Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07

Surkh Jora by Zoya Hassan Episode07

مجھے میرے کانوں پہ یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
کسی کے لیے چاہے یہ بات کتنی تکلیف دہ کیوں نہ ہو پر میرے دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑی تھی۔۔۔
چاہے ڈرتے ہوئے ہی سہی پر انکے دل میں اتنی سی جگہ تو ہے۔۔۔۔ میرے لیے یہی کافی ہے
حقیقت کھلنے کے بعد سب ایک ایک کرکے وہاں سے چلے گئے۔۔۔ کمرے میں اب صرف دادی اور میں رہ گئے تھے۔۔۔ سب کے جانے کے بعد دادی نے مجھے گھورا۔۔ لیکن کوئی بات نہیں کی۔۔۔
دادی کے سونے کے بعد میں بستر پہ جا لیٹی
ایک دن میں سب کچھ کیسے بدل گیا تھا۔ جہاں ایک طرف میں بابا کے ایک عمل سے بے حد خوش تھی۔ وہیں نادیہ اور سعدیہ باجی کے درمیان کی سرد جنگ جسکی وجہ صرف میں ہوں۔۔۔ مجھے پریشان کررہی تھی۔۔۔
اس سب میں ایک اور خیال میری دھڑکنیں بڑھا رہا تھا۔۔۔ وہ اجنبی۔۔۔ جو میری پوری زندگی پہ اثرانداز تھا۔ ۔۔ اسکا چہرہ بار بار آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔۔۔
میں اس چیز میں الجھی تھی کہ میں پریشان ہوں یا خوش۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
٭٭٭٭٭
ناشتے کے برتن دھو کے کیچن سے نکلی تو سعدیہ باجی اپنا بیگ اٹھائے کمرے سے باہر نکل رہی تھیں۔۔ انکو جاتا دیکھ کے میری پریشانی بڑھ گئی۔۔
“سعدیہ باجی۔۔۔ ! آپ جارہی ہیں۔۔۔؟”
میں نے پاس جا کے پوچھا
ان کی سوجی ہوئی آنکھیں صاف پتا دے رہی تھیں کہ وہ رات بھر روتی رہی ہیں۔
“ہاں۔۔ رانی میں جا رہی ہوں۔۔۔ لیکن تمہاری شادی پہ ضرور آؤں گی۔۔۔” انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
“لیکن۔۔۔اتنی جلدی۔۔۔ دو دن ہی تو ہوئے ہیں آپکو آئے ہوئے۔۔۔ کچھ دن اور رک جاتیں۔۔۔” میرے دل میں انکے جانے کا دکھ تھا
“سوچ کے تو یہی آئی تھی۔۔۔ لیکن۔۔۔ اب جانا پڑے گا۔۔۔۔” وہ اداس ہوگئیں
“مجھے معاف کردیں۔۔۔ میری وجہ سے آپکو سب کا غصہ برداشت کرنا پڑا۔۔۔ ” میری آنکھیں نم ہونے لگیں
“پگلی۔۔۔ ! رو کیوں رہی ہو۔۔۔ تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔” انھوں نے آگے بڑھ کے مجھے گلے لگا لیا
ایک وہی تو تھیں جن کو میری پرواہ تھی۔۔ میری زندگی اب جس موڑ پہ تھی ۔۔ اس میں ایسے ہی شخص کی مجھے ضروت تھی۔۔۔ لیکن وہ بھی چھوڑ کے جارہی تھیں۔۔۔ میں ٹوٹنے لگی ۔۔
“مت رو۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ بس دعا کرو جلدی سے تمہاری شادی ہوجائے اور اس سب سے جان چھوٹ جائے۔۔۔ تم بہت ہمت والی ہو۔۔۔ تھوڑا سا اور صبر کرلو۔۔۔” وہ بھی اپنے آنسو روک نہیں پائیں۔۔۔
تایا کی موٹر سائیکل کا ہارن بجا۔۔ میں نے انکا بیگ اٹھایا اور دروازے تک چھوڑنے آئی۔۔۔ ایسا پہلی بار ہورہا تھا دادی ، نادیہ باجی اور تائی انھیں دروازے تک چھوڑنے نہیں آئے۔۔ ان سب کے روّیے سے میں بہت دکھی تھی۔۔۔ سعدیہ باجی کو بھی یقیناً بہت برا لگ رہا ہوگا۔۔۔ لیکن ہم دونوں بے بس تھے۔۔۔ تایا کے پیچھے موٹر سائیکل پہ سوار ہوئیں۔۔ وہ انھیں بس سٹاپ تک چھوڑنے جارہے تھے۔ ایک سرد آہ میرے اندر سے نکلی۔۔۔ اور میں نے دروازہ بند کردیا۔
دوپہر ہونے کو آئی تھی، رخسانہ کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا وہ بغیر اطلاع کیے غائب ہوئی ہو۔۔۔ تائی اٹھتے بیٹھتے اسے کوس رہی تھیں۔۔۔ میں پریشان تھی کہ سب خیر ہو۔۔
میں پوری کوشش کررہی تھی کہ رخسانہ کے سارے کام میں خود سمیٹ لوں لیکن تائی کے تیور ایسے تھے کہ وہ مجھے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دے رہی تھیں۔۔
میں نے ڈر کے مارے ضد نہیں کی کہ رخسانہ کا سارا غصہ مجھے پہ ہی نہ نکال دیں۔۔۔
تیمور نے جیسے ہی اپنی سائیکل گھر کے اندر گھسائی تائی نے اسے آواز دی کے پچھلے پاؤں واپس پلٹے اور رخسانہ کو بلا لائے۔۔۔ رخسانہ ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں رہیتی تھی۔۔۔ تیمور نے سائیکل واپس گھمائی۔۔۔ تائی نے دھمکی دی کہ اگر رخسانہ آج کام پہ نہیں آئی تو اسکی تنخواہ کاٹ لی جائے گی۔۔۔
ظہر کا وقت ہوا میں نے دادی کے لیے جائے نماز بچھائی۔۔۔ وہ نماز کے لیے کھڑی ہوئیں۔۔ گھر کا دروازہ بجنے لگا۔۔۔ میں نے جا کے دروازہ کھولا۔۔۔ سامنے ہی رخسانہ کھڑی تھی۔۔۔ اسکا چہرہ اترا ہوا تھا۔۔۔
“کہاں رہ گئی تھی تم۔۔۔ ؟ سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔۔ ؟” میں نے اس سے پوچھا
“ہاں سب ٹھیک ہے۔۔۔ ” وہ یہ کہہ کے اندر آگئی
“تو اتنی دیر کیوں لگا دی۔۔۔؟” میں نے پوچھا
وہ میری بات کا جواب دیے بنا ہی آگے بڑھ گئی
مجھے اسکے ایسے انداز پہ حیرانی ہوئی۔۔۔ تائی سیڑھیاں اترتی نیچے آرہی تھیں۔۔ انکی نظر رخسانہ پہ پڑی تو وہیں سے گرجیں۔۔۔
“آگئی مہارانی۔۔۔۔ ؟”
رخسانہ رک گئی۔۔ اور میں برآمدے میں آکے کھڑی ہوگئی۔۔۔
“چھٹی کرنی تھی تو کل بتا کے کیوں نہیں گئی۔۔ میں کچھ اور انتظام کرلیتی۔۔۔ “
“باجی۔۔۔ ! گھر پہ مہمان آئے ہوئے تھے۔۔۔” اس نے سر جھکا لیا
“مہمان آئے تھے یا جو بھی ہوا تھا۔۔۔ میں تمہیں کام کے پیسے دیتی ہوں۔۔۔ “
رخسانہ چپ ہوگئی
“میں نے زیادہ ہی تمہیں سر چڑھایا ہوا ہے۔۔۔ اگر ٹھیک طرح سے کام نہیں کرنا تو بتا دو میں کوئی اور ڈھونڈ لیتی ہوں۔۔۔ ایسی نخرے والی نہیں چاہیے مجھے۔۔۔۔ ” تائی کا غصہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
رخسانہ ایسے چپ چاپ کھڑی تھی جیسے تائی کی آواز اسکے کانوں میں پڑ ہی نہ رہی ہو، میں اس کا چہرہ پڑھنے لگی۔۔۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔۔ کچھ تو ہوا ہے۔۔ ورنہ تو اس نے اب تک دس بہانے بنا کے تائی کا غصہ ٹھنڈا کر لیا ہوتا۔۔۔۔ لیکن وہ خاموش تھی۔
