Surkh Jora by Zoya Hassan NovelR50770 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15
Rate this Novel
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode01 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode03 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode04 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode05 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode06 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode08 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode09 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode10 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode11 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode12 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode13 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode14 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15 (Watching)Surkh Jora by Zoya Hassan Episode16 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode17 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode18 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode19 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode20 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode21 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode22 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode23 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode24 Surkh Jora by Zoya Hassan Episode25 Surkh Jora by Zoya Hassan Last Episode Surkh Jora by Zoya Hassan Episode02
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15
Surkh Jora by Zoya Hassan Episode15
میں دادی کی طرف بڑھی۔۔ وہ الماری میں سے کچھ نکال رہی تھیں۔۔ دور سے ہی مجھے زبیدہ پھوپھو کا پیلا جوڑا نظر آیا جو دادی نے صندوق سے نکلوایا تھا۔۔۔ میں نے دادی سے پوچھ کے وہ جوڑا نکالا اور سب کو دیکھ کے بولی کہ میں یہ پہنوں گی۔۔۔ سب مجھے حیرانی سے دیکھنے لگے،۔۔۔۔
دادی نے مجھے ایسے دیکھا جیسے انھیں اپنی آنکھوں پہ یقین ہی نہ آرہا ہو۔۔۔۔
“رانی۔۔۔! تم یہ پہنو گی؟”
سعدیہ باجی نے پوچھا
“ہاں سعدیہ باجی۔۔۔ میں یہی پہنوں گی۔۔۔”
“لو۔۔۔ اور یہ جو ہم پورا بازار گھوم کے تمہارے لیے رنگ برنگ سوٹ اٹھا لائے انکا کیا ہوگا۔۔۔۔؟”
چچی نے تیوری چڑھائی۔۔۔
میں نے دادی کی طرف دیکھا انکی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔ میں نےانھیں گلے سے لگایا۔۔۔
زندگی میں پہلی بار انھوں نے میرے ماتھے پہ بوسہ دیا
“نہیں بیٹا۔۔۔! کسی بھی لڑکی کے لیے یہ بہت بڑا دن ہوتا ہے۔۔۔ میں نہیں چاہتی تم اس دن کسی کی اترن پہنو۔۔۔ “
وہ میرا گال تھپتھپانے لگیں۔۔۔
“بڑی تیز لڑکی ہے بھئی۔۔۔ جاتے جاتے بھی دادی کی محبتیں بٹور رہی ہے۔۔۔”
چچی بولیں۔۔
سب ہنس پڑے۔۔۔
بلآخر نکاح کے لیے ہرا جوڑا منتخب ہوگیا۔۔۔ سعدیہ باجی مجھے تیار کرنے لگیں۔۔۔
٭٭٭٭٭
“جب مولوی صاحب اندر آکے نکاح کا پوچھیں گے تو کیا جواب دو گی۔۔۔؟”
سعدیہ باجی نے مجھے ایسے تیار کیا تھا جیسے ڈولی اٹھنے والی ہو۔۔۔
میں انکی بات پہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔
“کیا کہیں گے۔۔۔؟”
میں نے پوچھا
“آئے ہائے۔۔۔ اس سے کیا پوچھتی ہو مجھ سے پوچھو۔۔۔”
چھوٹی تائی نے دھڑام سے دروازہ کھولا اور آتے ہی شروع ہوئیں
ہم دونوں انکی طرف دیکھنے لگے۔۔۔
“چچی۔۔! آپ ہی اسے ٹریننگ دیں۔۔۔”
سعدیہ باجی بولیں
“ماشاء اللہ ۔ بہت پیاری لگ رہی ہو”
انھوں نے بلائیں لیں۔۔۔
“اچھا تو جب مولوی صاحب آئیں گے تو وہ کہیں گے۔۔۔۔۔۔”
وہ بتانا شروع ہوئیں
سعدیہ باجی الماری کھول کے کام میں لگی تھیں۔۔۔
“سعدیہ ۔۔ تو بھی آجا۔۔۔ کل کلاں تیری بھی شادی ہونی ہے۔۔۔ سیکھ لے کچھ۔۔۔”
چھوٹی تائی نے انھیں آواز دی
“ارے کہاں۔۔۔ چچی۔۔۔ ہمارے ایسے نصیب کہاں۔۔۔”
سعدیہ باجی منہ بناتے ہوئے بولیں
“کم بخت۔۔۔ ڈرامے کرتی ہے۔۔۔۔ جب ڈاکٹر بن جائے گی تو ایسے لڑکوں کی لائن لگی ہوگی۔۔۔۔ “
تائی نے انھیں گھورا
“آپکو نہیں۔۔ پتا۔۔۔ آجکل حالات بدل گئے ہیں۔۔۔ ڈاکٹر بنتے بنتے میں بوڑھی ہو جاؤں گی۔۔۔ پہلے تو رشتہ ملے گا نہیں جو مل گیا تو ہوگا کوئی بابا ٹائپ۔۔۔۔ اب سب ہماری رانی جتنے خوش نصیب تھوڑی نا ہوتے ہیں۔۔۔ اتنا خوبرو نوجوان ملا ہے”
اپنی باتوں میں وہ مجھے چھیڑنے سے باز نہیں آئیں۔۔۔
“ہاں سعدیہ سچ کہہ رہی ہو۔۔۔ ماشاء اللہ ارسلان خوش شکل تو ہے۔۔۔”
چھوٹی تائی آنکھیں پھیلا کے بولیں
“اف ہو۔۔۔ چچی ۔۔ اسکا نام ارسل ہے ارسلان نہیں”
سعدیہ باجی چڑ کے بولیں
“جو بھی ہو۔۔۔۔ لیکن اچھا لڑکا ہے۔۔۔۔”
انھوں نے جواب دیا
میں شرماتے لجاتے ہوئے سر جھکا کے بیٹھی رہی۔۔۔
“چچی خیر تو ہے نا۔۔۔۔! کہیں چچا کو سائیڈ لائن کرنے کا ارادہ تو نہیں ہے۔۔۔”
سعدیہ باجی نے انھیں چھیڑا۔۔
“چل ہٹ کمینی۔۔۔۔! کیسی باتیں کرتی ہے۔۔۔”
وہ ہنس پڑیں
“صحیح تو کہہ رہی ہوں۔۔۔ آپ تو ابھی جوان لگتی ہو۔۔۔ اور ایک ہمارے چچا ہیں جو دن بدن بوڑھے ہوتے جارہے ہیں۔۔۔”
وہ دونوں ہنس پڑے،۔۔۔ میں سنجیدگی سے ان کے چہرے دیکھنے لگی
“لو بھلا اسے کیا ہوا۔۔۔ اتنی افسردہ سی کیوں لگ رہی ہے۔۔۔”
تائی کا دھیان میری طرف تھا
“نکاح ہے نا اسکا۔۔۔ اس لیے۔۔ اندر سے ڈری ہوئی ہے۔۔۔۔”
سعدیہ باجی بولیں
“اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے۔۔۔۔ جب میرا نکاح ہوا تو میں تو اچھل اچھل کے اپنی بارات دیکھ رہی تھی”
تائی بتانے لگیں
وہ دونوں پھر سے ہنس پڑیں
“اچھا چچی۔۔۔ اسکو بتائیں نا۔۔ مولوی صاحب جو آکے بولتے ہیں۔۔۔”
سعدیہ باجی اصل مدعے پہ آگئیں
“ہاں۔۔۔ وہ بات تو بیچ میں رہ گئی۔۔۔ “
چچی کو یاد آیا
“دیکھو۔۔۔ مولوی صاحب اندر آئیں گے اور کہیں گے کہ فلاں کا بیٹا ارسل آپکو نکاح میں قبول ہے۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے سمجھانے لگی
“آئے ہائے۔۔۔ چچی اب یہ فلاں کا بیٹا کیا ہوتا ہے۔۔؟
سعدیہ باجی بولیں
“بابا مجھے اسکے باپ کا نام پتا نہیں ہے تو کیا بولوں۔۔۔؟ باپ کا نام لینابہت ضروری ہے”
“اوہ اچھا۔۔۔ ارسل کے باپ کا نام تو مجھے بھی نہیں پتا۔۔۔۔”
سعدیہ باجی سوچ میں پڑ گئیں
“تْو کیوں پریشان ہورہی ہے۔۔۔ وہ خود بتا دے گا اپنے باپ کا نام۔۔۔۔ پر اصل مدعا باپ کا نام نہیں بلکہ نکاح قبول کرنا ہے۔۔۔”
وہ بولیں
“ہاں تو بتائیں نا بے چاری کو۔۔۔۔”
“مولوی صاحب پوچھیں گے کہ ارسل تمہیں نکاح میں قبول ہے۔۔؟ تو تمہیں جواب دینا ہوگا”
وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں
“کیا جواب۔۔۔۔”
میں نے پوچھا
“قبول ہے بولنا ۔۔۔۔ اور وہ یہ تین بار پوچھیں گے۔۔۔”
انھوں نے بتایا
“تو دوسری اور تیسری بار کیا جواب دینا ہے۔۔۔”
میں نے معصومیت سے پوچھا
“لو بھئی ۔۔ ہوگیا نکاح۔۔۔ ارے پگلی تینوں بار ہی قبول ہے ۔۔ قبول ہے۔۔ قبول ہے۔۔ بولنا”
انھوں نے مجھے کندھے سے پکڑ کے ہلایا
“سمجھ گئی نا۔۔۔؟”
نادیہ باجی نے پوچھا
میں نے سر ہلایا
“دھیان سے جواب دینا۔۔۔ اگر تم قبول ہے نہیں بولو گی یا تین سے کم بار بولو گی تو نکاح نہیں ہوگا”
تائی نے مجھے چوکنا کیا
میں دل ہی دل میں یاد کرنے لگی۔۔۔ قبول ہے۔۔۔ قبول ہے۔۔۔
پھر سے دروازہ کھلا
“بھابی تم ابھی تک لڑکیوں میں گھسی ہو۔۔۔۔ بارات دروازے پہ آچکی ہے۔۔ باہر امّاں جی نے ہنگامہ ڈال رکھا ہے۔۔۔ مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے کوئی بڑا موجود نہیں ہے”
بڑی تائی اتنے دنوں میں پہلی بار اس طرح دادی کے کمرے میں آئیں۔۔ اور آتے ہی چھوٹی تائی پہ برس پڑیں
“آپا۔۔! میں ذرا نکاح کے بارے میں رانی کو بتا رہی تھی۔۔۔”
وہ جلدی سے کھڑی ہوگئیں
بڑی تائی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے میرے پاس آئیں
“ماشاء اللہ۔۔۔! بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ اللہ پاک تمہارے نصیب اچھے کرے۔۔۔”
انھوں نے میری ٹھوڑی ہلائی۔۔ انکی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔۔۔
نادیہ باجی والے واقعے کے بعد وہ ٹوٹ چکی تھیں۔۔ کافی بیمار رہنے لگیں تھیں۔۔ مجھ سے انکی یہ حالت دیکھی نہیں جارہی تھی۔۔۔ میرے آنسو بھی پلکوں پہ چکمنے لگے۔۔۔
“رونا نہیں۔۔۔ پلیز۔۔۔ میری ساری محنت پہ پانی پھر جائے گا۔۔۔۔”
سعدیہ باجی ڈر گئیں کے میں میک اپ کا ستیہ ناس نہ کر دوں
میں نے با مشکل اپنے آنسو روکے
“چلو بھابی۔۔۔ باہر چلتے ہیں۔۔۔ سعدیہ رانی کے پاس رہے گی۔۔۔”
چھوٹی تائی بڑی تائی کو لے کے باہر چلی گئیں
باہر سے بچوں اور عورتوں کا شور آنا شروع ہوگیا۔۔۔
ویسے تو مہمانوں کے بیٹھنے کا سارا انتظام گلی میں ٹینٹ لگا کے کیا گیا تھا۔۔۔ پھر بھی عورتوں اور بچوں کا آنا جانا لگا ہی ہوا تھا۔۔
رخسانہ مجھے صبح سے نظر نہیں آئی۔۔۔ آج کام کا سارا بوجھ اس بے چاری پہ تھا۔۔۔ اور دادی صبح سے اسکے سر پہ سوار تھیں۔۔۔ اس لیے تو اسے موقع نہیں مل رہا تھا۔۔ ورنہ ٹانگ کھنچنے ضرور آتی۔۔۔
کمرے کے دروازے پہ دستک ہوئی۔۔۔
سعدیہ باجی نے اندر سے دروازہ بند کر رکھا تھا۔۔۔
“کون۔۔۔! وہ دروازے کے پاس جا کےبولیں۔۔۔”
کوئی جواب نہیں آیا
انھوں نے پھر سے پوچھا۔۔ اس بار بھی کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔
بلآخر انھوں نے دروازہ کھول دیا۔۔۔ سامنے ہی سونیا اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔
“نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ تم لوگ اندر نہیں آسکتے۔۔۔۔”
سعدیہ باجی نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا
“ارے کیوں نہیں آسکتے۔۔۔ میں اپنی بھابی کو دیکھنا چاہتی ہوں۔۔ دلہن بن کے کیسی لگ رہی ہیں۔۔۔”
اس نے باہر سے آواز دی۔۔۔
“نا بابا۔۔۔ لڑکے والے ہماری چاند سے دلہن کو نظر لگا دیں گے۔۔۔ “
سعدیہ باجی نے جواب دیا
“کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ اب یہ ہماری امانت ہیں آپکے پاس۔۔۔۔”
“ہاں۔۔۔ ہاں۔۔ جب اپنی امانت لے جاؤ تو جی بھر کے دیکھ لینا پر ابھی نہیں ۔۔۔”
سعدیہ باجی اور سونیا کے بیچ میں کافی دیر تک کھٹی میٹھی تکرار چلتی رہی۔۔ بلآخر وہ ہار مان کے چلی گئی۔۔۔
سعدیہ باجی پھر سے میرے ساتھ آکے بیٹھ گئیں۔۔۔
“تمہیں پتا ہے۔۔ دلہن کو ایسے لڑکے والوں کو نہیں دیکھنے دیتے۔۔۔۔”
وہ مجھے بتانے لگیں
“کیوں۔۔۔؟”
میں نے پوچھا
“دادی کہتی ہیں۔۔۔ نظر لگ جاتی ہے۔۔۔ “
انکی بات سن کے میں سوچ میں پڑ گئی۔۔۔ نظر تو لڑکی والوں کی بھی لگ سکتی ہے۔۔۔ پھر لڑکے والوں سے اتنا بچاؤ کیوں۔۔۔ میرے دل میں سوال آیا
“ارے سعدیہ۔۔! اب ہمیں بھی نہیں دیکھنے دو گی۔۔؟”
اس بار سونیا کی بڑی بہن صوبیہ تھی۔۔۔
“نہیں۔۔ آپی۔۔۔! آپ کو بھی انتظار کرنا پڑے گا”
سعدیہ باجی نے جواب دیا
“لو بھلا۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔”
صوبیہ کی آواز آئی
“ہمارے ہاں کی رسم ہے۔۔۔ جب تک نکاح نہ ہوجائے۔۔۔ لڑکی والے دلہن کو نہیں دیکھ سکتے”
اس بار باہر سے نادیہ باجی کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ صوبیہ کو جواب دے رہی تھیں
“واہ بھئی واہ۔۔۔ ہماری بھابی پہ اتنے پہرے دار بٹھائے ہیں۔۔۔”
صوبیہ بولی
“آپکی بھابی بعد میں ہے پہلے ہماری بہن ہے۔۔۔”
نادیہ باجی بولیں
سعدیہ باجی اور میں حیران ہوکے ان کی باتیں سن رہے تھے۔۔ وہ جس طرح سے نکاح کے فنکشن میں حصہ لے رہی تھیں۔۔ ہم دونوں کو یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔ لیکن خوشی بھی تھی ان میں ایک اچھا بدلاؤ آیا ہے۔۔۔
باہر کافی دیر تک لڑکے والے اور لڑکی والوں کے بیچ چلمچلی ہوتی رہی۔۔ ہنسی مذاق چلتا رہا۔۔۔
ٹینٹ میں کھانا لگا تو بچوں اور عورتوں کا شور کم ہوا۔۔۔
کھانے کے فورا! بعد چچی نے مطلع کیا کہ مولوی صاحب تھوڑی دیر میں اندر آتے ہی ہوں گے۔۔۔
اور ایسا ہی ہوا۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی۔۔ چھوٹی تائی اور چچی دادی سمیت کمرے میں آئیں اور میرے اردگرد جمع ہوگئیں۔۔ سب نے سر دوپٹوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔۔۔
میں دل ہی دل میں تائی والا سبق یاد کررہی تھی۔۔۔
چند پل گزرے تو بابا اور تایا مولوی صاحب کو لے کے اندر آئے۔۔۔
مولوی صاحب نے نکاح کی اجازت لی۔۔ میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔
مولوی صاحب نے نکاح کی قبولیت کا پوچھنے کے لیے جملہ دہرایا ۔۔ میں خاموش بیٹھی رہی۔۔۔ چھوٹی تائی نے چٹکی کاٹ کے سبق یاد دلایا اور میں جھٹ سے بولی
“قبول ہے۔۔۔ قبول ہے۔۔۔ قبول ہے”
“بیٹا۔۔۔ ! ایک بار بول دینا ہی بہت ہے”
مولوی صاحب بولے
ساری عورتوں دبی ہنسی ہنسنے لگیں۔۔۔ میں شرمندہ سی ہوگئی۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
نکاح ہو گیا تو کچھ دیر بعد سعدیہ باجی اور چچی مجھے باہر لے آئیں۔۔۔ میں گھونگٹ میں تھی۔۔۔ انھوں نے مجھے صوفے پہ بٹھایا ۔۔ چند ہی پل گزرے تھے ۔۔ ارسل کو بھی میرے ساتھ بٹھا دیا گیا۔۔۔
چھوٹی تائی نے میرا گھونگٹ ہٹایا۔۔۔ سامنے ہی لوگوں کی بھیڑ لگی تھی۔۔
ارسل نے نظریں گھما کے میری طرف دیکھا۔۔۔
سونیا اور اسکی سہیلیاں ہماری تصویریں لینے لگیں۔۔۔
“ماشاء اللہ۔۔۔ کہاں چھپا رکھا تھا اتنا حسن۔۔۔؟”
ارسل کی سرگوشی میرے کانوں میں پڑی
میں نے نظریں جھکا لیں۔۔۔
“ایک تو آپکی۔۔۔۔ بے رحم پلکیں۔۔ پل بھر دیدار نہیں کرنے دیتی ان حسین آنکھوں کا۔۔”
وہ پھر سے بولا
میرے ہاتھ پسینے سے بھیگنے لگے۔۔۔
“کیسا لگ رہا ہے۔۔۔ مسز ارسل بن کے۔۔۔۔”
وہ کسی طرح باز نہیں آرہا تھا۔۔۔
“اب تو جواب دے دیں۔۔۔ کان ترس گئے آپکی کھنکتی آواز سننے کے لیے۔۔۔۔”
اس بار مسکراہٹ اپنے آپ میرے لبوں پہ پھیل گئی۔۔۔
“یہ چیز۔۔۔۔ ! اب لگتا ہے۔۔۔ ہمارا بھی نصیب بدلے گا”
اسکی نظریں میرے چہرے پہ ہی جمی تھیں
یقین نہیں ہوتا کہ۔۔۔ ہم دونوں اتنے لوگوں کے بیچوں بیچ بیٹھے تھے۔۔۔ ایسے لگتا تھا۔۔ اور کوئی ہے ہی نہیں۔۔ صرف وہ ہے اور میں،۔۔۔۔
“ارسل بھائی۔۔۔ ذرا دھیان سے۔۔۔ نظر نہ لگا دیجئے گا۔۔۔”
سعدیہ باجی نے جھک کے سر گوشی کی
“ہم نے کیا نظر لگانی ہے۔۔۔ ہم تو چاہتے ہیں کسی کی نظر ہمیں لگے۔۔۔ کھل کے دیدار تو ہو۔۔۔”
وہ مسکر ا کے بولا
“واہ۔۔۔ شاعرانہ مزاج میں لگ رہیں آپ۔۔۔۔”
سعدیہ باجی بولیں
“صحیح کہتی ہیں آپ۔۔۔ ہمارا مزاج تو سارا زمانہ ہی پرکھ لے گا۔۔۔ پر ہم کیسے کسی کا مزاج پرکھیں۔۔ کوئی راستہ نظر نہیں آتا”
وہ پھر سے میری طرف دیکھنے لگا۔ سعدیہ باجی مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئیں
“مزاج پرکھنے کے لیے ۔۔۔ آپکی یہ تیر جیسی آنکھیں ہیں نا۔۔۔ جو دور سے ہی ٹھیک نشانے پہ جا لگتی ہیں۔۔”
میں نے لب کشائی کی۔۔۔
“اوہ میرے خدا۔۔۔۔ کیا یہ آواز حقیقت تھی یا میرے دل کا وہم۔۔۔۔؟ “
وہ بولا۔۔۔
“وہم کو حقیقت بننے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔۔ اگر تھوڑی کوشش کی جائے۔۔۔”
میں نے پھر سے جواب دیا
“تو میرے دل میں ایک اور وہم جاگا ہے۔۔۔ کہ یہ پلکوں کے دریچے ابھی کھلیں گے۔۔۔ اور انکے پیچھے چھپی کسی کی جھیل سی گہری آنکھوں سے اٹھتی موجیں میرے دل کےطوفان سے جا ٹکرائیں گی۔۔۔”
وہ بولا
“پھر دیکھتے ہیں۔۔ طوفان تھمتا ہے یا لہریں پلٹی ہیں۔۔۔”
میں نے اسی کے انداز میں جواب دیا
میری پلکیں اٹھیں۔۔۔ اور نظر اسکے چہرے پہ جم گئی۔۔ اس بار میں نے ٹھان لی تھی۔۔۔ تب تک یہ پلکیں نہیں جھکیں گی جب تک وہ نظریں نہیں جھکا لیتا۔۔۔۔ اس نے اپنی شرارتی مسکراہٹ سے مجھے زیر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی پر اس بار میں جیتنا چاہتی تھی۔۔۔
“لو ۔۔! میں ہار مانتا ہوں۔۔۔۔۔”
اس نے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔
