Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18
میں نے تینوں جوڑوں پہ نگاہ دوڑائی۔۔۔۔۔ اور ایک جوڑے پہ جا کے میرے نظریں رک گئیں۔۔۔۔
“یہ۔۔۔ سرخ جوڑا۔۔۔۔ یہ مجھے پسند ہے۔۔۔۔”
میں نے اشارہ کیا۔۔۔۔
“چلو پھر ٹھیک ہے۔۔ یہ رکھ لیتے ہیں۔۔۔۔’
چچی باقی سوٹ سمیٹنے لگیں۔۔۔
“اچھی طرح سے دیکھ لے۔۔۔۔ بار بار تبدیل نہیں ہوگا۔۔۔”
دادی بولیں
“یہی ٹھیک ہے دادی۔۔۔۔”
میں نے جواب دیا
“چلو ٹھیک ہے۔۔۔ الماری میں رکھ دے اسے۔۔۔۔”
میں نے جوڑا الماری میں رکھ دیا۔۔۔
٭٭٭٭٭
“صرف دو دن رہ گئے ہیں۔۔۔ اس کے بعد ہم دونوں ہمیشہ ہمشہ کے لیے ایک ہو جائیں گے۔۔۔۔”
وہ ایک گہری سانس لے کے بولا
“ہاں۔۔ بہت کم وقت باقی ہے۔۔ پتا نہیں کیا ہوگا۔۔۔”
میں سوچوں میں ڈوبی تھی۔۔۔
“تمہیں کوئی ڈر ہے۔۔۔؟”
” یقین نہیں ہورہا۔۔۔؟”
“کیا یقین نہیں ہورہا۔۔۔؟”
“یہی کے میری زندگی بدلنے والی ہے۔۔۔”
“کبھی کبھی تمہاری باتیں مجھے سوچ میں مبتلا کردیتی ہیں۔۔۔”
“کیوں۔۔۔ میں نے ایسا کیا کہا۔۔۔؟”
“جب ایسی باتیں کرتی ہو کہ تمہیں یہ سب خواب کی طرح لگتا ہے۔۔ تو میرا اپنا یقین ٹوٹنے لگتا ہے۔۔”
“جو کچھ ان دنوں ہو رہا ہے۔۔ ویسا کبھی میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔۔ شائد اس لیے دل میں بلا وجہ کے وہم ہیں۔۔۔”
میں اسے سمجھانے لگی۔۔۔
“مجھے کھل بتاؤ۔۔ جو بھی تمہارے اندر ہے۔۔ نکال دو۔۔ اسے۔۔ تاکہ اس کے بعد تم صرف اور صرف اچھا سوچو۔۔۔”
“لوگوں کے بدلتے روّیے۔۔۔ ہر ایک چیز میں خوشیوں کی جھلک۔۔ اور کوئی اتنا چاہنے والا۔۔۔۔ یہ سب نیا ہے میرے لیے۔۔۔ بالکل انوکھا۔۔۔”
“اس سب سے تمہیں خوشی نہیں مل رہی۔۔۔؟”
“مل رہی ہے۔۔۔ بہت خوش ہوں میں۔۔۔۔ لیکن۔۔ کہیں ان خوشیوں کو نظر نہ لگ جائے،۔۔۔ بس یہ خوف ہے۔۔۔”
“ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔ اب میں ہوں تمہارے ساتھ۔۔ “
اس نے تسلی دی۔۔
میں مسکرانے لگی۔۔۔
“کل مہندی ہے۔۔۔ اور پھر شادی۔۔۔۔ کیسے گزریں گے یہ دو دن۔۔۔؟”
وہ بولنے لگا
“جیسے اتنے سارے دن گزر گئے۔۔۔ یہ بھی گزر جائیں گے۔۔۔”
میں نے جواب دیا
“میں بس چاہتا ہوں۔۔۔ کہ پلک جھپکتے ہی یہ دن گزر جائیں۔۔۔ اور تم میرے پاس ہو۔۔۔”
میں شرمانے لگی۔۔۔
“اب میں فون بند کرتی ہوں۔۔۔ دادی کے اٹھنے کا وقت ہو گیا ہے۔۔”
فجر ہونے والی تھی
“آہاں۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ کل مہندی پہ ملاقات ہوگی۔۔۔۔”
میں نے فون بند کیا
سب کچھ اتنا اچھا تو چل رہا ہے۔۔۔ پھر کیوں میرا دل بے چین ہے۔۔۔؟ یہ بے یقینی کیسی ہے۔۔۔۔؟
میں نے ارسل کے سامنے چاہے خوش ہونے کی ادکاری کی ہو۔۔ لیکن میرا من مطمئن نہیں ہورہا تھا۔۔
٭٭٭٭
“آپ نے تو کہا تھا کہ دو دن میں واپس لوٹ آئیں گی۔۔ پر دیکھیں مہندی والے دن آپکی آمد ہوئی۔۔ اب بھی نہ آتیں”
میں سعدیہ باجی سے خفا تھی
وہ ابھی پہنچی تھیں۔۔۔ انکے ہاتھ میں میرے لیے کافی گفٹس تھے۔۔
“میری جان۔۔ مجبوری تھی نا۔۔۔ ورنہ اس وقت تمہیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتی تھی۔۔۔”
انھوں نے مجھے گلے سے لگایا
چچی اور چھوٹی تائی بھی کمرے میں موجود تھیں۔۔ سب ان سے سفر کا حال احوال پوچھنے لگے۔۔۔
رخسانہ بھی ملنے چلی آئی۔۔۔
رخسانہ کی شادی والی بات کے بعد میں اس سے کم ہی بول رہی تھی۔۔ اس نے کئی بار صفائیاں دینے کی ناکام کوشش کی لیکن میں اسکی اس حرکت کے لیے کبھی اسے معاف نہیں کر سکتی تھی۔۔
سب کے جانے کے بعد رخسانہ اور سعدیہ باجی رہ گئے۔۔
“کیا ہوا ہے تم دونوں کو۔۔۔ لڑائی ہوئی ہے کیا۔۔۔؟”
سعدیہ باجی نے ہم دونوں کے چہروں پہ ایکدوسرے کے لیے بے رخی کے آثار دیکھے تو بولیں
“نہیں ۔۔ باجی۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔”
رخسانہ پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجا کے بولی
“پکی بات ہے نا۔۔۔۔؟”
انھوں نے تصدیق کی
“ہاں۔۔۔ پکی بات ہے۔۔۔ بس آجکل یہ مجھے سے دور دور رہیتی ہے اس لیے میں اس سے خفا ہوں”
میں رخسانہ کو گھورتے ہوئے بولی
“ہیں۔۔۔ ایسا کیوں بھئی۔۔۔ رخسانہ۔۔۔ ان دنوں تو تمہیں اپنی سہیلی کے پاس رہنا چاہیے۔۔۔”
“باجی۔۔! کام بہت ہوتا ہے۔۔ پھر بھی میں کوشش کرتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ وقت دوں اسے۔۔۔”
رخسانہ بولی
“اچھا۔۔ تو مایوں میں تمہارے ساتھ کون رہیتا تھا۔۔۔؟”
سعدیہ باجی نے پوچھا
“دادی نے نادیہ باجی کی ڈیوٹی لگائی تھی۔۔۔ دن میں وہ پاس ہوتیں اور رات میں دادی۔۔۔ ویسے بھی محلے کی لڑکیاں پورا دن ہی یہاں پہ رہیتی ہیں۔۔۔”
میں نے انھیں بتایا
رخسانہ کام کے بہانے وہاں سے چلی گئی
“نادیہ نے تمہیں کچھ کہا تو نہیں۔۔۔؟”
سعدیہ باجی پریشان ہونے لگیں
“نہیں۔۔ بالکل بھی نہیں۔۔۔ وہ سچ مچ بدل چکی ہیں۔۔۔۔ “
میں نے انھیں بتایا
“ایسا ہو نہیں سکتا۔۔۔ میں اپنی بہن کی فطرت سے بہت اچھی طرح سے واقف ہوں”
انھیں میری بات کا یقین نہیں تھا
“آپ اپنے دل کا میل اب نکال دیں۔۔ میں سچ کہہ رہی ہوں نادیہ باجی بدل چکی ہیں۔۔۔ انھوں نے میرا بہت خیال رکھا ہے۔۔۔”
“اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔ جیسا تم کہہ رہی ہو۔۔۔۔”
وہ بولیں
میں نے سر ہلایا
“اچھا ۔۔۔ تو اب انکی سناؤ۔۔۔؟”
سعدیہ باجی کی آنکھوں میں شرارت تھی
“کن کی۔۔۔۔؟”
“ارے انھی کی۔۔۔ جن کے نام کی مہندی ہاتھوں پہ سجانے والی ہو۔۔”
میں مسکرانے لگی
“بتاؤ نا۔۔۔ بات ہوتی ہے۔۔۔؟”
“جی۔۔ ہوتی ہے۔۔۔”
“ہر روز۔۔۔؟”
“جب سے آپ نے فون لے کے دیا ۔۔۔ ہر روز ہی وہ مجھے فون کرتے ہیں۔۔۔”
“کیا باتیں ہوتی ہیں۔۔۔”
میں نے سر جھکایا
“اوہو۔۔۔ اب بند کرو شرمانا۔۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے بولیں
“بس ادھر ادھر کی باتیں۔۔۔”
“خوب سمجھتی ہوں۔۔۔ ادھر ادھر کی باتیں۔۔۔”
انھوں نے مجھے گھورا
میں چپ ہوگئی
“تمہیں پتا ہے۔۔ مجھے سکالر شپ مل گئی ہے۔۔۔”
“اچھا۔۔۔ ! یہ تو خوشی کے بات ہے۔۔۔”
“خوشی کی بات تو ہے لیکن مجھے پاکستان چھوڑ کے جانا پڑے گا”
“کیوں۔۔۔ ؟ کہاں جانا پڑے گا۔۔۔؟”
“انگلینڈ ۔۔۔!”
“لیکن وہاں کیوں۔۔۔۔؟”
میں پریشان ہوگئی
“بابا۔۔ سکالر شپ پہ جارہی ہوں۔۔۔۔ “
“کب جانا ہے۔۔؟”
“بہت جلد ۔۔۔ میں تو تمہاری شادی میں بھی شرکت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ لیکن اس وقت ہر چیز سے زیادہ تم مجھے عزیز ہو۔۔۔ اس لیے مجھے آنا ہی پڑا”
انھوں نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھا
“تایا اور تائی کو بتا دیا آپ نے۔۔۔؟”
“ہاں۔۔ انھیں تو فون پہ ساری تفصیلات سے آگاہ کردیا تھا”
“وہ راضی ہیں۔۔۔؟”
“شروع میں تو نہیں تھے ۔۔ لیکن میں نے منا ہی لیا۔۔۔ کچھ ہی سالوں کی تو بات ہے ۔۔۔ پھر واپس آجاؤں گی”
وہ بولنے لگیں
“لیکن آپ کے بغیر۔۔۔ میرا کیا ہوگا۔۔۔؟”
میں پریشان ہوئی
“میری جان۔۔۔ ! اب تمہارا خیال رکھنے کے لیے ایک شیر جیسا آدمی دے کے تو جارہی ہوں۔۔ ابھی بھی تم ڈر رہی ہو۔۔۔؟”
میں چپ ہوگئی۔۔۔
شام ہوئی تو مہندی کی تیاریاں اپنے عروج پہ تھیں۔۔۔
عزیز اور رشتہ داروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہوگیا۔۔۔ محلے سے لڑکیاں آئیں ۔۔۔ اور ڈھولک بجنے لگا۔۔۔
سعدیہ باجی نے مجھے تیار کیا۔۔۔
عشاء کے بعد لڑکے والے مہندی کی رسم کے لیے پہنچ گئے۔۔۔
ارسل کے ہاں لڑکے اور لڑکی کی مہندی کی رسم ساتھ کی جاتی تھی۔۔ دادی اس ریت کے خلاف تھیں لیکن سب نے انھیں سمجھایا بھجایا۔۔۔ تب جا کے وہ مانیں۔۔۔
سعدیہ اور نادیہ باجی مجھے باہر صحن میں لے آئیں۔۔۔ دادی نے حکم نامہ جاری کیا تھا کہ میں ارسل کے ساتھ ایک ہی صوفے پہ بیٹھ سکتی ہوں لیکن۔۔ میں گھونگٹ میں رہوں گی۔۔ ارسل سمیت سبھی لڑکے والے میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتے۔۔ عارفہ خالہ کو بھی اس بارے میں مطلع کردیا گیا تھا۔۔ انھوں نے دادی کے حکم کی لاج رکھی۔۔ اور میں گھونگٹ سجائے ارسل کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔
ڈھولک بجنے لگی۔۔۔ اور لڑکیاں مہندی کے گانے گانے لگیں
“ویسے یہ زیادتی ہے۔۔۔”
اسکی سرگوشی میرے کان میں پڑی
میں چپ رہی۔۔۔
“آپ کی دادی بہت بے رحم ہیں۔۔۔۔”
“کیوں۔۔۔ دادی کیوں بے رحم ہیں۔۔۔؟”
“اتنی دور سے ہم آپ کا دیدار کرنے آئے تھے اور آپ ہیں کے گھونگٹ میں قید ۔۔۔۔”
“دادی کہتی ہے۔۔ لڑکے کی نظر لگ جائےگی۔۔۔”
“واہ۔۔۔ ! آج تو وہ تمہیں مجھ سے چھپالیں گی۔۔۔ کل کیا ہوگا۔۔۔؟”
“کل کس نے دیکھی ہے۔۔۔۔؟”
“میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ وہ روشن کل جسکا کب سے انتظار تھا مجھے۔۔۔”
وہ بولا
“نا۔۔۔ نا۔۔۔ کوئی کھسر پھسر نہیں چلے گی۔۔۔”
سونیا آگئی
“کیوں۔۔۔ اب کھسر پھسر پہ بھی انکی دادی نے پابندی لگا دی ہے۔۔؟”
ارسل نے اس سے پوچھا
“یہ پابندی میں لگا رہی ہوں۔۔۔۔ “
وہ ہم دونوں کے بیچ میں آکے بیٹھ گئی
“کیوں جی۔۔۔ آپکو کیا تکلیف ہے۔۔ ہماری کھسر پھسر سے۔۔۔۔؟”
ارسل نے اسکا کان کھینچا۔۔
“مجھے آپ لوگوں کے بات کرنے سے کوئی تکلیف نہیں ہے۔۔۔ بس میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ آپس میں جو بھی بات کریں وہ میری موجودگی میں کریں۔۔۔ بلکہ ایسا کر لیتے ہیں۔۔ میں پیغام رساں بن جاتی ہوں۔۔۔ آپ نے جو بھی بات کرنی ہے۔۔ وہ آپ میرے کان میں بولیں۔۔ میں وہی بات اپنی بھابی کے کان تک پہنچا دوں گی۔۔۔”
سونیا شرارت کے موڈ میں تھی
“بڑی امّاں ۔۔ بھاگو یہاں سے۔۔ ورنہ پٹائی ہوگی۔۔۔”
ارسل نے اسے دھمکی دی۔۔
“نہیں۔۔ بالکل نہیں بھاگوں گی۔۔ میں ابھی دادی کو بلاتی ہوں۔۔ پھر دیکھتی ہوں آپ لوگ کیسے سرگوشیاں کرتے ہیں۔۔۔”
وہ بھی اسی کی بہن تھی
“چلو ٹھیک ہے۔۔ مجھے تمہاری شرط منظور ہے۔۔۔”
ارسل نے ہار مان لی
“گڈ بوائے۔۔۔ ۔۔ دیکھیں نا بھابی۔۔ میرا بھائی کتنا فرمانبردار ہے۔۔۔”
سونیا مجھ سے مخاطب تھی۔۔۔
میں دل ہی دل میں مسکرائی
“اپنی بھابی کو میرا ایک پیغام دو۔۔۔۔”
ارسل بولا
“ہاں ۔۔ ہاں ضرور۔۔”
سونیا نے اپنے کان سے بال ہٹائے۔۔۔ اور اسکے قریب ہوئی
“آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔۔ “
اسکی سرگوشی مجھے صاف سنائی دے رہی تھی
سونیا۔۔ میرے قریب ہوئی۔۔۔
“بھائی کہہ رہے ہیں۔۔۔ کہ میں بہت پیاری لگ رہی ہوں۔۔۔”
سونیا نے ایک اور شرارت کی
“جھوٹی۔۔۔ ! میں نے تمہیں نہیں کہا۔۔۔ تمہاری بھابی کو کہا ہے۔۔۔”
“سونیا ٹھیک تو کہہ رہی ہے۔۔۔ میں تو گھونگٹ میں ہوں۔۔۔ آپکو کیسے پتا کہ میں کیسی لگ رہی ہوں”
میں نے جواب دیا
“ارے واہ۔۔۔ بھابی نے کیا منہ توڑ جواب دیا۔۔۔ بھابی۔۔ آج سے میں آپکی پارٹی میں شامل ہورہی ہوں۔۔”
“سونیا۔۔! اپنی بھابی سے بولو۔۔۔ ہم نے دل کی آنکھوں سے دیدار کیا ہے۔۔ جو شائد آپکے پاس نہیں ہے۔۔”
ارسل نے میری بات کا جواب دیا
“سونیا ۔۔! ان سے کہو۔۔ کہ پھر میری دادی کو الزام دینا بند کریں،۔۔ جب دل کی آنکھوں سے دیدار کر لیا تو رونا دھونا کیوں ڈالا ہوا ہے۔۔۔”
“آئے ہائے۔۔۔ ایک اور کرارا جواب”
سونیا بولی
“محترمہ سے کہیں کہ۔۔۔۔ جب سے دل نے دیداد کیا تب سے آنکھیں بے چین ہیں۔۔ بس یہی بے چینی دور کرنا چاہتے تھے۔۔”
“محترم! اس بے چینی کا فالحال کوئی علاج نہیں ہے۔۔ آنکھوں سے کہیں۔۔ تھوڑا صبر کرلیں۔۔۔”
اتنے میں چچی ہمارے پاس آکے کھڑی ہوگئیں
“بیٹا۔۔! آپ دولہا دلہن کے بیچ میں کیوں بیٹھی ہیں۔۔”
چچی سونیا کو دیکھتے ہوئے بولیں
“بس ایسے ہی آنٹی۔۔۔”
وہ کھڑی ہوگئی
“مہندی کی رسم شروع ہونے والی ہے۔۔۔ “
چچی نے بتایا۔۔۔
تھوڑی دیر میں سبھی بڑے ہمارے گرد جمع ہوگئے۔۔۔ اور باری باری مہندی لگانے لگے۔۔۔ لڑکیوں نے گانے گائے۔۔ تالیوں کی گونج دور دور تک سب کو میری خوشیوں کے قصے سنارہی تھی۔۔۔ سب کی ڈھیروں دعائیں اور پیار مل رہا تھا۔۔۔
کتنے حسین پل تھے وہ۔۔۔۔ بالکل کسی خواب کی مانند۔۔۔ ایسا خواب جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی ہیں۔۔۔ دل میں بسی صدیوں پرانی اداسیاں۔۔۔ مسکراہٹوں میں چھپ سی جاتی ہیں۔۔۔ آنکھوں میں ایسی چمک اتر آتی ہے جو سبھی اندھیروں کو پل بھی میں روشن کردے۔۔۔۔
میں سب کی نگاہوں کا مرکز تھی۔۔۔ اور میری نگاہوں کا مرکز میرے بالکل قریب بیٹھا ۔۔۔ وہ اس ایک لمحے کا انتظار کررہا تھا کہ کب میرا گھونگٹ اٹھے اور میں اسکی گہری آنکھوں میں سما جاؤں۔۔۔۔
