Rate this Novel
Episode 19
کیا ہوا زار۔۔۔۔گاڑی کیوں روک دی
گاڑی رکنے پر اس نے آنکھیں کھول کر آس پاس دیکھتے ہوئے پوچھا
آج رات ہم یہاں اس ہوٹل میں رک جاتے ہیں
زار نے سامنے ایک ہوٹل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
لیکن۔۔۔۔
ڈونٹ وری کچھ نہیں ہوگا چلو
وہ گاڑی سے باہر نکل گیا روحی کا خیال۔کرکے ہی اس نے رکنے کہا سوچا تھا کے کہیں وہ تھک نا گئی ہو
بہت زیادہ عالیشان ہوٹل نہیں تھا ایک عام سا میڈیم سائز کمرہ تھا تمام سہولیات کے ساتھ روحی بیڈ کے کنارے پر ٹیک۔لگائے بیٹھی دن بھر کی طرح اب بھی اپنی سوچو میں گم تھی اُسے زار کے باتھ روم سے باہر آنے کا بھی پتہ نہیں چلا وہ اس کے چہرے پر اُداسی صاف دیکھ سکتا تھا گیلے بالوں میں چلتا ہوا ہاتھ ایک پل کو رک کر پھر چلنے لگا تھا وہ دھیرے سے مسکراتا آکر بیڈ پر لیٹ گیا اور سر روحی کی گود میں رکھ دیا تھا وہ ہوش میں آتے ہوئے اُسے حیرت سے دیکھنے لگی اس کے بالوں کی طرح اس کی شرٹ بھی گیلی تھی جس کی نمی وہ محسوس کر سکتی تھی شرٹ کے اوپر کے تین بٹن کھلے ہوئے تھے اور ہونٹوں پر شرارتی سی مسکراہٹ سجائے اُسے دیکھ رہا تھا
اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن زار نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اُسے روکا وہ اس کے چہرے سے نظریں ہٹائے دوسری طرف دیکھنے لگی زار نے اس کی انگلیاں اپنے لبوں سے لگا لی اس کے چہرے پر نا شرم تھی نا جھجھک بلکہ وہ پریشان لگ رہی تھی وہ ایک دم سے سنجیدہ ہو کر اُسے دیکھنے لگا پھر اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا
تم ٹھیک ہو نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا روحی نے سر ہلا دیا
ٹھیک ہے سو جاؤ۔۔۔۔تھک گئی ہو شاید۔۔
زار مزید کچھ پوچھنے کی بجائے وہاں سے اٹھ گیا روحی پیر اوپر کیے لیٹ گئی اور آنکھیں بند کرلیں
💜💜💜💜💜
اپنے لیے کافی منگوا کر وہ کھڑکی کے پاس کھڑا تھا جب باہر اس کا دھیان گیا جہاں اُس نے ایک پولیس جیپ کو رکتے دیکھا اس میں سے کچھ با وردی پولیس والے باہر آئے اور اُن کے ساتھ ہوٹل کا منیجر بھی آگے آگے چل رہا تھا زار کو چند سیکنڈ لگے یہ سمجھنے میں کے وہ لوگ یہاں کیوں آئے ہے وہ فوراً وہاں سے ہٹ کر روحی کے پاس آیا
روحی اٹھو۔۔گیٹ اپ
اس کا گال دھیرے سے تھپتھپاتے ہوئے بولا
کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نیند سے بوجھل آنکھیں کھولتی اُسے دیکھنے لگی
ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا فوراً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
بتاتا ہوں چلو۔۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ سے اٹھایا اور دروازے کی جانب بڑھا باہر نکل کر کوریڈور میں نظر دوڑا کر تسلی کی اور لفٹ کے اندر آگیا روحی اب بھی پریشان نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی
شاید ہوٹل منیجمنٹ نے ہمارے یہاں ہونے کی خبر اُنھیں دے دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔باہر پولیس جیپ کھڑی ہے اور میں ہنڈریڈ پرسنٹ شیور ہوں کے وہ ہمارے لیے ہی آئے ہیں
وہ اُس کی سوالیہ نظروں میں دیکھتے ہوئے بولا لفٹ نیچے آکر رکی اور جیسے ہی کھلی سامنے ہی چار پولیس والے کھڑے تھے شاید لفٹ کے لیے ہی رکے تھے لیکن وہ سائڈ میں دیکھتے ہوئے کسی لڑکے سے پوچھ تاچھ کر رہے تھے اسلئے اندر نہیں دیکھا لیکن زار اور روحی اُنھیں دیکھ کر مشکل میں آچکے تھے کیوں کے باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا اُس نے لفٹ کا اوپر جانے والا بٹن دبایا لیکن دور بند ہونے سے پہلے ہی ایک اُس پر ہاتھ رکھ کر اُسے روک چکا تھا اس سے پہلے کے وہ لوگ اُنھیں دیکھتے زار نے بجلی کی تیزی سے روحی کو اپنی جانب کھینچ کر لفٹ سے لگا دیا تھا اور خود اُس کے چہرے پر جھکتے ہوئے اُس کے ہونٹوں کو قید کرلیا اُن لوگوں نے صرف زار کی پشت کو دیکھا تھا اور چاروں آپس میں دیکھتے ہوئے معنی خیزی سے مسکرا رہے تھے
ایکسکیوز می۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن میں سے ایک نے کافی اونچی آواز میں اُن دونوں کو مخاطب کیا لیکن اُسے نہیں رکنا تھا نہیں رکا
چھوڑ نا یار ۔۔۔۔ کیوں ڈسٹرب کر رہا ہے ۔۔۔ہم دوسری لفٹ لے لیتے ہیں
ساتھ کھڑا انسپکٹر ہنستے ہوئے بولا اور وہ لوگ وہاں سے ہٹ کر دوسری لفٹ کی طرف آگئے لفٹ بند ہوئی اور اُس کے ساتھ ہی زار پیچھے ہوا اور سکون کی سانس لی روحی اپنی رکی سانس کو بحال کرنے لگی زار اپنی حرکت پر بنا مسکرائے نہیں رہ سکا ایک لمحہ روحی کی جانب دیکھا اور پھر لفٹ کے بٹن دباتے ہوئے اُسے دوبارہ نیچے کیا
اُن لوگوں کی نظروں میں آئے بنا وہ دونوں وہاں سے نکل چکے تھے
💜💜💜💜💜💜💜
گاڑی کافی دیر سے چل رہی تھی اور وہ لوگ کافی دور آچکے تھے جب تسلی ہو گئی کے وہ لوگ اُن کے پیچھے نہیں ہے تب زار نے گاڑی روکی
پریشان نا ہو اب ہم اُن کی پہنچ سے کافی دور آچکے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی اُسے طرح سامنے دیکھا رہی تھی پہلے سے بھی پریشان ہو کے
روحی کیا ہوا۔۔۔۔۔
زار نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ بنا دیکھے اُسی انداز میں بولی
میں کل سے دیکھ رہا ہوں تم ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے۔۔۔۔خوش نہیں ہو تم میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ کیا چل تھا ہے تمہارے اندر بتاؤ مجھے
وہ اُسے جانچتے ہوئے بولا روحی نے اُس کی جانب دیکھا
مجھے یہ سب صحیح نہیں لگ رہا۔۔۔۔۔۔
کیا صحیح نہیں لگ رہا
زار نے اُس کی بات پر غور کرتے ہوئے پوچھا
یہی۔۔۔۔۔۔ اس طرح بھاگنا۔۔۔۔۔۔۔ڈر ڈر کر رہنا۔۔۔۔۔۔ہم نے کچھ غلط تو نہیں کیا نا تو ہم بھاگ کیوں رہے ہیں زار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزار سے انداز میں بولی زار اُسے حیرت سے دیکھنے لگا
میرا دل بے چین ہو رہا ہے۔۔۔۔مجھے لگ رہا ہے میں غلط کر رہی ہوں
وہ اب اپنے انسوں کو گرنے سے روک نہیں پائی زار نے اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اُسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
تمہیں شک ہے میری محبت پر۔۔۔۔۔۔۔,
اُس کی آنکھ سے گرتے انسوں کو دیکھ کر پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھا روحی نے فوراً سر نفی میں ہلا دیا
نہیں زار ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔خود سے زیادہ تم پر یقین ہے مجھے ۔۔۔۔ آنکھیں بند کرکے تمہارے بتائے ہوئے راستے پر چل سکتی ہوں میں۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔لیکن بس اس طرح بھاگنا اچھا نہیں لگ رہا مجھے۔۔۔۔۔۔اور میں کس سے بھاگ رہی ہوں اپنے ہی پاپا سے ۔۔۔۔۔۔۔وہ میرے لیے وہاں پریشان ہو رہے ہیں۔۔۔مجھے ڈھونڈھ رہے ہیں میں خوش کیسے ہو سکتی ہوں زار
وہ میرے پاپا ہے زار۔۔۔ میں نے ہمیشہ اُنھیں خود سے زیادہ اپنے لیے جیتے دیکھا ہے۔۔۔۔ میری ہر خواہش پوری کی اُنہوں نے۔۔۔۔۔مجھے کبھی اُداس نہیں ہونے دیا۔۔۔۔۔۔میں اُن کی محبت کا یہ صلہ نہیں دے سکتی۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں پانے کے لئے اُن کی برسوں کی محبت کو فراموش نہیں کر سکتی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھلے وہ ہمارے رشتے کو قبول نہ کرے ۔ بھلے وہ ہمارا ساتھ نے دیں۔۔۔لیکن اُنھیں دشمن نہیں سمجھ سکتی میں۔۔۔۔۔۔۔پاپا ہے وہ میرے۔۔۔۔۔۔۔۔اُنھیں دکھ دے کے کبھی خوش نہیں ہو پاؤں گی میں
وہ روتے ہوئے اُسے بتا رہی تھی زار بس اُسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا روحی نے اُس کا ہاتھ اٹھا کر اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا
میں ہر دِن یہ دُعا مانگتی رہی کے تم مجھے مل جاؤ ہم ایک ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔لیکن کل جب ہمارا نکاح ہوا تو تمہیں پانے کی خوشی بھی ادھُوری لگی مجھے شاید اسی لیے کے وہ خوشی میں اپنے پاپا کو تکلیف دے کر حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی شاید اسی لیے میرا دل اتنا بے چین ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار اُسے بے تاثر نظروں سے دیکھتا رہا اُسے سمجھ ہی نہیں آیا کے روحی یہ سب سوچ کر پریشان ہے
اس طرح مت دیکھو زار۔۔۔۔میں بہت چاہتی ہوں تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اگر کہو گے تو اب بھی تمہارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑی رہوں گی جو تم کہو گے کروں گی۔۔۔۔ جہاں لے جاؤ گے جاؤنگی۔۔۔۔۔لیکن سکون نہیں ملے گا مجھے کبھی۔۔۔۔۔کیا تم چاہو گے کے میری خوشیوں میں ہمیشہ ایک کمی رہے ۔۔ کیا تم چاہو گے کے میں صرف تمہیں دکھانے کے لیے مسکراؤں۔۔۔۔۔۔۔کیا تم چاہو گے کے میرے دل میں ہمیشہ ایک اُداسی چھائی رہے ۔۔۔۔۔۔۔کیا تم چاہو گے کے میں زندگی بھر ایک بیٹی ہونے کے لئے شرمندہ رہوں ۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ اپنے گال سے لگائے باقاعدہ رونے لگی زار نے دوسرا ہاتھ بھی اٹھا کر اُس کے چہرے پر رکھا اور اُس کے قریب ہوا
شّشش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے چپ کرواتے ہوئے اُس کا سر اپنے سینے سے لگایا۔
ریلیکس۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا اوکے
اُس کی باتوں کو سمجھنے کی اور محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا
💜💜💜💜💜💜
