Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21
“شادی کے بعد عورت مرد کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔۔۔ یہی ہمارے معاشرے کا قانون ہے اور یہی ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے۔۔۔ جب میاں بیوی دکھ سکھ کے ساتھی ہیں تو ذمہ داریوں میں لکیریں کیوں حائل ہیں۔۔۔؟ ضروت پڑنے پہ اپنے ساتھی کا بوجھ کندھوں پہ اٹھانا ساتھ ہے یا پھر خود کو نااہل ثابت کرکے بیچ راستے میں ہی چھوڑ دینا؟
اب یہ کہانی اس موڑ پہ آچکی ہے جہاں میں اسے لکھنے کا مقصد بیان کرنا چاہتی ہوں۔۔
سالوں پہلے کا قصہ ہے۔۔۔ جس میں ایک اٹھارہ بیس سال کی ایک لڑکی کو اسکے گھر والوں نے اپنے شوہر سے اس لیے دور کردیا کیوں کہ وہ بسترمرگ پہ تھا۔۔۔ لڑکی کم عمر ہے۔۔ یہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی۔۔ لڑکی کے گھر والوں کے پاس ایک واجب عزر تھا۔۔۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پہ حقیقت تھی کہ مرنے والے اس آدمی کو اپنے آخری دنوں میں بیوی کی اشد ضرورت تھی۔۔ جو اسکا خیال رکھ سکے۔۔۔ لیکن یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آئی۔۔۔ چند دن بعد لڑکے کا وقت پورا ہوا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔۔۔ لڑکی اپنے مرحوم شوہر کی خشک قبر پہ فاتحہ پڑھ کے پھر سے اپنی زندگی جینے لگی۔۔۔ بظاہر یہ کہانی ختم ہوگئی۔۔۔
سالوں تک اس کہانی کا کہیں ذکر نہیں ہوا۔۔۔ پر میں نے جب بھی اس بارے میں سوچا تو آبدیدہ ہوگئی۔۔ جب میاں بیوی صرف سکھ کے ساتھی ہیں تو دکھ کا ساتھی کون ہوگا۔۔۔۔؟ عورت کمزور ہے مرد کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی تو وہ بیوی ۔۔ یا ماں کہلانے لائق بھی نہیں ہے۔۔۔
“سرخ جوڑا”
میں ہر اس عورت کے نام کرتی ہوں جو ضرورت پڑنے پہ مرد بن سکے ۔۔۔ اس ازدواجی ذمہ داری کو اٹھا سکے۔۔ جو صرف چار دیواری تک محیط نہ ہو۔۔۔۔ بلکہ ایک ایسا ساتھ ہو۔۔۔ جسے پانے کے لیے ہر مرد خواہش مند ہو۔۔۔۔ ہر شوہر فخر سے کہہ سکے یہ میری “بیوی” ہے”
“نہیں۔۔۔! میں ارسل کو اس حال میں چھوڑ کے نہیں جا سکتی۔۔۔۔”
میں پہلی بار بے خوف ہوکے سینہ تانے بولی
بابا اور دادی حیران ہو کے مجھے ایسے دیکھنے لگے جیسے انھیں اپنے کانوں پہ یقین نہ آیا ہو۔۔۔
“کیا۔۔۔۔؟ تم ہوش میں تو ہو؟”
دادی نے گھورا
“جی دادی میں اپنے پورے ہوش و حواس میں ہوں”
میں نے جواب دیا
“سن رہے ہو۔۔۔ بیٹی کی باتیں۔۔؟”
دادی بابا سے مخاطب ہوئیں جو ابھی تک اسی کشمکش میں تھے کہ میں انکے سامنے بول رہی ہوں
“گھر چلو۔۔۔!”
