Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

عزیز صاحب روحی کے کمرے میں داخل ہوئے ساتھ ہی ایک ملازمہ کپڑے اور جویلری لیے آئی اور ٹیبل پر رکھ کر واپس باہر چلی گئی

مہمان آنے والے ہے جلدی سے تیار ہو جائیے
روحی بیڈ پر گھٹنوں پر سے رکھے بیٹھی تھی اُن کے کہنے پر سیدھی ہو کر بیڈ سے اُتری

واؤ۔۔۔۔یہ لہنگا تو بہت پیارا ہے۔۔۔۔میں بہت اچھی لگوں گی اس میں ۔۔۔۔
کپڑوں کو دھیان سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی عزیز صاحب نے اُسے غور سے دیکھا اس کے اتنے نارمل انداز پر اُنہیں حیرت ہو رہی تھی

کیا ہوا پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کی حیرانی کو بھانپ کر بولی

ہمیں دیکھ کر اچھا لگا کے آپ اس نکاح کے لیے ہمیں زبردستی کرنے پر مجبور نہیں کر رہیں ۔۔

کیوں کے مجھے پتہ ہے یہ نکاح ہونے والا ہی نہیں ہے۔۔۔
وہ ہاتھ باندھ کر اطمینان سے کھڑی تھی

میں رو دھو کر ڈراما نہیں کرنا چاہتی پاپا کیوں کہ۔۔۔۔مجھے زار پر پورا یقین ہے۔۔۔وہ میرے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دیگا۔۔۔۔۔۔۔۔آج تک وہ مجھے ہر مصیبت سے بچاتا آیا ہے اور اب بھی وہ ضرور آئےگا

اگر آج وہ یہاں آیا تو واپس نہیں جا پائیگا۔۔۔۔۔۔اُسے شاید جانتی ہے آپ لیکن اپنے پاپا کا اصلی چہرہ نہیں دیکھا آپ نے ۔۔۔۔ہم جتنے اچھے ہے اتنے برے بھی ہے
وہ اس کی بے خوف آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی چاہے وہ کتنی بھی مضبوط دکھائے خود کو لیکن اندر سے ڈر تو لگ ہی رہا تھا کے جانے کیا ہونے والا بس اُسے ایک بات پتہ تھی کے وہ کسی بھی قیمت پر یہ نکاح نہیں کریگی

💜💜💜💜💜💜💜
مشی اُسے لیے کمرے سے باہر آئی سفید لہنگا اور سفید ہی گھٹنوں سے نیچے تک آتا کرتا جس پر ڈائمنڈ چمک رہے تھے آتشی رنگ کے دوپٹے سے اس کا آدھا سر ڈھکا ہوا تھا اور مانگ ٹیکہ صاف نظر آرہا تھا کانوں میں کندھے تک آتے ایئر رنگ وہ بے شک بہت خوبصورت لگ رہی تھی لیکن اس کے چہرے پر اُداسی تھی عزیز صاحب اُسے نیچے آتے دیکھ کر مسکرائے اور خود آگے بڑھ کر اس کیا ہاتھ تھامے اُسے لیے آگے بڑھنے لگے مشی پیچھے ہو گئی آخری سیڑی اترتے ہی اس کی نظر دروازے سے اندر داخل ہوتے زار پر پڑی تھی اور اس کے ساتھ عزیز صاحب کے بھی قدم رک گئے تھے زار نے دور سے اس کی آنکھوں میں بےبسی سے دیکھا اُسے کچھ غلط نہیں کرنا تھا مگر وہ اُسے کسی اور کے نام نہیں ہونے دیے سکتا تھا وہ اس کے بعد عزیز صاحب کو دیکھ کر اسٹیج کی جانب بڑھا ایک طرف جہاں صوفہ رکھا تھا اور پھولوں سے اس جگہ کو سجایا گیا تھا نکاح کے لیے

Attention please۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وہاں کھڑا ہو کر زور کی آواز میں بولا حالانکہ مہمان بہت زیادہ نہیں تھے لیکن کچھ خاص خاص لوگوں کو بلایا گیا تھا ابرار اور اس کے ماں باپ بھی زار کی جانب متوجہ ہوئے

بہت بہت شکریہ آپ سب کا جو آپ سب نے آج یہاں آکر منسٹر صاحب کی خوشیوں میں شرکت کی۔۔۔۔۔۔لیکن مجھے بتاتے ہوئے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ یہ نکاح نہیں ہوگا
سب ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے ساتھ ہی عزیز صاحب کو بھی جو خاموش کھڑے اُسے سن رہے تھے

کیوں کے یہ لڑکی نکاح کرنا ہی نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔۔ہمارے منسٹر صاحب جو ساری دنیا کو سمجھداری اور قانون کا سبق سکھا تے ہے وہ خود ہی اپنی بیٹی کا نکاح زبردستی کروا رہے ہیں۔۔۔۔خود ہی قانون توڑ رہے ہیں۔۔۔ہے نا حیرت کی بات۔۔۔لیکن میرے ہوتے ہوئے کوئی قانون نہیں توڑ سکتا چاہے وہ منسٹر ہی کیوں نہ ہو ۔۔ یہ نکاح نہیں ہوگا اسلئے آپ لوگ اپنا قیمتی وقت برباد نا کریں
عزیز صاحب کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا اور روحی پریشانی سے زار کو دیکھے جا رہی تھی مہمان چہ میگوئیاں کرتے ہوئے باہر نکلنے لگے یہاں تک۔کے صرف ابرار کی فیملی اور چند لوگ ہی رہ گئے

یہ سب کیا ہو رہا ہے عزیز صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباس صاحب اس کی بات پر غصے سے عزیز صاحب کی جانب رخ کیے بولے

ایکسکیوز می۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اُن کی بات کاٹ کر اپنی جانب متوجہ کیا

میں آپ کا درد سمجھتا ہوں لیکن عزیز صاحب کی کلاس آپ بعد میں لے لیجئے گا ۔۔۔فلحال یہاں سے روانہ ہونے کی کریں۔۔۔ابھی اُن کے لیے میں ہی بہت ہوں
زار نے عزیز صاحب کی قہر برساتی آنکھوں میں دیکھا عباس صاحب اُن کی خاموشی پر غصّہ ہوتے ابرار کا بازو پکڑے وہاں سے نکل گئے اور اُن کے پیچھے بچے ہوئے سارے لوگ بھی

تم لوگ دیکھ کیا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ختم کر دو اسے
عزیز صاحب نے دروازے پر کھڑے گارڈز کو دھاڑتے ہوئے حکم دیا وہ بجلی کی تیزی سے زار کی جانب بڑھے وہ اس پر حملے کرتے اس کے پہلے ہی زار نے ہوشیار ہوتے ہوئے اُنہیں اپنے قریب آنے سے روکا وہ تقریباً سات آٹھ لوگ تھے اور وہ اکیلا دو لوگو کے ایک ساتھ دھکا دینے پر وہ دیوار سے ٹکرایا تھا روحی نے اس کے پاس جانا چاہا لیکن عزیز صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

نہیں پاپا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز
وہ گڑگڑاتے ہوئے بولی،اُن کی سختی میں کوئی کمی نہیں آئی زار اُن لوگوں کا سامنا کرنا جانتا تھا اُسے اس کی عادت تھی لیکن مشکل بھی تھا کیوں کہ سامنے والے بھی کم نہیں تھے اُس کے ہر وار کا جواب دینا جانتے تھے

زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جا کے شیشے کی دیوار پر گرا تھا اور روحی زور سے چینخ پڑی خون کی ایک لکیر اُس کے سر سے نکل کر گال سے بھتی ہوئی نیچے آئے اُس ک حواس گم ہوئے تھے اُس نے آنکھیں بند کرکے کھولیں سے پر ہتھیلی مارتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا اُن کا مقابلہ کرنے اور کوئی بھی ریايت نا کرتے ہوئے بے سود مارتے ہوئے اُن کو بے حال کر دیا کچھ ہی دیر میں چند زمین پر پڑے کراہ رہے تھے اور کچھ نے ہار مان کر پیچھے ہٹنے میں ہی بھلائی جانی زار نے عزیز صاحب کی جانب دیکھا جیسے انتظار ہو کے اور کچھ لوگو کو اُس کی جانب بڑھنے کا حکم دیں لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا زمین پر پڑے اپنے غلاموں کی حالت دیکھتے رہے وہ تیز تیز سانسیں لیتا ہوا اُن تک پہنچا اُس کی آف وہائٹ شرٹ پر خون کے نشان صاف نظر آرہے تھے روحی اُسے نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اُس کے چہرے پر درد یہ تکلیف کا ایک اندر بھی نہیں تھا بلکہ سختی تھی ہار مشکل سے لڑ جانے کی اور آنکھوں میں جنون تھا ہر حد پار کر جانے کا

یہ لوگ تو بہت ناکارہ نکلے سسر جی
وہ اُنھیں دیکھ کر افسوس سے کہتا مسکرایا

خیر اتنا کافی ہے یا اور آزمانا چاہے گے کے آپ کے داماد کے بازوں میں کتنی طاقت ہے ۔۔۔۔آپ کی بیٹی کی حفاظت کر سکتا ہے یا نہیں ۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر جیت کی جو مسکان تھی عزیز صاحب کا دل جلا رہی تھی

جانِ زار۔۔۔۔پاپا کو گلوکوز پلاؤ ۔۔۔
دھیرے سے ہنستا ہوا بولا اور پلٹ کر باہری دروازے کی طرف بڑھ گیا لیکن بنا رکے سر گھما کر دو اُنگلیاں ہونٹوں سے لگائے فلائنگ کس اچھالتے ہوئے اُن کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام ضرور کیا

💜💜💜💜💜💜

اب کس سے لڑ کر آئے ہو۔۔۔۔۔۔کیا حالت بنا رکھی ہے۔دروازہ پر اُس کا حلیہ دیکھتے ہی رفعت بڑبڑاتی ہوئی اُس کے پیچھے آئی وہ گرنے والے انداز میں صوفے پر بیٹھا تھا رفعت کو حیران کرنے والی اُس کی مسکراہٹ تھی

کچھ بولو بھی کیوں ہنسے جا رہے ہو
ہائے اللہ کہیں میرا بیٹا محبت میں پاگل تو نہیں ہو گیا۔۔۔زار تجھے کیا ہو گیا بیٹا
وہ اُس کے قریب بیٹھ کر اپنے دوپٹے سے اُس کے چہرہ صاف کرتے ہوئے بولیں

منسٹر صاحب کی بیٹی کا نکاح روک کر آرہا ہوں ۔۔۔۔۔۔
وہ خوبصورتی سے مسکراتا ہوا بولا اور رفعت اُس کے مسکرانے پر بنا ہنسے نہیں رہ سکی لیکن پھر اُسے سنجیدہ ہو کر دیکھا

روحی کتنی پریشان ہوگی ۔۔۔۔۔ایک لڑکی کے لیے کتنا مشکل ہوتا ہے جب اس کے دو اپنے آپس میں لڑ رہے ہو کسی کی بھی ہار ہو پر نقصان تو اس کا ہی ہوتا ہے
وہ افسوس سے بولیں زار سیدھا ہو کر اُنھیں سنجیدگی سے دیکھنے لگا

میں اُن سے لڑنا نہیں چاہتا تھا امی پر انہوں نے میرے پاس کوئی آپشن ہی نہیں چھوڑا ۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں وہ میری لائف میں ولن بننا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔اُن کے لیے صرف دولت اور حیثیت ہی معنی رکھتی ہے اُنھیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے اُن کی بیٹی کی خوشی کس میں ہے ۔ ۔۔۔۔وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔ وہ میری روحی کا نکاح کروانے جا رہے تھے کیسے ہونے دیتا میں۔۔۔۔۔اس لیے مجھے جو صحیح لگا میں نے کیا جانتا ہوں اُسے دکھ ہوگا لیکن اُسے کھو نہیں سکتا میں ۔۔۔۔۔ایک نہیں ہزار بار یہ کرنا پڑے میں کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ غصے اور افسوس سے بولا رفعت خاموشی سے اُسے دیکھتی رہیں

تم کہو تو میں بات کروں اُن سے ۔۔۔سمجھانے کی کوشش کروں اُنھیں
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولیں

بلکل نہیں امی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے فوراً جواب دیا

کیوں کیا اتنا بھی یقین نہیں اپنی امی پر۔۔۔۔۔

میں خود اپنے پیروں پر کلہاڑی نہیں مرنا چاہتا
وہ بڑبڑایا اور رفعت نے اُسے گھور کر دیکھا

کیا مطلب۔۔۔۔۔

مطلب میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا امی
اُس نے بات بنائی

سب سمجھ رہی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں دکھا کر بولیں تو وہ دھیرے سے ہنس دیا

دیکھیے اگر آپ اُن سے بات کرنے گئی تو آپ کے پاس بس دو ٹاپک ہوگے۔۔۔ایک تو یہ کے آپ کو دنیا کے تمام کھانے بنانے میں مہارت حاصل ہے اور آپ اُن کی بیٹی کو خوب کھلایا کرے گی۔۔۔۔اور دوسرا یہ کے آپ کا بیٹا شہزادہ ہے۔۔۔۔ہیرو ہے۔۔۔۔۔۔راجکمار ہے۔۔۔میری بڑائیا ں کرتی جائے گی بس ۔۔۔۔اور اس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا اس لیے آپ رہنے دیں

زیادہ غصّہ دلایا نا تم نے مجھے تو سامنے سے جا کر بولوں گی کے خبردار جو اس نالائق کو اپنی بیٹی دی ۔ ۔۔۔۔
رفعت نے اُسے دھمکی دیتے ہوئے کہا اس نے سر پیچھے کر کے قہقہہ لگایا

💜💜💜💜💜💜