“چل ۔۔۔ جاکے کپڑے دھو۔۔۔ دو دن سے ڈھیر لگا ہوا ہے” تائی نے اسے حکم دیا
وہ پچھلے صحن کی طرف چلی گئی۔۔۔ میں تائی کے سامنے اسکے پیچھے نہیں جا سکتی تھی اس لیے انکے ادھر ادھر ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
سعدیہ باجی کے جانے کے بعد ایک وہی تو رہ گئی تھی جس سے میں دل کی باتیں کر سکتی تھی۔ وہ سعدیہ باجی کے طرح سب سے میرے لیے لڑ تو نہیں سکتی تھی لیکن اس سے بات کرکے دل کا بوجھ ضرور ہلکا ہوجاتا۔۔۔ آج تو وہ خود اتنی پریشان لگ رہی تھی۔
میں دادی کے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ انھوں نے الماری کھولی ہوئی تھی۔۔
“سن بستر کی چادر اور تکیوں کے کور بدل دے۔۔۔ اتنے دن ہوگئے ہیں۔۔ تمہیں خود سے تو خیال آئے گا نہیں۔۔۔” وہ بولیں
“جی دادی کر دیتی ہوں۔۔۔۔ ” میں بھی الماری کی طرف بڑھی
“ساری چادریں میں نے پیٹی میں رکھوا دی تھیں۔۔۔” انھوں نے بتایا
“ہاں۔۔۔ یاد آیا ۔۔ چادریں تو دھو کے میں نے پیٹی میں رکھ دی تھیں۔۔۔” میں نے سر کھجایا
“چل جا ۔۔ تائی سے سٹور کی چابی لے اور لے آ۔۔۔۔” انھوں نے الماری بند کی
تائی کا نام سن کے میں دادی کی طرف دیکھنے لگی۔۔ وہ اس بات سے اچھی طرح سے واقف تھیں کہ تائی آجکل مجھ سے بات نہیں کررہی تھیں۔۔۔
“اچھا۔۔۔ ! میں لے دیتی ہوں۔۔۔ ” وہ بولیں
میں دادی کے پیچھے پیچھے چل پڑی
دوپہر کے کھانے کے بعد تائی اکثر لیٹ جایا کرتی تھیں۔۔۔ اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں لیٹی تھیں۔۔ میں باہر برآمدے میں رک گئی اور دادی اندر چلی گئیں۔۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے سٹور کی چابی مجھے پکڑائی۔۔۔ میں سٹور کی طرف چلی گئی اور وہ اپنے کمرے میں۔۔۔
بابا کے گھر کی سیڑھیوں کے عین نیچے سٹور تھا لیکن سٹور کا دروازہ پچھلی جانب تھا۔۔۔ اس طرف کم ہی لوگ جایا کرتے تھے۔۔۔ بس سٹور میں سے کچھ لینا ہوتا تو چکر لگتا۔۔
ہاتھ رکھتے ہی مجھے محسوس ہوا کہ دروازہ کھلا ہوا ہے۔ پہلے پہل تو میں یہی سمجھی کے تائی درازہ بند کرنا بھول گئی ہیں۔۔۔ لیکن مجھے اندر سے کھسر پھسر کی آواز آنے لگی۔۔ میں اندازے لگانے لگی کہ آخر کون اندر ہو گا۔۔۔ ایسے جانا مناسب ہے یا نہیں۔۔۔۔
دروزاے سے کان لگا کے سننے کی بھی کوشش کی لیکن ٹھیک طرح سے کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔
میں اسی سوچ میں الجھی تھی اندر جاؤں یا کسی کو بلاؤں یہاں۔۔۔۔ ایکدم سے دروازہ کھلا۔۔۔۔
ہماری پڑوسن شاہدہ چاچی کا بیٹا نوید اندر سے برآمد ہوا۔۔۔ مجھ پہ نظر پڑتے ہی اسکے چھکے چھوٹ گئے۔۔۔۔ اسکے پیچھے نادیہ باجی کھڑی تھیں۔۔۔ میں انھیں دیکھ کے ٹھٹکی اور مجھے دیکھ کے انکے رنگ فق پڑ گئے۔۔۔۔
نوید تو اناً فاناً دیوار پھلانگ کے نکل گیا۔۔۔ نادیہ باجی اب بھی وہیں تھیں۔۔۔
“اگر یہ بات تم نے کسی کو بتائی تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔ یاد رکھنا۔۔۔۔ ” انھوں نے انگلی کے اشارے سے دھمکی لگائی۔۔ میں تو پہلے ہی یہ سب دیکھ کے کانپ رہی تھی۔۔۔ اور زیادہ خوفزدہ ہوگئی۔۔۔
وہ مجھے گھورتی وہاں سے چلی گئیں۔۔۔
میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے۔۔۔۔
پیٹی سے چادریں نکال کے میں نے سٹور بند کیا کمرے میں آکے بستر کی چادریں اور تکیوں کے کوّر بدل دیے۔۔۔
نادیہ باجی کی اتنی گری ہوئی حرکت اپنی آنکھوں سے دیکھ مجھے بہت افسوس تھا۔ نا تو میں کسی کو اس بارے میں بتا سکتی تھی اور نہ ہی خود کچھ کر سکتی تھی۔ میرے دل میں ہول اٹھ رہے تھے کہ اگر میری جگہ کسی اور نے انھیں دیکھ لیا ہوتا تو کیا ہوتا۔۔۔ پورے گھر پہ قیامت ٹوٹ پڑتی۔۔۔ دن دہاڑے۔۔۔ اسطرح ایک اجنبی لڑکا گھر میں گھس آیا۔۔۔ گھر کی بیٹی اپنے ہاتھوں سے ماں باپ کی عزت خاک میں ملاتی رہی۔۔۔ اوہ خدایا۔۔
“یا اللہ اب سب تیرے ہاتھ میں ہے۔۔۔ تْو ہی کوئی راستہ دکھا۔۔۔۔”
میں دل ہی دل میں دعائیں کرنے لگی
“تجھے کیا سانپ سونگھ گیا۔۔۔ ؟ رنگ اڑا ہوا ہے۔۔۔” دادی نے میرا چہرہ پڑھا
“کچھ نہیں۔۔۔ بس ایسے ہی۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔” میں اپنے حواس قابو میں کرنے لگی
“اچھا۔۔ یہ پرانی چادریں لے جا۔۔ اور ابھی دھو دے۔۔۔ شام تک سوکھ جائیں گی تو سٹور میں رکھ دینا۔۔”
میں نے چادریں سمیٹیں اور پچھلے صحن میں آگئی۔۔۔۔ واشنگ مشین کے شور سے پتا چل رہا تھا کہ رخسانہ نے کپڑے دھونا شروع کردیے ہیں۔۔۔ میں مشین کے پاس آکے کھڑی ہوگئی۔۔ ادھر ادھر دیکھا لیکن رخسانہ نظر نہیں آئی۔۔ میں سمجھی شائد تائی نے کسی اور کام کے لیے بلا لیا ہوگا۔۔۔ چادریں بھگونے کے لیے میں ٹب ڈھونڈتے دھونڈتے کونے میں پہنچی۔۔۔ وہاں ایک اور ہی منظر تھا۔۔۔
رخسانہ گھٹنوں پہ سر رکھے سسکیاں لے رہی تھی۔۔۔۔
میں اسکی طرف لپکی اور اس کے کندھوں سے پکڑ کے ہلایا۔۔۔
“رخسانہ کیا ہوا۔۔۔ ؟”
اس نے سر اوپر اٹھایا۔۔۔ رو رو کے حالت غیر ہورہی تھی اسکی۔۔۔
“پاگل لڑکی۔۔۔ بتاؤ کیا ہوا۔۔۔؟” میں نے اسے پھر سے ہلایا
“رانی میرا رشتہ ٹوٹ گیا۔۔۔۔ !!” وہ سسکی لے کے بولی
“کیا۔۔۔! کیسے۔۔۔۔؟” مجھے اسکی بات سن کے صدمہ لگا
وہ پھر سے سسکیاں لینے لگی۔۔۔
میں نے اسے گلے سے لگایا۔۔۔ کافی دیر وہ یونہی روتی رہی اور میں اسے چپ کراتی رہی۔
وہ چپ ہوئی تو میں نے رشتہ ٹوٹنے کی وجہ پوچھی۔۔۔
“سب کچھ اچھا بھلا چل رہا تھا۔۔۔ شفیق بھی خوش تھا۔۔۔ اللہ جانے اچانک کیا ہوا۔۔۔”
وہ بتانے لگی۔۔۔
میں غور سے سنتی رہی
“آج صبح ہی میری خالہ آئیں اور کہنے لگیں کہ شفیق مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا اس لیے وہ رشتہ ختم کررہی ہیں۔۔۔” وہ بولی
“ہیں۔۔۔ ! ایسے کیسے رشتہ ختم ۔۔۔؟”
“ہمارے گھر میں صبح سے ہی قیامت برپا ہے۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ میں نے تو آج کام پہ بھی نہیں آنا تھا۔۔۔ امّاں نے اس ڈر سے بھیج دیا کہیں تمہاری تائی کام سے نہ نکال دیں۔۔۔۔”
“رخسانہ۔۔۔ ! تم کہتی تھی شفیق اتنا اچھا ہے۔۔ تمہاری تو اس سے بات چیت بھی ہوتی تھی۔۔۔ ایکدم سے ایسا کیا ہوا۔۔۔؟”
“مجھے بھی خالہ کی بات پہ یقین نہیں آیا۔۔۔ لیکن جب میں نے شفیق کو فون کیا تو اس نے خالہ کی بات کی تصدیق کردی۔۔۔ ” وہ پھر سے رونے لگی
“تم نے اس سے وجہ نہیں پوچھی۔۔ کہ وہ ایسا کیوں کررہا ہے۔۔۔؟”
“پوچھا۔۔۔ سب پوچھا۔۔۔ روئی گڑگڑائی۔۔۔۔ لیکن وہ چپ رہا۔۔۔ کچھ نہیں بولا۔۔۔”
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔ ضرور کوئی تو وجہ ہوگی۔۔۔” میں سوچنے لگی
“ہاں۔۔ ہے وجہ بہت بڑی وجہ ہے۔۔۔۔ “
“کیا۔۔۔۔؟”
“اسے کسی اور لڑکی سے پیار ہوگیا ہے۔۔۔ کوئی اور پسند آگئی اسے۔۔”
مجھ پہ حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔ محبت تو تا حیات رہنے والا جذبہ ہے۔ یہ کیسی محبت ہے آج ایک سے ہوئی تو کل دوسرے سے۔۔۔
“تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے رخسانہ۔۔۔۔ ! ایسا نہیں ہوسکتا”
“کیسی غلطی فہمی۔۔۔ ؟ میں نے اسے جب ماں کی قسم دی تو اس نے خود اپنے منہ سے بتایا ہے مجھے۔۔۔۔ “
وہ پھر سے رونا شروع ہوئی۔۔۔ میں کافی دیر اسے تسلیاں دیتی رہی۔۔۔
ہم دونوں کے سر پہ کام کا بہت بوجھ تھا۔۔ اس لیے اپنے اپنے دکھ بھول کے کام میں لگ گئے۔۔۔ رخسانہ کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جارہی تھی۔ ایک تو اتنے بڑے صدمے سے دوچار تھی بے چاری۔۔ اوپر سے کام۔۔۔
میں نے جلدی جلدی چاداریں دھوئیں۔۔۔ عصر کا وقت ہونے والا تھا۔۔ عصر کی نماز کے بعد دادی کے لیے قہوہ بنانا تھا۔۔۔ ذرا سی بھی دیر ہوئی تو کوسنے کا ایک اور بہانا مل جائے گا انھیں۔۔۔
رخسانہ نے اب بھی کپڑوں کا ڈھیر لگایا ہوا تھا۔۔۔ لیکن میں نے اپنا کام ختم کرلیا ۔۔ جاتے جاتے میں نے اسے گلے لگایا اور تسلی دی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ مسجد سے اذان کی آواز میرے کان میں پڑی تو میں نے دوڑ لگا دی۔۔۔ چند قدم چل کے ایکدم میرے دماغ میں ایک بات آئی۔۔۔ میں نے رخسانہ کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔۔ وہ پاس آئی
“سن۔۔۔ ! یہ جو بھی کچھ ہوا ہے اس بارے میں یہاں کسی سے ذکر مت کرنا۔۔۔ کوئی فائدہ نہیں ہے” میں نے اسے مشورہ دیا
“ہاں صحیح کہہ رہی ہو تم۔۔۔ ان لوگوں کو کیا فرق پڑنا ہے۔۔۔ ” اس نے میری ہاں میں ہاں ملائی۔۔
میں اسکا کندھا تھپتھپا کے مڑی تو سامنے ہی نادیہ باجی کھڑی تھیں۔۔۔ میں انھیں دیکھ کے چونکی۔۔۔ انھوں نے میری کلائی سے دبوچا اور کونے میں لے گئیں۔۔ رخسانہ یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔
“کہا تھا نہ تجھے کسی کے سامنے منہ نہ کھولنا۔۔۔ پر تم باز نہیں آئی۔۔۔ بتا دیا اپنی سہیلی کو۔۔۔” انکی آنکھوں سے آگ برس رہی تھی۔۔۔
“نادیہ باجی۔۔۔ خدا کی قسم میں نے رخسانہ کو کچھ نہیں بتایا۔۔۔۔ آپ چاہے تو پوچھ لیں۔۔۔” میری آواز کانپ رہی تھی
“میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے ۔۔۔ بیوقوف سمجھا ہے مجھے۔۔۔۔ ؟” وہ چلانے لگی۔۔۔
رخسانہ دور کھڑی یہ سارا منظر تو دیکھ رہی تھی لیکن اصل بات اسے پتا نہیں تھی۔۔
“اب دیکھنا تمہارے ساتھ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔ ” انھوں نے میرا بازو جھٹکا
میرے اوسان خطا ہوئے کہ وہ کرنے کیا والی ہیں۔۔۔
“میں اپنی ماں کی قسم کھا کے کہتی ہوں۔۔۔ میرا یقین کریں۔۔۔” میں گڑگڑائی۔۔۔۔
وہ جاتے جاتے مڑیں
” جو کچھ تم نے دیکھا ہے۔۔۔ یہ سب ابھی کے ابھی تمہارے سر پہ پڑنے والا ہے۔۔ میں جا کے سب کو یہی بتاؤں گی کہ نوید کے ساتھ سٹور میں تم تھی۔۔۔ اور نوید خود اس بات کی تصدیق کرے گا۔۔۔ پھر میں دیکھتی ہوں۔۔۔ کیسے تمہاری شادی ہوتی ہے۔۔۔ یہاں سے بھی دھکے مار کے نکال دیں تمہیں۔۔۔”
ان سے کچھ بعید نہ تھا۔۔ میں ان کے پاؤں پڑ گئی۔۔۔
“خدا را ایسا ظلم نہ کریں۔۔۔ میری زندگی برباد ہوجائے گی۔۔۔”
“تمہیں میں نے وارننگ دی تھی لیکن میری بات تمہیں سمجھ نہیں آئی۔۔۔”
“میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا آپ خود رخسانہ سے پوچھ لیں۔۔۔”
“اگر ایسی بات ہے تو پھر تم رخسانہ سے کس بات کو چھپانے کا بول رہی تھی۔۔۔؟”
وہ میری طرف دیکھ کے بولیں
“وہ یہ بات نہیں تھی۔۔۔ میرا یقین کریں۔۔۔” میں کھڑی ہوکے بولی
“تو کیا بات تھی۔۔۔ ؟ “
“رخسانہ کا رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔۔۔ میں بس اسی بارے میں اس سے کہہ رہی تھی کہ اس بات کا ذکر کسی سے نہ کرے۔۔۔۔”
“میں نہیں مانتی۔۔۔۔”
“آپ خود رخسانہ سے پوچھ لیں۔۔۔۔ “
میں نے رخسانہ کو اشارہ کیا تو وہ ہمارے پاس آکے کھڑی ہوگئی
“یہ تمہیں کیا بات چھپانے کا بول رہی تھی۔۔۔۔ ؟”نادیہ باجی اس سے مخاطب ہوئیں
“کچھ نہیں باجی۔۔۔ ! ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔ ” رخسانہ ہڑبڑاتے ہوئے بولی
“دیکھا تمہاری سہیلی بھی تمہاری طرح جھوٹی ہے۔۔۔۔ ” نادیہ باجی پھر سے غصے میں آگئیں
“نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔۔۔ رخسانہ صحیح بات بتاؤ۔۔۔ تم کیوں رو رہی تھی۔۔۔ کس لیے پریشان تھی۔۔ سب سچ سچ بتا دو۔۔۔ خدارا۔۔۔” میں رخسانہ کے سامنے گڑگڑانے لگی
رخسانہ اس ساری صورت حال سے پریشان ہوگئی۔۔ وہ اس شش و پنج میں تھی کہ بتائے یا نہ بتائے۔۔۔ آنکھوں کے اشارے سے وہ مجھ سے سوال کررہی تھی۔۔ میں نے سر بھی ہلایا کہ سب سچ بتا دے لیکن اسے میری بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔
“اب تم دونوں اپنا یہ ڈرامہ بند کرو۔۔۔ اشارے مجھے خوب سمجھ آتے ہیں۔۔۔”
“نادیہ باجی۔۔۔! آپکو اللہ کا واسطہ ہے مجھ پہ رحم کریں۔۔۔ ” میں نے ہاتھ جوڑ لیے
“ٹھیک ہے۔۔ اگر تم نے اسے بتایا بھی ہے تو اس بات کا وعدہ کرو تم دونوں یہ بات اپنی حد تک رکھو گی۔۔۔”
“ہاں۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں یہ بات کسی کو پتا نہیں چلے گی۔۔۔۔ ” میں اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
“ایسے نہیں۔۔۔ تمہیں میری ایک اور بات بھی ماننی پڑے گی۔۔۔۔” وہ میری آنکھوں میں دیکھ کے بولیں
“کونسی بات۔۔۔؟ میں آپکی ہر بات ماننے کو تیار ہوں۔۔” میں نے سنجیدہ ہو کے جواب دیا
“سوچ لو۔۔۔ میں کچھ بھی کہوں گی تو تم مان لو گی۔۔۔؟” وہ تصدیق کرنے لگی
“ہاں۔۔۔ میں تیار ہوں۔۔ آپ بتائیں کیا کرنا ہے۔۔؟” میں نے حامی بھری
“شادی سے انکار کر دو۔۔۔۔!”
انکی بات کسی تیر کی طرح میرے دل میں جا کے لگی۔۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔؟”
“ہاں ۔۔ میں صحیح کہہ رہی ہوں۔۔۔ اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی۔۔”
مجھے میرے کانوں پہ یقین نہیں آرہا تھا کہ سچ میں وہ میرا رشتہ تڑوانا چاتی تھیں۔۔ اب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کس حد تک مجھ سے نفرت کرتی ہیں۔۔
“خدا کا خوف کریں آپ۔۔۔ کیا بگاڑا ہے اس معصوم نے آپکا۔۔۔۔” رخسانہ جو اب تک یہ سارا ڈرامہ دیکھ رہی تھی پھٹ پڑی
“او۔۔۔ بی بی۔۔۔ ! اپنےکام سے کام رکھو۔۔۔ اس معاملے میں مت پڑو۔۔۔ ورنہ امّی سے کہہ کے ابھی کام سے فارغ کروا دوں گی تمہیں۔۔۔” انھوں نے رخسانہ کو بھی معاف نہیں کیا۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ نکلوا دیں مجھے کام سے لیکن میں آپکو ایسا ظلم نہیں کرنے دوں گی۔۔۔ ” رخسانہ نے جواب دیا
“رخسانہ چپ رہو تم۔۔ خدا کے لیے۔۔۔” میں نے اسے چپ کرایا
“دیکھو رانی۔۔۔ ! یہ رشتہ ویسے بھی ٹوٹ جائے گا۔۔۔ جب میں تمہارا بھانڈہ پھوڑوں گی تو کوئی بھی تم سے شادی کے لیے رضامند نہیں ہوگا۔۔۔ عین ممکن ہے دادی بھی تمہیں یہاں سے چلتا کردیں۔۔ اب یہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔ عزت کے ساتھ رشتہ ختم کرنا ہے یا پھر ذلیل ہوکے ۔۔۔۔؟” انھوں نے پوری طرح مجھے اپنے جال میں جکڑ لیا تھا۔۔۔
میں ایک ایسے اندھیرے کنوئیں میں جا گری تھی جس میں سے نکلنا ناممکن ہو چکا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *