Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13
لیکن اس وقت میں ان کے لیے دشمن تھی۔ جس کی وجہ سے انکی بیٹی پہ الزام لگ رہا تھا۔۔۔۔
سب چپ چاپ کھڑے رہے۔۔۔
کسی کے پاس ایسے لفظ نہیں تھے جس سے انھیں یقین دلایا جا سکے کہ وہ جس چیز کو ماننے سے انکاری ہیں۔۔۔ وہی حقیقت ہے۔۔۔
سوتیلی امّی جو اب تک خاموش تماشائی بنی دور سیڑھیوں میں بیٹھی تھیں۔۔ اپنی جگہ سے اٹھیں اور تائی کے پاس فرش پہ آکے بیٹھ گئیں۔۔
“آپا۔۔۔! آپکو اس لڑکی کی بات پہ یقین نہیں ہے ؟”
“نہیں بالکل نہیں۔۔۔ یہ جھوٹی ہے۔۔۔۔”
تائی نے خونخواز نظروں سے میری طرف دیکھا
“اگر اس بات کی تصدیق کوئی اور شخص کر دے تو آپ اسکی بات مان لیں گی۔۔؟”
انکی بات سن کی تائی حیرانی سے انکی آنکھوں میں دیکھنے لگیں۔۔۔
“آپا۔۔۔ ! میں اس ذات پاک کی قسم کھاتی ہوں جس کے قبضے میں مری جان ہے۔۔۔ جس دن یہ سارا واقعہ ہوا میں سیڑھیوں میں کھڑی تھی۔۔۔ اس دن صرف اس لڑکی نے ہی نہیں میں نے بھی وہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ نادیہ نے واقعی اسے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ بات نکلی تو اسکے لیے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔ میں نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ “
سوتیلی امّی کی اس بات پہ سبھی کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔۔۔
وہ وہاں سے اٹھ کے بابا کے پاس آئیں
“مجھے معاف کردیں۔۔۔ اپنی بیٹیاں ہوتے ہوئے بھی میں آپکی بیٹی کو کنوئیں میں گرتا ہوا دیکھتی رہی۔۔۔ کچھ نہیں بولی۔۔۔ خاموش تماشائی بنی رہی۔۔۔ میری نفرت نے انسانیت چھین لی تھی مجھ سے۔۔۔۔ میں آپکی گنہگار ہوں ۔۔۔ میں چاہتی تو اسے اس تہمت سے بچا سکتی تھی۔۔۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔۔۔۔”
وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگیں۔۔۔
دادی چارپائی سے اٹھ کے بیٹھ گئیں۔۔۔
اب کچھ کہنا سننا باقی نہیں تھا۔۔۔۔ اتنے دنوں سے میں جس بوجھ کے نیچے دفن تھی وہ بوجھ اتر رہا تھا۔۔۔
رخسانہ دور کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔ چچی نے مجھے گلے سے لگا لیا۔۔۔۔ آج پھر سے آنسو کا بند ٹوٹ گیا۔۔۔۔
بڑی تائی نادیہ باجی کے پاس آئیں۔۔۔ اور ایک زور دار تھپڑ رسید کیا۔۔۔۔ وہ دیوار سے جا ٹکرائیں۔۔۔۔
“رخسانہ۔۔۔! نوید کی ماں کو ابھی بلا کے لے آ۔۔۔۔”
تائی بولیں۔۔۔
کچھ ہی پلوں میں نوید کی ماں ہمارے گھر پہ تھیں۔۔۔ اپنے بیٹے کی حالت دیکھ انکے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔۔۔ وہ رونے پیٹنے لگیں۔۔ لیکن حقیقت جاننے کے بعد انکی حالت بھی باقی سب جیسی تھی۔
“نادیہ سے شادی کرو گے۔۔۔؟”
تائی نوید کے سامنے آکے کھڑی ہوئیں
“میں شروع سے ہی نادیہ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ کئی بار کہا بھی کہ میں اپنی ماں کو تمہارے گھر بھیجتا ہوں لیکن یہ مجھے ٹالتی رہی۔۔۔ مجھے تو یہ بھی پتا نہیں تھا کہ اس کا رشتہ کہیں اور ہوگیا ہے۔۔”
وہ بولا
“بہن میرے لڑکے نے جو کچھ کیا اس کے لیے میں ہاتھ جوڑ کے آپ سب سے معافی مانگتی ہوں۔۔۔ اب سب کی بھلائی اسی میں ہے چپ چاپ ان دونوں کی شادی کردیتے ہیں۔۔”
نوید کی امّی کہنے لگیں
“میں کل ہی اسکا نکاح کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ اور اسی ہفتے میں رخصتی۔۔۔ اسکے بعد یہ میرے لیے مر گئی اور میں اسکے لیے۔۔۔۔”
تائی نے اٹل فیصلہ کرلیا۔۔۔۔
نوید کی امّی اسے لے کے وہاں سے چلی گئیں۔۔۔
پورےگھر پہ ہو کا عالم تھا۔۔ سب اپنی اپنی جگہ خاموش کھڑے تھے۔ رخسانہ نے مجھے پانی کا گلاس تھمایا۔۔۔
“میں نا کہتی تھی۔، ضرور انصاف ہوگا۔۔”
اس نے سرگوشی کی۔۔ میری برستی آنکھوں میں اسکے لیے بے انتہا محبت تھی۔
تایا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے میرے پاس آکے کھڑے ہوگئے۔۔۔
“مجھے معاف کردو۔۔۔۔ میری آنکھوں پہ بندھی تھی۔ تمہاری معصومیت میں نے نظرانداز کی۔۔۔ میں گنہگار ہوں تمہارا۔۔۔”
تایا نے دونوں ہاتھ جوڑ لیے
میں نے انکے جوڑے ہوئے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھا اور سر ہلایا۔۔۔۔ میرے پاس بھی لفظ ختم ہوگئے تھے۔۔
ان سب کو وہاں چھوڑ کے میں پچھلے صحن میں آکے بیٹھ گئی۔۔۔ دل میں اتنے دنوں سے جو سمندر قید تھا۔۔ وہ آنکھوں میں سیلاب لے آیا۔۔۔ سب نے مجھے تھوڑی دیر کے لیے اکیلا چھوڑا۔۔۔
عصر کا وقت ہونے لگا۔۔۔
رخسانہ میرے پاس آکے بیٹھ گئی۔۔۔۔ غیر ارادی طور پہ میں نے اپنا سر اسکی گود میں رکھ لیا۔۔۔
“بس کر۔۔۔ بہت ہوا۔۔۔” وہ میرے الجھے ہوئے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔۔۔
“رخسانہ۔۔۔ ! یہ سب کیسے ہوا۔۔۔ میں تو ساری امیدیں چھوڑ چکی تھی۔۔۔”
“پگلی اس ذات کو بھول گئی ہے۔۔۔ اسی نے تیرا انصاف کیا ہے۔۔”
“میں جانتی ہوں نادیہ باجی کی اصلیت سب کے سامنے لانے میں تمہارا ایک اہم کردار ہے بے شک کوئی اور اس حقیقت کو کبھی جان پائے یا نہیں۔۔ لیکن میں جانتی ہوں۔۔۔۔ اب مجھے بتاؤ کے کیسے کیا یہ تم نے۔۔۔”
اس نے ایک گہری سانس لی
“میں نے کچھ دن پہلے تمہیں بتایا تھا کہ شفیق نے کئی بار نادیہ کو نوید کے ساتھ دیکھا ہے۔۔۔ میں اسے نادیہ کی حقیقت پہلے ہی بتا چکی تھی۔۔۔ جب شفیق سے مجھے پتا چلا کہ نادیہ نوید کے ساتھ بھی کھیل کھیل رہی تو میں نے ٹھان لی کہ اسکی حقیقت سے اب پردہ اٹھنا چاہیے۔۔۔۔ اس لیے میرے کہنے پہ شفیق نے نوید سے بات چیت شروع کی۔۔ اور آہستہ نادیہ کی سچائی اسکے سامنے لایا۔۔۔ نوید نادیہ کی اس چال کے بارے میں بالکل ناواقف تھا کہ اس نے اسکا نام استعمال کرکے تمہیں برباد کیا اور اس بات کی بھی اسے خبر نہیں تھی کہ نادیہ کا رشتہ کہیں اور ہورہا ہے۔۔۔ بس اسی چیز کا ہم نے فائدہ اٹھایا۔۔۔۔ نوید کے سوال جواب پہ نادیہ کے کان کھڑے ہوئے اور اس نے اس سے ملنا بند کردیا۔۔۔ کہیں نہ کہیں نادیہ کو اس بات کا بھی اندازہ ہوگیا کہ اس سب کے پیچھے میرا ہاتھ ہے۔۔۔ اس لیے میں نے تمہیں سختی سے منع کیا تھا کہ مجھے اشارے مت کرنا تاکہ نادیہ کا شک تم پہ نا جائے۔۔۔۔”
وہ سارا قصہ سنانے لگی
“لیکن آج ایسے اچانک ۔۔۔۔ یہ سب کیسے ہوا”
میں نے اسکی گود سے سر اٹھایا اور پوچھنے لگی
“شفیق کے کہنے پہ نوید نے نادیہ کو آخری بار ملنے پہ زور دیا۔۔۔ وہ بار بار ٹالتی رہی۔۔ لیکن آج اس نے دھمکی دی کہ اگر وہ سٹور میں اس سے ملنے نہیں آئی تو وہ سب کے سامنے اسکا پول کھول دے گا۔۔۔ نادیہ مجبور ہوگئی کہ آج ہی نکاح کی تاریخ طے ہونی ہے اگر اس سے پہلے اسکی حقیقت سامنے آگئی تو وہ بری طرح پھنس جائے گی۔۔ اس لیے اس نے ملنے کی حامی بھری۔۔۔ “
میں اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔
“میری نظریں صبح سے ہی نادیہ پہ تھیں۔۔۔ جب تمہاری تائی کیچن میں مصروف تھیں اور دادی اپنے کمرے میں تھیں۔۔۔ نادیہ سٹور کی طرف گئی اور نوید کو بلایا۔۔۔ بس میرے لیے اس سے اچھا موقع نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ جیسے یہ دونوں اندر داخل ہوئے میں نے چپکے سے باہر سے کنڈی لگا دی۔۔۔ اب صورت حال ایسی تھی کہ وہ کسی کو مدد کے لیے بھی نہیں بلا سکتے تھے۔۔۔ جب تمہارے چچا اور چھوٹے تایا کا خاندان آیا تو سب نادیہ کو ڈھونڈے لگے۔۔۔۔ بس پھر انھوں نے ڈھونڈ ہی لیا۔۔۔ نادیہ نے بچنے کی بڑی کوشش کی۔۔ پر اس بار قسمت نے اسکا ساتھ نہیں دیا۔۔۔ نوید کو جب تمہارے تایا لوگوں نے پیٹا تو اس نے منہ کھول دیا کہ وہ نادیہ کی مرضی سے ہی اسے ملنے آیا تھا اور ایسا پہلے بھی کئی بار ہوچکا ہے۔ اس نے تمہارا نام بھی لے لیا کہ جب پچھلی بار وہ آیا تھا تم نے بھی اسے دیکھا۔۔۔”
وہ مزے لے لے کر سارا قصہ سنا رہی تھی۔
“کیا یہ سب ارسل نے بھی دیکھا۔۔۔؟ تم کہہ رہی تھی کہ وہ آچکا ہے۔۔۔؟”
مجھے اچانک ہی اسکا خیال آیا
“ارے ہاں وہ تو میں بتانا بھول گئی۔۔ جس وقت ارسل آیا تھا اس وقت ابھی نادیہ والا قصہ شروع نہیں ہوا۔۔ اسے کے جانے کے بعد ہی تو یہ سب ہوا تھا۔۔۔”
“لیکن وہ چلا کیوں گیا۔۔۔ ؟”
“یہ تو میں نہیں جانتی لیکن وہ رکا نہیں ۔۔ اس نے کھڑے پاؤں تمہارے تایا سے کوئی بات کی اور چلا گیا۔۔”
میں سوچ میں پڑ گئی کہ ایسا کیا ہوا ہوگا۔۔ تائی نے تو اتنی تیاریاں کی تھیں آج۔۔۔ پھر اسکے گھر والے کیوں نہیں آئے اور وہ کیا کہہ کے چلا گیا۔۔۔
****
اس واقعے کے بعد بڑی تائی نے اپنے آپ کو کمرے تک محیط کر لیا تھا۔ کسی سے زیادہ بات چیت بھی نہیں کررہی تھیں۔۔۔ نکاح والے دن بھی پورے گھر پہ خاموشی کے بادل چھائے تھے۔ میں تو ڈر کے مارے کسی سے سعدیہ باجی کی آمد کا بھی نہیں پوچھ سکی۔ میں چچی کے ساتھ کاموں میں لگی رہی۔ دوپہر کے بارہ بجے سلمان اور عدنان بھائی گھر آئے ۔ بڑے تایا کے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی تھے۔ نادیہ باجی کے نکاح میں شرکت کے لیے انھیں بلایا گیا۔ دونوں بیٹوں کو دیکھ کر تائی کے چہرے پہ رونق آئی۔۔۔
ظہر کی اذان ہونے لگی۔۔۔
میں کیچن میں تھی۔۔ رخسانہ نے خوشخبری سنائی کہ سعدیہ باجی بھی آگئی ہیں۔۔ میں جلدی جلدی کام ختم کر کے صحن میں پہنچی۔۔ سعدیہ باجی کی نظر مجھے پہ پڑی تو سب کو چھوڑ کے میری طرف آئیں اور گلے سے لگایا۔۔۔
“کیسی ہے میری ننھی پری۔۔۔۔”
ہمیشہ ک طرح پیار برساتے انکے لفظ ۔۔۔ میں نے بامشکل اپنے آنسو روکے۔۔۔
“آپ کیس ہیں۔۔۔؟” میں نے پوچھا
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔”
انھوں نے جواب دیا
“ارے سعدیہ۔۔ تھوڑی ہی دیر میں مہمان آنا شروع ہوجائیں گے۔۔ ذرا ہمارے پاس بھی بیٹھ جا۔۔”
چھوٹی تائی نے دور سے آواز دی
“آئی۔۔ چچی۔۔۔!”
انھوں نے جواب دیا
“سن۔۔۔! تجھ سے ضروری بات کرنی ہے میں نے۔۔۔ رات میں جلدی نہ سو جانا۔۔۔”
سعدیہ باجی بولیں۔۔۔
میں نے سر ہلایا ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
دس بجے تک نکاح کی رسم مکمل ہو گئی۔۔ چند لوگ انکی طرف سے آئے اور ہماری طرف سے صرف خاندان والے ہی تھے۔ تائی نے کسی اور کو مدعو کرنے سے منع کردیا تھا۔ نادیہ باجی نے رو رو کے برا حال کر لیا تھا۔ تائی اور تایا بھی زیادہ خوش نہیں تھے۔ لیکن دوسری جانب نوید بہت خوش نظر آرہا تھا۔ اس سے ایک بات تو ثابت ہوئی تھی کہ وہ نادیہ باجی سے سچے دل سے پیار کرتا تھا۔ دادی اور سعدیہ باجی کو بھی اسی چیز کی تسلی تھی۔
مجھے رخسانہ نے سختی سے منع کیا تھا کہ میں غلطی سے بھی نادیہ باجی کے پاس نہ بھٹکوں۔۔۔ میں خود بھی انکا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ چچی اور چھوٹی تائی اپنے اپنے گھر چلے گئے۔۔ سعدیہ باجی کی بھائیوں کے ساتھ دیر تک بیٹھک چلتی رہی۔ میں اور رخسانہ دیر رات تک برتنوں کی صفائی پہ لگے رہے۔ اسکے بعد رخسانہ اوپر چلی گئی اور میں دادی کے کمرے میں جانے لگی۔۔۔
“اے۔۔!”
سعدیہ باجی نے کمرے سے نکلتے ہوئے مجھے آواز دی
میں رک گئی۔
“سونے جارہی ہو۔۔۔؟”
“میں نے بس ابھی ابھی کام ختم کیا تھا۔۔”
“اچھا۔۔ رکو میں پانچ منٹ میں آتی ہوں۔۔۔”
تھوڑی دیر بعد میں انکے ساتھ پچھلے صحن میں آگئی۔۔
“سعدیہ باجی میں آپ سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔۔۔ اس دن آپ سے غلط بیانی کرکے میں نے ارسل کا نمبر لیا۔۔”
میں شرمندہ تھی
“کوئی بات نہیں۔۔۔ میں سمجھ سکتی ہوں کہ تم کس صورت حال سے دوچار تھی۔۔۔ مجھے تو اسی وقت شک ہوگیا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔۔”
وہ بتانے لگیں
“آپکو کیسے شک ہوا۔۔؟”
میں نے پوچھا
“گڑیا۔۔۔! زندگی میں ایسا پہلی بار ہی شائد ہوا تھا کہ تم آدھی رات کو نادیہ کے کمرے میں تھی اور اسکے فون سے مجھ سے بات کررہی تھی۔۔ میں سمجھ گئی تھی۔۔۔ اسی لیے تو میں نے۔۔۔۔۔”
وہ کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔۔۔
“اسی لیے کیا۔۔۔۔؟”
میں نے پوچھا
“تم سے پہلے میں نے ارسل سے بات کر لی تھی۔۔۔”
“کیا بات۔۔۔۔؟”
“ارے ۔۔! وہ سب چھوڑو۔۔ مجھے تم سے ایک ضروری بات پوچھنی ہے۔۔”
“کیا۔۔۔؟”
میں نے سوالیہ نظروں سے انھیں دیکھا
“تم ارسل کو پسند کرتی ہو۔۔۔؟”
انکی آنکھوں میں سنجیدگی تھی
میں نے سر جھکا لیا۔۔۔
“بتاؤ نا رانی۔۔۔۔!”
