Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13


پاپا گھر پر نہیں تھے اور اسی بات کا فائدہ اٹھا کر وہ اکیلی گاڑی لے کر مشی سے ملنے نکل گئی تھی حالانکہ گھر میں موجود گارڈز نے اُسے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اُن پر غصّہ کرتی وہاں سے چلی گئی زار کی باتیں سن کر اس دل کل سے ہی بہت اُداس ہو رہا تھا اُسے اپنی دوست کو ضرورت تھی مشی کا فون بند آرہا تھا اس لیے وہ اس سے ملنے چلی گئی گارڈز نے عزیز راجپوت کو روحی کے گھر سے جانے والی بات بتائی تو وہ بہت غصّہ ہوئے اور اُن لوگو کو فوراً اس کے پیچھے جانے کی تاکید کی

اس نے سامنے کسی کو دیکھ کے گاڑی کو ایکدم سے بریک لگایا ورنہ ٹککر ہو جاتی گھبراہٹ میں رفعت کے ہاتھ سے سبزی کے شاپرز زمین پر گر گئے تھے

Oh my god۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی گھبرا کر گاڑی سے باہر نکلی

I m sorry aunty
I m really sorry

وہ سڑک پر بکھرے شاپرز کو دیکھ کر پریشانی سے بولی

کوئی بات نہیں بیٹا۔۔۔۔اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے میں چلتے چلتے بیچ سڑک پر آگئی تھی۔۔۔اچھا ہوا تم نے صحیح وقت پر بریک لگا دیا ورنہ ایکسیڈنٹ ہو جاتا

آپ کو چوٹ تو نہیں آئی ۔۔۔۔۔۔
اُن کی بات سن کر روحی کے دل کو سکون آیا

نہیں مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔بس سامان گر گیا
اُنہوں نے زمین پر نظریں جمائے کہا

میں اٹھا لیٹی ہوں
روحی نے فوراً جھک کے زمین سے دونوں شاپر اٹھا کر اُن کی طرف بڑھائے
Thank you

آئیے نا میں آپ کو چھوڑ دیتی ہوں گھر تک۔۔۔
روحی نے اُنھیں گاڑی میں چلنے کی پیش کش کی

نہیں بیٹا میرا گھر تو یہیں پاس میں ہے میں چلی جاؤنگی

کوئی بات نہیں میں چھوڑ دیتی ہوں ۔۔۔۔آپ بیٹھ جائیے

چلو اب تم اتنا کہہ رہی ہو تو میں منع نہیں کرونگی

رفعت نے اُس کی بات مانتے ہوئے کہا تھوڑے ہی فاصلے پر اُن کا گھر تھا اُن کے بتائے گئے راستے پر چلتی ہوئی گھر کے ٹھیک سامنے آکر رکی رفعت اُتر کر گیٹ کھولے اندر چلی گئیں

اندر آجاؤ بیٹا۔۔۔ ۔۔
اُسے کہتیں ہوئی وہ خود اندر چلی گئی اور روحی شاپرز اٹھائے اندر چل دی

یہ لیجئے۔۔۔۔اچھا اب میں چلتی ہوں
روحی اندر آکر سامان اُن کی جانب بڑھا کر بولی

ارے ایسے کیسے یہاں تک آئی ہو ۔۔۔چائے تو پینی ہی پڑے گی
وہ مسکراتے ہوئے بولیں

نہیں آنٹی میں چائے نہیں پیتی
وہ فوراً بولی

تو پھر کافی۔۔۔۔۔۔ارے ہاں آج تو میں نے آلو کے سموسے بنائے ہے۔۔ابھی لاتی ہوں تم بیٹھو
وہ یاد آنے پر بولیں اور اُسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا

نہیں آنٹی پلیز ۔۔۔۔پھر کبھی۔۔۔۔۔ابھی مجھے جانا ہے
وہ اُنھیں روکتی ہوئی بولی

میں اپنے گھر سے دشمن کو بھی بنا کچھ کھائے نہیں جانے دیتی تمہیں جانے دوں گی کیا ۔۔میرے ہاتھ کے سموسے کھا کر تو دیکھو۔۔۔بیٹھو ابھی لاتی ہوں

وہ بنا کچھ سنے جا چکی تھی اور روحی کو مجبوراً بیٹھنا پڑا پانچ منٹ بعد ہی رفعت کچن سے سموسے لیے باہر آئی اور اس کے آگے پلیٹ رکھ کر خود پاس میں ہی بیٹھ گئی حالانکہ اُسے بلکل پسند نہیں تھے لیکن اس نے اُن کا دل رکھنے کے لیے ایک سموسہ اٹھا لیا
ویسے میں گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں لیکن ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تھوڑی دیر پیدل چلنے سے صحت اچھی رہتی ہے اس لیے آج نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔سوچا والک بھی ہو جائے گی اور سبزی بھی خرید لوں گی۔۔۔۔چلو اسی بہانے تم مل گئی مجھے
وہ اس سے ایسے بات کر رہی تھیں جیسے اس کی بچپن کی بچھڑی سہیلی تھی روحی صرف مسکرائی
Thank you aunty ۔۔۔
واقعی سموسے بہت اچھے ہے
وہ سموسہ ختم کرکے بولی

تو اور لو نا کھاؤ

نہیں آنٹی میرا ہو گیا

ایک ہی سموسے میں ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔چلو لو جلدی سے کھاؤ
وہ پلیٹ اُس کی طرف کرتے ہوئے بولیں روحی نے پریشان سے شکل بنا کر اُنھیں دیکھا

لگتا ہے تمہاری امی تمہارے کھانے پینے کا دھیان نہیں رکھتی۔۔۔اتنی کمزور لگ رہی ہو

میری امی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیرے سے بولی تو رفعت سنجیدہ ہو کر اُسے دیکھنے لگی اور اُس کا ہاتھ پکڑا

ایسا نہیں کہتے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔میں ہوں نا۔۔۔۔تم مجھے اپنی امی ہی سمجھو۔۔۔۔۔۔آئندہ کبھی یہ سوچ کر اُداس مت ہونا کے تمہاری امی نہیں ہے۔۔۔بس جب بھی اُن کی یاد آئے میرے پاس آجانا
وہ پیار سے بولیں تو روحی کو سچ میں بہت سکون ملا اُس نے سر اثبات میں ہلا دیا۔

چلو میں اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھ سے کھلاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے مسکراتے ہوئے سموسا اُس کی جانب بڑھایا لیکن وہ ہاتھ سے چھوٹ کر روحی کے کپڑوں پر گرا تھا چٹنی کا سرخ داغ اُس کے سفید ٹاپ پر صاف نظر آرہا تھا

اوہو یہ کیا ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔

کوئی بات نہیں آنٹی یہ صاف ہو جائے گا
روحی اٹھ کر اُسے ٹشو سے صاف کرتے ہوئے بولی

چلو اندر میں تمہاری مدد کرتی ہوں پانی سے صاف کر لو اسے

رہنے دیجئے میں گھر ہی جا رہی ہوں

ایسے داغ لے کر جاؤگی گھر اچھا نہیں لگتا چلو میرے ساتھ
رفعت کے اسرار پر اُس نے سر ہلا دیا لیکن وہ اُسے لے کر اندر جاتیں اس کے پہلے ڈور بیل بجنے لگی

میں دیکھ کر آتی ہوں ایک منٹ میں
رفعت اُسے کہتی دروازہ کھولنے کے لیے چلی گئیں

زار۔۔۔۔اچھا ہوا تم آگئے۔۔۔۔میں ابھی تمہارے لیے ٹفن لے کر ہی آنے والی تھی۔۔۔صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ڈھنگ سے۔۔۔۔۔۔۔
زار کو سامنے دیکھتے ہی وہ شروع ہو گئیں تھی وہ کوفت زدہ شکل بنائے سائڈ سے نکل کر اندر آگیا

امی بس میرے لیے ایک کپ کافی بنا دیجئے جلدی سے۔۔۔مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔اور کل جو۔۔۔۔۔۔۔۔
سامنے روحی کو دیکھ کر وہ کہتے کہتے رک گیا

تم یہاں۔۔۔۔۔۔
کچھ پل کی خاموشی کی بعد دھیرے سے بولا اُس کی نظر روحی کے ٹاپ پر جو داغ لگا تھا اُس پر گئی وہ گھبرا کر اُس کی جانب بڑھا رفعت حیران سی اُسے دیکھ رہی تھیں

یہ تمہاری شرٹ پر خون ۔۔۔
۔۔۔۔۔کیا ہوا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو نا روحی۔۔۔۔۔
اُس کا بازو پکڑے پریشانی سے پوچھنے لگا اور وہ اُسے حیرت سے دیکھنے لگی بدلتا روپ جو اُس کے کل کے رویے کو جھُوٹا ثابت کرنے کو کافی تھا

یہ کیسے لگا تمہیں۔۔کیا ہوا بتاؤ مجھے
اُس کی خاموشی پر وہ جھنجھلا کر بولا وہ پھر بھی چپ رہی

کیا ہو گیا زار۔۔۔۔یہ تو چٹنی ہے میرے ہاتھ سے گر گئی تھی
رفعت ہی بلآخر بول پڑی تو زار نے سکون کی سانس لی

سوری مجھے لگا شاید تمہیں چوٹ لگی ہے اس لیے
اُس کے بازو سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا

چوٹ تو لگی ہے۔۔۔۔۔۔پر نہ میں دکھا سکتی ہوں۔۔۔۔نا تمہیں نظر آئے گی
وہ اپنے آنسو روکنے کی کوشش میں بدلتی آواز کے ساتھ بولی وہ سر جھکا گیا تھا اور روحی اُس کے سامنے سے ہٹ کے رفعت کی طرف آگئی

اچھا آنٹی میں چلتی ہوں
اُن کا ہاتھ پکڑ کر بولی اور دروازے کی جانب بڑھ گئی رفعت اُسے روکنے کی کوشش کرتی اس کے پہلے وہ باہر نکل چکی تھی

کیا یہ وہی لڑکی ہے زار۔۔۔۔۔۔۔۔
رفعت نے زار کی جانب دیکھ کر پوچھا تو اُس نے لب بھینچے سر اثبات میں ہلا دیا

ایسا کیوں کر رہے ہو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔دیکھو اُسے کتنی اُداس ہے وہ تمہارے رویے سے۔۔۔۔۔کیوں تم اپنے ساتھ اُسے بھی تکلیف دے رہے ہو
۔رفعت کے سوال پر بھی وہ چپ رہا اچانک ایک کھیل دماغ میں آیا تو دروازے کی جانب دیکھا اور پھر کچھ سوچتے ہوئے باہر نکل گیا

زار کہاں جا رہے ہوں۔۔۔۔
رفعت حیران ہوتے ہوئے بولیں

امی میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہتا ہوا جلدی سے باہر نکل گیا تب تک روحی جا چکی تھی اور اُس نے اُس گاڑی کو پلٹ کر نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا تھا فون نکال کر جلدی سے ایک نمبر ڈائل کیا اور کان سے لگا

ہیلو۔۔۔۔۔۔۔روحی کی سیکورٹی کے ذمےداری تم۔پر ہےنہ۔۔۔۔۔
غصے سے بھری آواز میں اُس نے پوچھا اور سامنے سے جواب سننے کے لیے رکا

تو وہ اکیلی گھر سے باہر کیا کر رہی ہے ڈیم اٹ۔۔۔ اُس کے ساتھ کوئی گارڈ کیوں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے غصے پر دوسری جانب سے صفائی دینا شروع کی گئی

بکوا س بند کرو تمہیں تو میں بعد میں دیکھوں گا فلحال ایک لوکیشن بھیج رہا ہوں اُس تک پہنچو جلد سے جلد۔۔۔۔۔۔
وہ اُس شخص کی بات کاٹ کر بولا اور کال کاٹ دی اُسے اپنے ایریا کی لوکیشن بھیج کے وہ روحی کے پیچھے جانے کے ارادے سے آکر جیپ نے بیٹھ گیا
💜💜💜💜💜💜💜💜
روحی کو کافی دیر تک سڑکوں پر ڈھونڈھتا رہا تھا ساتھ ہی کچھ اور لوگو کو بھی اس کام پر لگا دیا اُسے بہت فکر ہو رہی تھی کے وہ کہاں گئی ہوگی وہ اُسے ڈھونڈھ ہی لیتا لیکن اچانک اُس کی جیپ بند پڑ گئی اُس نے کسی کو فون کرکے گاڑی لانے کو کہا اور اُس کا انتظار ہی کر رہا تھا کے کمشنر کی کال آگئی اُن کے کہنے پر وہ روحی کے گھر پہنچا اس امید کے ساتھ کے شاید وہ گھر پہنچ چکی ہے لیکن کمشنر اور عزیز راجپوت کے چہرے دیکھ کر اُسے کسی انہونی کا احساس ہوا
اُس کے کچھ بھی پوچھنے سے پہلے کمشنر نے موبائل اُس کی جانب بڑھا دیا اُس میں جو ویڈیو چل رہی تھی روحی کی تھی روحی کے ہاتھ باندھ کر اُسے کرسی سے باندھا ہوا تھا اُس کی آنکھیں بند تھی زار نے پریشانی نے سانس روکے ہونٹوں پر اُنگلیاں پھیری ویڈیو میں آنے والی اگلے شکل کو پہنچانتے ہوئے اُسے غور سننے لگا

کیا ہوا راجپوت صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹی کو دیکھ کر ڈر لگا ۔۔۔۔۔۔
گھبرائیے مت کچھ نہیں کرے گے آپ کی بیٹی کو ۔۔۔۔۔ہم بے ایمانوں کا بھی کوئی ایمان ہوتا ہے ۔۔۔ آپ بس مجھے میرا بھائی دے دیجیۓ۔۔۔۔۔۔میں آپ کو آپکی بیٹی لوٹا دوں گا۔۔۔۔۔۔۔اتنا تو کر ہی سکتے ہے اپنی لاڈلی بیٹی کے لیے۔۔۔ اور ہاں مہربانی کرکے کوئی ایسی غلطی مت کیجئے گا جس کی سزا بے چاری لڑکی کو بھگتنی پڑے۔۔۔۔۔
اُس کی آخری بات پر زار نے اپنی مٹھی کو سختی سے بھینچا عزیز صاحب اٹھ کر اُس کے پاس آئے

زار مجھے میری بیٹی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی بھی قیمت پر۔۔۔
اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے صرف اُس پر یقین تھا اُنھیں کے اُن کی بیٹی کو کچھ نہیں ہونے دیگا

اُسے کچھ نہیں ہوگا سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا اُن کی جانب دیکھے بولا اور باہر نکل گیا کمشنر بھی اُس سے بات کرنے کی غرض سے پیچھے چل دیئے

💜💜💜💜💜💜💜

آرمی گرین کلر کی شرٹ اور بلیک جینز پہنے چہرے پر سنجیدگی لیے وہ گاڑی چلا رہا تھا اُس کے ساتھ والی سیٹ پر شیرا کا بھائی بیٹھا تھا اُس کے ہاتھ میں ہتکڑی لگی تھی اور چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ جو زار سے چھپی نہیں تھی

آزادی آزادی آزادی
وہ خوشی سے جھومتی آواز میں بول رہا تھا۔۔۔۔
کتنے عرصے بعد ملی ہے یہ کھلی ہوا ۔۔۔۔۔یہ روشنی
زار جہ طرح بیٹھا تھا جیسے اُسے سنائی ہی نا دے رہا ہو تیجا اُس کی جانب دیکھ کے ہنسا

کیا کہا تھا تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔کے ایک دن تو خود مجھے آزاد کرے گا۔۔۔یاد ہے نا
زار کو دیکھ کر طنزیہ ہنسا تھا
بہت ہی افسوس کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔تو خوش ہو رہا ہے جب کے تجھے تو رونا چاہیے
تجھے کیا لگتا ہے آج تیری آزادی کا دن ہے
زار یونہی سنجیدگی سے سامنے دیکھتا ہوا بولا اور پھر اُس کی جانب دیکھا

۔آج تیری موت کا دِن ہے۔۔۔۔۔آج تو مرنے والا ہے
اُس کی بات سن کر تیجا کی مسکراہٹ غائب ہو گئی زار اُس کے چہرے پر خوف دیکھ کر تلخی سے مسکرایا اور دوبارہ سامنے دیکھا

اور تیری موت کی وجہ ہے تیرا بھائی۔۔۔۔اُس نے تیری آزادی کے لیے اُس لڑکی کو قید کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔۔اور۔اُس کی آنکھوں کے سامنے تیری جان لے کر میں اُسے اس بات کا احساس دلاؤں گا
جانتا ہے وہ لڑکی کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ میری محبت ہے ۔۔میری زندگی ہے ۔۔۔ جان ہے میری
اُس نے تیجا کی جانب دیکھ کر کہا اور اُس آنکھوں میں جنون دیکھ کر تیجا کا خوف دو گنا ہو گیا

تجھے یاد ہے نہ جب تجھے گرفتار کیا تھا تب کیا حالت کی تھی میں نے تیری ۔۔۔۔ بھولا تو نہیں ہوگا تو ۔ ۔۔۔
اُس وقت تو صرف اپنا فرض نبھا رہا تھا ۔۔اب تو بات میرے جذباتوں کی ہے ۔۔۔۔سوچ اب میں کیا کروں گا

وہ دوبارہ سامنے دیکھا رہا تھا عورتیں گنگ ہو کر اُسے

ویسے تجھے تو بہت پہلے ہی مر جانا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔پر ہمارے سماج کے کچھ غدار دلالوں کی وجہ سے بچا رہا تو۔۔۔۔۔۔لیکن اب تو تجھے مرنے سے صرف کوئی آسمانی طاقت ہی بچا سکتی ہے ۔۔۔۔

بس تو دعا کرنا کے اُس لڑکی کے جسم پر ہلکی سے خراش بھی نہ آئے۔۔۔ورنہ تیری موت اور بھیانک ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔
اُس کی جانب دیکھ کر کہتا وہ اُسے کسی زخمی شیر کی طرح نظر آیا تیجا کی آزادی کی خوشی چھو ہو گئی تھی

💜💜💜💜💜💜