Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04

“دادی۔۔۔ نادیہ باجی کے رشتے کا کیا ہوا۔۔۔؟” میں نے کانپتی آواز میں پوچھ ہی لیا
دادی کی طرف سے جواب تو آیا لیکن خراٹوں کی صورت میں۔۔۔
میں نے بھی کروٹ بدل لی۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جیسے ہی بابا دادی کے کمرے سے نکلے دادی نے میرے نام کی صدا بلند کی۔۔ میں بھاگتی ہوئی انکے پاس پہنچی تو انھوں نے پلنگ کے نیچے پڑا صدیوں پرانا صندوق نکلالنے کا حکم دیا۔۔۔ میں پلنگ کے نیچے گھسی اور وہاں سے بڑی مشکل سے صندوق باہر نکالا۔۔ انھوں نے کمرے کو اندر سے کنڈی لگائی جیسے بیش قیمت خزانہ باہر نکالنے والی تھیں ۔۔ صندوق پہ سالوں کی گرد جمی تھی۔۔ میں نے گرد صاف کی دادی پاس آ کے بیٹھ گئیں۔۔
“چل۔۔ ! تو ادھر کھڑی ہوجا۔۔۔ !” صندوق کھولتے ہوئے انھوں نے مجھے دور جانے کا اشارہ کیا کہیں ایسا نہ ہو کہ انکے قیمتی جواہرات پہ میری نظر پڑ جائے۔۔ خیر میں بھی دور جا کے کھڑی ہوگئی۔۔
کافی دیر انھوں نے صندوق کی جانچ پڑتال کی۔۔ اسکے بعد پیلے رنگ کا ایک سوٹ میری طرف اچھالا۔۔۔ میں انکی طرف حیرانی سے دیکھتی رہی۔۔ صندوق کو دوبارہ بند کرکے وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔ میں نے پھر سے جان لڑا کے وہ صندوق دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا۔۔۔
میں پلنگ کے نیچے سے نکل کے کھڑی ہوگئی۔۔ دادی نے پیلے رنگ کا وہ سوٹ اپنی آنکھوں سے لگایا ہوا تھا۔۔ شائد انکی آنکھیں نم تھیں۔۔
“کیا ہوا دادی۔۔۔ !” میں نے پریشان ہوکے پوچھا
انھوں نے آنسو صاف کیے اور میری طرف دیکھ کے بولیں
“یہ جوڑا۔۔ میری زبیدہ کا ہے۔۔۔ کتنے چاؤ سے اس نے یہ جوڑا بنوایا تھا۔۔ بس ایک ہی بار پہن سکی۔۔۔” وہ پھر رونے لگیں
زبیدہ پھوپھو دادی کی اکلوتی بیٹی تھیں۔۔ عین جوانی میں انکی موت ہوگئی۔۔ دادی اکثر ہی انھیں یاد کر کے روتی تھیں۔۔ انکی حالت دیکھ کے میری آنکھیں بھی نم ہونے لگیں۔۔
“دادی۔۔۔! سنبھالیں خود کو۔۔۔۔” میں انکے پاس جا کے بیٹھ گئی
“اب میری بات دھیان سے سن۔۔۔ !” انھوں نے دوپٹے سے آنسو اور بہتی ناک صاف کی
میں سنجیدہ ہوکے پھر سے کھڑی ہوگئی۔۔
“ابھی تیرے بابا نے بتایا ہے کہ لڑکا اور اسکے باقی خاندان والے کل آرہے ہیں تمہیں دیکھنے۔۔۔ یہ جوڑا میں نے تیرے لیے نکالا ہے۔۔ تھوڑی بہت جو تراش خراش کرنی ہے وہ اپنے حساب سے کرلے۔۔ کل یہی جوڑا پہن کے ان کے سامنے آنا۔۔۔۔ نوکرانیوں کی طرح نہ پھرتی رہنا۔۔۔۔” انھوں نے جوڑا میرے ہاتھ میں تھمایا
“دادی۔۔۔ ! وہ لوگ دیکھ تو گئے تھے۔۔ اور کیا دیکھنا ہے۔۔۔؟” میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
“ہاں۔۔ ! میں نے بھی یہی کہا تمہارے باپ سے۔۔۔ لیکن وہ لوگ کہتے ہیں۔۔ لڑکا اور اسکی خالہ زاد بہینیں۔۔۔ بمع ایک دو اور رشتہ دار۔۔ یہاں آنا چاہتے ہیں۔۔۔ اللہ جانے کیا ہوگیا ہے لوگوں کو۔۔ شرم و حیا۔۔ لاج لجا تو رہ نہیں گئی۔۔۔ اب کیا کریں ہم لڑکی والے ہیں۔۔۔ اب انکی شرط تو ماننی پڑے گی۔۔۔” وہ گہری سوچ میں ڈوب گئیں۔۔
میں سر جھکائے باہر آگئی۔۔
سامنے ہی نادیہ باجی کھڑی تھیں۔۔۔ مجھے دیکھتے ہی بولیں
“اوہ۔۔ مہارانی۔۔۔ زیادہ خوش نہ ہونا ۔۔ جس سے تیری شادی ہورہی اسکی کوئی زیادہ اوقات نہیں ہے۔۔۔ تم نے پھر بھی ایسے ہی جھاڑو پونچھے کا کام کرنا ہے۔۔۔ “
نادیہ باجی کو میں شروع سے ہی ناپسند تھی لیکن اس رشتے کے بعد تو انکی نفرت چار گنا بڑھ گئی تھی۔ آتے جاتے انکے تانے کوسنے سن کے میرا جی جلتا تھا۔ لیکن میں چاپ چاپ انکی باتیں سن لیتی۔۔ رخسانہ میرے اس روّیے پہ جل بھن جاتی کہ میں انھیں کرارا جواب کیوں نہیں دیتی۔۔ لیکن میں اسے سمجھاتی کہ اگر میں نے ایک بھی جواب دیا تو جتنا برا اب ہورہا ہے اس سے کہیں زیادہ برا ہونا شروع ہو جائے گا۔۔
نادیہ باجی ابھی بھی بہت کچھ کہنا چاہتی تھیں۔۔ لیکن دروازے پہ دستک ہونے لگی۔۔ مجھے فرار کا موقع مل گیا اور میں دروازہ کھولنے چلی گئی۔۔۔ سامنے سعدیہ باجی کھڑی تھی۔۔۔ وہ ابھی ابھی ہوسٹل سے گھر آئی تھیں۔۔۔
مجھے دیکھتے ہی انکے چہرے پہ مسکراہٹ سی پھیل گئی۔۔۔
“ارے ۔۔ واہ۔۔۔! میرا استقبال تو ہماری پیاری سی دلہن نے کیا۔۔۔۔ ” انھوں نے اگے بڑھ کے میرا گال تھپتھپایا۔۔۔
سعدیہ باجی کی آواز سن کے تائی اپنی ڈاکٹر بیٹی کے استقبال میں بھاگتی ہوئی وہاں پہنچی۔۔ نادیہ باجی بھی آگئیں۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے سب انکے گرد جمع ہونے لگے۔۔۔ تائی کے حکم سے پہلے ہی میں انکے لیے چائے پانی کا انتظام کرنے کیچن میں چلی گئی۔۔
تائی کے سبھی بچوں میں سے سلجھی ہوئی اور سمجھدار سعدیہ باجی تھیں۔۔ انکا دل سونے کا تھا۔۔ میری سب سے زیادہ اس گھر میں کسی کے ساتھ بنی ہے تو وہ سعدیہ باجی ہی ہیں۔۔ میرے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف کئی بار انھوں نے آواز بلند کی۔۔ اپنی ماں اور بہن یہاں تک کے دادی سے بھی لڑ جاتیں۔۔ لیکن دوسرے شہر انکا میڈیکل کالج میں داخلہ ہوا۔۔ وہ وہاں ہوسٹل میں رہنے لگیں۔۔ اب تو بس کبھی کبھار رات دو راتوں کے لیے آنا ہوتا ہے۔۔ لیکن جب بھی آتی ہیں خاص طور پہ میری خیر خیریت ضرور پوچھتی ہیں۔۔۔
اس بار سعدیہ باجی اطلاع کیے بنا ہی آئیں۔۔۔ ورنہ تو تائی نے دو دن پہلے ہی واویلہ ڈالا ہوتا کہ سعدیہ آرہی اسکے لیے یہ بناؤ ۔۔ وہ بناؤ۔۔۔ میں بے حد خوش تھی کہ وہ آئیں۔۔۔
میں انکے لیے کیچن میں لیموں پانی بنانے لگی۔۔ میری بغل میں اب بھی زبیدہ پھوپھو کا سوٹ موجود تھا۔۔۔ آج رخسانہ کو میری سوتیلی ماں نے بلایا ہوا تھا۔۔ انھوں نے اوپر والے پورشن میں پینٹ کا کام شروع کرایا تھا۔۔ رخسانہ تائی کی اجازت سے انکی مدد کررہی تھی۔ صبح سے میری اس سے بات چیت نہیں پو پائی تھی۔۔ میں نے سب کے لیے لیموں پانی تیار کیا۔۔ اور تائی کے کمرے میں چلی گئی۔۔ سعدیہ باجی سے ملنے میری بہینیں بھی نیچے آگئی تھیں۔۔۔ تائ کے کمرے میں ٹھیک ٹھاک بیٹھک لگی تھی۔۔۔
میں نے سعدیہ باجی کے آگے لیموں پانی کا گلاس پیش کیا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے گلاس ہاتھ میں پکڑا۔۔
“ارے۔۔ ! تم لوگ ہماری دلہن کا خیال نہیں رکھ رہے ہو۔۔۔ دیکھو۔۔ نہ رنگ جل گیا ہے اسکا۔۔۔ اب تو کام سے چھٹی دے دو بیچاری کو۔۔۔ ” انھوں نے سب کے چہروں پہ نظر دوڑائی
لیکن سبھی نے ان کی بات سنی ان سنی کردی۔۔
میں واپس مڑنے لگی تو انھوں نے میری کلائی سے پکڑا۔۔
“رانی۔۔۔ ! یہ کیا بغل میں دبایا ہوا ہے۔۔۔۔؟” انکی نظر سوٹ پہ پڑی
میں نے دادی کی طرف دیکھا۔۔۔ تو وہ جھٹ سے بولیں
“کچھ نہیں۔۔ چھوڑو تم اسے۔۔۔۔ ” ساتھ ہی انھوں نے مجھے باہر جانے کا اشارہ کیا
لیکن سعدیہ باجی نے میری کلائی اور زیادہ مظبوطی سے پکڑ لی۔۔
“دیکھاؤ۔۔۔ دیکھاؤ۔۔۔ ضرور دادی کا کوئی نیا کھیل ہوگا۔۔۔” وہ ہنستے ہوئے بولیں اور جھٹ سے سوٹ میرے ہاتھ سے کھینچا۔۔۔
اس پرانے سوٹ پہ نظر پڑتے ہی انھوں نے دادی کو گھورا
“دادی۔۔۔ ! یہ زبیدہ پھوپھو کا سوٹ ہے نا۔۔۔ ؟” وہ دیکھتے ہی پہچان گئیں
دادی نے سر ہلایا۔۔۔
“آپ نے یہ رانی کو دیا ہے پہننے کے لیے۔۔۔؟” وہ دادی کی رگ رگ سے واقف تھیں
“ہاں۔۔ تو کیا ہوا۔۔۔ صندوق میں پڑا پڑا سڑ جاتا۔۔ میں نے دے دیا اسے۔۔۔۔” دادی نے اصل بات گول کردی
“اللہ سے ڈریں دادی۔۔۔۔ ! اب تو رحم کرلیں بیچاری پہ۔۔۔ اسکی شادی ہونے والی ہے۔۔ بجائے اسکے کے آپ اسکے لیے نئے سوٹ تیار کروا کے دیں۔۔۔ یا پرانے چیتھڑوں میں رخصت کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔؟” وہ سچ مچ غصے میں آگئیں۔۔
“اے ہائے۔۔۔۔ یہ سوٹ پرانا تھوڑی ہے۔۔۔ زبیدہ نے ایک ہی بار پہنا تھا۔۔۔” دادی بولیں
“اف میرے خدایا۔۔۔۔ زبیدہ پھوپھو کی وفات کو کم سے کم تیس سال گزر چکے ہیں۔۔۔ ہماری پیدائیش سے بھی پہلے۔۔۔ اور آج بھی آپکو انکا ایک بار پہنا ہوا سوٹ نیا لگ رہا ہے۔۔۔۔ ” سعدیہ باجی نے سر پکڑ لیا۔۔۔
“تو اور کہاں سے لاؤں نئے جوڑے ۔۔۔ کل وہ لوگ آرہے ہیں اسے دیکھنے۔۔۔ اس بڑھیا کے پاس ہے ہی کیا۔۔۔ تیری ماں کو بولا تھا کہ نادیہ کا کوئی نیا پرانا سوٹ دے دو بیچاری کے لیے۔۔ لیکن اس نے تو ہاتھ کھڑے کر دیے۔۔۔ ” دادی تائی کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں
اس سے پہلے کے سعدیہ باجی تائی کو شروع ہوتیں۔۔ وہ بولنا شروع ہوئیں
“کیا سعدی۔۔۔ ! آتے ہی تو اس لڑکی کے راگ الاپنا شروع ہوگئی ہے۔۔۔ اسکا باپ زندہ سلامت ہے۔۔ کچھ نہ کچھ کرلے گا اپنی بیٹی کے لیے۔۔۔ ہم لوگوں کو فکر کرنے کے ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ چھوڑو تم یہ سب۔۔۔”
تائی کی کہ باپ والی بات میری بہنوں کا ذرا بھی پسند نہ آئی اور وہ دونوں مجھے گھورتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔۔۔
“امّی۔۔۔ ! آپ تو خدا کا خوف کریں۔۔ بیٹیوں والی ہیں۔۔ اس لڑکی نے پوری زندگی آپ لوگوں کی خدمت کی ہے۔۔۔ آج جب اس کی نئی زندگی شروع ہورہی تو یہ سب کررہے ہیں آپ۔۔۔۔ افسوس ہوتا ہے مجھے ۔۔۔” سعدیہ باجی کھڑی ہوگئیں۔۔۔
دادی نے مجھے گھورا اور میں جلدی سے سوٹ اٹھاکے وہاں سے نکل گئی۔۔۔
رخسانہ سڑھیاں اتر رہی تھی۔۔ مجھے کیچن کی طر ف جاتا دیکھ کے وہ بھی میرے پیچھے آگئی۔۔۔
“رانی۔۔۔ ! رک۔۔۔۔!”
میں اسکی آواز پہ پیچھے مڑی۔۔۔
اس نے جھٹ سے سوٹ میرے ہاتھ سے لیا۔۔۔
“یہ کس کا ہے۔۔۔؟” اس نے سوٹ پہ اوپر سے نیچے تک نظر دوڑائی
“ارے۔۔ چھوڑو۔۔ پہلے ہی اس سوٹ کے چکر میں سعدیہ باجی کا موڈ خراب ہے۔۔۔” میں نے سرگوشی کی
“سعدیہ آئی ہے۔۔۔۔ !” وہ خوش ہو کے بولی
میں نے اثبات میں سر ہلایا
“اسکا مطلب تمہارا نصیب جاگ گیا۔۔۔ اب تو انصاف ہو کے ہی رہے گا۔۔۔” وہ بھی سعدیہ باجی کے فطرت سے اچھی طرح سے واقف تھی۔۔
اوپر سے رخسانہ کے نام کی پکار آئی۔۔ وہ بیچاری پھر سے اوپر چلی گئی۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭
شام تک میں سارے کاموں سے فارغ ہو چکی تھی۔۔ اچانک ہی دادی کی بات یاد آئی کے سوٹ کی فٹنگ اپنے حساب سے دیکھ لوں۔۔۔ رات کے دس بجے چکے تھے۔۔ تایا اور بابا ٹی وی پہ خبریں دیکھنے میں مشغول تھے۔۔ دادی اپنے کمرے میں تھیں اور تائی بیٹیوں کے ساتھ تھیں۔۔ میں دادی کے کمرے سے اپنی سلائی مشین نکالنے لگی تو وہ کروٹ لے کے اٹھ بیٹھیں۔۔
“کیا شور ڈالا ہوا ہے۔۔۔؟”
“کچھ نہیں دادی۔۔ سلائی مشین نکال رہی تھی۔۔ ” میں نے آہستگی سے جواب دیا
“ائے۔۔۔ ہائے۔۔ رات کے اس پہر تو سلائی مشین سے میری نیند خراب کرے گی۔۔۔؟” وہ جھلا کے بولیں
“نہیں۔۔ میں پچھلے صحن میں جارہی ہوں۔۔۔ آپکو مشین کا شور نہیں سنائی دے گا۔۔۔” میں نے انھیں تسلی دی
“اچھا ۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ ” وہ پھرسے لیٹ گئیں۔۔۔
میں نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور مشین اٹھا کے باہر لے آئی۔۔۔ سعدیہ باجی صحن میں کسی سے فون پہ بات کررہی تھیں۔۔ اس سوچ پہ میں چوروں کی طرح پاؤں پہ پاؤں رکھتے وہاں سے کھسنے لگی کہ اگر انھوں نے دیکھ لیا تو پھر سے نیا ہنگامہ شروع ہو جائے گا۔۔۔
پچھلے صحن میں ایک ہی لائٹ تھی۔۔ مدہم روشنی میں سوٹ کی کٹائی اور سلائی بہت مشکل تھی۔۔ لیکن میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔ میں نے اللہ کا نام لیا اور شروع ہوگئی۔۔۔
جانے کب سعدیہ باجی وہاں پہنچ گئیں۔۔
“یہ تم کیا کررہی ہو اندھیرے میں۔۔۔۔” انکی آواز پہ میں نے سلائی مشین روک دی
“وہ۔۔۔ سوٹ۔۔۔ کی فٹنگ کررہی تھی۔۔۔” میری آواز لرزنے لگی۔۔۔
“اوہ خدایا۔۔۔۔ !” انھوں نے میری کلائی سے پکڑا۔ اور کھنچتے ہوئے اندر لے آئیں
تایا اور بابا اب بھی خبرنامہ دیکھ رہے تھے۔۔ سعدیہ باجی غصے سے تلملاتی مجھے انکے سامنے لے گئیں۔۔ وہ دونوں ہمیں دیکھ کے چونکے
“اس لڑکی کو پہچانتے ہیں ۔۔۔؟ کون ہے یہ۔۔۔۔؟” وہ چلاتے ہوئے بولیں
ان دونوں کے چہرے کے تیور بدلے۔۔۔ تائی بھی صحن میں کہیں تھیں وہ بھی اندر آگئیں
“یہ کیا بدتمیزی ہے سعدیہ۔۔۔ باپ اور چچا سے ایسے کون بات کرتا ہے۔۔۔” وہ غرائیں
“امّی۔۔ خدا کا واسطہ ہے آپ اس معاملے سے دور رہیں۔۔۔” وہ شدید غصے میں تھیں
“چچا۔۔۔ ! یہ بیٹی ہے آپکی۔۔۔۔ آپکا خون۔۔۔۔ اس پہ ترس نہیں آتا ۔۔۔۔؟” وہ بابا سے مخاطب تھیں
انھوں نے سر جھکا لیا۔۔۔۔
“آپ نے سب سے چھپ کے دوسری شادی کی۔۔ اسے جنم دیا۔۔۔ یہاں لے ۔۔ ایسی زندگی دینی تھی تو مار کیوں نہیں دیا۔۔۔ اسے بھی اسکی ماں کے ساتھ دفن کر آتے۔۔۔ کم از کم آج یہ یہاں اس حال میں تو نہ ہوتی۔۔۔۔”
“سعدیہ۔۔! اپنی بکواس بند کرو۔۔۔ چار جماعتیں پڑھ لیں تو بڑوں کی عزت کرنا بھول گئی ہو” تایا غصے میں کھڑے ہوگئے۔۔۔
“بابا۔۔۔ ! پلیز۔۔۔ بس کردیں آپ۔۔۔ پوری زندگی آنکھوں پہ پٹی باندھ کے گزاری آپ لوگوں نے۔۔۔ لیکن اب نہیں۔۔ انسان ہے یہ جانور نہیں ہے۔۔۔۔ اتنی سی تھی۔۔۔ جب یہاں آئی تھی۔۔ جب ہم بہینیں پلنگ توڑتی رہیتی تھیں تو یہ ہمارے جوتے صاف کررہی ہوتی ۔۔۔۔ اب اسکی شادی ہونے والی ہے۔۔۔ اب تو تھوڑا رحم کریں۔۔۔۔”
سعدیہ باجی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔
“چچا۔۔ ! آپ کی منشا سے یہ شادی ہورہی ہے۔۔۔ خدا کے لیے اب اسے بیٹی کا حق دے دیں۔۔۔ چند دن کے لیے سہی۔۔۔ اتنا تو یاد رکھے گی کہ کوئی باپ تھا اسکا۔۔۔۔ آپ کے سینے میں جو پتھر ہے اب تک اسے پگھل جانا چاہیے تھا۔۔۔” وہ بولتی رہیں
“سعدی۔۔۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا تم اپنی بکواس بند کرو ایسا نہ ہو میرا ہاتھ اٹھ جائے۔۔۔” تایا پھر سے جوش میں آگئے
“ٹھیک ہے۔۔ میں اپنی بکواس بند کرتی ہوں۔۔۔ امّی۔۔۔ رخسانہ کتنی تنخواہ لیتی ہے آپ سے۔۔؟” وہ تائی کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں
تائی نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔
“پانچ ہزار۔۔۔ چھ ہزار۔۔۔۔ اتنے تو آپ اسے دیتی ہوں گی نا۔۔۔۔ ؟ “
وہ اب بھی خاموش تھیں
“یہ جب سے اس گھر میں آئی ہے۔۔تب سے لے کے اب تک کا جو حساب بنتا ہے۔۔ وہ سارے پیسے آپ اسے دیں گی۔۔۔۔ اگر اسے اس گھر سے بیٹی کا حق نہیں مل سکتا تو نوکرانی کا حق اسے میں دلوا کے رہوں گی۔۔۔ ” وہ گرج کو بولیں
ان کی اس بات پہ بابا وہاں سے اٹھ کے چلے گئے۔۔۔ تایا بھی انکے پیچھے غصے سے تلملاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔ تائی نے بیٹی کو گھورا ۔۔۔
نہ چاہتے ہوئے آج میں اپنی سسکیاں روک نہیں پائی۔۔۔ جس حقیقت کو میں آج تک نظر انداز کرتی آرہی تھی۔۔ سعدیہ باجی نےایک آئینہ نا صرف میرے سامنے بلکہ میرے باپ کے سامنے کھڑا کردیا۔۔۔
انھوں نے مجھے گلے سے لگایا۔۔۔ اور میری حالت زار پہ پھوٹ پھوٹ کے روئیں۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح میں کیچن میں ناشتہ بنانے کے لیے پہنچی تو تائی پہلے سے وہاں موجود تھیں۔۔ آنکھوں کے اشارے سے انھوں نے مجھے بتا دیا کہ انھیں کیچن میں میری ضروت نہیں ہے۔۔۔ میں خاموشی سے باہر نکل آئی۔۔ میں ادھر ادھر جھاڑو ڈھونڈنے لگی کہ صحن کی صفائی کرلیتی ہوں۔۔۔ اتنے میں سعدیہ باجی برآمدے میں چلتی ہوئی میرے پاس آئیں۔۔۔
“رانی۔۔۔ ! یہ لو۔۔۔” انھوں نے ایک شاپر میری طرف بڑھایا
میں نے سوالیہ نظروں سے انکی طرف دیکھا۔۔۔
“کھول کے دیکھو کیا ہے۔۔۔؟” وہ مسکرائیں
میں نے شاپر اکے اندر جھانکا تو اس میں ایک نیا سوٹ تھا۔۔
میری آنکھوں میں حیرانی اتر آئی۔۔۔ وہ میرا کندھا تھپتھپناے لگیں۔۔۔
اتنے میں رخسانہ بھی آگئی۔۔۔
“سنو۔۔ ! رخسانہ۔۔۔ آج رانی گھر کا کوئی کام نہیں کرے گی۔۔۔ اپنے اور اپنی سہیلی کے سارے کام تم خود دیکھو گی اور مہمانوں کے آنے سے پہلے اسے تیار کرنےکی ذمہ داری بھی تمہاری ہے۔۔۔ ” انھوں نے رخسانہ کو سمجھایا
“باجی۔۔! آپ بے فکر ہوجائیں۔۔۔ ” رخسانہ مسکراتے ہوئے بولی
ان لوگوں نے دوپہر کے کھانے پہ آنا تھا۔۔۔ اس بار تائی ان لوگوں کے آنے پہ زیادہ خوش نہیں تھیں اس لیے کھانے پینے کے سارے لوازمات رخسانہ کے سر پہ تھے۔۔
دادی صبح سے ہی اپنی پرانی جاننے والی کے گھر گئی ہوئی تھیں۔۔ نادیہ باجی ہمیشہ کی طرح اپنے کمرے میں گھسی تھیں۔۔ البتہ سعدیہ باجی بار بار میرے پاس آکے سمجھا رہی تھیں کے میں ان لوگوں کے سامنے کیسے اٹھوں کیسے بیٹھوں۔۔۔ رخسانہ نے مطلع کیا کہ مہمانوں کے آنے میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے۔۔۔ اس لیے میں جلدی سے تیار ہوجاؤں۔۔۔
میں نہا دھو کر دادی کے کمرے میں آئی اور سعدیہ باجی کا دیا ہوا سوٹ شاپر سے نکالا۔۔
گلابی رنگ کا فراک جس کے گلے ہلکی سہ کڑاھی تھی۔۔۔ گلابی رنگ کی چنری اور سفید رنگ کا چوڑی دار پاجامہ۔۔۔
میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ میں ایسا ہی سوٹ پہنوں۔۔۔ میں نے جلدی نیا لباس پہنا اور سعدیہ باجی کے کہنے کے مطابق کاجل آنکھوں میں لگایا۔۔ اور ہمیشہ کی طرح بال باندھ لیے۔۔۔ اتنے میں سعدیہ باجی آگئیں۔۔ مجھے دیکھ کے مسکرائیں اور ایک جھٹکے سے میرے بال کھول دیے۔۔۔۔
“اب ٹھیک ہے۔۔۔۔ ” مجھے دیکھتے ہوئے بولیں
اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئی۔۔۔ میں جانے لگی تو وہ بولیں تم مت جاؤ ہو سکتا ہے مہمان آئے ہوں۔۔۔ لیکن میں نے انھیں تسلی دی کہ دادی آئی ہوں گی۔۔۔ رخسانہ کیچن میں ہے اس لیے مجھے جانے دیں۔۔۔
میں نے سر جھکا کے دروازہ کھولا۔۔۔ میری نظر چمچماتے مرادنہ جوتوں پہ پڑی۔۔۔ پھر جیسے جیسے نظر اوپر اٹھتی گئی۔۔ میری دھڑکنیں بے قابو ہونے لگیں۔۔ ہاتھ پسینے سے بھیگنے لگے۔۔۔۔
دراز قد نو جوان کی چوڑی چھاتی تک پہنچ کے میری نظریں پھر سے جھک گئیں اور میں خوفزدہ ہوکے پیچھے مڑی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *