Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08
“دیکھو رانی۔۔۔ ! یہ رشتہ ویسے بھی ٹوٹ جائے گا۔۔۔ جب میں تمہارا بھانڈہ پھوڑوں گی تو کوئی بھی تم سے شادی کے لیے رضامند نہیں ہوگا۔۔۔ عین ممکن ہے دادی بھی تمہیں یہاں سے چلتا کردیں۔۔ اب یہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔ عزت کے ساتھ رشتہ ختم کرنا ہے یا پھر ذلیل ہوکے ۔۔۔۔؟” انھوں نے پوری طرح مجھے اپنے جال میں جکڑ لیا تھا۔۔۔
میں ایک ایسے اندھیرے کنوئیں میں جا گری تھی جس میں سے نکلنا ناممکن ہو چکا تھا
“میں آپکی بات ماننے کے لیے تیار ہوں۔۔
“گڈ۔۔۔ ! لیکن تم یہ کیسے کرو گی۔۔۔؟” نادیہ باجی بولیں
“دادی سے بات کروں گی۔۔۔ “
“دادی۔۔ مان جائیں گی؟”
“میں نہیں جانتی لیکن میں بات ضرور کروں گی”
“اگر انھوں نے ڈانٹ کے چپ کرادیا تو۔۔۔؟”
میں خود سوچ میں پڑ گئی۔۔۔ دادی بابا کی وجہ سے مجبور ہوکے میری شادی کروا رہی تھیں۔۔ وہ خود کونسا اس رشتے میں خوش ہیں۔۔۔ اب بابا تک میری رسائی ممکن نہیں تھی
“خیر۔۔۔ ! جو بھی کرو۔۔۔ مجھے بس اتنا پتا ہے کہ تم یہ شادی نہیں کررہی ہو۔۔۔” وہ یہ کہہ کہ وہاں سے چلی گئی
خدایا کس چکر میں پھنسا دیا مجھے۔۔۔۔ میں اس مصیبت سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنے لگی۔۔۔
“رانی تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔ کیوں اس لڑکی کی بات مان رہی ہو۔۔۔۔” نادیہ باجی کے جاتے ہی رخسانہ میرے سر پہ سوار ہوگئی
“کیا کرتی پھر۔۔۔ اور کوئی راستہ نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔” میری آنکھوں میں بے بسی تھی
“دیکھو۔۔۔ ! اس جہنم سے نکلنے کا یہی ایک آخری راستہ تھا تمہارے پاس۔۔۔ شادی ہو جاتی تو زندگی سکون میں آجاتی تمہاری۔۔۔ بیوقوفی میں ایسا کوئی فیصلہ مت کرو جس کے لیے زندگی بھر پچھتانا پڑے۔۔۔” وہ سمجھاتے ہوئے بولی
“رخسانہ۔۔ ! اگر میں نے نادیہ باجی کی بات نہیں مانی تو اس سے کہیں زیادہ برا ہوگا میرے ساتھ۔۔ میں جانتی ہوں۔۔ میں کہیں کی نہیں رہوں گی۔۔۔”
“ایسی کیا مجبوری ہے تمہاری۔۔۔ ؟ کیوں اس کنوئیں میں چھلانگ لگا رہی ہو۔۔۔؟” اس نے پوچھا
میں چپ ہوگئی
“بتاؤ۔۔۔ !” اسنے مجھے جھنجھوڑا۔۔۔
میں نے اسے پیچھے کیا اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔
“بہت غلط کررہی ہو تم اپنے ساتھ۔۔۔۔ “
اسکی آواز میرے کانوں میں پڑی۔۔
٭٭٭٭٭٭
کروٹیں بدلتے بدلتے رات گزر گئی۔۔۔ مسجدوں سے اذانیں بلند ہوئیں۔۔ پر میں ابھی تک اسی پھانسی کے پھندے پہ لٹکی تھی۔۔۔ جس میں نہ موت نصیب ہوتی ہے اور نہ حیات ۔۔۔
دادی نماز کے لیے اٹھ بیٹھیں۔۔۔ میں نے بھی بستر کی جان چھوڑی۔۔ اب وقت آگیا تھا کہ میں اس ذات پاک سے کچھ مانگوں۔۔۔
وضو کرکے میں دادی کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہوئی۔۔۔ دل میں اٹھتے طوفان تھمنا شروع ہوئے۔۔۔ سجدوں میں سکون آنے لگا۔۔۔ امید تھی کہ اب کوئی تو رستہ نظر آئے گا۔
“اے ذات پاک ۔۔۔ ! میں تیری خاکسار سی بندی ہوں۔۔۔۔ آج تک تیرے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔۔۔ ہر مصیبت برداشت کی۔۔۔ پر تیرے آگے نہیں گڑ گڑائی۔۔۔ پر اب ہمت ٹوٹ گئی۔۔۔ برادشت ختم ہوگئی۔۔۔ ریزہ ریزہ ہوکے میں بکھر رہی ہوں۔۔۔ اس کڑے امتحان میں میری مدد کر۔۔۔ تہمت کے گندے چھینٹوں سے میرا پاک دامن بچا لے۔۔۔ مجھے راستہ دکھا۔۔۔ مجھ پہ رحم کر۔۔۔۔ “
میں پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔۔
نماز سے فارغ ہوئی تو دادی اپنے بستر پہ بیٹھے۔۔ تسبیح پڑھ رہی تھیں۔۔۔ میں سامنے جا کے کھڑی ہوگئی۔۔۔
انھوں نے مجھے دیکھا تو آنکھ کے اشارے سے پوچھا۔۔۔
“دادی۔۔۔ ! مجھے بھی کوئی وظیفہ بتائیں۔۔۔ “
“استغفار کرو۔۔۔ اس سے بہتر کوئی ورد نہیں ہے۔۔۔۔” انھوں نے لب ہلائے
میں پھر سے جائے نماز پہ بیٹھ گئی اور لگاتار ورد کرنے لگی۔۔۔
دن چڑھ چکا تھا اور میں قدرے مطمئن تھی۔۔۔ ابھی تک اس مصیبت سے جان چھڑنے کا کوئی خاطر خواہ حل میں نے نہیں سوچا تھا لیکن دل کو سکون تھا۔۔۔
ناشتے سے فارغ ہو کے میں نے دادی کو صحن میں چارپائی ڈال دی۔۔ وہ وہاں بیٹھ کے حسب معمول آنے جانے والوں پہ کمنٹری کرتی رہیں۔۔۔ رخسانہ بھی کام پہ آچکی تھی۔۔۔ لیکن وہ مجھ س خفا تھی اس لیے زیادہ بات چیت نہیں ہوئی۔۔۔ البتہ نادیہ باجی دبے اشاروں میں مجھ سے پوچھتی رہیں کہ میں نے رشتہ ختم کرنے کا کیا حل نکالا ہے۔۔۔ میں انھیں یکسر نظرانداز کررہی تھی۔۔۔
کمرے میں جھاڑو پونچھا لگانے کے بعد میں فرنیچر جھاڑنے لگی۔۔ نادیہ باجی بھی اندر آگئیں
“لگتا ہے تم پہ میری باتوں کا اثر نہیں ہوا۔۔۔۔”
میں نے کوئی جواب نہیں دیا
“تمہارا بھانڈہ پھوڑنا پڑے گا۔۔۔۔ ” انھوں نے پھر سے دھمکی لگائی۔۔۔
“آپ ایک کام کیوں نہیں کرتیں۔۔۔ ” میں انکی طرف مڑ کے بولی
“کیا ۔۔۔ !” میرے انداز پہ وہ چونک سی گئیں
” خود ہی دادی اور بابا سے بات کرلیں۔۔۔ میرے حساب سے آپکی بات کا زیادہ مول ہوگا۔۔۔”
“میں۔۔۔ ! میں کیوں بات کروں۔۔۔ ؟”
“تو مجھے بتائیں میں ایسا کیا کروں جو یہ رشتہ ٹوٹ جائے۔۔؟”
“یہ میں نہیں جانتی۔۔۔۔ !”
“ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔؟”
“کیا۔۔۔ ؟”
“آپ ایسا کیوں چاہتی ہیں؟”
“مجھے حیرانی ہے کہ تم یہ سوال کررہی ہو۔۔۔ تمہیں نہیں پتا میں تم سے کتنی نفرت کرتی ہوں۔۔۔”
“ٹھیک ہے۔۔۔ میں سمجھ گئی۔۔۔ آپ مجھ سے نفرت کرتی ہیں۔۔۔ تو اس شادی سے آپکی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے جان چھوٹ جائے گی۔۔۔۔ “
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ کافی سمجھدار ہوگئی ہو رانی۔۔۔۔ ! “
انکے اس انداز پہ میں چپ ہوگئی
“نفرت تو میں تم سے بچپن سے کرتی ہوں۔۔۔ لیکن اب وہ نفرت سو گنا بڑھ گئی ہے۔۔۔ کیونکہ جو رشتہ میرے لیے آیا تھا۔۔۔ وہ تمہاری جھولی میں ڈال دیا گیا۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ تم سکھ کی زندگی جیو۔۔ ” اپنے سفاک عزائم بتاتے ہوئے انکی آواز تک نہیں کانپی۔۔۔
اس بات کے جواب میں میرے پاس صرف خاموشی تھی اور دل میں ترس ۔۔۔ کوئی اتنا سنگ دل کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔
“اب بتاؤ کیا کرنا ہے۔۔۔ ؟ نوید والا قصہ سب کو سنا دوں؟” انکے لہجے میں ایک شیطانیت تھی
“نادیہ باجی۔۔۔! آپ اگر نوید کو پسند کرتی ہیں تو گھر والوں سے اسکے بارے میں بات کریں۔۔۔ ہو سکتا ہے اس سے آپکی شادی ہوجائے۔۔ “
میری اس بات پہ انکے چہرے کے تیور بدلے۔۔
“تمہارا یہ معصوم سا چہرہ اور پیاری سی آواز ایسی باتوں کے لیے نہیں بنے۔۔۔!!” انھوں نے اپنی انگلیوں سے میرے ٹھوڑی ہلائی۔۔۔
میں پیچھے ہٹی
“میری فکر چھوڑو، اپنے بارے میں سوچو۔۔۔۔ میں زیادہ وقت نہیں دوں گی تمہیں۔۔۔۔۔ ” وہ کمرے سے چلی گئیں
انھوں نے غصے میں سہی لیکن ایک راستہ ضرور دکھا دیا تھا۔۔۔
“اس کھنکتی آواز کو کیوں پردوں میں چھپا رکھا ہے۔۔۔”
میرے خیالوں میں کسی کا ایک جملہ گردش کرنے لگا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ دادی کے خراٹے صاف بتا رہے تھے کہ وہ گہری نیند میں ہیں۔۔۔
میں بنا شور کیے کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔ نادیہ باجی کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ وہ جاگ رہی ہوں گی۔۔۔ اور ویسا ہی ہوا۔۔۔ انھوں نے دروازہ کھولا۔۔ مجھے سامنے پا کر چونکیں۔۔۔
“مجھے آپکی مدد چاہیے۔۔۔۔ !” میں فوراً بولی
“کیسی مدد۔۔۔؟؟” انھوں نے تیوری چڑھائی
“مجھے اندر آنے دیں۔۔۔ پھر بتاتی ہوں۔۔۔۔ ” میں نے کہا
“ہاں اب بولو۔۔۔۔ اس وقت کیوں میرے سر پہ سوار ہوگئی ہو۔۔۔۔؟” اندر داخل ہوتے ہی وہ بولیں
“سعدیہ باجی سے میری بات کروائیں۔۔۔۔” میں نے آنے کا مدعا بیان کیا
“واٹ۔۔۔ !! تم سعدیہ کو یہ سب بتانا چاہتی ہو؟” انکی آنکھیں پھیل گئیں
“آپ بے فکر رہیں۔۔ میں سعدیہ باجی کو اس پورے معاملے کی بھنک نہیں پڑنے دوں گی۔۔۔”
دیکھو اگر تم اصل بات نہیں بتاؤ گی تو میں بھی بات نہیں کراؤں گی۔۔۔۔ ” انھوں نے بھنوئیں چڑھائیں”
“اس دن مجھ سے ارسل نے پوچھا تھا کہ اگر مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض ہے تو بتا دوں۔۔ وہ اپنے طور سے یہ رشتہ ختم کردے گا۔۔۔۔ ” میں نے اپنی ملاقات کا بتایا
“اوہ۔۔۔ تو سعدیہ نے تمہیں اس سے ملوایا تھا۔۔۔۔ ” صاف لگ رہا تھا کہ یہ بات انھیں کتنی ناگوار گزری
“جی ملوایا تھا۔۔۔۔ عین ممکن ہے کہ سعدیہ باجی کے پاس انکا یا انکے خاندان والوں میں سے کسی کا نمبر ہو۔۔۔ “
“بہت تیز ہو تم۔۔۔ خود کو اس چکر سے نکلالنے کے لیے تم اسے بیچ میں لا رہی ہو۔۔۔”
“میں کسی کو بیچ میں نہیں لارہی۔۔۔ انھوں نے یہ رشتہ اپنی خالہ کی وجہ سے قبول کیا تھا۔۔ اگر میں منع کردوں گی تو مجھے یقین ہے وہ یہیں پہ یہ بات ختم کردیں گے۔۔۔ ” مجھے تسلی تھی
“اور اگر سعدیہ نے تمہیں نمبر نہیں دیا تو۔۔۔۔ ؟”
“آپ بے فکر رہیں وہ ضرور دے دیں گی۔۔۔”
“ٹھیک ہے ۔۔ میں اس سے تمہاری بات کرا دیتی ہوں لیکن تم نے اگر اسے میرے بارے میں کچھ بھی بتایا تو یاد رکھنا اچھا نہیں ہوگا”
میں نے سر ہلایا۔۔۔
انھوں نے سعدیہ باجی کا نمبر ڈائل کیا اور فون کا لاؤڈ سپیکر آن کردیا۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔ !” سعدیہ باجی نے کال اٹنڈ کی
“سعدیہ باجی۔۔۔ ! میں رانی۔۔۔ “
“اوہ۔۔۔ میری جان کیسی ہو۔۔۔؟ سب خیریت ہے نا۔۔۔؟” وہ خوش ہو کے بولیں
“ہاں سب ٹھیک ہے۔۔۔ آپ کیسی ہیں۔۔۔ ؟”
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ اس وقت کیسے یاد کیا۔۔۔ وہ بھی نادیہ کے فون سے۔۔۔؟” انکے دل میں یہ بات کھٹکی
“بس آپ کی یاد آرہی تھی۔۔ نادیہ باجی نے بات کرا دی۔۔۔۔ “
“سب سمجھتی ہوں۔۔۔ اصل بات بتاؤ۔۔۔ چکر کیا ہے۔۔۔؟” وہ میری باتوں کے جال میں پھنسنے والی نہیں تھیں
“مجھے آپ سے ایک کام ہے چھوٹا سا۔۔۔۔ “
“ہاں ۔۔ ہاں بتاؤ۔۔۔”
“آپکے پاس انکا نمبر ہے۔۔۔۔ ؟”
“انکا۔۔۔۔؟ کن کا۔۔۔؟”
“ارسل۔۔۔۔ ” میری آواز کانپنے لگی
“او۔۔۔۔ او۔۔۔۔۔ اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ ہماری رانی تو اب بڑ ی ہوگئی ہے۔۔۔” وہ چھیڑنے لگیں
میں چپ ہوگئی
“خیر تو ہے نا۔۔۔۔؟”
“جی۔۔۔ ! بس ایسے ہی۔۔۔ میں ایک بار ان سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔”
“کیا بات کرنی ہے پہلے مجھے بتاؤ۔۔۔۔ “
میں پھر سے چپ ہوگئی۔۔۔
“اچھا۔۔۔ اچھا مت بتاؤ۔۔۔ لیکن میرے پاس اسکا نمبر نہیں ہے۔۔۔” وہ بولیں
میری امید ٹوٹ گئی۔۔۔ نادیہ باجی نے بھی تیوری چڑھا لی
“ہاں ۔۔۔ یاد آیا۔۔۔ اسکی خالہ زادسونیا کا نمبر ہوگا شائد۔۔۔۔ مجھے فون میں چیک کرنے دو۔۔۔”
میری جان میں جان آئی۔۔۔۔
“مل گیا نمبر۔۔۔ لیکن ابھی تو رات کے بارہ بج رہے اس وقت بات کرنا مناسب نہیں ہے۔۔۔ میں کل اس سے بات کرکے نمبر لے دوں گی۔۔۔”
میں اور نادیہ باجی خوش ہوگئے۔۔۔ چلو کل تک نمبر تو آجائے گا
“ٹھیک ہے میں کل دوبارہ آپ سے بات کرلوں گی۔۔۔ ” میں نے کہا
“میں نادیہ کے نمبر پہ میسج کردوں گی تم اس سے نمبر لے لینا۔۔۔۔ ” وہ بولیں
“جی۔۔۔ !”
“نادیہ سے میری بات کراؤ۔۔۔” وہ بولیں
لیکن نادیہ باجی ان سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔۔۔
“وہ تو شائد سو گئی ہیں۔۔۔ ” میں نے بہانہ کیا
“اچھا۔۔۔ ! چلو میں کل بات کروں گی۔۔۔” وہ بولیں
میں نے فون بند کیا
“بڑی شاطر ہو تم یار۔۔۔ میں تو سمجھتی تھی اویں پاگل سی ہو۔۔۔۔ ” نادیہ باجی نے ٹونٹ کیا۔۔۔
میں بنا کوئی جواب دیے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک اور رات بھی جیسے کیسے کٹ گئی۔۔۔ صبح ہوتے ہی میرے دل میں بار بار ایک ہی بات آرہی تھی سعدیہ باجی سے جھوٹ بول کے میں نے اچھا نہیں کیا۔۔۔ لیکن میرے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔۔۔
رخسانہ کا روّیہ میرے ساتھ جوں کا توں تھا۔۔۔ لاکھ کوشش کے باوجود وہ میری بات سننے کو راضی نہیں تھی۔ میں اسکی جگہ ہوتی تو ایسے ہی کرتی۔۔ لیکن اسے میں اپنی مجبوری بھی تو نہیں بتا سکتی کہ کونسی تلوار میرے سر پہ لٹک رہی ہے۔۔۔
عصر کے بعد رخسانہ پچھلے صحن کی صفائی میں لگی تھی۔۔ میں اپنے کام ختم کر کےاسکے پاس پہنچی۔۔۔ اس نے مجھے نظرانداز کیا۔۔۔
“رخسانہ۔۔۔ مان جاؤ نا۔۔۔ “
اس نے کوئی جواب نہیں دیا
میں نے اسکے ہاتھ سے جھاڑو کھینچا اور زبردستی اسکے گلے لگ گئی۔۔۔
وہ مجھ پیچھے کرتی رہی لیکن میں نے بھی ٹھان لی کہ اسے منا کے ہی رہوں گی۔۔۔ کافی دیر کی تگ دو کے بعد بلآخر وہ بات کرنے لگی۔۔۔
“رانی۔۔۔ ! ایک میں ہوں رشتہ ٹوٹنے پہ مر رہی ہوں اور ایک تم ہو خدا خدا کرکے قسمت کھلنے والی تھی لیکن تم اتنی بڑی بے وقوفی کررہی ہو۔۔۔”
“میں سمجھتی ہوں۔۔۔ تم کیا کہنا چاہتی ہو۔۔ لیکن تمہیں میری حالت کا بالکل اندازہ نہیں ہے کہ میں کن حالات سے گزر رہی ہوں۔۔۔ میرے لیکن یہ سب آسان نہیں ہے۔۔ لیکن اور کوئی راستہ نہیں بچا۔۔۔”
“چل۔۔۔ ! اگر تو مجھے کچھ سمجھتی ہے تو بتا۔۔۔ آخر ایسی کیا وجہ ہے جو تم نادیہ کے کہنے پہ رشتہ ختم کرنے پہ تل گئی ہو۔۔۔” اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
“میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتی۔۔۔ کیوں کہ اگر وہ بات نکلی تو پھر میری بربادی پکی ہے۔۔۔۔ “
“کیوں پریشان کررہی ہو مجھے۔۔۔ میں کسی اور کو نہیں بتاؤں گی۔۔۔ ایک بار اعتبار کرکے تو دیکھو۔۔۔”
“مجھے اعتبار ہے تم پہ۔۔۔ لیکن اپنی قسمت پہ اعتبار نہیں ہے۔۔۔ اس لیے جو چیز میں نے اپنے اندر دفن کی ہے اسے دفن رہنے دو۔۔۔”
وہ میری آنکھوں میں دیکھنےلگی۔۔۔
میں نے نظریں جھکا لیں،۔۔۔
“کاش ۔۔۔ ! سعدیہ یہاں ہوتی۔۔۔وہ ضرور تمہیں اس مسئلے سے نکال لیتی۔۔” وہ بولی
“کل رات میری بات ہوئی تھی ان سے۔۔۔۔ ” میں نے اسے بتایا
“ہیں۔۔۔ ! سچی۔۔۔ تو تم نے بتایا انھیں نادیہ کے بارے میں۔۔۔” وہ خوش ہو کے بولی
“نہیں۔۔۔ “
“کیوں۔۔۔ پاگل ۔۔ وہ کچھ نہ کچھ ضرور کرتی تمہارے لیے۔۔۔۔ “
“اس وقت کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔۔۔ “
“تم بتاتی تو سہی۔۔۔۔ “
“کیسے بتاتی۔۔۔ نادیہ باجی پاس بیٹھی تھیں۔۔۔ انھی کے فون سے تو میں نے بات کی ہے۔۔۔ “
“کیا۔۔۔ نادیہ نے تمہاری بات کروائی۔۔۔” اسکے ماتھے پہ سوالیہ نشان بن گیا
“ہاں۔۔۔ میں نے ہی کہا تھا انھیں۔۔۔ “
اسے اپنے کانوں پہ یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔
“اب میری پریشانی بڑھ رہی ہے۔۔۔ نادیہ کیوں یہ سب کررہی ہے۔۔ مجھے بتاؤ۔۔۔۔” وہ سچ مچ بہت پریشان ہوگئی
“رانی۔۔۔ !” نادیہ باجی کی آواز میرے کان میں پڑی
خدایا خیر۔۔۔ اب پھر سے انھوں نے اگر مجھے رخسانہ کے ساتھ دیکھ لیا تو ایک نئی مصیبت گلے پڑ جائے گی۔۔۔ میں نے رخسانہ کو وہیں چھوڑا اور خود بھاگتی ہوئی انکے پاس جانے لگی۔۔۔ تب تک وہ پچھلے صحن میں داخل ہو چکی تھیں۔۔۔
“جی۔۔۔ !” میں پاس جا کے بولی
“سعدیہ نے نمبر بھیج دیا ہے۔۔۔ ” ان نظریں موبائل کی سکرین پہ تھیں
میں نے سرہلایا
“ابھی بات کرو گی۔۔۔۔ ؟” وہ پوچھنے لگیں
“جیسے آپ کہیں۔۔۔۔۔ ” میں نے انکی طرف دیکھا
“ابھی کرلو۔۔۔ تا کہ جلدی سے جان چھوٹے تمہاری۔۔۔۔ ” وہ میری آنکھوں میں دیکھ کے بولیں
میں نے سر جھکا لیا۔۔۔
میں نے حامی تو بھر لی تھی کہ اس سے بات کروں گی۔۔۔ لیکن میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے۔۔۔ کیا بات کروں گی۔۔۔ کہاں سے شروع کروں گی۔۔۔ میں اپنے آپ میں الجھ سی گئی۔۔۔
“میں نمبر ڈائل کررہی ہوں۔۔۔ تیار ہوجاؤ۔۔۔۔ “
میری سانسیں رکنے لگیں۔۔۔
“آپ فون سپیکر پہ مت کئجیے گا” میں نے درخواست کی
“کیوں۔۔۔ “
“میں نہیں چاہتی رخسانہ کو پتا چلے۔۔۔ “
رخسانہ کچھ ہی فاصلے پہ صفائی کررہی تھی۔ لیکن اسکا پورا دھیان ہماری طرف تھا
نادیہ باجی کو میری بات میں دم نظر آیا۔۔ اس لیے انھوں نے سپیکر بند کردیا۔۔۔
کال اٹنڈ ہوئی۔۔۔ میں نے فون کان سے لگایا
“ہیلو۔۔۔۔ !” ایک بھاری بھرکم آواز میرے کان میں پڑی۔۔۔
میرے اندر جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔ نادیہ باجی اشارے کررہی تھیں کہ میں بات کروں
“ہیلو۔۔۔ ! کون بات کررہا ہے۔۔۔ ” وہ پھر سے بولا
میں بدستور خاموش رہی
“بات نہیں کرنی تو میں بند کررہا ہوں۔۔۔۔” وہ اکتا کے بولا
“میں۔۔۔ میں بات کررہی ہوں۔۔۔۔ “میں نے بامشکل لب کھولے۔۔۔
“میں کون۔۔۔۔ ! ” وہ میری آواز پہچاننے لگا۔۔۔
میں خاموش ہوگئی
“آپ۔۔۔ رانی۔۔۔ ! بات کررہی ہیں۔۔۔۔ “
اس نے مجھے کیسے پہچان لیا۔۔۔ میری دھڑکنیں تیز ہوئیں۔۔۔
“بتائیں،۔۔۔ نا۔۔۔ ایسی کھنکتی آواز تو صرف انھی کی ہے۔۔۔ ” شائد اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ میں ہوں
“جی۔۔۔ !” میں نے جواب دیا
“زہے نصیب۔۔۔ آپ نے مجھے کیسے یاد کیا” اس نے ایک گہری سانس لی۔۔
اسکی سانس میری روح کے اندر تک سرائیت کرنے لگی
“آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔۔ ” میرا پورا جسم لرز رہا تھا
“جی۔۔ حکم کریں آپ۔۔۔۔ ” وہ بولا
میں پھر سے گونگی ہوگئی۔۔۔
کیسے کہوں۔۔۔ مجھے تم سے نجات چاہیے ۔۔۔ چھوڑ دو مجھے۔۔۔ تمہارا ساتھ میرے نصیب میں ہے ہی نہیں۔۔۔ کیسے کہوں میں کس مشکل میں ہوں۔۔۔ اس مشکل کی وجہ بھی تم ہو اور نجات بھی تم سے ممکن ہے۔۔۔
