Rate this Novel
Episode 34
روحی بنا کسی کو بتائے گھر سے نکل کر شیرا کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچی تھی لیکن اُس کے گھر میں نا ہونے پر عزیز صاحب نے فوراً اپنے آدمیوں کو اُسے ڈھونڈنے پر بھیج دیا تھا ساتھ ہی اُنہوں نے زار کو فون ملایا کیوں کے اس معاملے میں اُس سے زیادہ کسی پر یقین نہیں تھا ۔۔۔۔لیکن اُس کا نمبر بند تھا اور آفس میں پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ باہر گیا ہوا ہے
شیرا زار کے سامنے اُسی طرح بیٹھا فضول کی دھمکیاں دے رہا تھا اور زار اُسے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے مسلسل اپنے ہاتھوں کو جھٹکا دے کر آزاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا روحی کو بھاگتے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوتا دیکھ شیرا کی آنکھوں میں چمک بڑھ گئی اور زار کے غصے میں خوف کی ایک لہر نظر آئی
لیجئے ۔۔۔۔۔۔۔لیلیٰ اپنے مجنوں کو چھڑوانے آہی گئی
شیرا ہنستے ہوئے بولا روحی ہر چیز سے بے نیاز زار کو دیکھنے لگی
روحی جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے پوری طاقت سے چلا کر بہت غصے سے کہا تھا لیکن روحی بجائے اُس کی بات ماننے کے روتی ہوئی اُس کی طرف بڑھی شیرا مسلسل ہنسے جا رہا تھا روحی زار کے پیروں کے پاس بیٹھ کر اُس کے چہرے پر لگے خون کے نشان پر ہاتھ رکھ کر اُسے دیکھنے لگی اس کے ہونٹ کے کنارے سے بھی خون نکل رہا تھا اور گلے پر بھی ناخن سے بنے زخم کے نشان تھے جو شائد شیرا نے اس کے بندھے ہونے کا فائدہ اٹھا کر اُسے پہنچایا تھا
روحی ۔۔۔۔۔۔۔جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پر دانت جمائے سختی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہے بولا
نہیں زار میں تمہیں اس حال میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی
روحی میں نے کہا جاؤ یہاں سے ابھی کے ابھی۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں صرف غصّہ تھا روحی نے سر نفی میں ہلا دیا
ارے یار اب کیا خود ہی ساری باتیں کر لو گے ۔۔۔۔ہمیں بھی موقع دو نا ۔۔۔۔۔۔
شیرا نے روحی کو بازو سے پکڑے اٹھایا اپنے سامنے کرکے اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگا
افف قیامت ہو تم تو۔۔۔۔۔۔۔اب سمجھ آیا کے یہ تم پر اتنا مرتا کیوں ہے
شیرا خباثت سے ہنستا ہوا زار کی طرف دیکھنے لگا زار نے اپنی مٹھیاں بھینچ کر رسی کو جھٹکا دیا
تم نے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔کے میں یہاں آگئی ۔۔۔۔۔۔ت تو تم زار کو چھوڑ دوگے۔۔۔۔۔۔
وہ زار کے بعد روحی کو دیکھنے لگا تو روحی ڈرتے ہوئے بولی
کہا تو تھا لیکن میں تیرے یار کی طرح زبان کا پکا نہیں ہوں نا لیکن تو فکر مت کر ۔۔۔۔۔۔۔یہ مر بھی گیا نا تو تو اکیلی نہیں رہےگی۔۔۔۔۔۔۔۔شیرا ہے نہ ساری زندگی تیری خوبصورتی کا خیال رکھنے کے لیے
روحی نے اُسے ناگواری سے دیکھتے ہوئے منہ پھر لیا
کیا ہوا اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔جانتا ہوں اتنے لوگو کے بیچ شرم آرہی ہوگی نا۔۔۔۔۔۔۔۔
اے تم سب باہر جاؤ۔۔۔۔ویسے بھی یہ کام اکیلے میں ہی کرنا اچھا لگتا ہے
شیرا اس کا بازو چھوڑ کر دو قدم آگے آکر زار کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اس کے کہنے پر سارے آدمی وہاں سے باہر نکل گئے اور روحی پیچھے ہو کر وہاں رکھے بکسوں کی دیوار سے لگ گئی شیرا نے زار کو اشارے سے دیکھنے کو کہا اور روحی کی طرف بڑھا
رک۔۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ روحی کے گلے میں موجود دوپٹے کی طرف بڑھ رہا تھا زار کے دھاڑنے پر رک گیا
اُسے ہاتھ لگانے کی غلطی بھی مت کرنا ورنہ تجھے اپنے پیدا ہونے پر افسوس ہوگا
زار اپنی سرخ آنکھوں میں دنیا جہاں کی نفرت سماتے ہوئے بولا شیرا واپس اس کی طرف آیا اور اس کا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچے اُسے غصے سے دیکھنے لگا
سالے۔۔۔۔تو مجھے دھمکی دے رہا ہے تیری زندگی اس وقت میری مُٹھی میں ہے چاہوں تو ایک پل میں تیری سانسیں بند کر سکتا ہوں اور تو مجھے ہی آنکھیں دکھا رہا ہے
زار نے سر جھٹک کر اس کے ہاتھ سے خود کو آزاد کیا
تجھے ایک صلاح دے رہا ہوں تو مجھے مارنا چاہتا ہے نہ مار دے۔۔۔۔۔۔۔ابھی اسی وقت مار دے…….لیکن اگر تونے اُس کو چھوا بھی تو بہت پچھتائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے جانے دے
زار نے قہر برساتی آنکھوں سے اُسے دیکھا
یہی خوف تو دیکھنا چاہتا تھا میں تیری آنکھوں میں ۔۔۔۔۔۔۔جو تجھے مارتے وقت کہیں نظر نہیں آیا۔۔۔۔۔۔۔لیکن اب بھی کچھ کمی ہے
شیرا مسکرا کر روحی کی طرف دیکھنے لگا اور پھر دوبارہ زار کی طرف دیکھا تو زار نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے اُسے روکا شیرا روحی کی طرف بڑھنے لگا روحی پیچھے ہوتی چلی گئی اور خوفزدہ ہوکر اُسے دیکھنے لگی پتہ نہیں کیوں اُسے یقین تھا کے اس کے ساتھ کچھ غلط ہو ہی نہیں سکتا پیچھے چلتے ہوئے اس کا پر کسی چیز سے لگا وہ زمین پر گری اور اگلے ہی لمحے بے ہوش ہو گئی شیرا بنا رکے روحی کی طرف بڑھا رہا لیکن اس کے قدم اب بھی روحی سے کچھ فاصلے پر تھے جب زار نے ایک دفعہ اوراپنے ہاتھ کو جھٹکا دیا اور اس کی رسی ڈھیلی پڑ گئی تھی شیرا کے جھک کر روحی کو چھونے سے پہلے ہی زار نے پیچھے سے آکر اس کی گردن کو اپنے بازو میں جکڑ لیا تھا شیرا اس اچانک افتاد پر ہڑبڑا کر خود کو آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگا اس کی آواز تک نہیں نکل رہی تھی کے وہ باہر کھڑے اپنے ادمیوں کو آواز دیتا
کہا تھا نا تجھے کے اُسے چھونے کی کوشش مت کرنا
وہ اپنے ہاتھ کی گرفت اس کی گردن پر سخت کرتا جا رہا تھا اور شیرا دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ پکڑے کھینچ کر خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا زار نے ہاتھ ہٹا کر اس کا رخ اپنی جانب کیا اور ایک زور کا مکہ اس کے منہ پر مار کر اُسے زمین پر گرا دیا شیرا زمین پر پڑا زور سے کھانسنے لگا اس کی سانس رک گئی تھی زار روحی کو دیکھ کر اس کی طرف آیا اور اس کا چہرہ تھپتھپا کر اُسے آواز دی لیکن اس کی آنکھیں بند تھی وہ غصے سے دوبارہ شیرا کی طرف بڑھا اور اس کا گریبان پکڑے اُسے اٹھایا شیرا خوفزدہ ہو کر اس کو دیکھ رہا تھا اب اُسے ڈر لگ رہا تھا کے جانے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے زار نے ایک کے بعد ایک کئی تھپڑ اس کے منہ پر۔مارے وہ دوبارہ زمین پر گرا۔۔اس کے کانوں میں پولیس کے سائرن کی آواز گونج رہی تھی شاید پولیس باہر اس کے ساتھیوں کو پکڑ چکی تھی وہ انتظار کر رہا تھا کے پولیس اندر آئی اور اُسے بھی گرفتار کر لے تاکہ زار کے ہاتھوں مرنے سے بچ سکے زار نے اُسے بنا اٹھائے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے اُسے لیجانے لگا شیرا سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کے آخر وہ کرنا کیا چاہتا ہے جب زار نے اسے اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا
تونے ایک بار بھی نہیں سوچا۔۔۔۔۔۔تیرا بھائی تو صرف اُسے چند پل تکلیف پہنچانے کی وجہ بنا تھا تو میں نے اُسے مار دیا۔۔۔۔۔تونے تو اس کی طرف گندی نظر سے دیکھا ۔۔۔۔اُسے ہاتھ لگانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔تیرا کیا کرونگا خیال نہیں آیا تجھے۔۔۔۔
تو تو۔۔۔۔تو مجھے مار نہیں سکتا۔
شیرا لڑکھڑاتا ہوا بولا
تو روکے گا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اس کا گلا پکڑ کے اُسے جھٹکا دیا
میں سرینڈر کر رہا ہوں مجھے گرفتار کر لے
اس وقت تو قانون کا نہیں میرا مجرم بن کر کھڑا ہے اور جو غلطی تونے کی ہے نا اس کے لیے موت بھی بہت چھوٹی سزا ہے۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غصے سے کہا اور سامنے دیوار کی طرف دیکھا شیرا نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گی وہ اس فیکٹری کا الکٹریسٹی سپلائی بورڈ تھا جو الماری کی طرح بند تھا اور اس پر ڈینجر کا نشان بنا ہوا تھا زار اُسے لیے آگے بڑھا
تو غلط کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھوڑ دے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرا اب بھی اُسے دھمکانے کو کوشش کر رہا تھا اورساتھ ہی خود کو چھڑانے کی زار نے اس کی طرف غصے سے دیکھا اور سر نفی میں ہلاتے ہے پوری طاقت سے اس کی پیشانی پر مکہ مارا وہ زمین پر گرا
زار نے آگے بڑھ کر وہ دروازہ کھولا اور اس کے اندر لگے بڑے فیوز کو کھول کر اس پر لگے کور زمین پر پھینک وہاں پر جو بٹن تھے سب آن کر دیے اور کچھ تاریں کھینچ کر چھوڑ دی شیرا اُسے دیکھ کر اس کے ارادے سمجھتا کراہتے ہوئے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش میں تھا زار نے مین سوئچ کا بٹن دبا کر سسٹم کو آن کیا اورشیرا کی طرف بڑھا وہ چند قدم کے فاصلے پر لنگڑاتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا زار نے اُسے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کرکے اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ رسید کیا
پیٹھ دکھا کر کہا بھاگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی موت سے اتنا ڈرتا ہے تو ۔۔۔۔اور اُن لوگو کا کیا جن کی زندگیاں تونے چھینی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج ہر ایک کی موت کا حساب برابر ہو جائے گا۔۔۔بہت شوق ہے نا تجھے لوگو کی جانیں لینے کا۔۔۔۔۔۔۔۔اب محسوس کر موت ہوتی کیا ہے
زار اس کا چہرہ ہاتھ میں دبوچے غصے سے بولا اور اسے زور سے اس طرف لات ماری کے وہ پیچھے اس الماری پر جا گرا چنگاریاں زمین پر گرنے لگی اور وہ کرنٹ سے تڑپنے لگا چینخنے لگا زار اُسے نفرت سے دیکھ رہا تھا جب اُسے اپنے پیچھے روحی کی چینخ سنائی دی اس نے پلٹ کر دیکھا روحی کے پیچھے پولیس کے کچھ لوگ تھے اور وہ خوفزدہ ہو کر شیرا کو دیکھ رہی تھی زار نے آگے بڑھ کر اُسے سینے سے لگایا اور اس کی نظروں کا زاویہ بدلا روحی آنکھیں بند کئے اس کی شرٹ کو سختی سے پکڑے رونے لگی جب کے وہ اب بھی شیرا کے مردہ جسم کو تڑپتا ہوا دیکھ رہا تھا کچھ ایسے ہی اس نے بھی تڑپایا تھا زار کو اور اب وہ سکون محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔شیرا کا جسم بے جان ہو کر زمین پر گرا تھا اور زار نے آنکھیں بند کیے روحی کے سر پر چہرہ رکھ دیا تھا
اس کے آنسووں کی نمی کو۔محسوس کرکے آنکھیں کھولیں اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا
کچھ نہیں ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولا اور اس کے آنسو صاف کیے روحی دوبارہ اس کے سینے پر سر رکھ گئی
پولیس کے ساتھی اب شیرا کی طرف بڑھ رہے تھے زار نے جب عزیز صاحب کو اندر آتے دیکھ تو روحی کے گرد اس کا حصار کمزور ہو گیا تھا روحی نے محسوس کرکے اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر زار نے اُسے دیکھتے ہوئے خود سے دور کیا وہ سمجھ نہیں پائی کے آخر کیوں لیکن جب اپنے پاپا کے پکارنے پر پیچھے پلٹی تو سمجھ آگئی وہ دوڑ کر اُن کے سینے سے لگ گئی
آپ ٹھیک تو ہے نا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز صاحب نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تو اُس نے دھیرے سے سر ہلا دیا اور زار کو باہر جاتے ہوئے دیکھنے لگی
💜💜💜💜
زار کے پیچھے وہ بھی باہر آئی تھی جب وہ بوتل گاڑی سے نکالے پانی پینے میں لگا تھا
زار تمہیں چوٹ لگی ہے ہاسپٹل چلنا چاہیے
کیا ضرورت تھی یہاں آنے کی ۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اُس کے سوال پے سوال کیا تھا غصے سے
اس نے مجھے دھمکی دی تھی اگر میں یہاں نہیں آتی تو وہ تمہیں مار دیتا
تو مرنے دیتی مجھے ۔۔۔۔۔زندگی میں تو چھوڑ ہی چکی ہو مرنے کے لیے بھی چھوڑ دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔جانتی ہو نا کتنے خطرناک لوگ ہے یہ ۔۔ ۔۔ کچھ ہو جاتا اگر تمہیں تو
وہ غصے سے کہتے ہوئے آخر میں فکر سے بولا اور رخ دوسری جانب کرلیا
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔تم ہو نا میری حفاظت کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے مسکرا کر اُسے دیکھا وہ انگوٹھے سے ہونٹ کے نیچے لگا خون صاف کر رہا تھا
آج تک ہر مصیبت سے بچایا ہے تم نے مجھے اب تو مجھے یقین ہو چکا ہے کے اللہ نے خاص تمہیں میرا گارڈ بنا کر ہی بھیجا ہے
زار نے ایک نظر اُسے دیکھا اور پھر منہ پھر لیا خفگی سے
اور شاید پاپا کو بھی اس بات کا احساس ہو چکا ہے اسی لیے تو انہوں نے اپنی قسم واپس لے لی ہے
روحی نے اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا زار نے اُس کی طرف حیرت سے دیکھا روحی کی مسکراہٹ گہری ہوئی
انہوں نے کہا۔۔۔۔۔۔مجھے اپنی بیٹی کی خوشی چاہیے۔۔۔۔۔۔اور میری خوشی تم ہو۔۔۔۔۔۔۔
تم سچ کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار اُس کی طرف دیکھ کر بيقینی سے پوچھنے لگا
ہاں ۔۔۔۔۔اب ہر امتحان ختم ہو چکا ہے
I m all yours
روحی نے سر ہلاتے ہوئے کہا زار نے ایک لمحہ ضایع کیے بنا اُسے خود سے لگا لیا اور کتنی ہی دیر تک آنکھیں بند کئے اُسےخود سے لگائے رکھا پھر اچانک جیسے کچھ یاد آنے پر فوراً اُس سے الگ ہوا
کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے۔۔۔۔۔۔
روحی اُس کے بدلتے چہرے کو حیرت سے دیکھنے لگی
جب تمہاری مرضی ہوگی میری زندگی میں آجاؤ گی جب دل کیا چلی جاوگی۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر جب تمہارا دل کرے واپس آجاؤ گی۔۔۔۔۔
تم نے اور تمہارے پاپا نے مجھے کیا اپنی خریدی ہوئی کوئی چیز سمجھ رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔جو ہر بار اپنے مرضی سے استعمال کرے۔۔۔۔۔۔تم اپنی مرضی سے گئی تھی۔۔۔۔۔لیکن میری زندگی میں اپنی مرضی سے واپس آ نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولا
زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھے کبھی کچھ نہیں سمجھا۔۔۔۔۔۔تمہارے پاس ایک ہی رشتے کی اہمیت تھی ۔۔۔۔۔۔تمہارے پاپا کی اہمیت تھی بس۔ ۔۔۔ ۔میں تو کچھ ہوں نہیں نا تمہارے لیے ۔۔۔جس رشتے کو تم نے کبھی مانا نہیں۔۔۔۔۔کبھی سمجھا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس رشتے کو نبھانے آئی ہو آج
وہ ناراضگی سے اُس کی بات کاٹ کر بول رہا تھا اور روحی اُسے پریشانی سے دیکھنے لگی
تمہارے پاپا نے ، میرے پاس آنے کی اجازت بھلے دے دی ہو پر میری زندگی میں اب تمہاری کوئی جگہ نہیں
ایسا مت کہو زار۔۔۔۔۔۔
روحی نے اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھنا چاہ وہ فوراً پیچھے ہوا
تو اور کیا کہوں میں تم بتاؤ۔۔۔۔۔۔تم نے اس رشتے کو کبھی اہمیت دی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔جب نبھانا ہی نہیں تھا تو رشتا جوڑا کیوں تھا مجھ سے
میں نے جلد بازی میں فیصلہ کر لیا تھا زار ۔۔۔۔اُس وقت سمجھ نہیں آیا تھا۔۔۔۔لیکن بعد میں احساس ہوا کے پاپا کو چوٹ پہنچا کر خوش نہیں رہ سکتی میں۔۔۔۔۔۔ اور یہ رشتا جوڑ کے تمہیں بھی مشکل میں ڈال دیا میں نے
آسان لفظوں میں بات کرو۔۔۔۔۔۔کہو کے میں نے غلطی کر دی تھی نکاح کرکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زار میں شرمندہ تھی تم سے پیار کرکے۔۔۔۔
زار نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اورلب بھینچ لیے
تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو زار ۔۔۔۔اگر پاپا کی مرضی سے یہ نکاح ہوتا تو میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی تمہیں دکھ نہیں دیتی
اُس نے زار کے چہرے پر ہاتھ رکھا جیسے وہ اگلے سیکنڈ جھٹک چکا تھا
پاپا پاپا پاپا۔۔۔۔پاپا یہ پاپا وہ۔۔۔۔۔۔۔بس ایک تم اچھی اور دوسرے تمہارے پاپااچھے۔۔۔۔۔۔برا توصرف میں ہوں نہ۔۔۔۔۔اور تم دونوں اچھوں کے بیچ میرے جیسے نالائق انسان کی کیا ضرورت ۔۔۔۔۔۔۔۔تم اپنے پاپا کےساتھ خوش رہو اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو مجھے نا تمہارے پیار کی ضرورت ہے نہ تمہارے پاپا کی ہمدردی کی
اُس کے آگے انگلی اٹھا کر غصے سے بولا اور آگے بڑھ کر اپنی جیپ کا دروازہ کھولا لیکن اندر بیٹھنے کی بجائے رک کر اُس کے پریشان چہرے کو دیکھنے لگا
اور اُس رات کے لیے زندگی بھر معاف نہیں کرونگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس وقت بہت ضروت تھی مجھے تمہاری
اس نے روحی کی طرف دیکھ کر کہا تو اُس کی آنکھوں میں غصے سے زیادہ تکلیف دیکھ کر روحی کا دل بھرنے لگا
پر تم نے کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔میرا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔۔۔مجھے خود سے دور کر دیا۔۔۔۔۔۔اب زندگی بھر دور ہی رہنا
وہ جتاتے ہوئے بولا اور گاڑی میں بیٹھ کر اُسے اُس کے آنسووں سمیت چھوڑ گیا
💜💜💜💜💜💜💜💜
