Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12

میں نے جونہی دروازہ بند کرنے کی کوشش کی کسی نے ایک دھکے سے دروازہ کھول دیا۔۔ میں وقت پہ پیچھے نہ ہٹتی تو میرا ماتھا زخمی ہوجاتا۔۔۔۔
میں حیران و پریشان سی سامنے دیکھنے لگی۔۔۔۔
نادیہ باجی لال پیلی ہوتی اندر داخل ہوئیں۔ انکے تیور صاف بتا رہے تھے کہ شدید غصے میں ہیں۔۔
میں نے دروازہ بند کیا۔۔ وہ اپنے کمرے کی طرف جاتے جاتے رکیں۔۔۔
“سنو۔۔۔! “
میں انکی آواز پہ چونکی
“تم رخسانہ سے ملتی ہو۔۔؟”
انھوں نے پوچھا
“نہیں۔۔۔!”
میں نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
انھوں نے پل بھر میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر اندر چلی گئیں
ایک تو سب کے چہروں پہ آجکل عجیب و غریب کہانیاں ہی نقش رہیتی ہیں۔۔۔ میری تو سمجھ سے باہر ہے۔
٭٭٭٭٭٭
“گھر کے جتنے بھی کام ہیں وہ آج ہی نپٹا لے۔۔۔ کل وقت نہیں ملے گا۔۔۔”
تائی نے میلے کپڑے مجھے تھمائے۔۔۔۔
کل نادیہ باجی کے نکاح کی تاریخ طے کرنے کے لیے ارسل اور اسکے گھر والے آنے والے تھے۔ جلدی ہی رخصتی بھی ہوجائے گی۔
میں نے دن بھر لگا کے پردے وغیرہ دھوئے۔۔ گھر کے باقی کام بھی مکمل کیے۔۔۔ اب تو رات ہوچکی تھی۔۔ ان دنوں کام کا اتنا بوجھ تھا سر پہ میں اپنے مسئلے بھول گئی تھی۔ رخسانہ سے بھی میری کوئی بات چیت نہیں ہوئی ۔ بس صبح اسے گھر میں داخل ہوتا ہوا دیکھتی تھی اور رات میں جاتے ہوئے نظر آتی تھی۔ اس نے بھی مجھ سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی جب بھی نظر پڑتی وہ اپنے ہی خیالوں میں کھوئی ہوئی سی نظر آتی۔۔
رات کے گیارہ بج چکے تھے۔۔۔ میں تھکی ہاری دادی کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔ کمر ٹوٹ رہی تھی۔ جاتے ہی بستر پہ پسرنا تھا۔۔۔ کل کا دن تو اور زیادہ مصروف گزرنے والا تھا۔ صحن سے ہلکی ہلکی بوندیں گرنے کی آواز آئی۔۔۔ موسم اچانک ہی اچھا ہوگیا تھا۔۔۔۔ مجھے بارش شروع سے ہی بہت پسند تھی۔۔۔ میں صحن میں آگئی۔۔۔ بارش کی بوندیں تیز ہوئیں تو مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔ بارش میں بھیگنے کے لیے دل مچلنے لگا۔۔۔ میں نے دل کی سنی اور صحن کے بیچوں بیچ۔۔ آکے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔ گردن گھما کے چہرہ آسمان کی جانب کیا۔۔۔۔
“اے۔۔ رانی۔۔۔!”
رخسانہ کی آواز آئی
میں نے مڑ کے سیڑھیوں کی جانب دیکھا۔ اس نے ہاتھ کا اشارے سے مجھے بلایا۔ مجھے حیرانی ہوئی رخسانہ ابھی تک گھر نہیں گئی تھی۔۔۔
“تم گھر نہیں گئی۔۔؟”
میں نے پوچھا
“نہیں۔۔۔ آج کام بہت تھا اس لیے دیر ہوگئی۔۔۔ امّاں کو فون پہ بتا دیا کہ میں یہیں رک رہی ہوں”
میں چپ ہوگئی۔۔۔
“سنا ہے کل نادیہ کے نکاح کی تاریخ طے ہونے والی ہے۔۔۔؟”
“ہاں۔۔۔ اسی وجہ سے تو کام کا بہت بوجھ ہے۔۔۔”
“جلدی تری جان چھوٹ جائے گی اس سب سے۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولی
“کیسے جان چھوٹ جائے گی۔۔۔؟”
“بس تم دعا کرو۔۔۔ کل کا سورج تمہارے لیے ایک نئی امید لے کے طلوع ہو۔۔۔”
اس نے ایک حسرت بھری نگاہ میرے چہرے پہ ڈالی۔۔۔
میں سمجھ نہیں پائی۔۔۔
تائی کے کمرے کا دروازہ کھلا تو میں بھاگ کے برآمدے میں آگئی۔۔۔ رخسانہ بھی اوپر چلی گئی
“لو بھلا۔۔۔۔ ! رات کے اس وقت یہ لڑکی بارش میں نہا رہی ہے۔۔۔”
میرے بھیگے ہوئے کپڑے دیکھ کے تائی بولیں۔۔۔
میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ انھوں نے مجھے رخسانہ کے ساتھ نہیں دیکھا۔۔۔ ورنہ ابھی ڈانٹ پڑ جاتی
“چل جا کپڑے بدل۔۔۔۔ بیمار ہوگئی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔۔۔۔ گھر میں اتنا کام پڑا ہے۔۔”
میں جلدی سے اندر چلی گئی۔۔۔
بستر پہ لیٹتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔۔۔
٭٭٭٭
“اٹھ جا۔۔۔ ہڈ حراموں کی طرح پڑی ہوئی ہے۔۔۔ دن چڑھ گیا۔۔۔”
میں نے آنکھ کھولی تو دادی میرے بستر کے پاس کھڑی تھیں۔۔
میں ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھی ۔۔ واقعی دن چڑھ چکا تھا
میں باہر نکلی تو تائی نے کام شروع کردیا تھا۔۔۔ دوپہر میں ہی ان لوگوں نے آنا تھا۔۔۔ تائی نے کیچن میں مورچہ ڈالا ہوا تھا۔۔۔ میں جلدی سے صفائیاں کرنے لگی۔۔۔ سب نے ناشتہ کیا ۔۔ تایا اور بابا کام پہ چلے گئے لیکن مہمانوں کے آنے سے پہلے ہی ان کی گھر واپسی تھی۔۔۔ میں دو تین بار کام کے چکر میں نادیہ باجی کے کمرے میں گئی۔۔ انکے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔۔۔ میں حیران تھی اب جب سب کچھ انکی منشا کے مطابق ہورہا تھا تو پریشانی کیسی۔۔۔ خیر جو بھی ہو ان سے پوچھ گچھ کے چکر میں اپنی ہی کلاس لگوا لوں گی۔۔۔ اس لیے میں خاموش رہی۔۔۔
ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔۔۔ میں اور تائی کیچن میں تھے۔۔۔ دادی ہر چیز پہ کمنٹری کرتی ہوئیں پورے گھر میں پھر رہی تھیں۔۔۔ تائی نے انھیں سمجھایا کہ وہ سکوں سے اپنے کمرے میں بیٹھ جائیں۔۔۔ جب مہمان آئیں گے تو وہ انھیں بلا لیں گی۔۔ جاتے جاتے دادی نے حکم صادر کیا کہ میں مہمانوں کے سامنے نہ جاؤں۔۔ تائی بولیں کہ اگر میں سامنے نہ آئی تو کام کون دیکھے گا۔۔۔ اس بار دادی نے خود ہی رخسانہ کو بلوا بھیجا کہ جتنی دیر مہمان گھر پہ ہیں وہ تائی کی مدد کرے گی۔۔۔ میں پھر سے دادی کے کمرے میں قید ہونے والی تھی۔۔۔ کمرے کی طرف جاتے جاتے اچانک مجھے خیال آیا کہ کیوں نے میں پچھلے صحن میں ہی ڈیرے ڈال لوں۔۔ دادی سے اجازت لے کے میں پچھلے صحن میں آئی۔۔۔ ٹوٹی چارپائی پہ جا کے لیٹ گئی۔۔۔
اب تو ایک بج گیا تھا۔۔۔۔ مہمانوں کی ابھی تک کوئی خبر نہیں آئی۔۔ تایا کی آواز سے پتا چلا کے وہ لوگ بھی گھر آگئے ہیں۔۔۔ چھوٹے تایا اور چچا نے بھی آنا تھا۔۔۔
میں کبھی چارپائی پہ لیٹ جاتی تو کبھی ٹہلنے لگتی۔۔ پتا نہیں کب مہمان آکے چلے جائیں گے۔۔۔ اور اس قید سے مجھے نجات ملے گی۔۔۔
رخسانہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی میری طرف آئی۔۔۔
“آگئے مہمان۔۔۔؟”
میں نے دور سے ہی سوال کیا۔۔۔
“سن۔۔۔! بیٹھ کے بس دعا کر۔۔۔ ایک دھماکہ ہونے والا ہے۔۔۔”
اس کے چہرے پہ عجیب سے تاثرات تھے۔۔۔
“کیا مطلب ۔۔۔؟ کیسا دھماکہ۔۔۔؟”
میں حیران ہوگئی
“بس ۔۔ تو انتظار کر۔۔ اور دعا کر ہر چیز ٹھیک ٹھیک طریقے سے ہوجائے۔۔۔۔”
“رخسانہ۔۔۔ مجھے کچھ بتاؤ گی۔۔۔؟ چل کیا رہا ہے۔۔۔ کیسا دھماکہ ہونے والا ہے۔۔۔”
“اف ہو۔۔۔ بس تھوڑا صبر کرلو۔۔۔۔ سب پتا چلا جائے گا۔۔۔۔ “
وہ پھر سے جانے لگی۔۔۔۔
“اری۔۔۔ بتا کے تو جا مہمان آئے کے نہیں۔۔۔۔ ؟”
میں نے پیچھے سے اسے آواز دی
وہ واپس میری طرف پلٹی۔۔۔۔
“وہ لڑکا آیا تھا لیکن زیادہ دیر رکا نہیں۔۔۔ واپس چلا گیا ۔۔ شائد باقی لوگ بھی آرہے ہوں”
وہ بتا کے چلا گئی اور میں پھر سے چارپائی پہ لیٹ گئی۔۔ میں نے ارسل کے نام کے سپنے تو نہیں سجائے تھے لیکن دل میں پھر بھی ایک خلش تھی۔۔۔ بار بار اسکا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔
رخسانہ کی عجیب و غریب حرکتیں مجھے پریشان کررہی تھیں۔۔۔ پاگل لڑکی نے مجھے کچھ بتایا نہیں۔۔ خود سے جانے کیا کیا کررہی ہے۔۔۔ میری وجہ سے کسی مصیبت میں نہ پھنس جائے۔۔۔ مجھے رخسانہ کی دھماکے والی بات یاد آئی تو میں پریشان ہونے لگی
ابھی چند ہی پل گزرے تھے۔۔۔ گھر میں شور برپا ہوگیا۔۔۔۔ تایا ، بابا۔۔ اور گھر کے دوسرے مردوں کی اونچی اونچی آوازیں۔۔۔۔۔
“یا اللہ خیر۔۔۔۔ ! رخسانہ کی بات سچ ہوگئی تھی۔۔۔ “
میرا جسم کانپنے لگا۔۔۔ آخر ہوا کیا ہے۔۔۔۔ اب نہ تو میں یہاں بیٹھ سکتی تھی اور نہ ہی وہاں جا سکتی تھی۔۔۔ صورت حال ایسی تھی کہ رخسانہ کے بھی یہاں آنے کے آثار کم ہی تھے۔۔۔
گالی، گلوچ۔۔۔۔ اونچی اونچی آوازیں۔۔۔۔ آخر ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔
دوپٹے سے سر ڈھانپ کے میں نے دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے۔۔۔
“مالک! میں مزید بوجھ سہنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔۔ پہلے ہی ایک بد نامی کا بوجھ میرے سر پہ ہے۔۔۔ اور امتحان کے قابل نہیں ہوں۔۔۔”
“سن رانی۔۔۔! جلدی آ۔۔۔۔”
رخسانہ نے مجھے دور سے آواز دی۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں اس سے کچھ پوچھ پاتی وہ واپس پلٹ گئی۔۔۔
میرے جسم سے سرد لہریں گزر رہی تھیں۔۔۔
بوجھل قدم اٹھاتے ہوئے میں گھر کے اگلے حصے کی طرف بڑھی۔۔۔
وہاں کا منظر دیکھ کے میری پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی۔۔۔
سبھی خواتین اور حضرات صحن میں جمع تھے۔۔۔
“آؤ۔۔۔۔ اور جو سچ ہے وہ سب کو بتاؤ۔۔۔۔”
چھوٹے تایا کی آواز میرے کان میں پڑی۔۔۔
اب کونسا کھیل چل رہا ہے۔۔۔
میں نے ایک نظر سب کے چہروں پہ ڈالی۔۔ میرے عین سامنے چچا نے نوید کو دبوچ رکھا تھا۔۔ اسکے کپڑے اور بال صاف بتا رہے تھے خوب دھلائی ہوئی ہے اسکی۔۔۔
“اف۔۔ خدایا۔۔۔ کہیں اس بار نوید نے میرے اوپرالزام نہ لگایا ہو۔۔۔”
میں تھر تھر کانپنے لگی۔۔۔۔ ایکدم سے میری نظر نادیہ باجی پہ پڑی۔۔۔ اور تب حیرت کا ایک طوفان میری آنکھوں میں اتر آیا۔۔۔۔ انکے چہرے پہ سرخ نشان اور بکھرے بال صاف پتا دے رہے تھے کہ کیا ہوا ہوگا۔۔۔
“رانی۔۔۔۔ ! اس دن جو کچھ ہوا تھا سب سچ سچ بتا دے۔۔۔”
چھوٹی تائی آگے بڑھیں۔۔۔
میرا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا۔۔۔ پتا نہیں وہ کس سچ کی بات کررہی ہیں۔۔۔۔
“بتاؤ۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔! ڈرو نہیں جو سچ ہے وہی بتاؤ۔۔۔۔” چچی نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا
دادی صحن میں پڑی چار پائی پہ اونگھ رہی تھیں۔۔۔ بڑی تائی فرش پہ بیٹھی تھیں۔۔۔ بڑے تایا دیوار کی ٹیک لگا کے سر جھکائے کھڑے تھے۔۔۔ چھوٹے تایا بھی انکے ساتھ ہی تھے۔۔۔ سوتیلی امّی سیڑھیوں میں بیٹھی تھیں۔۔۔ ان سب سے کچھ فاصلے پہ بابا کھڑے تھے۔۔ جن کی نظریں مجھ پہ تھیں میں نے سر جھکا لیا۔۔۔
“آپ خود ہی پوچھ لیں اس لڑکی سے۔۔۔ اس دن اس نے کیا دیکھا تھا۔۔۔؟”
نوید کے پھٹے ہوئے ہونٹوں سے آواز نکلی۔۔۔
یہ لوگ کونسا سچ سننا چاہتے ہیں مجھ سے۔۔۔ وہ جو حقیقت یا وہ جو نادیہ باجی نے سب کو سنایا تھا۔۔۔
“بتاؤ۔۔۔ چپ کیوں ہو۔۔۔ خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ “
چچی نے مجھے ہمت دی۔۔۔
“اس دن بیڈ شیٹ لانے کے لیں میں سٹور میں گئی تو یہ لڑکا وہاں سے باہر نکل رہا تھا۔۔۔ اور اسکے پیچھے نادیہ باجی تھیں۔۔۔”
میں نے ایک نظر نادیہ باجی کے چہرے کو دیکھا
“جھوٹی ہے یہ لڑکی۔۔۔۔ بکواس کرتی ہے۔۔۔ اپنا گند میری بیٹی پہ ڈال رہی ہے”
تائی دھاڑنے لگیں۔۔
“آپا۔۔۔۔۔! ایک منٹ صبر کریں۔۔ جھوٹ سچ ابھی سامنے آجائے گا۔۔۔”
چھوٹی تائی نے انھیں چپ کرایا
“رانی۔۔! تم نے جب یہ سب دیکھا تھا۔۔ تو کسی کو بتایا کیوں نہیں۔۔۔؟”
چچی نے مجھ سے پوچھا
“نادیہ باجی نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس بات کا ذکر میں کسی اور سے کروں گی تو وہ سب مجھ پہ ڈال دیں گی۔۔۔”
پہلی بار مجھے اپنے حق میں بولنے کا موقع مل رہا تھا اور یہ موقع میں اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔
“لیکن تم نے ارسل کو فون کرکے رشتہ توڑنے کی بات کیوں کی۔۔۔؟”
“یہ بھی نادیہ باجی چاہتی تھیں ۔۔۔۔”
“تم منع کردیتی۔۔۔ کہہ دیتی میں ایسا نہیں کروں گی”
“انھوں نے مجھے بری طرح جال میں پھنسا لیا تھا۔۔۔ اگر میں انکی بات نہیں مانوں گی تو یہ نوید کا الزام مجھ پہ لگا دیں گی۔۔ میں خوفزدہ ہوگئی تھی۔۔۔ جھوٹی بدنامی کے داغ سے بچنے کے لیے میں نے حامی بھر لی۔۔۔۔ لیکن یہ عین موقع پہ اپنی بات سے پھر گئیں۔۔۔ میں نے جب ارسل سے رشتہ توڑنے کی بات تو انھوں نے نوید والا جھوٹا قصہ سب کوسنا دیا۔۔۔۔”
“لیکن تم نے اپنی صفائی میں کیوں کچھ نہیں کہا۔۔۔۔؟”
“کیا کہتی۔۔۔؟ اس وقت کوئی بھی میری بات سننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔ سب نے نادیہ باجی کے بات پہ یقین کیا۔۔۔ اس لیے میں نے خاموشی اختیار کی۔۔۔”
میں نے اپنے دل سے سارا بوجھ اتار دیا
“جھوٹ سراسر جھوٹ۔۔۔۔ یہ لڑکی میری بیٹی سے بدلہ لینا چاہتی ہے بس اور کچھ نہیں ۔۔۔”
“آپا۔۔۔۔! اگر یہ لڑکی جھوٹی ہے تو آج سب نے اپنی آنکھوں سے نادیہ کو اس لڑکے کے ساتھ سٹور میں دیکھا ہے۔۔۔ پھر بھی آپ بیٹی کی طرفداری کررہی ہیں۔۔۔۔”
چچی بولنے لگیں
“اس لڑکے کے ساتھ مل کے اس نے ہی پھنسایا ہے میری بیٹی کو۔۔۔۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئیں
“واہ۔۔۔! اس لڑکے نے زور زبردستی نادیہ کو سٹور میں بند کردیا۔۔۔۔؟ کون مان سکتا ہے اس بات کو۔۔۔؟”
جھوٹی تائی نے انکے سامنے جا کے کھڑی ہوئیں
“کل تک یہ لڑکی چپ تھی ۔۔۔کسی سے کچھ نہیں کہہ رہی تھی۔۔۔ آج ایکدم سے اسکی زبان چلنے لگی ہے۔۔۔ آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتا۔۔۔ یہ اسکا رچایا ہوا کھیل ہے”
بڑی تائی کسی صورت اس حقیقت کو نہیں ماننا چاہتی تھیں
سب خاموش تھے۔۔۔
نادیہ باجی سر جھکائے رو رہی تھیں۔۔۔ ایک وقت تھا اس ساری صورت حال میں سے میں گزر رہی تھی۔۔۔ پر آج بازی پلٹ چکی ہے۔
“جھوٹی ہے یہ ۔۔ یہ اس لڑکے کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔۔۔۔”
بڑی تائی بھاگتی ہوئی میرے پاس آئیں اور دونوں ہاتھوں سے تھپڑ برسانے لگیں۔۔۔ چچی اور تائی نے انھیں روکا
“اس سے پوچھو کوئی گواہ ہے اسکے پاس۔۔۔۔؟”
“جب آج سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو اب کیسی گواہی؟”
“آپ لوگ خود سوچیں۔۔۔ آج اسکے نکاح کی تاریخ پڑنے والی تھی،۔۔۔ آج ہی اسے منہ کالا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔؟”
بڑی تائی ہر ممکن کوشش کررہی تھیں کہ نادیہ باجی اس معاملے سے بچ جائیں۔۔۔
سب نے سر جھکا لیے۔۔۔
وہ جا کے تایا کے پاؤں میں بیٹھ گئیں
“خدا کا واسطہ ہے آپ تو اپنی بیٹی کا یقین کرلیں۔۔۔۔ “
تایا نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا
وہ دادی کے پاس کھڑی ہوگئیں
دادی اسی طرح چارپائی پہ پڑی تھیں۔۔
“امّاں جی۔۔۔! آپ تو ہر وقت اسی گھر میں موجود رہیتی ہیں۔۔۔ آپ ہی کچھ بولیں۔۔۔۔”
“مجھے بس موت دے دو۔۔۔ روز روز کی بدنامی برداشت نہیں ہوتی۔۔۔”
دادی نکاہت سے بولیں
تائی اپنا سر پیٹنے لگیں۔۔۔
انکی یہ حالت مجھے سے دیکھی نہیں جارہی تھی۔۔۔ شائد سبھی مائیں ایسی ہوتی ہیں۔۔۔ اپنی اولاد کے عیب نظرانداز کرتی ہیں۔۔۔ میں چاہتی تھی کے ان پاس جاؤں اور گلے سے لگا لوں۔۔۔ وہ جس تکلیف سے گزر رہی تھیں۔۔ میں بہت اچھی طرح سے اس تکلیف سے واقف تھی۔۔ لیکن اس وقت میں ان کے لیے دشمن تھی۔ جس کی وجہ سے انکی بیٹی پہ الزام لگ رہا تھا۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *