Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23

“بھائی۔۔۔۔!”
میں ادھیڑ عمر آددمی کے پاس جا کے کھڑی ہوگئی جو جھک کے اینٹیں اٹھا رہا تھا
“جی باجی۔۔!”
وہ سیدھا کھڑا ہوکے بولا
“مجھے یہاں کوئی کام مل سکتا ہے۔۔۔؟”
وہ سر سے پاؤں تک مجھے دیکھنے لگا
“یہاں تو سارے مرد ہی کام کرتے ہیں۔۔۔ عورتوں والا کوئی کام نہیں ہے یہاں پہ۔۔۔”
“میں سارے کام کرلوں گی۔۔۔”
“اچھا۔۔۔! میں آپکو ٹھیکدار صاحب سے ملواتا ہوں۔۔ ہوسکتا ہے وہ آپکو رکھ لیں”
وہ مجھے ٹھیکدار کے پاس لے گیا جو ایک کرسی پہ بیٹھا تھا اسکے سامنے ایک بینچ پڑا تھا جس پہ کچھ کاغذ بکھرے تھے۔۔
“باجی یہاں کام ڈھونڈنے آئی ہیں۔۔۔”
مزدور نے ٹھیکدار کو بتایا وہ چونک کے میری طرف دیکھنے لگا
“بی بی۔۔! یہاں عورتیں کام نہیں کرتی۔۔۔۔”
اس نے قدرے بے زار ہو کے جواب دیا
“میں جانتی ہوں یہاں صرف مرد ہی مزدوری کرتے ہیں۔۔۔ میں کرلوں گی یہ سب”
میں بولی
“اینٹ پتھر اٹھانا آپکے بس کی بات نہیں ہے۔۔ آپ کہیں اور جا کے کام ڈھونڈ لیں۔۔”
“میں بہت مجبوری کی حالت میں یہاں آئی ہوں۔۔۔ پیسوں کی سخت ضروت ہے۔۔ میں اینٹ پتھر سب اٹھا لوں گی بس ایک بار مجھے کام پہ رکھ لیں۔۔۔”
میں بے بس ہونے لگی
اس نے اپنی جیب سے کچھ نوٹ نکالے اور میری طرف بڑھائے
“یہ لیں۔۔۔ میں بس آپکی اتنی مدد کرسکتا ہوں۔۔۔”
بھیک دے کے اس نے میرے ضمیر کو للکارا
“میں بھکارن نہیں ہوں۔۔۔ آپ یہ پیسے رکھیں اپنے پاس”
میرے تیور بدلے
“بی بی۔۔! یہ بھیک نہیں ہے۔۔ میں تو بس مدد کررہا ہوں آپکی”
“اگر آپ مدد کرنا ہی چاہتے ہیں تو مجھے کام دے دیں۔۔۔آپکی مہربانی ہوگی”
میں نے کہا
آس پاس کام کرنے والے سبھی مزدور جمع ہونے لگے
“میں نے آپ کو پہلے ہی بتایا ہے کہ یہاں پہ عورتوں کے کرنے کا کوئی کام نہیں ہے”
“میں آپ سے عورتوں والا کام مانگ بھی نہیں رہی ہوں۔۔ میں یہ مردوں والا کام کرنا چاہتی ہوں”
“یار۔۔ نذیر ۔۔! تو ہی سمجھا ان کو۔۔۔ میری بات تو انھیں سمجھ نہیں آرہی۔۔۔”
ایک عمر رسیدہ آدمی جس کے سر پہ پگڑی تھی وہ میرے پاس آکے کھڑا ہوا
“بیٹی۔۔! ٹھیکدار صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔ آپ یہاں کام نہیں کر سکتی ہیں۔۔”
“ایک بار موقع تو دیں۔۔ اگر آپکو اپنی مرضی کا کام نہیں ملا تو بے شک مجھے پیسے مت دیجئے گا”
میں گڑگڑانے لگی۔۔
وہاں موجود سبھی مرد مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے میں پاگل ہوں
“آپکو یقین نہیں ہے نا میں بوجھ اٹھا سکتی ہوں۔۔۔۔؟”
میں نے ٹھیکدار کی طرف دیکھا
وہ چپ چاپ مجھے دیکھتا رہا
مجھے جوش آیا۔۔۔
پاس ہی سیمنٹ کی کچھ بوریاں پڑی تھیں میں ایک ایک کرکے بوریاں وہاں سے اٹھا کے دوسری جگہ رکھنے لگی
“یار روکو باجی کو۔۔۔ خوامخواہ ضد کررہی ہیں۔۔۔”
ٹھیکدار نے مزدورں کو اشارہ کیا
میں نے کسی کی نہیں سنی اور اسی طرح بوریاں اٹھاتی رہی۔۔۔
جب ساری بوریاں میں نے رکھ دیں تو بولی
“اب دیکھ لیا آپ نے میں وزن اٹھا سکتی ہوں۔۔۔ بس مجھے کام دے دیں”
“میں نہیں جانتا کونسی ایسی مجبوری ہے جس نے آپکو یہاں لا کے کھڑا کردیا ہے۔۔ آپ کی ہمت اور ضرورت کو دیکھتے ہوئے کام پہ رکھ لیتا ہوں لیکن آپ جسمانی طور پہ کمزور ہیں اور یقیناً کام بھی اسی لحاظ سے کریں گی اس لیے میں باقی مزدوروں کے نسبت آپکو آدھے پیسے دوں گا”
ٹھیکدار بلآخر مان گیا
میرے لیے اتنا ہی بہت تھا کی اس نے مجھے کام پہ رکھ لیا ہے۔ پھر چاہے اجرت آدھی ملے۔۔ میں تیار تھی۔۔۔
“نذیر۔۔! باجی کو چھوٹا موٹا کام دے دو۔۔۔۔”
ٹھیکدار نے عمر رسیدہ آدمی کو اشارہ کیا
“آجاؤ بیٹی۔۔۔!”
انھوں نے مجھے اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔
عمارت کی دوسری منزل تعمیر ہورہی تھی۔۔ سیڑھی چڑھ کے ہم اوپر پہنچے۔۔۔
“یہ اینٹیں جو تر کی ہوئی ہیں۔۔ ایک ایک کرکے مجھے پکڑاتی جاؤ۔۔۔”
وہ بولے۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔”
میں نے جواب دیا
“بیٹی تمہارا نام کیا ہے۔۔۔؟”
انھوں نے پوچھا
“میرا نام رانی ہے۔۔۔”
“ماشاء اللہ۔۔۔۔ میری ایک بیٹی تمہاری عمر کی ہے۔۔ پچھلے مہینے اسکی شادی ہوئی ہے۔۔”
وہ مسکرا کے بولے
شادی کے نام پہ میرے دل میں طوفان اٹھنے لگے
میں چپ چاپ اینٹیں اٹھاتی رہی۔۔۔
“تم مجھے بابا بلا سکتی ہو۔۔۔ میری بیٹی بھی بابا بلاتی ہے۔۔۔”
وہ بولے۔۔۔
“جی۔۔ بابا۔۔۔!”
میں مسکرائی
عصر کی اذانیں ہونے لگیں۔۔
“چلو بیٹا۔۔! اب نیچے چلیں۔۔ تھوڑی دیر سکون کریں گے۔۔ چائے پی کے اسکے بعد پھر سے کام پہ لگ جائیں گے”
وہ کام روک کے بولے
ہم لوگ نیچے پہنچے تو باقی مزدور بھی کام سے وقفہ لے کے بیٹھے تھے۔۔
ٹھیکدار وہاں موجود نہیں تھا
“چھوٹے۔۔۔ آگ جلا۔۔۔ چائے بنانی ہے۔۔۔”
ایک مزدور نے آواز لگائی۔۔۔
“اچھا استاد جی۔۔۔!”
دس بارہ سال کا لڑکا اٹھ کے باہر جانے لگا
“اقبال۔۔ چائے کی قیتلی دھونے کی تیری باری ہے۔۔”
دوسرے کو آواز دی
اٹھارہ بیس سال کا اور لڑکا چائے کے گندے برتن اٹھانے لگا
“بابا۔۔! میں چائے بناؤں سب کے لیے۔۔۔؟”
میں نے ان سب سے دور ایک کونے میں بیٹھی تھی۔۔۔
“نہ بیٹی۔۔ تم رہنے دو۔۔۔ یہ لوگ خود کرلیں گے۔۔۔”
انھوں نے مجھے روک دیا
“میں بھی اب آپ لوگوں میں سے ہوں۔۔۔ مجھے چائے بنانے دیں”
میں نے ضد کی
“اچھا۔۔ جیسے تمہاری مرضی۔۔۔”
وہ بولے
“اقبال۔۔۔! چائے کے برتن دھو کے باجی کو دے۔۔۔۔”
بابا نذیر نے آواز دی
چھ سات مزدور اور مستری وہاں موجود تھے۔۔ سبھی میری طرف دیکھنے لگے
میں اٹھ کے اقبال کی طرف چلی گئی
اقبال ٹوٹی اینٹوں پہ برتن پھیلائے پائپ سے پانی کا پریشر قیتلی میں ڈالتے ہوئے وہ پہلے سے جمی ہوئی چائے کی پتی باہر نکال رہا تھا۔۔۔ جیسے ساری پتی نکل جاتی اسکا کام پورا ہوجاتا۔۔۔۔
“بھائی۔۔! برتن ایسے نہیں دھوتے “
میں پاس جا کے کھڑی ہوگئی
“باجی۔۔! آپ بے فکر ہوجائیں۔۔۔ یہاں سب ایسے ہی چلتا ہے۔۔۔”
وہ بے دھیانی سے بولا
“میں دھوتی ہوں آپ اٹھو یہاں سے۔۔۔۔”
میں نے اسے کہا
“آپ رہنے دیں۔۔۔ میں نے دھو لیا ہے۔۔۔”
“ابھی بھی برتن گندے ہیں۔۔۔۔”
“میں نے دھیان سے کپ اور قیتلی کو دیکھا”
“باجی۔۔! ہم تو ایسے ہی کھاتے پیتے ہیں۔۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
میں اسکی جگہ پہ بیٹھ گئی اور سالوں پرانی قیتلی جو کالی سیاہ ہوچکی تھی اسے دھونے لگی
تھوڑی محنت کے بعد کافی حد تک برتن صاف ہوگئے۔۔۔
چھوٹے نے آگ جلا دی تھی۔۔
اقبال دودھ اور چینی پتی لے آیا۔۔ میں نے چائے بنائی۔۔۔
چائے بن گئی تو اقبال اور چھوٹو سب کو ایک ایک کپ دینے لگے۔۔۔
“واہ۔۔۔ واہ۔۔۔ آج تو چائے پینے کا مزہ آگیا۔۔۔”
بابا نذیر خوش ہوکے بولے
“واقعی نذیر۔۔۔ چائے تو خوب بنی ہے۔۔۔”
پاس ہی بیٹھے ایک اور مزدور نے بڑا سا گھونٹ بھرا
“جیتی رہو بیٹا۔۔۔۔!”
بابا نذیر نے میرے سر پہ ہاتھ رکھا۔۔ سبھی مزدور اٹھ کے اپنے اپنے کام پہ جانے لگے
“سنو۔۔! بھائیو۔۔۔!”
بابا نذیر کی آواز بلند ہوئی
“آج سے یہ بچی میری منہ بولی بیٹی ہے۔۔ اس لیے آپ سب کو خبردار کررہا ہوں کہ اگر یہاں کام کرنا ہے تو تمیز کے دائرے میں رہ کے کام کرنا پڑے گا۔۔ ورنہ ٹھیکدار صاحب سے کہہ کے فوراً کام سے نکلوا دوں گا”
سبھی مزدورں نے سر ہلایا اور وہاں سے چلے گئے
٭٭٭٭٭
مغرب سے کچھ دیر پہلے ہی کام ختم ہوا۔۔۔ سب مزدور اور مستری تھکے ہارے ٹھیکدار کی کرسی کے گرد جمع ہوگئے
“چلو۔۔۔ چلو۔۔۔۔ سارے قطار بنا لو۔۔۔”
کسی نے آواز دی
سب اجرت لینے کے لیے قطار میں لگ گئے۔۔۔۔
میں بھی سب کے پیچھے اسی قطار میں کھڑی ہوگئی۔۔۔
ایک ایک کرے سبھی نے اپنے اپنے پیسے لیے اور وہاں سے جانے لگے۔۔۔
ٹھیکدار نے سر اٹھا کے مجھے دیکھا۔۔ اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
“یہ لیں۔۔۔۔”
اس نے کچھ نوٹ میری طرف بڑھائے
“یہ اچھی طرح سے گن لیں۔۔۔۔”
اپنی زندگی کی پہلی کمائی جب میری ہتھیلی پہ آئی تو جیسے زخموں کو راحت ملنے لگی تھی
“آپ نے آج آدھا دن کام کیا ہے۔۔ یہ آدھے دن کی مزدوری ہے”
وہ مزید بولا
میں نے نوٹ گنے۔۔ سو پچاس روپے کے چند نوٹ میری طے کردہ مزدوری سے زیادہ تھے
“آپ نے غلطی سے زیادہ پیسے دے دیے ہیں”
میں اسکی طرف دیکھنے لگی
“نہیں۔۔۔ پورے پیسے ہیں۔۔۔۔ میری غلط فہمی تھی کہ آپ باقی مزدروں جتنا کام نہیں کرسکتیں۔۔ اس لیے اب سے آپکو سب کے برابر پیسے ملیں گے”
ٹھیکدار کی اس بات نے میرے حوصلے اور بلند کیے۔۔۔
بابا نذیر پاس ہی کھڑے تھے
“ٹھیکدار صاحب۔۔ ! ایسی بیٹیاں قسمت والوں کو ملتی ہیں۔۔۔۔”
انکی آنکھوں میں خوشی تھی
پر شائد وہ اس بات سے نا واقف تھے کہ میں اپنے باپ کے لیے سب سے بد نصیب اولاد ہوں۔۔۔
٭٭٭٭
“رانی بیٹا۔۔ ! کہاں رہ گئی تھی۔۔”
میں وارڈ میں داخل ہوئی تو۔۔ عارفہ خالہ وہاں موجود تھیں
“خالہ۔۔۔! مجھے کام مل گیا ہے۔۔۔۔”
میں خوشی سے انکے گلے لگی
“ماشاء اللہ۔۔۔! کہاں پہ۔۔۔؟”
وہ پوچھنے لگیں
“یہ مت پوچھیں۔۔۔ بس مجھے کام مل گیا ہے۔۔۔ اور یہ دیکھیں میری پہلی کمائی۔۔۔”
میں نے پیسے آگے بڑھائے
انکی آنکھوں میں حیرانی تھی
“لیکن بتاؤ تو سہی۔۔۔ کیا کام ہے۔۔۔؟”
میں انکی پریشانی سمجھ سکتی تھی۔۔
“مجھ پہ بھروسہ رکھیں۔۔ میں کچھ ایسا نہیں کروں گی جس سے ارسل کی عزت پہ آنچ آئے۔۔ یہ میری حق حلال کی کمائی ہے۔۔۔”
میں نے انھیں بتایا
انھوں نے میرا ماتھا چوما
“تم اگر نہیں بتانا چاہتی تو مت بتاؤ۔۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گی کہ اتنا وزن اپنے اوپر ڈالنا جو اٹھا سکو۔۔۔”
“آپ بے فکر رہیں۔۔۔ اب وزن چاہے جیسا ہو۔۔ میں اٹھا لوں گی۔۔۔ “
میری آنکھوں میں امید تھی
“ویسے آپ کب آئیں۔۔۔؟”
میں تو سہہ پہر تین بجے کی یہاں پہ ہوں۔۔ تمہیں یہاں نہ پا کر میں تو پریشان ہی ہوگئی تھی۔۔ سسٹر فاخرہ نے تمہارا پیغام دیا تو مجھے تسلی ہوئی۔۔”
“ہاں۔۔ میں فاخرہ کو بتا کے نکلی تھی۔۔۔ اب تو مجھے ہر روز جانا پڑے گا۔۔۔۔ “
“تم بے فکر ہوکے جاؤ۔۔۔ میں گھر کاموں سے فارغ ہوتے ہی اسپتال آجایا کروں گی۔۔۔”
وہ بولیں
“ٹھیک ہے۔۔۔ بس آپکا یہی ساتھ درکار ہے۔۔ اللہ نے چاہ تو بہت جلد میں اپنی منزل پہ پہنچ جاؤں گی”
“انشاء اللہ۔۔۔۔ ! ہاں یاد آیا۔۔۔ تم سے کوئی ملنے آیا تھا۔۔۔”
وہ سوچتے ہوئے بولیں
“کون۔۔۔؟”
میں نے سوال کیا
“وہ لڑکی۔۔۔ جو تمہارے گھر میں کام کرتی ہے نہ ۔۔ کیا نام ہے اسکا۔۔۔”
“رخسانہ۔۔۔؟ رخسانہ آئی تھی۔۔۔؟”
“ہاں ۔۔ وہی ۔۔۔ بے چاری کافی پریشان تھی۔۔ تمہارا انتظار کرتی رہی، پھر چلی گئی۔۔ شائد دوبارہ آئے۔۔۔”
“اچھا۔۔! اب وہ دوبارہ آئے تو اسے مغرب کے بعد کا بتا دیئجے گا۔۔ کہ میں تبھی مل سکتی ہوں”
رخسانہ کا سن کے میں بے حد خوش ہوئی۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ وہ مجھ سے ملنے ضررو آئے گی۔۔۔ کتنی ساری باتیں ہیں جو مجھے اس سے کرنی تھیں۔۔ وہی تو ایک سہیلی ہے میری۔۔ جس سے میں دل کی ساری باتیں کر سکتی ہوں۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔ میرے ہوتے ہوئے آئی تو میں ضرور بتا دوں گی۔۔۔”
عارفہ خالہ بولیں
میں نے سر ہلایا
“چلو اب لان میں چل کے کھانا کھا لو۔۔ میں نے بھی گھر کے لیے نکلنا ہے۔۔۔۔”
انھوں نے ٹیبل سے ٹفن اٹھایا
“خالہ۔۔ کیوں تکلیف کرتی ہیں آپ۔۔۔۔ ؟ میں نے کہا بھی تھا کہ میں اپنے کھانے پینے کا انتظام کرلوں گی۔۔۔”
“پتا ہے مجھے۔۔ اب تم سب کرلوں گی۔۔۔ پر تم یہ نہ بھولو اب تم میرے لیے رانی نہیں ارسل ہو۔۔۔ اور یہ ارسل کے حصے کا کھانا تمہیں تب تک ملتا رہے گا جب تک وہ اٹھ نہیں جاتا۔۔۔ پھر تم جانو اور تمہارا کام”
وہ مسکرا کے بولیں
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ آپ لان میں چلیں۔۔ میں ارسل سے مل کے آتی ہوں۔۔۔۔”
ان کے جانے کے بعد میں ارسل کے پاس آکے بیٹھ گئی
“آج میں نے تم تک پہنچنے کی پہلی سیڑھی پار کرلی ہے۔۔۔ “
میں نے اپنے ہاتھوں میں اسکا ہاتھ لیا
“مجھے یقین ہے میرے ہاتھوں پہ لگے زخم تمہاری روح محسوس کررہی ہوگی۔۔ ان زخموں کا مداوا تبھی ممکن ہے جب تم آنکھیں کھولو گے۔۔ آج ہاتھ پہ چھالے ہیں ۔۔ کل اگر روح بھی چھلنی ہوگی تو بھی میں تمہیں واپس لے آؤں گی۔۔۔۔”
جب سے میں نے اپنے آپ سے ارسل کو واپس لانے کا عہد کیا تھا۔۔۔ تبھی خود سے ایک اور بھی وعدہ کیا کہ میرے آنسو اب نہیں نکلیں گے۔۔۔ اور میں اس وعدے پہ قائم تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *