Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

زار نے گاڑی کا رخ دوبارہ واپسی کی جانب موڑ دیا تھا اور روحی اس بات کو سمجھ کر حیران ہوتے ہوئے اُسے دیکھ رہی تھی
تم نے صحیح کہا تھا ہم نے کچھ غلط نہیں کیا جو ہم ڈر کر بھاگیں ۔۔۔اب چاہے جو ہو۔ ۔۔سامنا کرینگے

وہ اُس کے بنا پوچھے ہی بولا تھا اور روحی مسکرا دی تھی دل کا ایک بوجھ اترتا محسوس ہوا تھا

💜💜💜💜💜💜💜

دونوں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے دروازے سے پشت لگائے آمنے سامنے پیر رکھے رات گہری ہو گئی تھی اور اب بھی وہ لوگ گھر سے کافی دور تھے ہوٹل میں رکنے کا خیال غلط تھا اس لیے گاڑی میں ہی سونے کا ارادہ تھا زار کی نظریں اُس کے ہاتھ کی تیسری انگلی میں پہنی انگوٹھی پر تھی ڈائمنڈ رنگ جو قیمتی ہونے کے ساتھ خوبصورت بھی بہت تھی روحی نے اُس کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اپنی رنگ کو دیکھا

یہ میری انگیجمنٹ رنگ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس ایسے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے اس طرح دیکھنے پر وہ فوراً بولی اور اُس کے یوں گھبرانے پر زار دھیرے سے ہنس دیا

جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
اُس نے دھیرے سے کہا ایک پل کو رکا پھر کچھ سوچ کر اپنے گلے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کالر تک آکر روکا اور شرٹ کا سب سے اوپری بٹن کھینچ کے توڑ دیا روحی اُسے حیرت سے دیکھتی رہی اُس نے گاڑی کے پچھلے حصے میں ہاتھ ڈال کر ایک وائر نکالا اپنے جیب سے چھوٹا چاقو نکال کر اُس وائر کو چھیل ۔ اندر کی باریک تاروں کو الگ کیا چار باریک تاروں کو دھاگے کے طرح بٹن کے اندر پرویا اور روحی کی طرف دیکھتے ہوئے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اُس کی رنگ نکال کر اُس کے دوسرے ہاتھ میں دی اور اپنے ہاتھ میں موجود بٹن کو انگلی پر رکھ کر تاروں کو اندر سے باندھ دیا روحی بے یقینی سے اُس انگلی کو دیکھ رہی تھی کالے رنگ کی بٹن اُس کے سفید ہاتھوں پر بہت اچھی لگ رہی تھی لیکن سب سے اچھا تو اُسے زار کی محبت کا انداز لگتا تھا جو ہر بار ایک نئے عمل سے اُسے اپنا دیوانہ بنا دیتا تھا زار مسکراتے ہوئے اُسے دیکھتا اُس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگا گیا تھا اور وہ بس اُسے دیکھتی رہی
اگر تم اسی طرح دیکھتی رہی تو کوئی غلطی نا ہو جائے مجھ سے۔۔۔۔۔۔پھر مت کہنا

وہ سر دروازے سے لگائے اُسے دیکھتے ہوئے بولا روحی دھیرے سے مسکرا کر نظریں جھکا گئی

ایک بات پوچھوں تم سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ سوچ کر بولی

پوچھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے لیے تم جو واپس جانے کا فیصلہ کر چکے ہو یہ جانتے ہوئے کے اس میں بہت رسک ہے
اگر پاپا نے ہمیں معاف نہیں کیا۔۔۔۔۔۔یہ ہمارا ساتھ نہیں دیا تو کیا تم مجھے معاف کر دو گے

اس نے اپنی پریشانی تو بتا دی تھی لیکن دل میں اب بھی ایک ڈر تھا جو اس نے ہمت کرکے بیان کر دیا
جب اس میں تمہاری کوئی غلطی ہی نہیں ہے تو معاف کرنے کا سوال کہاں سے آیا۔۔۔۔تم جو سوچ رہی ہو وہ مجھے صحیح لگا اس لیے میں نے یہ فیصلہ کیا ۔۔۔ آگے کچھ بھی ہو اس کی ذمےداری ہر گز تمہاری نہیں اس لیے دل میں کوئی گلٹ مت رکھنا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔

زار نے اس کے دل۔میں جو تھوڑی بہت جھجھک جو ڈر تھا اُسے بھی ختم کر دیا تھا
💜💜💜💜💜💜💜💜💜

گاڑی روک کر وہ دونوں بے خوف انداز میں اندر کی طرف بڑھے تھے اس گھر کے دونوں واچ مین ہوشیار ہو کر اُن کے پیچھے چل رہے تھے عزیز صاحب باہر ہی گارڈن میں بیٹھے تھے اُن دونوں دیکھ کے اپنی جگہ سے اٹھ گئے وہاں موجود گارڈز نے اپنی بندوقیں اٹھا کر رخ زار کی طرف کر دیا تھا اور روحی گھبرا کر اُن کو دیکھے جا رہی تھی عزیز صاحب نے سب کو جانے کا اشارہ کیا تو اس کی جان میں جان آئی لیکن وہ اپنے پاپا سے نظریں نہیں ملا پائی اس نے زار کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور عزیز صاحب ہاتھ پیچھے باندھ کر دونوں کو دیکھ رہے تھے
فکر مت کیجئے اب کوئی زبردستی نہیں کرے گے آپ کے ساتھ یہ خیال دماغ سے نکال چکے ہیں ہم
کیا فائدہ آج ہم آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو گھر کے اندر کرے اور کل پھر آپ اس لڑکے کے ساتھ بھاگ کر ہمارا منہ کالا کر دیں

پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے بے بسی سے اُن کی طرف بڑھنا چاہا لیکن اُنہوں نے ہاتھ دکھا کے روک دیا

کچھ مت کہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ جانتی ہے جب آپ چھوٹی سی تھی تب آپ کی ماں گزر گئی ہم سے ہر کسی نے کہا کے ہم دوسری شادی کر لیں لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا صرف اس لیے کے ہماری بیٹی کا پیار نہ بٹ جائے۔۔۔۔۔۔۔ہم نے نہ کبھی ایک خوشحال بڑی سے فیملی کی چاہ کی نا اپنے وارث کی بس آپ کو ہی اپنی دنیا سمجھ کر جیتے رہے لیکن آپ نے ایک لمحہ نہیں لگایا ہماری دنیا ہم سے چھیننے میں۔۔۔۔۔۔ چار دن کے عشق کے لیے آپ نے اپنے پاپا کی برسوں کی محنت مقام عزت سب مٹی میں ملا دیا ۔۔۔۔۔۔۔شاید آپ نہیں جانتی کے سوسائٹی کوئی بھی جس باپ کی بیٹی گھر سے بھاگ جاتی ہے اُسے سر سر اٹھا کر چلنے کی اجازت نہیں ہوتی

روحی سر جھکا گئی لیکن زار بہت سنجیدگی سے اُنھیں دیکھ رہا تھا

آپ اگر واپس ہمارا خیال کرکے آئی ہیں تو آج آپکو ایک حتمی فیصلے کے ساتھ گھر میں قدم رکھنا ہوگا آپکو اس لڑکے اور ہم میں سے کسی ایک کو چنا ہوگا آپ چاہے تو جا سکتی ہے اس لڑکے کے ساتھ لیکن اُس کے بعد ہماری موت کی ذمےدار آپ ہوگی ۔۔۔کیوں کے آپ کے جانے کے بعد ہم اس بے عزتی کا بوجھ اٹھانے کے لیے زندہ نہیں رہے گے
روحی کی آنکھیں بڑی ہو گئی وہ اُنھیں حیرت سے دیکھنے لگی

فیصلہ آپ کو کرنا ہے آپ کیا چاہتی ہے اس لڑکے کا ساتھ یا اپنے پاپا کی زندگی
روحی نے زار کی جانب دیکھا وہ اُنھیں ہی دیکھ رہا تھا اپنے ہر احساس کو ضبط کیے

اور ایک بات سن لیں ہم بار بار کا تماشا نہیں چاہتے اسی لیے آپکا یہ فیصلہ آخری ہوگا اپنے دل کو مضبوط کرکے فیصلہ لیجئے کیوں کے اگر آپ ہماری طرف بڑھتی ہے تو آپ پیچھے نہیں پلٹے گی ۔۔۔۔۔۔ آپ اس شخص سے کبھی نہیں ملے گی اس کی شکل بھی نہیں دیکھے گی اور اگر آپ اسے چنتی ہے تو ہمارے مرنے کے بعد ہمارا آخری دیدار کرنے کی بھی اجازت نہیں دینگے ہم آپ کو۔۔۔۔۔۔فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے
وہ اتنا کڑا دل۔نہیں کر سکتی تھی کے اُس کے پاپا مرنے کی بات کریں اور وہ سنتی رہی اُس نے زار کے ہاتھ سے ہاتھ نکالا وہ اُسے حیرت سے دیکھنے لگا

I m sorry zaar
وہ روتی ہوئی عزیز صاحب کی طرف بڑھی اور زار بس دیکھتا رہ گیا وہ جانتا تھا اُن کی محبت کا یہ انجام نہیں ہے وہ اتنی آسانی سے سب ختم نہیں ہونے دیگا لیکن ایک ڈر اور کوئی دکھ محسوس کیا تھا اُس نے

ہم صرف اپنی بیٹی سے مطلب رکھتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہے تو ہمیں تم سے کوئی بیر نہیں تمہاری ہر غلطی کو معاف کرتے ہیں ہم اور تمہیں نقصان پہنچانے کا ہر خیال رد کرتے ہیں چلے جاؤ یہاں سے اور آئندہ کبھی ہماری بیٹی کی زندگی میں کوئی دخل مت رکھنا
عزیز صاحب روحی کو خود سے لگائے اب زار سے مخاطب تھے اُس نے ایک گہری سانس لی اس وقت نہ کچھ کہنا چاہتا تھا نہ کچھ کرنا چار قدم پیچھے ہوتے ہوئے پلٹ کر باہر نکل گیا اور دوبارہ مڑ کر نہیں دیکھا

💜💜💜💜💜💜💜💜