Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

شاہد کوئی تراش کر قسمت سنوار دے....
اسی سوچ میں ھم عمر بھر پتھر بنے رہے....
لندن، برطانیہ کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ تقریباًً دو ہزار سال پرانی آبادی، جس کے تاریخی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بنیاد قدیم رومیوں نے رکھی تھی۔ اس آبادی کے قیام سے آج تک لندن بہت سے تحریکوں اور عالمگیر واقعات کا مظہر رہا ہے، جس میں انگریزی کا ارتقا، صنعتی انقلاب اور قدیم رومیوں کا احیاء بھی شامل ہیں۔
لیسٹر اسکوائر میں ییٹس کلب ؛
کلب میں داخل ہونے کے منتظر درجنوں لڑکے اور لڑکیاں بانہوں میں بانہیں ڈالے دروازے کے باہر قطار بنائے کھڑے تھے۔ سڑک پر نیم دائرے کی صورت میں کھڑے دیگر درجنوں افراد کی طرح، ان لوگوں کی نظریں بھی تھوڑے ہی فاصلے پر موجود تین نوجوانوں پر گڑی تھیں۔
کچھ دیر بعد سیکورٹی گارڈ نے باقی سب کو داخل ہونے دیا مگر ان سیاہ فام لوگوں کو پھر بھی انٹری نہیں ملی تھی۔
ان تینوں کا مسئلہ غریب ممالک سے آنے والے دوسرے سینکڑوں نوجوانوں کی طرح صرف کلب میں کسی لڑکی کے ساتھ ناچنا تھا۔ ناچنا بھی کیا بس جتنی دیر کے لئے بھی ممکن ہو سکے انہیں اپنی بانہوں میں لینا ہے۔
لڑکی کے جسم کو چھونے بلکہ ’لمس چرا لینے‘ کی اپنی اس خواہش کی تکمیل میں یہ لوگ ڈانس فلور پر مطلوبہ لڑکیوں سے التجا کرنے اور ان سے بھیک مانگنے سے لے کر چالاکی تک ہر حربہ آزماتے تھے۔
کسی بھی کلب کے اندر ڈانس فلور سے فاصلے پر کھڑے ہو کر اگر دیکھیں تو کسی لڑکی کے بدن کو چھو لینے میں لندن کے ان محروموں کی کامیابی اور ناکامی سے قطع نظر ان بھوکے شیروں پر صرف ترس آتا ہے۔ اور ان کا تعلق اگر آپ کے اپنے ملک سے ہو تو شرم بھی آتی ہے۔
رات بارہ بجنے کی دیر تھی کے دور دور تک مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سامنے سے آتی دو گوریوں کو بھی ایک شخص نے مبارکباد دی اور ان کے ہنسنے پر اس نے ’ون کِس، ون کِس‘ کہتے ہوئے بوسے کی ضد شروع کر دی۔ مرتی کیا نہ کرتی ان میں سے ایک نے منہ آگے کر دیا۔
ان سب جھمیلوں ایک شخص ایسا بھی تھا جو ہر ایک پہ بیزار نگاہ ڈالے بیٹھا تھا ان سب کی عجیب وغریب حرکات اسے وومنٹ کررہی تھیں مگر برداشت کیے کسی کے انتظار میں تھا ۔
"ہائے بیب لٹس ڈانس ووانا بی مائی پارٹنر ۔"باقی سب کی طرح اسے یہاں آنے کیلئے کسی کا عارضی سہارا نہیں لینا پڑا تھا ۔کچھ ہی دیر میں اسکا مطلوبہ شخص سامنے تھا جو ان تین سیاہ فام لوگوں میں سے ایک تھا۔
"اب تک تم مجھ سے کتنے پیسے لے چکے ہو جارڈن اسکے باوجود تم لوگ ایک چھٹانک بھر لڑکی کو نہیں ڈھونڈ سکے" غصے کی زیادتی سے اسکے ماتھے کے کونوں پہ دو رگیں نمودار ہوئیں ۔
"مسٹر تیج ہم اسے ہر جگہ تلاش کرچکے ہیں بٹ آئی تھنک شی مووڈ فرام ہیئر "
سامنے والا جتنا بھی طاقت ور تھا مگر اس سے کمزور ہی لگ رہا تھا آواز کی گرج ہی اسکو ڈرانے کو کافی تھی ۔
" اٹس آ لاسٹ چانس مجھے وہ لڑکی ہر حال میں چاہئیے۔"
اگرچہ اسکے سامنے موجود وہ سیاہ فام ہر طرح سے اس سے طاقت ور نظر آرہا تھا مگر جو پاور اسکے پاس تھی سامنے والا اپنا غصہ دبا گیا تھا۔
"مسٹر تیج کی گرے آنکھیں سامنے کا منظر دیکھ چندھیا سی گئی تھیں جسے وہ ہر جگہ ڈھونڈ چکا تھا وہ سامنے تھی اور جس حالت میں تھی اسکے تن بدن میں آگ لگا گئی تھی۔
وہ بنا کسی کو دیکھے اسکی طرف بڑھا تھا جورڈن نے اسکی جانب رخ کیا تو اسے دھچکا سا لگا تھا ابھی تو انہوں نے مسٹر تیج سے اور پیسے بٹورنے تھے اتنی جلدی انکا گیم اوور نہیں ہونا چاہیئے تھا اپنے ساتھیوں کو ایک نظر دیکھا برائن نے اسکا اشارہ سمجھتے سر ہلایا ۔
پورا کلب ایک دم اندھیرے میں نہا گیا لوگوں کی بھگدڑ مچی تھی تیج نے اندھیرے میں ہاتھ پاؤں چلائے مگر کچھ حاصل نہ ہوا تھا وہ اپنی منزل پہ پہنچنے سے پہلے ہی ناکام ہوچکا تھا ۔
لائٹس روشن ہوئیں ہر منظر واضع ہوا تھا جورڈن ابھی تک اپنے ادھورے ڈرنک کے ہمراہ اسکے انتظار میں تھا۔
"تم نے دیکھا جورڈ وہ ابھی یہی تھی تم کہتے تمہیں نہیں مل رہی وہ ادھر تھی گو اینڈ فائنڈ ہم۔ " میوزک کی ساز بلند ہورہے تھے جبکہ اسکے سر میں کسی ہتھوڑے کی طرح لگ رہے تھے جورڈن تک اپنی بات سمجھانے کو وہ چیخ رہا تھا۔
ایک مکروہ مسکراہٹ نے اسکے اور اسکے چہرےکا احاطہ کیا تھا اسکی یہ تڑپ پہلی بار اندازہ ہورہا تھا کہ وہ لڑکی اسکیلئے کتنی اہم تھی انکیلئے وہ گولڈن سپئرو ثابت ہوئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *