Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20
خواب کیوں ٹوٹتے جب منزل پاس ہو۔۔۔؟
کچھ ہی گھنٹے پہلے تو میں اپنے گھر سے رخصت ہو کے ایک نئی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔۔۔ پر میری منزل مجھے بیچ راستے میں چھوڑ کے خود کہیں دور چلی گئی۔۔۔ جس میں اب چاہ کی بھی ڈھونڈ نہیں سکتی۔۔۔
“صوبیہ۔۔! اسے بھی گھر لے جا۔۔۔۔ پورا دن گزر گیا یہیں کی یہیں بیٹھی ہے۔۔۔ نا تو اسکے گھر والوں نے کوئی خبر لی اور نہ ہی اسے خود کچھ پتا ہے”
عارفہ خالہ کی آواز میرے کان میں پڑی۔۔۔
“اٹھو۔۔! یہاں بیٹھنے کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے گھر چلو۔۔۔۔”
صوبیہ میرے پاس آئی۔۔۔
میں اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
صوبیہ اور اسکا خاوند آگے آگے چلنے لگے اور میں انکے پیچھے چل پڑی۔۔۔
“کیسی پتھر دل لڑکی ہے۔۔ اتنا سب کچھ ہوگیا ایک آنسو نہیں ٹپکا اسکی آنکھ سے۔۔۔”
صوبیہ نے اپنے خاوند سے سرگوشی کی۔۔
“چپ کرو۔۔۔ سن لے گی۔۔۔”
خاوند نے اسے خبردار کیا
“سنتی ہے تو سننے دو۔۔۔ ہے ہی منحوس۔۔ پہلے بہن کا سر کھایا اور اب۔۔۔۔”
کتنا زہر تھا انکے لہجے میں۔۔۔۔
“حد کرتی ہو تم صوبیہ۔۔۔۔!”
“کیا حد کرتی ہوں۔۔۔۔ ؟ منہ اٹھا کے چل پڑی ہمارے ساتھ ایک بار یہ نہیں کہا کہ جاتے جاتے ارسل بھائی کا چہرہ ہی دیکھ لے۔۔۔۔”
وہ لگاتار بولتی رہیں۔۔۔۔
اسپتال سے باہر نکل کے ان لوگوں نے رکشہ بلایا۔۔۔ اور سرخ جوڑے والے دلہن رکشے میں سوار ہوگئی۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ہم انکے دروازے پہ تھے۔۔۔۔
میں رکشے سے نیچے اتری۔۔۔ صوبیہ کے خاوند نے دروازے پہ دستک دی۔۔۔ سونیا نے دروازہ کھولا۔۔۔۔
“آپ لوگ انھیں کیوں ساتھ لائے۔۔۔؟ انکے گھر والے لے نہیں گئے انھیں۔۔۔؟”
کیا یہ وہی سونیا تھی جو بھابی بھابی کہتے تھکتی نہیں تھی۔۔۔۔
“اب اللہ ہی جانے۔۔۔ کب آئیں گے اسکے گھر والے۔۔۔ تب تک یہیں رہے گے۔۔۔۔”
صوبیہ اسے جواب دیتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔۔۔ ان سب کے پیچھے پیچھے میں بھی داخل ہوئی۔۔۔
صحن کے وسط میں پہنچتے ہی صوبیہ نے آواز دی۔۔۔
“سونیا۔۔۔! اسے ارسل بھائی کے کمرے میں لے جا۔۔۔۔”
صوبیہ نے آواز دی۔۔۔
“کیوں۔۔۔! وہاں کیوں۔۔۔؟ میں ارسل بھائی کے کمرے میں نہیں لے جاؤں گی اسے۔۔۔۔”
سونیا اندر جاتے جاتے رکی۔۔۔
“تو اور کہاں بٹھائیں اسے۔۔۔۔۔؟ امّی کے کمرے میں ؟”
صوبیہ نے اسے گھورا
“مجھے نہیں پتا۔۔۔ جہاں دل کرے بٹھا دیں۔۔۔ پہلے انکی وجہ سے کم مصیبت پڑی ہے ہم پہ۔۔”
وہ بڑبڑاتی ہوئی اندر چلی گئی
“میں خود ہی لے جاتی ہوں۔۔۔۔”
صوبیہ نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
میں چپ چاپ پیچھے چل پڑی۔۔۔ گھر کے پچھلی جانب۔۔۔ بالکل کونے پہ ایک اکیلا کمرہ۔۔۔ تھا۔۔ جس کے دروازے پہ تالا لگا تھا۔۔۔ صوبیہ نے دروازہ کھولا اور مجھے اندر جانے کا کہہ کے خود چلی گئی۔۔۔۔
میں کمرے کے عین درمیان میں کھڑی ہوکے چاروں طرف دیکھنے لگی۔۔۔
یقیناً کمرے کی یہ سجاوٹ میرے لیے کی تھی۔۔۔ لیکن میری آمد کچھ ایسی ہوئی۔۔ کہ سبھی پھول مرجھا گئے۔۔۔
دو دن سے میں دلہن کے لباس میں تھی۔۔۔۔ ایک ایسی دلہن جو مسلسل نصیب کے ساتھ جنگ لڑ رہی تھی۔
لیکن اس جنگ میں وہ ہار چکی تھی۔۔۔۔ نصیب نے ایک بار پھر کرارا تھپڑ رسید کیا تھا۔۔۔۔
صدیوں سے کانٹوں پہ چلتے چلتے اب پاؤں بھی جواب دے چکے تھے۔۔۔
میں فرش پہ بچھے قالین پہ بیٹھ گئی۔۔۔ اور سر گھٹنوں پہ رکھ دیا۔۔۔۔
عشاء کی اذان گونجی۔۔۔ دماغ نے سوال کیا۔۔۔ اس ذات سے اب بھی کوئی سوال ہے۔۔۔؟ دل نہ جواب دیا۔۔۔ “نہیں۔۔۔سب سوال ختم ہوئے”
ارسل نے جس لمحے میرا ہاتھ تھاما۔۔ وہ لمحہ اسے مجھ سے کہیں دور لے گیا۔۔۔ تیز رفتار ٹرک کی ٹکر سے ہماری گاڑی کھائی میں جار گری۔۔۔ ڈرائیور موقع پہ جاں بحق ہوگیا۔۔۔ اور ارسل کو سر پہ گہری چوٹ آئی جسکی وجہ سے وہ کومہ میں چلا گیا۔۔۔ اور سب سے خوش نصیب میں تھی۔۔۔ جس چند ایک خراشیں آئیں۔۔۔
عارفہ خالہ نے میرے گھر والوں کو اطلاع کردی تھی لیکن ابھی تک ان لوگوں کی طرف سے کوئی خبر لینے نہیں آیا تھا۔۔۔ یہاں سب لوگ مجھے منحوس مان رہے تھے۔۔ رخصتی سے پہلے نادیہ باجی کی جان چلی گئی اور رخصتی کے بعد ارسل زندگی اور موت سے لڑ رہا تھا۔۔۔ اور سب حیران تھے کہ میں ابھی تک روئی کیوں نہیں ہوں۔۔۔ کیوں ایک بھی آنسو آنکھوں سے نہیں ٹپکا۔۔۔
“میں تو اس کشمکش میں ہوں کہ رونا شروع کہاں سے کروں۔۔۔ اپنے بچپن سے۔۔۔؟ جوانی سے۔۔۔؟ یا سرخ جوڑے سے۔۔۔۔؟ جس وقت مجھے میرے اس سوال کا جواب مجھے مل جائے گا۔۔۔ میں بھی زارو قطار رؤں گی۔۔۔ پھر دیکھتی ہوں۔۔۔ میرے آنسو۔۔ کیسے میرا نصیب بدلتے ہیں۔۔۔۔”
دروازہ کھلا۔۔۔
“یہ لیں۔۔۔ کھانا کھا لیں۔۔۔ بہت بھوکی ہوں گی آپ۔۔۔۔”
سونیا کے ہاتھ میں کھانے کے طشتری تھی۔۔۔
میں نے نظر اٹھا کے اسکی طرف دیکھا
“برباد کردی میرے بھائی کی زندگی۔۔۔۔؟”
اسکی آنکھوں میں ارسل کے لیے جتنی محبت تھی ۔۔ اس کہیں زیادہ نفرت کے شعلے بلند ہورہے تھے۔
میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا
اس نے طشتری نیچے رکھ دی
“مجھے حیرت ہوتی ہے ۔۔ اس معصوم چہرے کے پیچھے کتنی سفاک لڑکی چھپی ہے۔۔۔۔۔”
اس نے مجھے گھورا
میں سر جھکائے بیٹھی رہی
“وہ آپ کے لیے زندگی اور موت سے لڑ رہے ہیں۔۔۔ اور ان کے لیے ایک آنسو نہیں بہا آپکا۔۔۔۔ اتنی پتھر دل ہیں آپ۔۔۔؟”
وہ ہر ممکن کوشش کررہی تھی کہ میں اسے کوئی جواب دوں۔۔۔
پر میرے پاس صرف خاموشی تھی۔۔۔۔
اسکا ہر تیر میں نے اپنے کلیجے پہ سہا۔۔۔ اسکے بعد وہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔
میں نے پھر سے ماتھا گھٹنوں پہ ٹیکا اور انکھیں بند کرلیں۔۔۔
٭٭٭٭٭
قیامت جیسی ایک لمبی رات میں نے اس کمرے میں ایسے کاٹی جیسے کسی زندہ انسان کو قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے۔۔۔
صبح کی اذان ہوئی۔۔۔۔ سرخ جوڑے کا بوجھ اٹھا کے اب میں تھک چکی تھی۔۔ جہیز کی مد میں جو ایک بیگ میں اپنے ساتھ لائی تھی اس کھولا۔۔۔ اور رنگ برنگ لباسوں میں کچھ بے رنگ ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔
صبح کی شفق پھوٹی۔۔۔
کپڑے بدل کے میں پھر سے قالین پہ بیٹھ گئی۔۔۔ رات والا کھانا اسی طرح پڑا رہا۔۔۔
دروازہ کھلا۔۔۔ اس بار انجان عورت کے ہاتھ میں ناشتہ بھجوایا گیا تھا۔۔۔
“ہو ہائے۔۔۔ آپ نے تو رات کو بھی کچھ نہیں کھایا۔۔۔ ایسے تو صحت خراب ہوجائے گی”
ادھیڑ عمر عورت جو کپڑوں اور انداز سے ملازمہ لگ رہی تھی میرے پاس آکے بیٹھی
میں نے ایک نظر اسے دیکھ اور پھر سے سوچوں میں ڈوب گئی۔۔۔
“بہت برا ہوا آپکے ساتھ۔۔۔۔۔ اللہ کسی کو ایسا دن نہ دکھائے۔۔۔”
وہ بولنے لگی
“باجی۔۔۔ کچھ کھالو۔۔۔۔”
اس نے میرا ہاتھ پکڑا
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔”
کئی پہر گزر جانے کے بعد پہلی بار میں نے زبان کھولی تھی۔۔۔
“کیوں بھوک نہیں ہے۔۔۔۔ مالک جب انسان پہ دکھ کے پہاڑ توڑتا ہے اسے سہنے کی ہمت بھی عطا کرتا ہے۔۔۔”
وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
میں چپ رہی
“میں صوبیہ باجی کو بلاتی ہوں۔۔۔ وہی آپکو کھانا کھلائیں گی”
وہ کمرے سے باہر چلی گئی
کچھ ہی دیر میں صوبیہ اور سونیا آگئے
“اب یہ کیا ہے۔۔۔ کھانا نا کھا کے تم ہم لوگوں پہ احسان مت کرو۔۔۔۔”
صوبیہ کالہجہ کرخت تھا
میں ان لوگوں سے بے دھیان سی اپنے خیالوں میں ڈوبی رہی
“آپکو ارسل بھائی کا جتنا دکھ ہے وہ ہم سب بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔۔۔”
سونیا بولی
“اسکو کھلاؤ کچھ۔۔۔ کہیں کچھ ہوگیا اسے تو سارا الزام ہم لوگوں پہ آجائے گا۔۔۔”
صوبیہ بولی
“آپی۔۔۔! نہیں کھاتی تو نہ کھائے۔۔۔ ہمیں کیا۔۔۔۔ امّی رات تین بجے واپس لوٹی ہیں اسپتال سے ۔۔ جب اٹھیں گی تو خود کچھ کھلا دیں گی۔۔۔”
سونیا نے جواب دیا
” ہوسکتا اس کے گھر والے آجائیں ابھی لینے۔۔۔ انکے سامنے اس نے ڈرامہ شروع کردیا کہ ہم نے کچھ کھانے پینے کو نہیں دیا پھر کیا ہوگا؟”
“جن لوگوں نے ابھی تک کوئی خبر نہیں لی وہ اب کیا آئیں گے۔۔۔ اپنی مصیبت ہماری جھولی میں ڈال کے خود خوشیاں منا رہے ہوں گے۔۔۔”
سونیا بولی
صوبیہ نے اسے گھورا
“آپ ایسے کیا گھور رہی ہیں مجھے۔۔۔ یہ تو حقیقت ہے۔۔۔۔ دیکھا نہیں۔۔۔ وہاں پہ کیا ہوا تھا۔۔۔ اسکے بعد ارسل بھائی کے ساتھ کیا ہوا۔۔۔۔ امّی بتا رہی تھیں کہ ڈاکٹروں نے زیادہ امید نہیں دلائی ہے۔۔۔ “
سونیا رونے لگی
“وہسے حد ہے۔۔ اس لڑکی نے جھوٹے منہ بھی نہیں پوچھا کہ ارسل بھائی زندہ ہیں یا مر گئے۔۔۔۔”
صوبیہ بولی
اس بار میری برداشت سچ مچ جواب دے گئی تھی۔۔۔ میں نے سر اٹھا کے دونوں کے چہروں کو دیکھا۔۔۔ میں انسانوں کی ایسی قسم سے بہت اچھی طرح سے واقف تھی۔۔۔۔
میرے چہرے کے بدلتے تیور دیکھ کے صوبیہ پاس آئی
“رانی۔۔۔! کچھ کھالو۔۔ تمہاری مہربانی۔۔۔۔”
اس بار اسکا لہجہ دھیمہ تھا
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔”
میں نے اسے جواب دیا
“تم نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔ ایسے تو مر جاؤ گی۔۔۔”
وہ بولی
میں نے حیران ہوکے اسے دیکھا۔۔۔ “اسے اب بھی لگ رہا تھا کہ میں زندہ ہوں”
میرے لب چاہے خاموش تھے لیکن اس نے وہ خاموشی پڑھ لی
ایک نوالہ توڑ کے اس نے میری طرف بڑھایا
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔”
میں نے پھر سے وہی جواب دیا
“میرے کہنے پہ کھالو۔۔۔پلیز۔۔۔۔”
وہ ضد کرنے لگی
میں نے ہار مانی اور صوبیہ کے باربار اسرار پہ دو چار نوالے کھا ہی لیے۔۔۔۔
اس کے بعد دونوں بہنیں وہاں سے چلی گئیں۔۔۔
دوپہر ہوئی تو خبر ملی دادی اور بابا مجھے لینے پہنچ چکے ہیں۔۔۔
نادیہ باجی کی وفات کا صدمے سے بڑی تائی اسپتال داخل تھیں انکی حالت کافی نازک تھی اس لیے میرئ گھروالوں کی طرف سے کوئی بھی نہیں آسکا تھا۔۔۔ عارفہ خالہ کو میرے گھر والوں کے اس روّیے پہ شکوہ تو بہت تھا لیکن صورت حال کچھ ایسی تھی کہ وہ چپ رہ گئیں۔۔۔
ملازمہ کے ساتھ چلتے چلتے دادی کمرے میں آئیں
“چل اٹھ۔۔ سامان اٹھا اپنا۔۔۔۔ “؟
دادی شدید غم اور غصے کی حالت میں تھیں۔۔۔
میں انھیں دیکھ کے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اور اپنے بیگ کی زپ بند کرنے لگی۔۔۔
“پتا نہیں کس بد نصیب لمحے تم نے ہماری دہلیز پہ قدم رکھا تھا۔۔۔ اسکے بعد سے اب تک ہم نے صرف بربادی کا منہ دیکھا ہے۔۔۔ میں تیرے باپ سے کہتی رہی کہ تیری شادی کا خیال دل سے نکال دے۔۔ لیکن اس پہ جنون سوار تھا۔۔۔ کہ نہیں۔۔۔ بیٹی کی رخصتی کرنی ہے۔۔۔۔”
وہ بولتی رہیں اور میں انکی باتوں کا ان سنا کرتی رہی۔۔۔
“اچھی طر ح سے دیکھ لے۔۔ کچھ رہ تو نہیں گیا۔۔۔ سارا سامان لے لینا۔۔۔ واپسی کی کوئی امید نہیں ہے۔۔۔ ہم اسپتال اس لڑے کو دیکھ آئے ہیں۔۔۔ اسکے بچنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔۔۔۔”
دادی بتانے لگیں
اس بار میں انکی بات کو نظرانداز نہیں کر پائی۔۔۔دل کی دھڑکنیں بے ترتیب سی تھیں۔۔۔
کمرے سے نک کے صحن میں پہچنے تو سامنے ہی بابا کھڑے تھے۔۔۔ مجھے دیکھ کے انھوں نے سر جھکایا۔۔۔ میرے ہاتھ سے بیگ پکڑا۔۔۔ میں دادی اور بابا کے ساتھ ارسل کے گھر سے نکل کے گلی میں آگئی۔۔۔ رکشے والا سامنے ہی کھڑا تھا۔۔۔
“بابا۔۔۔!”
میں نے آواز دی
انھوں نے چونک کے میری طرف دیکھا
“میں ایک بار ارسل کو دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ مجھے اسپتال لے چلیں”
میں نے زندگی پہلی بار ان سے کچھ مانگا تھا
“پاگل ہوگئی ہے یہ۔۔۔۔ اسکی بات نا سن گھر چل۔۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔”
دادی نے غصے سے مجھے گھورا
“آپکا احسان ہوگا مجھ پہ بس ایک بار میں اسے دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔”
ایک بیٹی اپنے باپ سے احسان کی طلبگار تھی
انھوں نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر رکشے والے کو اسپتال کا پتا سمجھانے لگے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ہم لوگ اسپتال پہنچ گئے۔۔۔
میں نے بابا اور دادی کو باہر رکنے کا کہا اور خود کمرے کے اندر چلی گئی
وہ گہری نیند میں تھا۔۔۔ سر اور چہرے پٹیوں سے ڈھکا تھا۔۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے میں اس بیڈ کے قریب آرہی تھی جس پہ وہ لیٹا تھا جسے نہ دنیا کی خبر تھی اور نہ اس بات کی کہ کیسے اسکی اور میری دنیا اجڑ چکی ہے۔ آج نہ سماج کا پہرا تھا نہ ہی اسکی تلوار آنکھیں جو مجھے اسکا دیدار کرنے سے روکتی۔ پھر کتنی ہی دیر میں اسے سر سے پاؤں تک دیکھتی رہی ، کسی حسیں خواب کی طرح جو اب ٹوٹنے کو تھا۔۔۔۔ دل رو رہا تھا اسکی بے کسی اور اپنی بے بسی پہ۔ وہ بے یارو مدد گار اس بستر پہ تھا ، میں کسی اور کے پاؤں پہ چل کہ یہاں تک پہنچی تھی۔ اپنی آنکھوں میں آنسو کی جگہ کہ اس منظر کو قید کرتے کرتے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ جانے کا وقت آگیا تھا پر یہ دل تھا کچھ اور سننے کو راضی نہ تھا۔ اور پھر اپنے خواب کے اس کانچ کو مجھے خود ہی توڑنا پڑا۔ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے آنکھوں سے الوداع کے چند قطروں سے تَر کرتی اسکی بے کسی سے منہ موڑے میں دروازے کی طرف بڑھی۔ دو ہی قدم چلی تھی کہ جیسے کسی نے روک لیا ہو ایک آخری بار اسکا چہرہ دیکھنے مڑی تو دل میں کئی سوال اٹھے
” اگر میں اسکی جگہ پہ ہوتی تو کیا وہ بھی میری طرح مجھے چھوڑ کے چلا جاتا؟”
خود سے ہی سوال و جواب کرتے میرے دل نے اسکے حق میں فیصلہ دیا۔
” نہیں وہ کبھی چھوڑ کے نہیں جاتا”
ایک بھرم تھا دل کو۔ دل و دماغ کی اس جنگ مِیں مَیں ایک فیصلہ تو کر چکی تھی۔
میں کمرے سے باہر نکل آئی
“چلیں۔۔۔؟”
دادی نے پوچھا
“نہیں۔۔۔! میں ارسل کو اس حال میں چھوڑ کے نہیں جا سکتی۔۔۔۔”
میں پہلی بار بے خوف ہوکے سینہ تانے بولی
بابا اور دادی حیران ہو کے مجھے ایسے دیکھنے لگے جیسے انھیں اپنے کانوں پہ یقین نہ آیا ہو۔۔۔