بابا بولے
“نہیں بابا۔۔۔! میں ارسل کو چھوڑ کے کہیں نہیں جاؤں گی۔۔”
میں نے سر جھکا کے جواب دیا
“لڑکی۔۔! تم کسی غلط فہمی میں ہو کہ وہ ٹھیک ہوجائے گا۔۔ حالت دیکھی ہے اسکی۔۔۔ دو چار دن کی بات ہے بس۔۔۔”
دادی میرے بالکل پاس آگئیں
“زندگی اور موت کی خبر صرف اس ذات کو ہے۔۔۔۔ “
“اسکے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔۔۔”
“پر جب تک اسکی سانسیں چل رہی ہیں تب تک میں اسکے نکاح میں ہوں۔۔۔ “
“دو ہی دن میں تم اتنی بڑی ہوگئی ہو۔۔۔ میرے ساتھ زبان چلا رہی ہو۔۔۔۔”
دادی غصے میں آگئیں
“دادی۔۔ ! آپ نے رخصتی کے وقت مجھ سے کہا تھا کہ اب میں کسی اور کی امانت ہوں اس لیے آپ مجھے مزید اپنے گھر میں نہیں بٹھا سکتیں۔۔”
“مجھے کیا پتا تھا کہ تیری بد نصیبی کے کالے بادل زندگی بھر ہمارے سروں پہ منڈلاتے رہیں گے۔۔۔”
“میں یہ کالا نصیب بدلنا چاہتی ہوں۔۔۔۔”
“تجھے یہ لوگ اپنے ساتھ کبھی نہیں رکھیں گے۔۔۔۔”
“مجھے کسی اور سے کوئی سروکار نہیں ہے۔۔۔۔ میں ارسل کے ساتھ رہوں گی۔۔۔”
“واہ۔۔۔! اس اسپتال میں رہو گی۔۔۔۔”
“ہاں ۔۔۔ جب تک خدا میرا نصیب نہ بدل دے۔۔ میں ارسل کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔”
“تْو چپ کرکے اسکی بکواس سن رہا ہے۔۔۔ کچھ کہتا کیوں نہیں۔۔۔؟”
دادی بابا سے بولیں
“بہت ہوگیا یہ سب۔۔ تم نے ایک بار یہاں آنے کی ضد کی تھی میں نے مان لی۔۔ لیکن اب اور نہیں۔۔۔ اس طرح ایک نیم مردہ انسان کے ساتھ میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔”
بابا کی آنکھوں میں غصہ تھا
“اس نیم مردہ انسان کی بیوی ہوں میں۔۔۔ اور میں نے یہی سنا ہے کہ میاں بیوی دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں۔۔۔۔”
“باتیں ہیں یہ سب۔۔۔۔ تم لڑکی ہو۔۔ اتنا بڑا بوجھ اٹھانا تمہارے بس کا کام نہیں ہے”
“میں سمجھ سکتی ہوں کہ یہ بات آپ کے لیے بالکل بے مطلب ہے۔۔۔۔ لیکن میں اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔۔۔”
“تم میرے صبر کا امتحان لے رہی ہو۔۔۔۔”
“جب تک میں صرف آپکی بیٹی تھی تب تک ہر حکم پہ سر جھکایا۔۔ لیکن میں ایک ذمہ دار بیوی ہوں۔۔۔ جو اپنے شوہر کو مرتا ہوا نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔۔ میں نے اپنی ماں کو دیکھا ہے اکیلے سسکتے ہوئے۔۔۔ تڑپتے ہوئے۔۔۔ جب آپ انھیں مرنے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔۔۔۔”
میری اس بات پہ بابا کا سر جھک گیا۔۔ لیکن دادی کی برداشت جواب دے گئی۔۔۔ انھوں نے ایک تھپڑ میرے گال پہ رسید کیا۔۔۔
“بد بخت۔۔! باپ سے ایسے زبان لڑا رہی ہو۔۔۔”
“زبان نہیں لڑا رہی ۔۔۔ حقیقت بتا رہی ہوں۔۔۔ جب میری ماں مر رہی تھی تو انکے پاس صرف انجان لوگ تھے۔۔۔ میرا باپ تب آیا جب انکی قبر کی مٹی بھی خشک ہوچکی تھی۔۔۔ میں اپنے باپ کے نقش قدم پہ نہیں چل سکتی۔۔۔”
میری آنکھیں ضرور جھکی ہوئی تھیں پر میں غلط نہیں تھی۔۔۔
“یہ لڑکی پاگل ہو چکی ہے۔۔۔ جلدی اسے گھر لے چلو۔۔۔۔”
دادی نے مجھے کلائی سے دبوچا اورگھسیٹنے لگیں
میں نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا
“اگر تم ہمارے ساتھ نہیں گئی تو میں تم سے سارے تعلق توڑ دوں گا۔۔۔”
بابا بولے
“کس تعلق کی بات کررہیں۔۔۔۔؟ وہی جس میں آپ آنکھیں بند کرکے میرے پاس سے گزر جاتے تھے۔۔۔ اور میں ترستی رہیتی کہ کب آپ نظر بھر کے مجھے دیکھیں گے۔۔۔”
میری آنکھیں چھلک پڑیں
“بکواس بند کر لڑکی۔۔۔۔ تجھے یہ گھر میں لے آیا۔۔۔ عزت دی۔۔ اولاد کا درجہ دیا۔۔۔ اگر وہیں چھوڑ دیتا تو آج تم کس حال میں ہوتی۔۔۔۔؟”
دادی کی آنکھوں سے خون برسنے لگا۔۔
“اگر ایسا ہے تو مجھے وہ حال منظور ہے ۔۔ جہاں میں اپنوں سے دور اپنی ماں کی طرح کسم پرسی کی حالت میں ہوتی۔۔۔ وہ درد برادشت ہوجاتا لیکن یہ درد اس درد سے کہیں بڑا ہے کہ میں اپنے باپ کے گھر میں رہیتے ہوئے بھی انکی شفقت سے محروم ہوں۔۔۔۔”
“اماں۔۔۔! گھر چلیں۔۔۔۔ اس نے اگر برباد ہونے کی ٹھان ہی لی ہے تو کوئی اسے نہیں بچا سکتا۔۔۔”
بابا ایک گہری سانس لے کے بولے
“ایسے کیسے چھوڑ دو گے اسے۔۔۔ اسکے نام کے ساتھ تمہارا جڑا ہے۔۔ جوان امان لڑکی کو اس طرح اسپتال میں رلنے کے لیے چھوڑ جائیں۔۔۔؟”
دادی انکی طرف دیکھ کے بولیں
“یہ اسکا اپنا فیصلہ ہے۔۔ اسکی ماں بھی ایسی ہی ضدی عورت تھی۔۔۔ “
انھوں نے دادی کو جواب دیا
“اگر میں اپنی ماں کی طرح ضدی ہوں تو کوئی بات نہیں۔۔ لیکن میں اپنے باپ کی طرح ذمہ داریوں سے نہیں بھاگ سکتی۔۔۔۔ اور نہ بھاگوں گی۔۔۔”
“یہ لڑکا چند دن کا مہمان ہے۔۔۔ اس کے بعد کہاں جاؤ گی۔۔۔؟”
دادی میرا کندھا ہلا کے بولیں
“زندگی اور موت اس ذات کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ اگر ارسل کا ساتھ میرے ساتھ لکھا ہے تو وہ ضرور ٹھیک ہوگا۔۔۔ اگر نہیں لکھا تو ایک بار پھر میں خود کو اس ذات کے سہارے چھوڑ رہی ہوں۔۔۔”
میں نے جواب دیا
“آج کے بعد نہ تم میری بیٹی ہو۔۔ اور نہ میں تمہارا باپ ہوں۔۔ تم میرے لیے مر گئی میں تمہارے لیے۔۔۔”
بابا نے دادی کا ہاتھ پکڑ کے انھیں پیچھے کیا
“اللہ پاک نے ہم دونوں کا رشتہ ایک ایسے رنگ سے لکھا ہے۔۔ جسے آپ کبھی مٹا سکتے ہیں اور نہ میں۔۔۔ پھر بھی آُپ زبانی طور پہ میرے ساتھ تعلق ختم کررہے ہیں تو میں اسے اپنا نصیب سمجھوں گی۔۔۔ کبھی آپکے دروازے پہ نہیں لوٹوں گی۔۔۔۔”
میں نے پہلی بار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کی۔۔۔
“تمہیں ہم نے چھت کے نیچے رکھا ہے۔۔۔ لیکن یہ دنیا بہت ظالم ہے۔۔ زیادہ دیر تک ٹک نہیں پاؤ گی۔۔۔۔”
دادی پھر سے مڑیں
“یقیناً آپکا تجربہ میری عمر سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔ پر میں اتنا جانتی ہوں۔۔ جن کے ارادے ڈگمگا جائیں وہی مات کھاتے ہیں۔۔۔ میرے ارادے پختہ ہیں۔۔۔”
“چلو امّاں۔۔۔! چھوڑ دو اسے اسکے حال پہ۔۔ “
بابا نے دادی کا ہاتھ تھاما اور وہاں سے جانے لگے۔۔۔
“ایک بار پھر سوچ لو۔۔۔ بکھر جاؤ گی۔۔۔۔”
دادی بولیں
“ایسا ہوا تو پہلی بار نہیں ہوگا۔۔۔۔”
میں نے جواب دیا
وہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔۔۔
میں چلتے چلتے راہداری میں پڑے ایک بینچ پہ آ بیٹھی۔۔۔
“اے میرے اللہ۔۔۔ میں نے جو ایک فیصلہ کیا ہے۔۔ مجھے اس پہ قائم رہنے کی ہمت عطا کرنا۔۔۔”
میں نے دل ہی دل میں دعا کی۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
“تم یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔؟”
عارفہ خالہ کی آواز پہ میں چونکی۔۔
میں نے سر اٹھا کے انکی طرف دیکھا
ان پہ نظر پڑتے ہی میں اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
انکی میں آنکھوں میں سوال تھا
“میں ارسل کے پاس رکنا چاہتی ہوں۔۔۔۔”
میں نے جواب دیا
“کیا۔۔۔ ! یہاں پہ رکنا چاہتی ہو۔۔۔؟”
شائد وہ ٹھیک طرح سے میری بات سمجھ نہیں پائی تھیں
“جی۔۔۔! یہیں رکنا چاہتی ہوں۔۔۔”
میں نے دھیمی سی آواز میں جواب دیا
“گھر والے کہاں ہیں تمہارے۔۔۔۔؟”
وہ ادھر ادھر دیکھنے لگیں
“چلے گئے۔۔۔۔”
“چلے۔۔ گئے۔۔ کہاں؟ تمہیں یہاں اکیلا چھوڑ کے چلے گئے۔۔۔۔”
“جی ۔۔ ! میں نے ہی کہا تھا انھیں ۔۔۔”
“لڑکی۔۔! تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔۔۔۔؟”
وہ غصے میں آگئیں
میں چپ رہی
“دیکھو۔۔۔! ارسل ہوتا تو ایک اور بات تھی۔۔ پر میں ایسے تمہیں اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتی۔۔۔”
“میں آپ کے گھر میں نہیں۔۔۔ اس اسپتال میں رکوں گی۔۔۔ ارسل کے ساتھ۔۔۔۔”
“اوہو۔۔۔! تمہیں میں کیسے سمجھاؤں۔۔ یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے۔۔۔۔”
“جانتی ہوں۔۔ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔۔۔ پر میں یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔”
وہ میرا چہرہ غور سے دیکھنے لگیں۔۔۔
“میں تمہارے گھر والوں سے بات کرتی ہوں۔۔۔”
وہ اپنا فون نکالنے لگیں۔۔۔
“اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔ وہ میرے ساتھ سارے تعلقات پہلے ہی ختم کر چکے ہیں۔۔۔”
میں نے انھیں بتایا
وہ سر سے پاؤں تک مجھے دیکھنے لگیں۔۔۔
“بیٹھو۔۔۔!”
انھوں نے مجھے بینچ پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا
میں چپ چاپ بیٹھ گئی
“رانی بیٹا۔۔۔! مجھے نہیں پتا تم نے کیا سوچ کے اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہی ہو۔۔۔”
“میں جانتی ہوں۔۔۔ بہت مشکل ہے۔۔ لیکن میں ارسل کو ایسی حالت میں نہیں چھوڑ کے جاسکتی۔۔ مجھے یقین ہے اگر وہ میری جگہ پہ ہوتا تو کبھی چھوڑ کے نہیں جاتا۔۔۔”
میں نے انکی آنکھوں میں دیکھا
انکی آنکھیں نم ہوگئیں
“کل تک میں یہ سمجھ رہی تھی کہ تمہیں ارسل کے مرنے اور جینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ لیکن تمہاری یہ ہمت دیکھ کے مجھے اپنی سوچ پہ افسوس ہورہا ہے”
“میں یہ سب کسی کی سوچ بدلنے کے لیے نہیں کررہی۔۔ اس ساتھ کے لیے کررہی ہوں جسکا میں نے ارسل سے وعدہ کیا تھا۔۔۔۔”
“بیٹا۔۔۔۔ ! میں تمہارے جذبات کی قدر کرتی ہوں۔۔ لیکن یہ ناممکن چیز ہے۔۔۔ ڈاکٹرز اس بات سے ناامید ہیں کہ ارسل کبھی ہوش میں آئے گا۔۔۔ انھوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جب تک اسکی زندگی لکھی ہے وہ ایسے ہی نیند میں رہے گا۔۔۔ تو تم کس بھروسے پہ یہ کرنا چاہتی ہو۔۔۔”
“میں نہیں جانتی ڈاکٹر کیا کہتے ہیں۔۔ مجھے یہ بھی پتا کہ ارسل کبھی ہوش میں آئے گا یا نہیں۔۔۔ میں بس یہ جانتی ہوں۔۔ وہ میری ذمہ داری ہے۔۔۔ جب تک میرا اور اسکا نکاح قائم ہے تب تک میرے اوپر فرض میں اسکے ساتھ رہوں۔۔۔”
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔ معصوم سی دکھنے والی یہ لڑکی اتنی ہمت والی ہوگی۔۔۔۔”
انھوں نے میرا گال تھپتھپایا۔۔۔
میں خاموش ہوگئی
“ہم ارسل کو اس اسپتال میں مزید نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔”
ایک وقفے کے بعد بولیں
“کیوں۔۔۔؟”
میں نے پوچھا
“اس اسپتال کے اخراجات بہت ہیں۔۔۔ اتنے اخراجات ہم نہیں اٹھا سکتے۔۔۔”
وہ اپنی پریشانی بتانے لگیں
میرے پاس بھی کوئی جواب نہیں تھا
“ارسل کی جتنی جمع پونجی میرے پاس ہے اس سے بس چند مہینوں تک ہم اسے یہاں رکھ سکتے ہیں۔۔۔”
وہ بولیں
“کیا اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے۔۔۔؟”
“ہاں ۔۔ علاج ہے۔۔۔ ارسل کے دماغ کا آپریشن ہوگا۔۔۔ “
“تو کیا ہم آپریشن نہیں کرا سکتے۔۔۔؟”
“بیٹا۔۔۔! دماغ کا آپریشن آسان چیز نہیں ہے۔۔ لاکھوں روپے خرچ ہوں گے۔۔ میں مجبور ہوں اتنے اخراجات نہیں اٹھا سکتی۔۔۔۔”
انھوں نے سر جھکایا
“تو اب کیا ہوگا۔۔۔۔؟”
“ہمیں کسی سرکاری اسپتال میں ارسل کو داخل کرانا پڑے گا۔۔۔ جہاں پہ یہ سانس لیتا رہے گا ۔۔ اور ہم کسی معجزے کا انتظار کریں گے۔۔۔۔ یہ ایک حل ہے۔۔ آج میں اسی سلسلے میں ہی اسپتال آئی ہوں۔۔۔ چند ایک دنوں میں ہم ارسل کو یہاں سے لے جائیں گے۔۔۔۔”
وہ میری طرف دیکھ کے بولیں
“نہیں۔۔۔ ارسل یہیں رہے گا۔۔۔ اسی اسپتال میں۔۔۔”
میں بولی
وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگیں
“لیکن کیسے۔۔۔۔۔ ؟ میں بتا چکی ہوں۔۔۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ صوبیہ کے ابا جی نے بھی ہاتھ کھڑے کردیے ہیں۔۔۔۔”
“اس اسپتال کے سارے اخراجات میں اٹھاؤں گی۔۔۔ بس آپکا ساتھ چاہیے۔۔۔۔”
میں پر عزم تھی
“کیسے۔۔ بیٹا۔۔۔ ! تم اتنے سارے پیسے کہاں سے لاؤ گی۔۔۔؟”
“میں یہ تو نہیں جانتی کہ میں اتنے پیسے کہاں سے لاؤں گی۔۔ لیکن اب میری زندگی کا مقصد یہی ہے کہ ارسل کا آپریشن ہو اور وہ بالکل ٹھیک ہو جائے۔۔۔۔”
میں کھڑی ہوگئی۔۔۔ وہ بھی میرے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں
“تم لڑکی ہو۔۔۔ کمزور ہو۔۔ نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔”
“میرے ہاتھ پاؤں تو سلامت ہیں نا۔۔۔۔ راستہ بھی مل جائے گا۔۔۔۔”
میں نے انھیں تسلی دی۔۔
انھوں نے میرا کندھا تھپتھپایا۔۔۔۔
“مجھے فخر ہے۔۔ تم میرے بھانجے کی زندگی میں آئی ہو۔۔۔۔ “
انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔۔۔
“آپ مت روئیں۔۔۔ اس وقت صرف آپ ہی ہیں جو اس کھٹن وقت میں میرا ساتھ دے سکتی ہیں۔۔۔ اگر آپ ہی ٹوٹ گئیں تو میں بھی ٹوٹ جاؤں گی۔۔۔۔”
میں نے انکے آنسو صاف کیے۔۔۔
“کسی ہمت والی عورت نے تمہیں جنم دیا ہے۔۔۔۔”
انھوں نے میرے ماتھے پہ بوسہ دیا
“آپ بس ارسل کے لواحقین میں میرا نام لکھوا دیں۔۔ اور اسپتال سے اجازت لے دیں کہ میں اسکے پاس رک سکتی ہوں۔۔۔۔”
میں مسکرا کے بولی
“نہیں۔۔۔ تم اسپتال نہیں رکو گی۔۔۔ تم گھر چلو گی۔۔۔ ہم باری باری اسپتال آیا کریں گے۔۔۔۔”
وہ کہنے لگیں
“پھر فائدہ اس ساتھ کا جب میں نے اس سے دور ہی رہنا ہے تو۔۔۔۔ مجھے یہیں رکنے دیں۔۔۔ “
میں نے کہا
“اسپتال میں رکنا آسان نہیں ہے۔۔۔ “
“یقیناً مشکل ہوگا۔۔۔ اگر اب اس چھوٹی سی مشکل سے گھبرا گئی تو اتنا بڑا وعدہ کیسے پورا کروں گی۔۔۔؟”
میری بات پہ وہ لا جواب ہو گئیں۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں انھوں نے اسپتال انتظامیہ سے فارم لیے پْر کرکے ارسل کے ساتھ میرا ساتھ پکا کردیا۔۔۔
شام سے رات ہوگئی اور میں نے انھیں گھر جانے کا کہا۔۔۔
وہ ڈھیروں دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔۔۔ اور میں چلتے چلتے ارسل کے پاس آکے کھڑی ہوگئی۔۔۔
میں نے اسکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔۔
“میرا اور تمہارا ساتھ شروع سے ہی کٹھن تھا۔۔۔ پر اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔۔۔ میری کامیابی اور ناکامی اس بات پہ منحصر ہے کہ تمہاری سانسیں میرا کتنا ساتھ دیتی ہیں۔۔ گر تمہارا یہ ہاتھ ایسے ہی میرے ہاتھوں میں رہا تو تمہیں واپس لانے کے لیے میں اس دنیا سے بھی ٹکرا جاؤں گی۔۔۔۔ وہ جو تمہارے نام کا سرخ جوڑا میں نے پہنا تھا۔۔۔ میں اسکا رنگ کبھی پھیکا نہیں پڑنے دوں گی۔۔۔”
اس بار میری آنکھیں روشن تھیں۔۔۔ کسی چکمتے تارے کی طرح۔۔۔ جس میں امید کی شمعیں ٹمٹما رہی تھیں۔۔
