Satrangi Ishq Mera By Sanaya Khan Readelle50078 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
اُس نے گاڑی گھر کے سامنے روکی اور سامنے رکھا موبائل اٹھا کر اُسے دیکھنے لگا دو دن سے اُسے انتظار تھا کے شاید اُس کے فون پر روحی کا ِنمبر جگمگائے گا ہاں وہ اُس سے خفا تھا اُسے غصّہ دکھانا چاہتا تھا لیکن اُس کا غصّہ اُس کی محبت سے زیادہ قیمتی نہیں تھا وہ اُسے محض اپنی ناراضگی کی وجہ سے پھر کھونا نہیں چاہتا تھا وہ انتظار کر رہا تھا کے روحی اُسے منانے کی کوشش کریگی لیکن اُس کی خاموشی اب اُسے سچ میں غصّہ دلا رہی تھی
اُس نے فون جیب میں رکھا اور اندر چلا گیا اُس نے باہر موجود گاڑی پر شاید غور نہیں کیا تھا لیکن اندر عزیز صاحب کو بیٹھے دیکھ اُسے حیرت کا جھٹکا لگا اُس کی امی اُن کی خاطر کرنے میں لگی تھی لیکن وہ اُنھیں دیکھنے کے باوجود بغیر کوئی بات کیے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا
زار۔۔۔۔۔۔کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
رفعت نے اُسے روکتے ہوئے کہا
منسٹر صاحب تم سے ملنے آئے ہیں۔۔۔۔۔
اُسے آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے زبردستی مسکرائی وہ آکر اُن کے سامنے والی صوفہ چیئر پر بیٹھا لیکن اس کے دیکھنے کے انداز میں کوئی فرق نہیں آیا عزیز صاحب کو اسکا اکڑ دکھانا غصّہ تو دلا رہا تھا لیکن وہ خاموش رہے
جی کہیے۔۔۔۔۔۔۔۔
سرد لہجے میں کہتے ہوئی و آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اس حرکت پر رفعت نے شرمندہ ہو کر عزیز صاحب کو دیکھا
تم نے جو ہماری بیٹی کی جان بچائی اُس کا شکریہ ادا کرنے آئے ہے ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔یہ میرا کام ہے۔۔۔۔۔۔اتنی سی بات کے لیے۔۔۔۔۔آپ کو یہاں آنے کی تکلیف نہیں کرنی چاہیے تھی
اُن کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی وہ بول اٹھا تھا اور اپنی بات میں کاتے جانے پر عزیز صاحب اچھے خاصے بدمزہ ہوئے
تمہارے اسی اٹیٹود کی وجہ سے ہم تمہیں پسند نہیں کرتے ۔۔۔بات کرتے وقت گھمنڈ کو سرپر رکھنے والے لوگ ہمیں بلکل پسند نہیں
انہوں نے بمشکل اپنے لہجے کو سخت ہونے روکا زار دھیرے سے ہنسا
تب تو آپ خود کو بھی پسند نہیں کرتے ہو گے۔۔۔۔۔۔کیوں کے یہ ساری خوبیاں تو آپ میں مجھ سے بھی زیادہ ہے
زار کو کیسے بھی اپنا غصّہ تو نکالنا تھا ایسے ہی سہی
زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا بولے جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفعت نے اُسے ٹوکا اور ساتھ ہی ایک گھوری سے نوازا
ہم یہاں تم سے بحث کرنے نہیں آئے ۔۔۔۔۔۔بلکہ صرف اپنی بیٹی کی خوشی کے لیے اس رشتے کی رضامندی ظاہر کرنے آئے ہے۔۔۔یقین کرو ہمیں آج بھی تم اتنے ہی ناپسند ہو۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں ہماری بیٹی نے کیا دیکھ لیا تم میں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر منہ پھیرے بولے
آپ اس کی باتوں کا برا مت مانیے میں اس کی طرف سے آپ سے معافی ۔۔۔۔۔۔
زار کے جواب دینے کا ارادہ دیکھ کر انہوں نے اُسے چپ کا اشارہ کیا اور خود بولنے لگی
اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہم چلتے ہے شکریہ۔۔۔۔۔۔
انہوں نے جلدی سے کہہ کر اُنہیں روکا
بہت خوشی ہوئی آپ یہاں آئے۔۔۔۔۔۔۔خدا حافظ
رفعت نے اُنہیں مزید نا روکنے میں ہی بھلائی جانی ورنہ اُن کا بیٹا تو جنگ کے لیے تیار بیٹھا تھا
پاگل ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تو وہ یہاں آئے تم سے بات کی۔۔۔۔اور تم اُن سے اتنی بدتمیزی سے بات کیے جا رہے تھے
عزیز صاحب کو باہر تک چھوڑنے کے بعد وہ واپس آتے ہی اس پر برس پڑی
وہ آدمی اسی لائق ہے۔۔۔۔۔۔اُس نے جو میرے ساتھ کیا نا اُس کے بعد تو اُس کی شکل سے بھی نفرت ہی مجھے
اور روحی سے۔۔۔۔۔روحی سے کوئی مطلب ہے تمہیں یا نہیں۔۔۔۔جانتے ہو نا اُس کے پاپا کے دماغ کو تمہاری یہ بیکار باتیں سننے کے بعد کوئی حیرت نہیں ہے کے و واپس اپنی پرانی ضد پر آجائے۔۔۔۔تمہیں شاید روحی سے شادی کرنے کی جلدی نا ہو لیکن اب میں اُس کے پاپا کا ارادہ بدلنے سے پہلے اُسے اس گھر میں لانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔سنا تم نے
رفعت نے اس کی بات کاٹ کر غصے سے کہا وہ چپ رہا
لوگ محبوبہ سے روٹھ کر اُسے تنگ کرتے ہیں یہ اپنے سسُر کو غصّہ دکھا رہا ہے۔۔۔۔جانتا ہی نہیں جیسے اُنہیں۔۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے جن نکلا ہے۔۔۔کیا چاہتے ہو واپس چڑھ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے سنا کر اندر چلی گئیں جب کے وہ وہیں بیٹھا رہا
💜💜💜💜💜💜💜
میں اچھی تو لگ رہی ہوں نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سوال وہ کوئی ساتویں بار پوچھ رہی تھی اندر ہی اندر زار غصّہ ہے یہ خیال ستا رہا تھا اور پریشانی اس کے چہرے پر نظر آرہی تھی
ہاں بہت اچھی لگ رہی ہے۔۔۔ڈونٹ وری وہ ڈر کر بھاگے گا نہیں تم سے۔۔۔۔۔
نینا نے بیزاری سے جواب دیا وہ سب اُسے سمجھا سمجھا کر تھک چکیں تھی کے نارمل ہو جائے ٹینشن نا لیں لیکن روحی کو بےچینی ہو رہی تھی زار اس سے ڈھنگ سے بات جو نہیں کر رہا تھا اُن دونوں کا دوبارہ نکاح ہوا تھا اور اس بار بہت بڑا جشن رکھا گیا تھا جیسے عزیز راجپوت کی اکلوتی بیٹی کا ہونا چاہیے رخصتی کے وقت دونوں کو ساتھ بیٹھایا گیا تھا لیکن یہاں بھی زار نے درمیان میں فاصلھ قائم رکھا تھا
ہائے کتنا ہینڈسم لگ رہا ہے آج تو۔۔۔۔۔۔کہیں میرا سچ میں ہی دل نہ آجائے اس پر۔۔۔۔۔۔۔
نینا نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تو روحی نے اُسے گھورا اور جب اس نے دوبارہ زار کو دیکھا تو چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی وہ واقعی کسی شہزادے کی طرح لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا ہر روپ ہی روحی کو بہت دلکش لگتا تھا چاہے وہ غصّہ ہو۔۔۔۔۔۔مسکرائے۔۔۔۔یا ناراض ہو اس کا ہر انداز جدا تھا
زار تم اب تک ناراض ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیرے سے بولی جب فوٹوگرافر کے کہنے پر وہ اس کے قریب آیا تھا
تم نے جو غلطی کی ہے وہ بہت بڑی ہے۔۔۔۔۔اس کی سزا تو مل کر رہے گی تمہیں۔۔۔۔۔
وہ اس کی جانب دیکھ کے بولا اور روحی کو مزید پریشان کے گیا
💜💜💜💜💜
غصّہ تو بہت ہے تم پر۔۔۔۔لیکن ہمارا غصّہ ہماری بیٹی کی خوشی سے بڑھ کر نہیں ہے ۔۔۔۔اسی لیے باپ بن کر ریکویسٹ کر رہے ہیں تم سے ہماری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اس بار نا وہ اپنے غصے کو جیتنے دینا چاہتے تھے نا اپنی انا کو
فکر مت کیجئے میرے لیے مجھ سے پہلے آپ کی بیٹی آتی ہے اسی لیے خود سے زیادہ خیال رکھوں گا اس کا۔۔۔۔۔۔تب آپکو بھی افسوس ہوگاکہ کتنے غلط تھے آپ۔۔۔۔۔۔۔
زار اُن کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بولا انہوں نے آگے بڑھ خود اُسے گلے لگایا اور اس پل اُن کا جھکنا زار کی ہر ناراضگی کو دور کر گیا
ہم اس دن کا بےصبری سے انتظار کرے گے۔۔۔۔۔
وہ اس کے گلے لگے ہوئے بولے اور وہ دھیرے سے مسکرایا
💜💜💜💜💜💜💜
وہ کمرے میں ادھر سے اُدھر ٹہلتی اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی
کیا ہوا کیوں اتنی پریشان ہو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے
رفعت اس کا بیگ لے کر اندر آئی تو اس کے چہرے کو نوٹ کرتے ہوئے بولیں
امی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے,۔۔۔۔۔زار ناراض ہے مجھ سے اتنے دن میں ایک بار بھی بات نہیں کی , ۔۔۔سمجھ نہیں آرہا کیسے بات کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے رفعت کو اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہا
امی کیا آپ کو بھی لگتا ہے کے میں غلط ہوں
اُن کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اُن سے پوچھنے لگی
بلکل نہیں کیوں کے میں خود ایک عورت ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ایک لڑکی اکثر جب رشتوں کے درمیان پھنس جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے لیے مشکل ہوجاتا ہے کسی ایک کو چننا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ایسے میں ہم دیکھنے والے صرف اُسے برا بھلا ہی کہہ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے سمجھنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔تم نے اپنے پاپا کو چنا کیوں کے تمہیں ڈر تھا اُنھیں کھو نہ دو۔۔۔۔۔۔۔تم نے جو کیا اس میں کچھ غلط نہیں اگر غلط ہوتا تو آج خدا تمہارا ساتھ نہیں دیتا۔۔۔۔۔تمہیں ایک امتحان سے گزرنا تھا جس میں تم پاس ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔اور میں زار کو جانتی ہوں وہ بھی سمجھتا ہے کے تم غلط نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اُس کا دل ٹوٹا تھا با اسکا غصّہ نکال رہا ہے لیکن۔۔۔۔وہ کچھ دیر کی جھوٹی ناراضگی تو دکھا سکتا ہے مگر تمہیں سزا نہیں دے سکتا کبھی
رفعت اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولیں اور روحی کو اپنا دل ہلکا محسوس ہوا وہ اُن کے سینے سے لگ گئی
مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا لیکن آپ کی باتوں سے اب ڈر بھاگ گیا تھینکیو امی۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜💜
رفعت کے سمجھانے سے اُس کا ڈر کم تو ہو گیا تھا لیکن اب بھی زار کی دھمکی یاد آرہی تھی کے سزا تو ملے گی۔۔۔۔۔۔اُس نے زار کے ہاتھوں جس طرح شیرا اور اُس کے ساتھیوں کی درگت بنتے دیکھا تھا اُسے در تھا کہیں اُس کا بھی ایسا ہی کوئی حال نہ ہو دروازہ کھلتے ہی وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر اُسے گھبرا کر دیکھنے لگی زار بنا کوئی نوٹس لیے اُس کے پاس آیا
چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے باہر چلنے کہا اشارہ کیا جس پر وہ اُسے حیرانی سے دیکھنے لگی
،
کک۔۔۔کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گھبرا کر پوچھا زار نے اُس کی کلائی پکڑی اور خود اُسے باہر لے آیا اب تو اُسے یقین ہو گیا تھا کے سزا تو اُسے مل۔کر رہےگی
زار ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دس منٹ سے خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا اور روحی سوچ رہی تھی کے آخر سزا کیا ملے گی
ابھی پتہ چل جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بنا دیکھے جواب دیا اُن کی گاڑی جہاں رکی وہ کوئی گیسٹ ہاؤس تھا اور بہت ہی خوبصورت تھا زار نے گاڑی سے باہر آکر اُس کی طرف کا دروازہ کھولا اور اُسے باہر آنے کا اشارہ کیا اُس نے سر نفی میں ہلا دیا اور معصوم سی شکل بنا کر اُسے دیکھنے لگی زار نے دوبارہ کہنے کی بجائے جھک کر اُسے اٹھا لیا اور اندر لیے آیا
زار ۔۔۔۔آئے ایم سوری۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں تم غصّہ ہو لیکن۔۔۔۔۔
روحی گھبرا کر کہنے لگی لیکن اندر داخل ہوتے ہی خوبصورتی سے سجے گارڈن کو دیکھ کر اُس کی بات ادھُوری ریہ گئی زار نے اُسے نیچے اُتارا اور مسکرا کر دیکھنے لگا گارڈن کے ایک سائڈ میں بڑا سا بورڈ لگا ہوا تھا جو لائٹس اور پھولوں سے سجا تھا اور اُس پر لکھا تھا
Zaar loves roohi
گارڈن کو بہت اچھے سے سجا کر درمیان میں ایک ٹینٹ لگایا ہوا تھا جس کے درمیان میں پھول بیچنے ہوئے تھے اور اطراف سے سفید پردے لٹک رہے تھے شاید وہ ہر چیز کو دیکھ کر اُس میں یوں ہی کھوئی رہتی جب زار نے پیچھے سے اُس کے قریب آکر اپنے حصار میں لیا
کہا تھا نا تمہیں سزا ملے گی۔۔۔۔۔۔۔تمہاری سزا یہ ہے کے اب تم ایک پل کے لیے بھی مجھ سے دور ہونے کے بارے میں نہیں سوچو گی
وہ اُس کے کان کے قریب سرگوشی کے انداز میں بولا اور اُس کا رخ اپنی طرف کیا
تمہیں تکلیف دینے کے بارے میں تو سوچ بھی نہیں سکتا میں۔۔۔۔۔۔دو سال تمہارے بنا رہ کر ہر روز ایک نئی تکلیف سے گزرا ہوں ۔۔۔۔۔اتنا بے وقوف نہیں ہوں کے اب اس خوشی کو غصے اور بدلے کی نظر کر دوں۔۔۔۔۔۔۔اب تو ہر لمحہ بس پیار کے لیے ہے ۔۔۔۔نا غصے کی کوئی جگہ ہے نا جدائی کی
دونوں ہاتھوں میں چہرہ تھامے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اور روحی بھیگی آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے دھیرے سے مسکرا دی
آنکھیں بند کرو
زار نے اُس کے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا تو روحی اُسے نا سمجھی سے دیکھنے لگی زار نے اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر اُنھیں بند کیا اور اُس کا رخ دوسری طرف کیا روحی نے ایک پل کے لیے اُس کی غیر موجودگی کو محسوس کیا تھا پھر کچھ ہی سیکنڈ میں وہ واپس آکر اُس کے قریب کھڑا تھا
اب کھولو۔۔۔۔۔۔۔
نزدیک سے ہی اُس کی آواز آئی تو روحی نے آنکھیں کھولیں آنکھیں کھلتے ہی جگمگانے لگی سامنے تاروں کی طرح جھلملاتے جگنوؤں کو دیکھ کر جو اندھیرے میں جلتے دیوں کی مانند روشنی بکھیر رہے تھے
یہ جگنو تمہیں بہت پسند ہے نا
زار نے اُس کے گرد ہاتھ باندھتے ہوئے اُس کے شولڈر پرہاتھ رکھا روحی نے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے سر ہلا دیا
تمہیں پتہ ہے مجھے تم سے محبت کب ہوئی تھی
وہ اُن جگنوؤں کی روشنی کو زار کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
جب میں نے تمہارا چہرہ ان جگنوؤں کی روشنی میں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
زار کی نظریں اُس کے چہرے کا طواف کر رہی تھی اور روحی اُس کے ہونٹوں کو دیکھ رہی تھی
اس وقت پہلی دفعہ میرے دل سے آواز آئی تھی۔۔۔۔۔۔ کے اس سے خوبصورت منظر دنیا میں کوئی نہیں۔۔۔۔۔
اُس نے جھک کر روحی کے لبوں کو چھوا اور دھیرے سے مسکرایا اور روحی شرمندہ ہو کر سر جھکا گئی
تمہیں نہیں لگتا ہمیں اب گھر جانا چاہیے ۔۔۔۔امی پریشان ہو رہی ہونگی
اُس نے ٹاپک بدلنے کی کوشش کی وہ دھیرے سے ہنسا
افف تمہیں پتہ بھی نہیں کے تم شرماتے ہوئے کتنی پیاری لگ رہی ہو
میں شرماتی نہیں۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے بولی اور اُسے خفگی سے دیکھا
اور اگر میں شرمانے پر مجبور کر دوں تو۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اُسے شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا اور دھیرے سے ہنس دیا
امی کو میں بتا کر آیا ہوں اس لیے تمہیں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔تم یہاں بیٹھو
زار اُس کا ہاتھ تھامے اُسے ٹینٹ کے نیچے تک لے آیا اور نیچے بیٹھنے کا اشارہ کیا روحی نے اُس کے کہے پر عمل کیا اور اُن پھولوں پر بیٹھ کر اُسے دیکھنے لگی جب زار اپنا گٹار ہاتھ میں لیے اُس کے پاس آکر بیٹھا وہ اُس کا ارادہ جان کر مسکرائی اورتھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے اُسے دیکھنے لگی زار نے گٹار کے تاروں کو چھوا اور خاموشی کو دل چھو لینے والی آواز نے توڑا
سپنا جہاں۔۔۔۔۔۔۔۔دستک نا دے
چوکھٹ تھی وہ۔۔۔۔۔آنکھیں میری
باتوں سے تھی ۔۔۔۔۔۔تعداد میں
خاموشیاں۔۔۔۔۔زیادہ میری
جب سے پڑے۔۔۔ تیرے قدم
چلنے لگی ۔۔۔۔۔دنیا میری
وہ اُسے دیکھتے ہوئے گا رہا تھا ایک پل کو رکا
میرے دل میں جگہ جو بھی خالی تھی
دیکھا وہاں پے آج تیرا پہرا ہے
میں بھٹکتا ہوا سا ایک بادل ہوں
جو تیرے آسماں پے آکے ٹھہرا ہے
اُس نے گٹار اٹھا کر نیچے رکھا اور روحی کا ہاتھ پکڑے ہونٹوں تک لے گیا دوسرے ہاتھ سے اُس کے نوز رنگ کو نکال کے نیچے کیا اور ہاتھ گلے میں ڈالے اپنے قریب کیا اور پیشانی سے پیشانی ٹکائے آنکھیں بند کی
تو روح ہے تو میں کایا بنوں
تا عمر میں تیرا سایہ بنوں
کہہ دے تو بن جاؤں بیراگ میں
کہہ دے تو میں تیری مایا بنوں
میں ساز ہوں ۔۔۔۔ تو راگنی
میں رات ہوں۔۔۔۔۔۔تو چاندنی
آنکھیں کھول کر پیچھے ہوا اور روحی کو خود سے لگاتے ہوئے زمین پر لیٹ گیا روحی اُس کے الفاظ اور اُس کی آنکھوں میں کھوئے ہوئے اُسے دیکھ رہی تھی
میرے دل میں جگہ جو بھی خالی تھی
دیکھا وہاں پے آج تیرا پہرا ہے
میں بھٹکتا ہوا سا ایک بادل ہوں
جو تیرے آسماں پے آکے ٹھہرا ہے
اُس نے روحی کی پیشانی پر ہونٹ رکھے اور اُسے اپنے اور قریب کر لیا روحی خود کو بھولے بس اُس کی تیز دھڑکنوں کو محسوس کر رہی تھی اب نا دل میں کبھی اُسے کھونے کا ڈر تھا نہ اُس کے بغیر رہنے کا تصور ۔۔۔۔اُس نے خود سے ایک وعدہ کیا کے وہ اپنی ہر غلطی کا مداوا کریگی دو سال میں جو دکھ اُس نے زار کو دیے اب اُن کے بدلے میں اُسے دوگنی محبت دینی تھی اب صرف اُس کے لیے جینا تھا۔۔۔۔زار کی روحی بن کے جینا تھا
ختم شدہ
رائٹر:- سنایا خان
💜💜💜💜💜💜💜
