Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19

کتنے حسین پل تھے وہ۔۔۔۔ بالکل کسی خواب کی مانند۔۔۔ ایسا خواب جسے دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی ہیں۔۔۔ دل میں بسی صدیوں پرانی اداسیاں۔۔۔ مسکراہٹوں میں چھپ سی جاتی ہیں۔۔۔ آنکھوں میں ایسی چمک اتر آتی ہے جو سبھی اندھیروں کو پل بھر میں روشن کردے۔۔۔۔
میں سب کی نگاہوں کا مرکز تھی۔۔۔ اور میری نگاہوں کا مرکز میرے بالکل قریب بیٹھا ۔۔۔ وہ اس ایک لمحے کا انتظار کررہا تھا کہ کب میرا گھونگٹ اٹھے اور میں اسکی گہری آنکھوں میں سما جاؤں۔۔۔۔
٭٭٭٭
“آج وہ تمہیں دیکھے گا تو سب کچھ بھول جائے گا۔۔۔”
سعدیہ باجی کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولیں
“تم اس سرخ جوڑے میں بہت حسین لگ رہی ہو۔۔۔ کسی کی نظر نہ لگے تمہیں۔۔۔۔”
وہ اور پاس آئیں
بلآخر شادی کا دن آ ہی گیا۔۔۔ سعدیہ باجی نے پارلر والی لڑکیوں کو میرا میک اپ کرنے کے لیے بلایا۔۔۔ میں سج سنور کے دلہن بن ہی گئی۔۔۔
بارات آنے میں کچھ وقت باقی تھا۔۔۔
“تمہاری رخصتی کے فوراً بعد میری روانگی ہے۔۔۔”
سعدیہ باجی بولیں۔۔
“بس ایک ہی رات کے لیے آنا تھا تو نہ ہی آتیں۔۔۔”
میں خفا ہوئی
“میری جان۔۔۔ تمہیں بتایا تو ہے۔۔ مجبوری ہے۔۔۔”
انھوں نے سمجھایا۔۔
“ماشاء اللہ۔۔۔۔ ! بہت روپ چڑھا۔۔۔”
رخسانہ موقع پا کر آگئی۔۔۔
“سن۔۔! گھونگٹ نیچے کر۔۔۔ اب دولہا سے پہلے کوئی نہ دیکھے تمہیں۔۔۔۔”
سعدیہ باجی بولیں۔۔۔
میں نے گھونگٹ نیچے کرلیا۔۔
کچھ ہی دیر میں دادی آئیں۔۔ مجھے دیکھ کے بلائیں لینے لگیں۔۔۔ چھوٹی تائی بڑی تائی اور چچی نے بھی خوب تعریف کی۔۔۔
اتنے میں بارات آگئی۔۔۔
میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔۔۔
یہ حقیقت ہے یا خواب۔۔۔؟ پر جو بھی ہے بہت حسین ہے۔۔۔ حقیقت ہے تو میں اس حقیقت کو پا کر خود کو خوش قسمت تصور کررہی ہوں۔۔ گر یہ خواب ہے تو دعا ہے کبھی ٹوٹنے نا پائے۔۔ میں ازل تک اسی خواب میں جینا چاہتی ہوں۔۔۔
ڈھولک اور تالیوں کی گونج میں میری خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے۔۔۔۔
سعدیہ باجی نے رخسانہ کو میرے ساتھ بٹھایا اور خود باہر مہمانوں سے ملنے چلی گئیں۔۔۔
دروازے پہ دستک ہوئی رخسانہ نے دروازہ کھولا تو سامنے نادیہ باجی کھڑی تھیں
رخسانہ ہچکچانے لگی۔۔۔ لیکن نادیہ باجی اسکی پرواہ کیے بنا ہی اندر آگئیں۔۔۔
“کیا میں تمہارا چہرہ دیکھ سکتی ہوں۔۔۔؟”
وہ میرے پاس آکے بیٹھیں۔۔۔
میں نے سر ہلایا۔۔۔ تو انھوں نے میرا گھونگٹ اوپر کیا۔۔۔
“کتنی حسین ہو تم۔۔۔ سچ مچ کسی پرَی جیسی۔۔۔۔۔”
انھوں نے حسرت بھری نگاہ میرے چہرے پہ ڈالی۔۔۔۔
میں نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔
“میں ہار گئی رانی۔۔۔۔! اور تم جیت گئی۔۔۔۔”
ان کی آواز میں ایک درد تھا۔۔۔۔
میں نے سر اٹھا کے انکی طرف دیکھا
انکی آنکھیں سرخ تھیں۔۔۔ جیسے خون نکلنے والا ہو۔۔۔۔
“نادیہ باجی۔۔۔! کیا ہوا۔۔۔ آپکی آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہیں۔۔۔۔؟”
میں گھبرا گئی۔۔۔
“رخسانہ۔۔! دیکھو۔۔۔ نا انکی آنکھیں۔۔۔”
میں نے ہڑ بڑا کے رخسانہ کو آواز دی جو دور ایک کونے میں کھڑی تھی۔۔
“میری آنکھوں میں سرخی نہیں۔۔۔ ان میں شکست ہے۔۔۔۔ “
وہ بستر پہ لیٹنے لگیں
انکی سانسیں الجھ رہی تھیں۔۔۔
“نادیہ باجی۔۔۔! سنبھالیں خود کو۔۔۔۔ اٹھیں۔۔۔”
میں انھیں ہلانے لگی۔۔۔۔
ان کے لب خشک ہورہے تھے۔۔
“رخسانہ۔۔۔! کسی کو بلاؤ۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے۔۔ جلدی کرو۔۔۔”
رخسانہ کی حالت بھی میرے جیسی تھی۔۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی
نادیہ باجی کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔۔۔۔ انکی حالت ہر گزرتے پل میں خراب ہورہی تھی۔۔۔
میں نے جلدی سے ان کا سر اپنی گود میں رکھا۔۔۔۔
“اٹھیں۔۔۔۔۔ ! خدا کے لیے۔۔۔۔ اٹھیں۔۔۔”
میں چلانے لگی۔۔۔۔
آنکھیں بند ہونے لگیں۔۔۔۔
رخسانہ سعدیہ باجی کو بلا کے لے آئی۔۔۔ سعدیہ باجی نے جب انکی حالت دیکھی تو انکے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔ کمرے میں رش لگ گیا۔۔۔
“یا میرے مولا۔۔۔۔ میری بچی کو کیا ہوا۔۔۔۔ اسے اسپتال پہنچاؤ۔۔۔۔”
دادی رونے پیٹنے لگیں۔۔۔۔
سعدیہ باجی سٹیتھو سکوپ لگا کی انکی حالت کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔
“باہر گاڑی تیار ہے۔۔۔ اسے جلدی لے چلیں۔۔۔”
چچا اندر آتے ہوئے بولے
“چچا۔۔۔! اب اسے کہیں لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ “
سعدیہ باجی کے الفاظ نے سب کے دلوں پہ کڑکتی بجلی گرا دی تھی۔۔۔
جہاں پل بھر پہلے شہنائیاں بج رہی تھیں۔۔۔ وہاں صف ماتم بچھ گئی۔۔۔۔
قیامت کا منظر تھا۔۔۔ میں اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھی۔۔۔۔
نادیہ باجی نے زہر کھا لیا تھا۔۔۔ انھیں اپنے کیے پہ ندامت تھی یا پھر اس بات کا دکھ کے ارسل اب میرا ہوچکا تھا۔۔۔ جو بھی تھا انھوں نے خود کشی جیسا قدم اٹھایا تھا۔۔۔
عارفہ خالہ نے سبھی باراتی واپس بھجوا دیے۔۔ لیکن ارسل سمیت انکا پورا خاندان اس دکھ میں ہمارے ساتھ شامل رہا۔۔۔۔
بڑی تائی کے فلک بوس بین۔۔۔ کلیجہ چیر رہے تھے۔۔۔ دادی کی حالت خراب تھی۔۔۔
نادیہ باجی کا جسم پھولنے لگا تھا۔۔ اس لیے سعدیہ باجی نے نے بابا اور تایا کو سمجھایا کہ جلد سے جلد تدقین کا انتظام کریں۔۔۔ چند ہی گھنٹوں میں نادیہ باجی کا جنازہ تیار ہوا اور مجھ سے پہلے وہ اس گھر سے رخصت ہوئیں۔۔۔
میں ہی انکی موت کی ذمہ دار ہوں۔۔۔ گر میرا رشتہ ارسل سے نہ ہوتا تا آج نادیہ باجی کو یہ انتہائی قدم نہ اٹھانا پڑتا۔۔۔ چچی اور عارفہ خالہ نے مجھے انکا آخری دیدار نہیں کرنے دیا۔۔۔ انکے حساب سے نئی نویلی دلہن کا جنازے کے پاس رہنا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ مجھے ایک کونے میں بٹھا دیا گیا۔۔۔ جہاں سے اٹھ کے میں اپنا سرخ جوڑا بھی نہیں بدل سکی۔۔۔۔
تدفین کے بعد سبھی مرد حضرات گھر واپس لوٹے۔۔۔ آدھی رات بیت چکی تھی۔۔۔ عارفہ خالہ نے گھر جانے کی اجازت مانگی۔۔۔۔
رخسانہ میرے پاس آئی اور آکے بتایا کہ دادی میری رخصتی ابھی کررہی ہیں۔۔۔ مجھ پہ حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔۔۔ میرا پورا خاندان غم سے چور چور تھا۔۔۔ اور میں رخصت ہوکے چلی جاؤں۔۔۔ میں نے صاف طور پہ انکار کردیا۔۔۔
چچی اور چھوٹی تائی نے مجھے سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن میں روتی چلاتی رہی کہ اس حالت میں میری رخصتی نہ کریں۔۔۔
“نادیہ نے جو اپنے ساتھ کرنا تھا کردیا۔۔۔ اب وہ ہم لوگوں کے بیچ میں نہیں ہے۔۔۔ اسکی ذمہ دار نہ تم ہو نہ کوئی اور بلکہ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی دنیا اور آخرت تباہ کی۔۔۔ تم آج دلہن بنی ہو۔۔۔ اور یہ دن تمہارے لیے بہت خاص ہے۔۔۔ سب کچھ بھول کے تم اپنی نئی زندگی کی طرف بڑھو۔۔۔ “
سعدیہ باجی میرے پاس آئیں۔۔۔
میں گڑ گڑائی کے میں سب کو ایسے چھوڑ کے نہیں جا سکتی۔۔۔ پر کسی نے میری ایک نا سنی۔۔۔
“تم اب کسی اور کی دلہن بن چکی ہو۔۔۔ تمہاری رخصتی میں ہی سب کی بہتری ہے۔۔۔”
دادی بھی آگئیں۔۔۔
بلآخر میں نے ہتھیار ڈال دیے۔۔۔
جس دروازے سے کچھ ہی دیر پہلے ایک بیٹی کا جنازہ اٹھا تھا۔۔۔ اسی دروازے سے اب ایک ڈولی اٹھنے والی تھی۔۔۔
اس گھر سے رخصت ہوتے میں نے سب کے چہروں پہ الوادعی نظر ڈالی۔۔ میں اس گھر اور گھروالوں کے لیے کتنی بد نصیب ہوں۔۔۔۔ میرے اندر طوفان برپا تھا۔۔۔
ارسل نے ہاتھ پکڑ کے مجھے دہلیز پار کرائی۔۔۔
سامنے کھڑی گاڑی کا دروازہ کھول کے اندر بٹھایا۔۔۔
ارسل اور میں گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ تھے۔۔ ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔
میری زندگی اس گھر کو چھوڑ کے ایک اور گھر کی جانب رواں دواں تھی۔۔۔
ہم سے پچھلی گاڑی میں باقی گھر والے تھے۔۔۔
میرے آنسو۔۔۔ لگاتار گالوں کو تر کررہے تھے۔۔۔
“سنبھالو خود کو۔۔۔۔”
ارسل بولا
“کیسے۔۔۔؟ میری وجہ سے آج نادیہ باجی نے خود کشی کی۔۔۔ میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی”
“تم خوامخواہ اپنے آپ کو اس سب کا ذمہ دار سمجھ رہی ہو۔۔۔۔”
“وہ آپ سے شادی کرنا چاہتی تھیں۔۔۔”
“وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی صرف ضد بنا لیا تھا مجھے اس نے۔۔۔۔”
“جو بھی تھا۔۔۔ پر وجہ تو میں ہی بنی۔۔۔”
“نہیں۔۔ تم وجہ نہیں ہو۔۔۔۔ خود کو کوسنا بند کرو۔۔۔”
میں سسکیاں لینے لگی۔۔۔۔
اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
“رانی۔۔! ہم دونوں کی نئی زندگی شروع ہورہی ہے۔۔ میں نہیں چاہتا اسکی ابتدا آنسوؤں سے ہو۔۔۔۔”
“ارسل۔۔! اسکی ابتدا آنسوؤں سے ہوچکی ہے۔۔۔ بہت مشکل ہے میرے لیے یہ سب بھولنا۔۔۔۔”
میں نے اسکے چہرے پہ نگاہ ڈالی۔۔۔
“کیا تم میرے لیے یہ سب بھول نہیں سکتی۔۔۔۔؟”
اسکی آنکھوں میں سوال تھا۔۔
“کوشش کروں گی کہ یہ سب بھول جاؤں۔۔۔ پر یہ نشان اتنی آسانی سے مٹنے والا نہیں ہے”
“تم کوشش تو کرو۔۔۔ میں ساتھ ہوں تمہارے۔۔۔ ہر پل۔۔۔ “
میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کے اس نے مظبوطی سے تھاما۔۔۔
میں نے اپنا ماتھا اسکے ہاتھوں پہ ٹیک دیا۔۔۔ اور پھر سے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔۔۔
گاڑی مین روڈ پہ آچکی تھی۔۔۔۔
“میرے ہوتے ہوئے۔۔۔ تم اس حال میں ہو۔۔۔ میں نہیں رہا تو کیا کروگی۔۔۔؟”
میں نے جلدی سے اپنا سر اٹھایا
“خدارا۔۔۔ ! ایسی باتیں مت کریں۔۔۔”
میرے چہرے پہ پریشانی کے آثار دیکھ کے وہ بھی پریشان ہوگیا
“پگلی۔۔! میں تو بس مذاق کررہا تھا۔۔۔”
اس نے اپنا ایک ہاتھ میرے کندھے پہ رکھا۔۔۔
میں نے آنسو صاف کیے۔۔
“آپ وعدہ کریں۔۔۔ آپکا یہ ساتھ ہمیشہ برقرار رہے گا۔۔۔؟”
میں نے سنجیدہ ہوکہا
“ہوکیا گیا ہے تمہیں۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں مذاق تھا۔۔۔ “
“پھر بھی آپ وعدہ کریں۔۔۔۔ “
“اچھا بابا میں وعدہ کرتا ہوں۔۔ ہمیشہ ایسے ہی تمہارے ساتھ رہوں گا۔۔۔ پوری زندگی اسی طرح تمہارا ہاتھ میرے ہاتھوں میں رہے گا۔۔۔”
وہ مسکرایا
“انشاءاللہ۔۔۔۔! “
“انشاء اللہ۔۔۔!”
“اس سے پہلے کے ہم لوگ گھر پہنچیں میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہو”
وہ میری آنکھوں میں دیکھ کے بولا
میں نے سر ہلایا
“میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ رانی۔۔!”
اسکی گہری آنکھوں میں سچائی صاف جھلک رہی تھی
“اب تو ہماری شادی ہو چکی ہے۔۔۔ اس وقت آپ اظہار محبت کیوں کررہے ہیں”
میں نے پوچھا
“وہی تو۔۔۔ شادی ہوگئی تو کیا ہوا۔۔۔ محبت کا اظہار تو ضروری ہے۔۔۔۔”
وہ مسکرایا
میں شرما گئی۔۔۔
“میں نے تو کچھ اور سنا تھا۔۔۔۔”
“کس بارے میں۔۔۔؟”
“یہی کہ جب کوئی اظہار محبت کرے تو سامنے والا بھی اسکا جواب دیتا ہے۔۔۔”
“اگر ایسی بات ہے تو میں یہی کہوں گی کہ جو آنکھوں میں دیکھ کے محبت نہیں پڑھ سکتا تو اسے الفاظوں کی کیا سمجھ ہوگی۔۔۔۔”
“تو بات ہماری سمجھ پہ آگئی ہے۔۔۔”
“جی بالکل۔۔۔۔!”
“ذرا آنکھیں دکھائیں پھر اپنی۔۔۔۔”
میں نے شرماتے ہوئے اسکی طرف دیکھا
“کیا پڑھوں میں ایسی آنکھوں کو جنھیں آنسو نے دھندلا دیا ہو۔۔۔۔”
“محبت ۔۔۔ تو روشن جذبے کا نام ہے۔۔۔ اور آنسو اس جذبے کو اور نکھارتے ہیں۔۔۔ نہ کہ دھندلا کرتے ہیں۔۔”
“اف۔۔۔ میں نے سوچا نہیں تھا کہ گم صم رہنی والی یہ گڑیا مجھے ہی لاجواب کر دے گی۔۔۔”
“آپ نے تو بس کنارے پہ کھڑے ہوکے گہرائی کا غلط اندازہ لگایا ہے۔۔۔۔”
“تو کیا آپ کبھی غوطہ زن ہوئیں ۔۔۔ ایسی گہرائی میں۔۔۔”
“ہاں ۔۔۔ بالکل ہوئی۔۔۔۔”
“کب۔۔۔ اور کیسے۔۔۔۔”
“تب ۔۔ جب پہلی بار آپکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔ تبھی۔۔۔۔ ڈوب گئی تھی ان میں۔۔۔۔”
“پھر بتایا کیوں نہیں۔۔۔؟”
“کبھی موقع ہی نہیں ملا۔۔۔۔ بتانے کا۔۔۔۔”
“تو اب بتا دو۔۔۔۔۔ “
“اب بھی کچھ ہے بتانے کو۔۔۔۔؟”
“بہت کچھ ہے۔۔۔ یہ کان سننے کو ترس رہے ہیں۔۔۔”
اسکی بات سن کے میں مسکرانے لگی۔۔۔۔
“جواب دیں۔۔۔ اب صرف مسکرانے سے کام نہیں چلے گا”
“میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔ اس دنیا کہ ہر چیز سے زیادہ۔۔۔۔ اب یہ ساتھ صرف ساتھ نہیں ہے میری سانسیں ہیں۔۔۔ جو اگر یہ ٹوٹا۔۔۔ تو پھر میں بھی ٹوٹ کے بکھر جاؤں گی۔۔۔۔”
وہ بنا پلکیں جھپکائے مجھے دیکھتا رہا اور میری آنکھوں سے آنسو کی برسات ہوتی رہی۔۔۔۔
وہ لمحہ کچھ ایسا تھا جس میں نہ وہ ارسل تھا اور نہ میں رانی۔۔۔۔ بلکہ ہم ایک ہو چکے تھے۔۔۔ یکجان۔۔۔ دھڑکنوں کی رفتار بھی ایک۔۔ سانسوں کی روانی بھی ایک۔۔۔ جیسے۔۔۔ میری رگوں میں گردش کرتا خون اسکی رگوں میں ڈھل رہا تھا۔۔۔۔ ہر طرف ایک سناٹا تھا۔۔۔۔ گہری خاموشی۔۔۔ صرف سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔۔ شائد پوری کائنات رک گئی تھی۔۔۔۔ میں نے پلکیں میچ لیں۔۔۔ کہیں یہ خواب تو نہیں۔۔۔۔ میں نے خود سے سوال کیا
ایک زور دار جھٹکا ۔۔۔۔ اور کانوں کو چیرتا ہوا ۔۔۔ بے درد شور۔۔۔۔ جس نے میری دنیا ایک پل میں الٹ دی تھی۔۔۔۔
سامنے سے آتا ٹرک ایک ہماری گاڑی سے آ ٹکرایا۔۔۔۔ میں نے پھر سے آنکھیں بند کیں اور اسکا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا۔۔۔۔
گاڑی سڑک سے لڑھکتی ہوئی۔۔ کسی گہری کھائی کی طرف جارہی تھی۔۔۔۔ میرے سبھی خواب دھندلانے لگے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *