Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

روحی سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں بند کئے لیٹی تھی دروازہ کھلا تو اُس کی آنکھیں بھی کھلی زار نے ایک نظر اُسے دیکھ کر پانی کی بوتل نکالتے ہوئے دوبارہ پیچھے ہوا وہ اُس کے چہرے پر لگی خراشیں دیکھ کر پریشان ہوتی گاڑی سے باہر نکل کر اُس کی طرف آئی

یہ سب کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے چہرے کو چھونا چاہا لیکن زار نے ہاتھ د کھا کر روک دیا

میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔
وہی بے رخ وہی بیگانگی ۔۔۔۔روحی بس اُسے دیکھتی رہ گئی اُسے بدلنے میں ایک پل بھی نہیں لگتا تھا زار نے اُس کی نظروں سے تنگ آکر رخ بدلتے ہوئے اُس کی جانب پشت کر دی تھی اور بوتل ہونٹوں سے لگائے ایک گھونٹ لے کر نیچے کی تھی

اب مجھ سے منہ پھیر کر تم کچھ چھپا نہیں سکتے ۔۔۔میں بنا کہے بھی تمہارے دل کی ہر بات سے واقف ہوں۔۔۔۔۔۔تمہارا ہر لفظ جھُوٹا ہے لیکن تمہاری آنکھیں سچ بول دیتی ہے۔۔۔۔۔یہ کبھی تمہاری زبان کا ساتھ نہیں دیتی۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اُس کی بات پر سختی سے لب بھینچے ۔۔۔ہاتھ سے بوتل چھوڑ کر زمین پر گرا دی اور اس کی جانب پلٹ کر اُس کے قریب آیا اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہر بات کو پیچھے چھوڑ کر اُسے سینے سے لگا لیا دونوں بازؤں کے گھیرے کو تنگ کرتے ہوئے دھیرے دھیرے اُسے خود میں بھینچتا چلا گیا۔۔۔وہ جھوٹ بول کر اپنے جذبات چھپا سکتا تھا لیکن اقرار کے لیے اُسے الفاظ کی ضرورت نہیں تھی نا روحی اس کی محتاج تھی

بنا اُسے خود سے الگ کیے صرف دونوں ہاتھ اٹھا کر اُس کی گردن تک کے گیا تھا اور اُس کا چہرہ اٹھا کر اپنی جانب کیا تھا
I love you۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اور جھک کر اُس کے لبوں سے لب لگا کر پیچھے ہوا روحی دوبارہ اُس کے سینے سے لگ گئی آنکھیں بند کیے ہر چیز کو بھولے دنیا سے بے نیاز ایک دوسرے میں دیر تک کھوئے رہے

روحی۔ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
عزیز صاحب کی گرجدار اواز پر دونوں ہڑبڑا کر الگ ہوتے اُن کی جانب دیکھنے لگے وہ چہرے پر غصّہ لیے اُن کی طرف بڑھ رہے تھے اور اُن کے پیچھے کمشنر بھی حیرانی سے اُن دونوں کو دیکھتے ہوئے چلے آرہے تھے روحی فوراً دو قدم پیچھے ہوئے تھی اس وقت اپنے پاپا کا سامنا کرنا اُس کے لیے موت کے برابر تھا جب کے زار اطمینان سے کھڑا تھا اُسے پتہ تھا ایک دن اس سیچویشن کا سامنا کرنا ہی ہے تو آج ہی صحیح

تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کو چھونے کی
وہ دانت پر دانت جمائے اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے بولے زار نے سے جھکا کر دوبارہ اٹھایا

میں روحی سے محبت کرتا ہوں

خاموش۔۔۔۔۔اپنی زبان کو سنبھالو ۔۔۔ جانتے ہو کس کے سامنے کھڑے ہو تم۔۔۔۔۔ ۔ میری بیٹی کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو سمجھے

بس پانچ منٹ لیٹ ہو گئے آپ ۔۔۔پانچ منٹ پہلے ہی خود سے وعدہ کر چکا ہوں کہ زندگی کی آخری سانس تک اس کا ہاتھ نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔۔۔مر جاؤں گا لیکن اپنی محبت کو ہارنے نہیں دوں گا۔۔۔۔۔اور میں اپنا وعدہ کبھی نہیں توڑتا
وہ اُن سے نظریں ملا کر بولا اور روحی کا دل زور سے دھڑکا اُس نے زار کی جانب دیکھا اور اُس کی ہمت دیکھ کر روحی میں بھی ہمت آگئی

۔۔۔۔نظریں ملا کر بات کرنے کی بھی اوقات نہیں ہے تمہاری اور میری بیٹی سے محبت کی بات کر رہے ہو

میری اوقات کہ اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کے آپ کی بیٹی بھی مجھ سے پیار کرتی ہے
زار نے انہی کے انداز میں جواب دیا

چپ ہو جاؤ زار۔۔۔۔۔۔۔۔
کمشنر نے آگے بڑھ کر اُسے روکنا چاہا

پاپا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چپ۔۔۔۔۔۔۔ایک لفظ بھی نہیں کہے گی آپ ۔۔۔۔۔اس لڑکے نے فضول باتیں کرکے آپ کا دماغ خراب کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔لیکن یہ نہیں جانتا کے ہم کون ہیں ہم اگر اسے عزت دے سکتے ہیں تو وقت آنے پر اس کی جان بھی لے سکتے ہیں
وہ روحی کو انگلی اٹھا کر روکتے ہوئے دوبارہ زار کو دیکھ کر بولے

مرنے سے نہیں ڈرتا میں۔۔۔۔اور یہ بات آپ بھی بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں ورنہ آپ کبھی اپنی بیٹی کی حفاظت کی ذمےداری مجھے نہیں سونپتے ۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے یہ ذمےداری تمہیں دی تھی تم پر بھروسہ کرکے تمہاری ایمانداری پر یقین کرکے مجھے نہیں پتہ تھا تم مجھے اس طرح دھوکہ دو گے ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو غلط ہو میں آپ کی بیٹی سے محبت کرتا ہوں وہ بھی مجھے چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے اُس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی۔۔۔۔۔نہ اُسے بھگا کر لے گیا ہوں جو آپ مجھے دھوکے باز کہے
شرافت کے ساتھ آپ کے سامنے سچ بتا رہا ہوں اُسے آپ کی مرضی سے اپنا چاہتا ہوں اس میں تو کچھ غلط نہیں ہے

خبردار۔۔۔۔۔ ۔اُسے اپنانے کا خیال اپنے دماغ میں لانے سے پہلے اپنی حیثیت کا تو سوچ لیتے ۔۔۔۔۔
عزیز صاحب کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا اور روحی کو ڈر لگ رہا تھا کے کہیں بات بگڑ نا جائے

حیثیت میں تو کوئی میری برابری نہیں کر سکتا جتنی محبت میں آپ کی بیٹی سے کرتا ہوں اتنی اس دنیا میں کوئی نہیں کر سکتا آپ اپنی ساری دولت لٹا کر بھی اُس کے لیے ایسی محبت خرید نہیں پائے گے ۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اپنی بات ختم کرکے روحی کی جانب دیکھا اور پھر اُنھیں

میں آپ کی عزت کرتا ہوں اور صرف اتنا چاہتا ہوں کے آپ اپنی خوشی سے مجھے میری محبت دے دیں اپنی بیٹی کی خاطر ہی سہی
اس بار لہجے میں کوئی سختی نہیں تھی

اور اگر میں ایسا نا کروں تو۔۔۔۔

تو ۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکا کر گہری سانس لیتے ہوئے سیدھا ہوا

میں اپنی شرافت چھوڑ کر وہی کرونگا جو مجھے کرنا ہوگا۔۔۔۔میں بتا چکا ہوں میں اپنی محبت کے لیے مرنا بھی جانتا ہوں اور مارنا بھی ۔۔۔۔۔۔۔
باتوں ہی باتوں میں وہ اُنھیں یقین دلا گیا کے وہ اپنی محبت کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے کسی سے بھی لڑ سکتا ہے اور اُس کی باتوں نے عزیز صاحب کو مزید غصّہ دلانے کا کام کیا وہ اُسے غصے سے دیکھتے رہے اور زار نے بھی بنا ڈرے اُن کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا

زار۔۔۔۔۔۔۔تم جاؤ یہاں سے
اس وقت تم جاؤ یہاں سے
کمشنر نے جلدی سے زار کی طرف بڑھ کر اُسے وہاں سے ہٹانا چاہا تاکہ بات اور نہ بڑھے زار نے اُن کی بات مانتے ہوئے پیچھے ہو کر گاڑی کا دروازہ کھولا پھر روحی کی جانب دیکھا

اپنا خیال رکھنا اور مجھ پر بھروسہ کرنا ہمیشہ۔۔ ۔۔۔۔۔۔تم صرف میری ہو
بنا کسی کی موجودگی کا لحاظ کیے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے محبت سے بولا روحی کی صرف آنکھیں مسکرائی عزیز صاحب آگ بگولا ہو کر آگے بڑھے اور اُس کی کلائی پکڑے تقریباً کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے
💜💜💜💜💜💜
پاپا۔۔۔
وہ اُسے اُسے طرح گھر کے اندر لے آئے روحی اپنی کلائی چھڑوانے کی کوشش کرتی رہی

پاپا میری بات تو سنیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ نہیں سننا چاہتے ہم۔۔۔۔اپنی آنکھوں سے اتنا کچھ دیکھنے کے بعد آپ کی کسی صفائی کے محتاج نہیں ہے ہم
وہ اُس کا ہاتھ جھٹک کر بولے

میں کوئی صفائی نہیں دے رہی ہو پاپا ۔۔۔۔۔۔میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کے آپ مجھے سمجھنے کی کوشش کرے۔۔۔۔۔زار کی ہر بات سچ ہے ۔۔۔۔۔۔میں بھی اُسے چاہتی ہوں

بس۔۔۔۔۔
عزیز صاحب کی آواز اُن کے بنگلے میں گونجی تھی

۔یہ سب ہماری ہی غلطی ہے آپ کو حد سے زیادہ چاہنا آپ کی ہر بات ماننا آج ہمیں اس موڈ پر لے آیا ہے۔۔۔۔لیکن ہم اب آپ کے آگے جھکنے والے نہیں آپ کی شادی وہیں ہوگی جہاں ہم چاہے گے۔۔۔ابرار کے ساتھ

ایسا نہیں ہوگا پاپا۔ ہر چیز کو دولت سے تولنا بند کیجئے دولت کے علاوہ بھی کچھ انمول چیزیں ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔کبھی اپنا نظریہ بدل کر زار کے بار میں سوچیئے۔۔۔۔۔میری خوشی کے بارے میں سوچیئے ۔۔۔
وہ روتے ہوئے بولی کمشنر صاحب ہمت کرکے آگے بڑھے اور اُس کے سر پر ہاتھ رکھا

زار اچھا لڑکا ہے سر۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے بہت ہمت کرکے کہا اور اُن کی توقع کے مطابق عزیز صاحب کا رخ اُن کی جانب ہوا

دماغ جگہ پر ہے یا نہیں تمہارا ۔۔۔اُس لڑکے کی ہم سے کوئی برابری نہیں جس کا نا خاندانِ ہے نہ کوئی نام اُسے دے دوں اپنی بیٹی۔۔۔میرے نوکروں میں گنتی ہے اُس کی۔۔۔
کمشنر سر جھکا گئے اُن کی مہربانی پر وہ آج کمشنر تھے اُن سے مزید کچھ کہنے کی جرات نہیں تھی اُن میں

بس کیجئے پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کوئی غرض نہیں اس سب چیزوں سے ۔۔۔۔۔یہ سب آپ کے لیے معنی رکھتا ہوگا میرے لیے نہیں۔۔۔۔میں صرف اتنا جانتی ہوں کے وہ مجھے بہت چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔

کل تک تمہارے سر سے یہ عاشقی کا بھوت بھی اُتر جائیگا جب تمہارا نکاح ابرار کے ساتھ ہوگا۔۔۔خود کو تیار کرلو۔۔۔۔۔۔
عزیز صاحب اُس کی بات پر اُسے افسوس سے دیکھتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا کر باہر چلے گئے اور ان کے پیچھے کمشنر بھی

آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ میری زندگی صرف زار کی امانت ہے پاپا ۔۔۔۔ اُس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا
وہ زور سے بولی تھی تاکہ وہ باہر نکل کر بھی سن سکے
💜💜💜💜💜💜💜

آہ۔۔۔۔۔۔دھیرے کیجئے امی ۔۔۔۔۔۔۔کیا کر رہی ہے آپ

رفعت نے جیسے ہی اُس کی پیشانی پر کاٹن رکھا وہ بگڑتے ہوئے بولا
مجھے جیسے آتا ہے کر رہی ہوں۔۔۔۔تم نے تو اس گھر کو سٹی ہاسپٹل سمجھ رکھا ہے آئے دِن لوگو سے لڑ کر آجاتے ہو ۔۔۔۔۔چہرہ دیکھو ایک جگہ نہیں بچی ۔۔۔۔۔اچھی خاصی شہزادے جیسی شکل کو خراب کرکے آیا ہے ۔۔۔ چہرے پر مار کھانے کی کیا ضرورت تھی
رفعت اپنی دھن میں کہتی ہوئی اُس کے چہرے پر لگی خراشوں کو صاف کر رہی تھی

سوری بھول گیا۔۔۔۔مجھے اُسے ایک لسٹ بنا کر دینی چاہیے تھی کے کہاں مارنا ہے کہاں نہیں۔۔۔۔۔حد کرتی ہے آپ۔۔۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بولا

ٹھیک ہے اتنا بگڑ کیوں رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفعت حیران ہوتی بولیں وہ چہرے سے پریشان لگ رہا تھا اسی لیے مزید کوئی بات نہیں کی

کیا ہوا پریشان لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔
رفعت نے اُسے خاموش دیکھ کر پوچھا

روحی کی فکر ہو رہی ہے مجھے ۔۔۔۔۔پتہ نہیں وہ کیسی ہوگی
وہ بنا سر اٹھائے دھیرے سے بولا رفعت مسکرائی

وہ بلکل ٹھیک ہوگی۔۔۔۔اتن دِن سے تم نے اُسے پریشان کر رکھا تھا اب جب اُس سے بات کر لی ہے تو اُس کی ٹینشن ختم ہو گئی ۔۔۔۔اب اُس کے۔پاپا کو بھی منا ہی لینگے کسی طرح

وہ رفعت کو ساری بات بتا چکا تھا اُنھیں بھی فکر ہو رہی تھی لیکن اس بات کی خوشی بھی تھی کے کم سے کم اُس نے اظہار کر کے ایک طرفہ اذیت سے چھٹکارا پا لیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔ سسر جی کو منانا اتنا آسان نہیں لگتا مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولا اور رفعت اُس کی بات پر ہنس دیں
💜💜💜💜💜💜💜