انھوں نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا
“اب تو سب ختم ہوگیا ہے۔۔۔ اس بات سے اب کیا فرق پڑے گا”
“کچھ ختم نہیں ہوا۔۔۔۔ سب ویسا ہی ہے۔۔۔”
میں انکا چہرہ پڑھنے لگی
“دیکھو۔۔! ارسل تمہیں پسند کرتا ہے۔۔۔”
انھوں نے انکشاف کیا
“لیکن۔۔۔ میں نے تو فون کرکے انھیں۔۔۔۔”
میری آنکھوں میں حیرانی تھی
“اس دن تم سے بات کرنے کے بعد اس نے مجھے فون کیا اور ساری بات بتائی،۔۔ میں سمجھ گئی تھی کہ نادیہ کا سارا پلان ہے۔۔اس لیے میں نے ارسل کو بھی سمجھا دیا کہ وہ فالحال خاموش رہے۔۔۔ اور جب دادی اور بابا نے نادیہ کے رشتے کی بات کی تو ارسل نے اسی وقت ہی انکار کردیا تھا۔۔ لیکن اسکی خالہ نے اسے مجبور کیا۔۔ اور تو اور کل جب ارسل کے گھر والے نکاح کی تاریخ لینے آنے والے تھے تو اس نے صاف طور پہ منع کردیا۔۔ اور یہی بتانے کے لیے وہ یہاں آیا تھا۔۔۔ “
چلو یہ قصہ بھی بلآخر کھلا کہ وہ لوگ تاریخ لینے کیوں نہیں آئے تھے۔
“مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ نادیہ ایسی گری ہوئی حرکت کرے گی۔۔۔ وہ تو شکر ہے کہ نوید نے شادی کی حامی بھر لی ورنہ تو پوری زندگی تباہ ہو جاتی اسکی۔۔۔۔”
وہ پریشان تھیں۔۔۔
“لیکن نادیہ باجی اس رشتے سے خوش نہیں ہیں۔۔۔۔ “
“جانتی ہوں وہ خوش نہیں ہے لیکن یہ گڑھا اس نے خود اپنے لیے کھودا ہے کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔”
وہ نادیہ باجی سے بہت ناراض تھیں
“اچھا چھوڑو۔۔۔ نادیہ کا جو ہوا سو ہوا۔۔۔ تم میری بات کا جواب دو۔۔۔ تمہیں ارسل پسند ہے تو میں سب سے بات کرتی ہوں۔۔۔ اب جب حقیقت کھل ہی گئی ہے تو تمہیں کس چیز کی سزا ملے۔۔۔”
وہ پوچھنے لگیں۔۔۔
“جیسے آپکو ٹھیک لگے۔۔۔”
میں نے شرماتے ہوئے سر جھکا لیا۔۔۔
“اچھا جی۔۔۔ تو آگ برابر کی لگی ہوئی ہے۔۔۔۔”
وہ چھیڑنے لگیں
میں دبی ہنسی ہنستے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔۔
٭٭٭٭٭
دو دن کی طویل جدو جہد کے بعد سعدیہ باجی گھر والوں کو میرے اور ارسل کے دوبارہ رشتے کے بارے میں قائل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔۔۔ رخسانہ کو جیسے خبر مل تو اس نے مجھے دھر لیا
“اندر ہی اندر یہ سارے کھیل کھیلے جارہے ہیں اور مجھے خبر ہی نہیں ہے۔۔۔”
وہ کیچن میں گھستے ہی بولی
“کس بارے میں بات کررہی ہو۔۔۔”
میں انجان بننے لگی
“واہ۔۔ واہ۔۔۔ صحیح ہے بھئی۔۔۔ کتنی احسان فراموش لڑکی ہو تم۔۔۔۔ محسنوں کو بھی بھول گئی۔۔”
“رخسانہ ۔۔۔! کیسی باتیں کررہی ہو۔۔ میری تو سمجھ سے باہر ہے”
میں بدستور معصومیت کا ڈرامہ کرتی رہی
وہ میرے پاس آئی اور گدگدی کرنے لگی۔۔۔
“رخسانہ۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔ ” میں کیچن میں ادھر ادھر بھاگ رہی تھی
“پہلے پوری بات بتاؤ۔۔۔۔ پھر جان چھوٹے گی۔۔۔”
“اچھا ۔۔ اچھا بتاتی ہوں۔۔۔”
وہ رک گئی
“سعدیہ باجی نے گھر والوں کو راضی کرلیا ہے۔۔ کل وہ لوگ نکاح کی تاریخ لینے آرہے ہیں۔۔۔”
میں بتانے لگی
رخسانہ یہ خبر سن کے بہت خوش ہوئی۔۔۔ اس نے مجھے گلے سے لگایا اور بولی
“میں نہ کہتی تھی سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔ سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔۔۔”
دادی پاؤں پہ پاؤں رکھتی کیچن میں آگئیں
“اچھا۔۔۔ مہارانی تمہاری ٹریفک پھر سے چالو ہوگئی ہے۔۔۔۔”
آتے ہی انھوں نے رخسانہ کی کلاس لگانا شروع کی
ہم دونوں مسکرانے لگے
“تجھے کتنی بار بولا ہے اس لڑکی سے دور رہا کر۔۔۔ پر تم سنتی کہاں ہو۔۔۔”
اب میری باری تھی۔۔۔
“دادی اب تو بخش دیں بے چاری کو۔۔۔ چند دن کی مہمان ہے”
سعدیہ باجی آگئیں
“لو۔۔۔ آگئی باڈی گارڈ۔۔۔۔ اب جتنے دن یہ بی بی یہاں پہ ہے ہم تو چوں چراں بھی نہیں کر سکتے ۔۔۔ پھر سے لائن حاضر کردے گی۔۔۔۔”
دادی منہ بناتے ہوئے وہاں سے چلی گئیں
ہم سب ہنسنے لگے۔۔۔۔
٭٭٭٭٭
جیسے کیسے یہ رات بھی کٹ ہی گئی۔۔۔
صبح ہوئی تو سب سے پہلی خوشخبری مجھے یہ ملی کہ بابا اپنے ہاتھوں سے دادی کو میرا نیا سوٹ پکڑا گئے۔۔۔
“یہ لے۔۔۔ تیرا باپ دے گیا ہے۔۔۔ پہن لینا آج۔۔۔۔”
دادی بولیں
مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس بار بابا سب کے سامنے میرا سوٹ لائے تھے۔۔۔
جہاں میں اس سب سے اتنی خوش تھی۔۔۔ وہیں من میں دور کہیں اداسی بھی تھی۔۔۔
جب ایکدم سے جھولی خوشیوں سے بھرنے لگے تو انسان فطری طور پہ پریشان ہو جاتا ہے۔ میرے ساتھ شائد وہی ہورہا تھا۔۔۔
شام میں پھر سے تیار ہوکے میں دادی کے کمرے میں بیٹھ گئی۔۔
ارسل کی خالہ اور انکی بیٹیاں مجھ سے ملنے آئیں۔۔۔ پہلی بار میرا اس سے ملنے کو دل کررہا تھا۔۔ کاش ایک بار دیکھ لیتی۔۔۔ دل میں خواہش جاگی تھی۔ اس بار تو اسکے سامنے جانے کا کوئی بہانہ بھی نہیں تھا۔۔۔ بس ایک آخری امید تھی۔۔۔
پھر سے میں پردے کی اوٹ میں ہوں۔۔۔ وہ پھر سے مڑے۔۔۔ میں اسکی وہ گہری آنکھیں۔۔۔ اور ہلکی مسکان ۔۔۔ دیکھ پاؤں۔۔۔ اس سے پہلے کے میری نظریں جھکیں ۔۔ وہ پل وہیں رک جائے۔۔۔ جس میں وہ ہو۔۔ اور میں۔۔۔
