Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770
Last updated: 10 July 2026
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15
Surkh Jora by Zoya Hassan
وہ سامنے جو کالے رنگ کا دروازہ نظر آرہا۔۔۔ آخری بار جب میں اس دروازے سے نکلی تھی تو میں کوئی اور تھی۔۔ پر آج کچھ اور ہی بن کے میں اس دروازے میں دوبارہ داخل ہونے آئی ہوں۔۔۔ اس وقت امیدوں کے سارے چراخ بجھا کے نکلی تھی۔۔ لیکن اس بار ساری شمعیں روشن ہیں۔۔۔
ایک منٹ رکیں میں رکشے والے کو کرایہ دے دوں۔۔۔
رکشے والا: باجی تین سو روپے ہوگئے۔۔۔
" تین سو روپے کیسے۔۔۔؟ اسپتال سے یہاں تک ڈھائی سو روپے لیتے ہیں۔۔۔"
رکشے والا: نا ۔۔ باجی پورے تین سو۔۔۔
"آپ حاجی خورشید صاحب کو جانتے ہیں۔۔۔؟
رکشے والا: کون حاجی خورشید۔۔؟
"رکشہ یونین کے چئیرمین۔۔۔!"
رکشے والا: اوہ اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ آپ حاجی صاحب کی بات کررہی ہیں۔۔۔
"ہاں جی۔۔۔ ! حاجی صاحب مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔۔۔ اگر آپ نے یہ لوٹ مار بند نہ کی تو مجھے آپکی شکائیت لگانی پڑے گی"
رکشے والا: مہربانی کریں باجی۔۔۔ ! بال بچے دار ہوں۔۔ سو پچاس تو بچتے ہیں۔۔۔ میں نے کونسا پانچ سو روپے مانگ لیے۔۔۔
"یہ لیں۔۔۔ ڈھائی سو روپے۔۔ اور چاپ رکھ لیں۔۔ میں اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ ایک چکر پہ آپکو کتنے بچتے ہیں۔۔۔"
رکشے والا: سلاماں لیکم۔۔۔ !
دیکھا آپ نے کس طرح لوٹ مار مچائی ہوئی ہے۔۔۔ جب غریب ہی غریب کا گلے کاٹنے پہ اتر آئے تو امیروں سے کیا امید رکھنی۔۔۔
ارے ہاں۔۔۔ امیروں سے یاد آیا۔۔ میں کب تک ایسے گلی میں کھڑی رہوں گی۔۔۔ دروازے پہ دستک دیتی ہوں۔۔۔
(دروازہ کھلا۔۔۔)
سونی: بھابی آپ۔۔۔۔ (دونوں ہاتھ منہ پہ رکھ کے وہ خوشی سے اچھل ہی پڑی تھی)
"ہاں ۔۔۔ میں۔۔۔۔ "(آگے بڑھ کے گلے سے لگایا)
سونی: دیکھو کون آیا ہے۔۔۔۔ ؟ (سونی نے شور مچانا شروع کیا)
دیکھتے ہی دیکھتے کافی لوگ جمع ہوگئے۔۔۔
عارفہ خالہ آگے بڑھیں اور گلے سے لگایا۔۔۔
عارفہ خالہ: میں تین بار تیمور کو فون کر چکی ہوں کہ تمہاری بھابی اسپتال سے نکلی یا نہیں۔۔۔
"میں تو اسپتال میں رکنا چاہ رہی تھی۔۔ لیکن تیمور نے ضد ہی پکڑ لی تھی۔۔۔ "
سب باری باری ملنے لگے۔۔۔ سبھی کے چہروں پہ پھیلی مسکان اس بات کا پتہ دے رہی ہے کہ وہ لوگ کتنے خوش ہیں۔۔۔
آپکو پتا ہے۔۔۔ جب پہلی بار میں اس گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔ تو یہی چہرے تھے۔۔ جو مجھے دیکھ کے اداس تھے۔۔ دکھ میں تھے۔۔۔ میری آمد پہ کوئی بھی خوش نہیں تھا۔۔۔ پر ۔۔۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔۔۔ اور جب حالات سازگار ہوں تو لوگوں کے روّیے بھی سازگار ہو ہی جاتے ہیں۔۔
عارفہ خالہ: ارے۔۔۔ ! اندر بھی آنے دو بھابی کو ۔۔ کب سے بیچاری دروازے پہ کھڑی ہے۔۔۔۔
(سب نے اندر آنے کا راستہ دیا)
عارفہ خالہ: بیٹا۔۔۔ ! تم اپنے کمرے میں چلو ۔۔۔ ترو تازہ ہو۔۔ میں چائے پانی بھجواتی ہوں۔۔۔
"ٹھیک ہے۔۔۔ "
سب ایک ایک کرکے وہاں سے چلے گئے۔۔۔
جسے ابھی یہ میرا کمرہ کہہ رہی ہیں۔۔ دراصل وہ میرا کمرہ کبھی تھا ہی نہیں۔۔۔ اس وقت بھی نہیں جب میں پہلی بار آئی تھی اور اب بھی نہیں۔۔۔ اس کمرے میں جانے کی ہمت ہی نہیں ہورہی۔۔۔ لیکن جانا تو پڑے گا۔۔۔
اچھا۔۔۔ ! ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔ انسان کٹھن سے کٹھن مسافتیں طے کرلیتا ہے لیکن چند قدم کے فاصلے طے کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔۔۔؟
خیر ۔۔! میں بھی کن باتوں میں لگ گئی۔۔۔۔۔۔ وہ سامنے جو ایک کمرہ نظر آرہا ہے۔۔۔ وہ۔۔۔ وہی کمرہ ہے۔۔۔ گھر کی پوری عمارت سے الگ تھلگ۔۔۔ ایک کونے میں۔۔۔
لو۔۔۔ آگئی دروازے تک۔۔۔۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے۔۔۔ دل کررہا ہے بھاگ جاؤں یہاں سے۔۔۔ لیکن۔۔ اب میں بھاگ نہیں سکتی۔۔۔ بیتے ایک لمبے عرصے میں یہی تو سیکھا ہے کہ کبھی بھاگوں گی نہیں۔۔۔ ایک دروازہ ہی تو کھولنا ہے۔۔۔۔
لو کھل گیا دروازہ۔۔۔۔ اب آنکھیں بند کرکے دایاں پاؤں اندر رکھتی ہوں۔۔۔
وہی خوشبو۔۔۔۔ اب بھی اس کمرے میں رچی بسی ہے۔۔۔ لگتا ہی نہیں بیتے وقت کا اس کمرے پہ کوئی اثر پڑا ہو۔۔۔ وہی سناٹا۔۔۔ جو روح کے اندر تک سرائیت کرتا ہے۔۔۔ پہلے پہل تو اس سناٹے میں ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔۔۔ پر یہ سکون جلدی ہی سسکیوں میں بدل جاتا ہے۔۔۔ مجھے تو لگتا ہے۔۔۔ یہ سناٹا ضرور کسی کہ "آہ" ہے۔۔۔ درد سے لرزتی ایک آہ۔۔ جو جسم میں بجلی کی طرح گزرتی ہے۔۔۔
چلو۔۔۔ ایک رات کی ہی بات ہے۔۔ پھر اس کمرے کے سبھی سناٹے اور آہیں۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گے۔۔۔
اب آنکھیں کھول رہی ہوں۔۔۔ اف۔۔۔ ! اندھیرا۔۔۔ کتنا اندھیرا ہے اس کمرے میں۔۔۔ لائٹ آن کرتی ہوں۔۔۔۔
ہاں۔۔۔ کردی آن۔۔۔۔
سب کچھ ویسا ہے۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں بدلا۔۔۔۔۔ اس کمرے میں ابھی بھی اس سفاک سی اجنبیت کا بسیرا ہے۔۔۔۔
اسی لیے تو میں آپ سے کہہ رہی تھی کہ یہ کمرہ میرا نہیں ہے۔۔۔۔ اور ہوگا بھی کیسے۔۔۔ اس میں میرا اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ سب بیگانہ سا ہے۔۔۔ لیکن اب اس کی یہ بیگانگی کچھ ہی پلوں کی مہمان ہے۔۔۔۔
بیگانگی سے یاد آیا۔۔۔۔ عارفہ خالہ نے مجھے ایک خاص تاکید کی تھی کہ کل میں وہی جوڑا پہنوں۔۔۔۔ مجھے یاد ہے جانے سے پہلے اپنی ایک آخری نشانی میں اس کمرے میں چھوڑ کے گئی تھی۔۔۔
جس دن میں جارہی تھی۔۔۔ دادی نے ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی۔۔۔
"اپنا کچھ چھوڑ کے نا جانا۔۔۔۔ جو بھی لے آئی تھی سب باندھ لو۔۔۔ اب تم کبھی یہاں واپس نہیں آؤ گی۔۔۔ لیکن انکی نظروں سے بچتے بچاتے میں اپنی شادی کا "سرخ جوڑا" الماری میں چھوڑ گئی تھی۔۔۔ اس امید پہ نہیں کہ میں پھر لوٹ کے آؤں گی۔۔۔ بلکہ۔۔ میں اس جوڑے کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھی۔۔
میں پھر سے باتوں میں لگ گئی۔۔۔ الماری کھول کے تو دیکھوں۔۔ وہ جوڑا موجود ہے بھی یا کسی نے ہٹا دیا وہاں سے۔۔۔
کھل گئی الماری۔۔۔
اف خدایا۔۔۔۔ ! مرادنہ کپڑوں سے لدی یہ الماری اب بھی ویسے ہی اَن چھوئی سی ہے۔۔۔ ہینگر میں نئے مرادنہ سوٹ اسی طرح سے لٹکے ہوئے ہیں۔۔۔۔
اور میرا جوڑا۔۔۔ کہاں رکھا تھا۔۔۔۔؟ ہاں۔۔۔ یہ ان کپڑوں کے نیچے۔۔۔۔ اوہ۔۔ مل گیا۔۔۔۔ !یہ باہر نکال لیا۔۔۔
اسے چھوتے ہی میرے ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں۔۔۔
میری کتنی ہی یادیں وابستہ ہیں اِس سرخ جوڑے سے۔۔۔۔۔
اس میں جَڑے ہر موتی میں کتنی ہی داستانیں چھپی ہیں۔۔۔ اسکی سلوٹوں میں کتنے ہی ادھورے افسانے اونگھ رہے ہیں۔۔۔
