔ لیکن جیسے کیسے مجھے رخسانہ کے پاس واپس لوٹنا تھا۔۔۔
میں نے اقبال کو فون کرکے اسی اسپتال میں بلایا جہاں رخسانہ داخل تھی۔۔۔ اور خود واپس اپنے زنانہ بھیس میں آکے دوبارہ واپس لوٹی۔۔۔ نرس سے پتا چلا کہ رخسانہ کی بیٹی ہوئی ہے۔۔ کچھ دوائیاں وغیرہ بھی منگوانی تھیں۔۔ میں نے اقبال کو دائی لانے بھیجا اور خود وارڈ میں چلی آئی جہاں رخسانہ کو بستر ملا تھا۔۔۔
اسکی آنکھیں بند تھیں۔۔ میں پاس جا کے کھڑی ہوئی۔۔۔
آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ ہلکے۔۔۔ نحیف سا جسم۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی بوڑھی عورت اپنی آخر سانسیں گن رہی ہو۔۔۔
“رخسانہ۔۔۔!”
میں نے اسکے ماتھے سے بال ہٹائے۔۔
اس نے آنکھیں کھول دیں۔۔
مجھے دیکھ کے اسکی آنکھوں میں بہت عجیب سی حیرانی تھی۔۔۔ جیسے اسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔
“رخسانہ۔۔۔!”
میں پھر سے بولی
“تم رانی ہو۔۔۔۔؟”
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں سچ مچ اسکے سامنے کھڑی ہوں۔۔۔
“ہاں۔۔ بھول گئی اپنے سہیلی کو۔۔۔؟”
میں نےاسکے گال پہ ہاتھ پھیرا
آنسو کی ندیاں اسکی آنکھوں سے بہنے لگی
“کہاں تھی تم اب تک،۔۔۔۔ ؟
اس نے میرا ہاتھ پکڑا
“میں تو وہیں تھی۔۔ تم ہی بے وفا نکلی۔۔ ایک بار بھی ملنے نہیں آئی۔۔”
“تمہاری شادی کے بعد میں نے وہاں سے کام چھوڑ دیا تھا۔۔۔ کئی بار تم سے ملنے اسپتال آئی۔۔۔ لیکن ہر بار تمہارے شوہر کی خالہ یہی کہتی کہ تم کام پہ گئی ہو۔۔۔ مجھے تو لگا تم مجھ سے ملنا نہیں چاہتی”
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تم سے ملنا نہ چاہوں۔۔۔ اچھا یہ سب چھوڑو۔۔ اور شفیق کا نمبر دو۔۔۔ اس بھی تو خوشخبری دیں کہ وہ باپ بن گیا ہے۔۔ اللہ پاک نے چاند سے بیٹی دی ہے۔۔۔”
میری بات سن کے وہ اور زیادہ رونے لگی
“کیا ہوا رخسانہ۔۔۔ رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔”
“پہلے کیا کم مصیبتیں تھیں سر پہ جو اللہ پاک نے بیٹی کا بوجھ جھولی میں ڈال دیا”
“ایسے مت کہو۔۔ بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں۔۔۔”
“میں بھی تو بیٹی نہیں ہوں نا۔۔۔ پر میں رحمت نہیں زحمت ثابت ہوئی”
“ایسی باتیں مت کرو۔۔۔ اور یہ رونا بند کرو۔۔۔ تمہاری حالت ٹھیک نہیں ہے۔۔ مجھے بتاؤ شفیق کہاں ہے۔۔۔؟”
“شفیق تو کب کا چھوڑ گیا مجھے۔۔۔ “
“کیوں۔۔۔ چھوڑ کیوں گیا۔۔۔”
میں پریشان ہوگئی
“میرے حمل کا پتا چلتے ہی اس نے رنگ بدل لیے۔۔ امّاں کو جب شادی اور میرے حمل کا پتا چلا تو دھکے دے کے گھر سے نکال دیا۔۔ میں نے شفیق سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔۔ لیکن اس نے ساتھ دینے سے انکار کردیا”
وہ اپنی آپ بیتی سنانے لگی
“تو اب تم کہاں رہیتی ہو۔۔۔؟”
“رہنا کہاں ہے۔۔۔ لوگوں کے گھروں میں دن بھر کام کرتی ہوں اور رات ایک کمرے کے کوارٹر میں کٹتی ہے۔۔۔”
اس کی بات سن کے میرے دل پہ قیامت ٹوٹی۔۔۔ مجھے اپنا بچپن یاد آنے لگا۔۔۔ رخسانہ کی بیٹی پہ نظر پڑی تو اس میں اپنا ہی عکس دکھائی دیا
“نہیں۔۔۔ ایک اور رانی کو میں اس دنیا میں سسکنے نہیں دوں گی۔۔۔”
میں نے اپنے آپ سے عہد کیا۔۔۔
“تم مجھ تک کیسے پہنچی۔۔۔”
رخسانہ پوچھنے لگی
“وہ سب چھوڑو۔۔ اب تم آرام کرو۔۔۔”
میں نے اسے جواب دیا
اتنے میں اقبال بھی دوائیاں لے کے آگیا۔۔۔
نرس نے رخسانہ کو انجیکشن لگایا۔۔ تو وہ فوراً سو گئی
اب میں رخسانہ کو یہاں اکیلا چھوڑ کے نہیں جاسکتی تھی اور ارسل کے پاس جانا بھی ضروی تھا۔۔۔ اقبال میری مجبوری سمجھ گیا۔۔ وہ رخسانہ کے پاس رکا اور میں ارسل کے پاس چلی گئی۔۔۔
٭٭٭٭٭
“آرام سے اترو۔۔۔۔!”
میں نے ایک ہاتھ میں رخسانہ کی بیٹی کو اٹھایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے سہارا دے کے رکشے سے اتارا
اقبال چھوڑنے آیا تھا
رخسانہ جہاں رہیتی تھی ہم اسی گلی میں آچکے تھے۔۔۔ میں ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔ نا جانے کیوں اس گلی میں کیا ایسی بات تھی میرا دل زور زور سے دھڑکنا شروع ہوا۔۔۔
“وہ سامنے والا گھر ہے نا۔۔ اسکے اوپر ایک کمرہ ہے۔۔۔ میں وہاں رہیتی ہوں۔۔۔۔”
رخسانہ نے انگلی کا اشارہ دیا
میرے پاؤں زمین پہ جم سے گئے۔۔۔ وقت مجھے کہاں لے آیا ہے۔۔۔
“رانی باجی۔۔! چلو۔۔۔”
اقبال نے ہاتھ میں رخسانہ کی دوائیاں پکڑی ہوئی تھیں
میں اسکی آواز پہ چونکی
بامشکل قدم اٹھا کے میں ان سیڑھیوں پہ قدم رکھا جس پہ میرا بچپن بیتا تھا۔۔ اس گلے میں بہت کچھ بدل چکا تھا۔۔ پر وہ گھر اب بھی قائم تھا۔۔ جہاں میں اور میری ماں رہیتے تھے۔۔۔
میرے معصوم بچپن کی کھلکلاریاں اور میری ماں کی درد بھری آہیں۔۔۔ میرے کانوں میں گونجنے لگیں۔۔۔
“رانی۔۔! تو مر کیوں نہیں جاتی۔۔۔۔ میرے درد کے لیے پیدا ہوئی”
مجھے میری ماں کا پیار یاد آنے لگا
