Rate this Novel
Episode 12
دروازہ کھلتے ہی وہ ایک بھی لمحہ ضایع کیے بنا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا اُس نے چھپانے کی کوشش کی تھی لیکن رفعت نے اُس کی سرخ آنکھیں دیکھ لی اسی لیے اُس کے پیچھے پیچھے چلتی آئی لیکن وہ دروازہ بند کرکے کمرے میں بند ہو چکا تھا اُنہوں نے دستک دی
زار ۔۔۔۔۔۔دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوا تمہیں
اُنہوں نے فکرمندی سے پوچھا زار کچھ نہیں بولا دروازے سے پشت لگائے کھڑا رہا
زار۔۔۔۔۔
اُنہوں نے دوبارہ دستک دی اور ساتھ اُسے پکارا بھی اُس نے آنکھیں بند کرکے ایک گہری سانس لی
امی پلیز۔۔۔۔۔۔۔ آپ جائیے ابھی۔۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کام ہے
لاکھ کوشش کے بعد بھی اُس کی آواز میں بھاری پن اور لڑکھڑاہٹ اُنھیں سمجھا گئی کے وہ خود کو رونے سے روک رہا ہے
زار جھوٹ مت بولو۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں تمہیں کچھ ہوا ہے ۔۔دروازہ کھولو
اُنہوں نے بے چینی سے ہاتھ دروازے پر مارتے ہوئے کہا وہ اُسے طرح کھڑا رہا بنا کچھ بولے بس اُس کی پلکیں تھی جو وقفے وقفے سے حرکت کر رہی تھی
دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔۔تمہیں میری قسم ہے
کچھ پل انتظار کے بعد وہ بولیں تو زار نے دروازہ کھول دیا اور وہاں سے ہٹ کر فوراً الماری کی جانب چلا گیا
امی میں نے کہا نا ۔۔۔۔۔مجھے کام ہے ۔۔۔۔آپ کیوں ڈسٹرب کر رہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے۔اکیلا چھوڑ دیجئے پلیز۔۔
وہ الماری میں اِدھر ادھر ہاتھ ڈالتے بس اُن کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہا تھا
کہاں گئے تھے تم اور کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی ماں تھی اُس کے ہر انداز کو خوب سمجھتی تھی بنا دیکھے بھی وہ محسوس کر سکتی تھی کے اس وقت اُس کا چہرہ کیسا ہے
کچھ نہیں ہوا مجھے کہا نا میں نے ۔۔آپ جائیے
اُس نے بیزار لہجہ بنائے کہا
چہرہ کیوں چھپا رہے ہو مجھ سے۔۔۔۔میری طرف دیکھ کر بات کیوں نہیں کر رہے پھر۔۔۔۔۔دیکھو ادھر
اُنہوں نے اُس کا بازو کھینچتے ہوئے اپنی جانب رخ کیا تھا وہ پھر بھی سر جھکا گیا اُن کی جانب دیکھا نہیں
رو رہے تھے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔زار
وہ بے یقینی سے کہتی ہوئی اُس کے بازؤں کو تھامے بولیں زار نے اُن کی جانب دیکھا اور روتے ہوئے اُن کے گلے سے لگ گیا وہ حیران تھی کیوں کے پہلے اُسے کبھی اس طرح نہیں دیکھا تھا وہ ہر مشکل کا سامنا کرنے والا بڑے سے بڑے طوفان کا ڈٹ کر سامنا کرنے والا آج اُن کے گلے لگ کر بچے کی طرح رو رہا تھا اُن کی اپنی آنکھوں میں بھی نمي اُتر آئی
بہت چاہتا ہوں میں اُسے۔۔۔۔۔ محبت کرتا ہوں اُس سے۔۔۔۔۔۔ ۔ لیکن بتا نہیں سکتا
دل روتا ہے میرا جب اُس کی آنکھیں مجھ سے شکایت کرتی ہے۔۔۔۔میں بیگانوں کی طرح دیکھتا رہتا ہوں آگے بڑھ کے اُس کے انسوں روکنے کی بھی ہمت نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفعت خاموش اُس کی کی باتیں سنتی رہی اور اُس کے آنسوؤں کو اپنے کندھے پر جذب ہوتے محسوس کرتی رہی پچھلے کچھ دنوں سے اُس کے بدلے ہوئے رویے کی وجہ اُنھیں سمجھ آگئی تھی
زار۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اُسے سیدھے کھڑے کیا تھا اور وہ ہتھیلی سے اپنی آنکھیں کو ڈھک گیا رفعت نے اُسے بیڈ پر بٹھایا اور اُس کا سر اپنے گھٹنوں پر رکھا زار نے پیر سمیٹے اور اُن کا ہاتھ تھامتے ہوئے مضبوطی سے پکڑا
کوئی اُس کے ہاتھ میں اپنے نام کے انگوٹھی پہنا رہا تھا ۔۔۔۔اور میں بے بس ہو کر کھڑا رہا ۔۔۔ ۔۔کچھ نہیں کیا میں نے ۔۔۔۔۔۔۔وہ انتظار کرتی رہی میری طرف دیکھتی رہی اپنی محبت کا حق مانگتی رہی لیکن میں پتھر کی طرح اُس کے سامنے کھڑا بس تماشا دیکھتا رہا
اُس کی آواز بہت دھیمی تھی رفعت اُس کے چہرے اور بالوں پر ہاتھ پھیر رہی تھی اس وقت اُسے کچھ بھی کہنا یا اُس سے بات کرنا اُنھیں مناسب نہیں لگا شاید اُس کا رونا ہی اُس کے اندر کی تکلیف کم کر سکتا تھا اسی لیے وہ اپنے سوالوں کو روکے بس اُس کی سنتی رہی
وہ مجھے کبھی معاف نہیں کریگی امی۔۔۔۔۔۔۔ میں نے بہت بڑی بے وفائی کی اُس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا بھی مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا اس کے لیے ۔۔۔۔میں کیا کروں
وہ اُن کی جانب دیکھ کے بولا اور اُس ہاتھ پر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر چہرے سے لگا لیا اور آنکھیں بند کر لی
💜💜💜💜💜
وہ بالکونی میں کھڑی تھی نیند اُس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی صبح کی ٹھنڈی ہوا سے اُس کا جسم سرد ہو رہا تھا لیکن اُسے اُس موسم کا کی احساس ہی نہیں تھا وہ تو اپنی زندگی کے بدلتے رخوں کے بارے میں سوچ رہی تھی کچھ ہی وقت میں اُس کی زندگی کتنی بدل گئی تھی کیا ایک احساس انسان کے اندر اتنی تبدیلیاں لے آتا ہے وہ وہ نے رہے۔۔۔ خود سے ہی بیگانہ ہو جائے
ہر پل بدلتی دل کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے کرتے وہ تھک چکی تھی ۔۔۔۔ایک بار زار کے رویے کو یاد کرکے دل اُداس ہو جاتا تو اگلے ہی پل اُس کی آنکھیں یاد کرکے ایک نئی امید جگ جاتی ۔۔۔۔پر وہ نا حقیقت کو سمجھ پا رہی تھی نا زار کے برتاؤ کی وجہ ۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے پاپا سے کہہ دیا تھا کے وہ فلحال شادی نہیں کرنا چاہتی اور اُنہوں نے اُس سے وعدہ کیا تھا کے وہ جتنا وقت چاہتی ہے اُسے دے گے کوئی زور زبردستی نہیں کی جائے گی اور یہی بات وہ عباس صاحب سے بھی کر چکے تھے حالانکہ اُنہوں نے اعتراض جتایا تھا لیکن پھر اُن کی بات مان لی
ایک بار کو اُس کا جی چاہا کے پاپا کو سب بتا دے۔۔۔۔۔لیکن کیسے۔۔۔۔۔وہ تو خود ہی کشمکش میں تھی اُنھیں کیا بتاتی۔۔۔۔ وہ نا زار کا خیال دل سے نکال پا رہی تھی نا اُس کے دل کی بات سمجھ پا رہی تھی نا ہی اُس سے روبرو ہو کے صاف صاف پوچھ سکتی تھی کے آخر اُس کے دل میں کیا ہے
اپنے سرد پڑتے چہرے پر اُسے گرم انگلیوں کا لمس محسوس ہوا جو اُس کے گالوں پر اُڑتے بالوں کو کان کے پیچھے کر رہی تھی اُس نے دھیرے سے چہرے کو حرکت دے کر اپنے ساتھ کھڑے اُس وجود کو دیکھا جس کے دیدار سے اُس کے اندر جان آجاتی تھی لیکن اُسے دیکھ کر بھی وہ مسکرائی نہیں زار کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ اور آنکھوں میں محبت لیے اُسے دیکھنا روحی کو اندر تک سرشار کر گیا زار کا ہاتھ اُس کے شولڈر سے نیچے اترتا اُس کی ہتھیلی پر رکا تھا اور اُس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ لیا تھا روحی نے اُس کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اُسے اور دھیرے سے مسکرائی اپنا دوسرا ہاتھ بڑھا کر اُس نے زار کے چہرے کو چھونا چاہا لیکن اُس کی اُنگلیاں زار کے چہرے پر پڑتے ہی وہ کسی سائے کی طرح وہاں سے غائب ہو گیا وہ آیا ہی تو تھا جو اُس کے خیالوں سے نکل کر اُس کے سامنے آیا تھا اور پل میں غائب ہو گیا تھا روحی نے حیرت سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا جو کچھ دیر پہلے زار کے ہاتھ میں تھا اور اُس ہاتھ کو جو اُسے چھونے کے لیے بڑھایا تھا پھر دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر روتی ہوئی نیچے بیٹھ گئی
💜💜💜💜💜💜💜
Good morning۔۔۔۔۔۔۔ACP zaar
بھاری ہوتے سر کو پکڑتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھا سامنے ہی امی تھانے دار بن کے ہاتھ باندھے کھڑی تھی رات کا واقعہ سوچ کر وہ شرمندہ ہوتا سر جھکا گیا
اتنی دیر ہو گئی ۔۔۔۔کیوں نہیں جگایا مجھے۔۔۔۔۔۔۔
رات کے آخری پہر میں اس کی آنکھ لگی تھی اس نے دس بجاتی گھڑی دیکھ کے بلنکٹ پیروں سے ہٹایا
سوچا میرا دیوداس بیٹا اپنی پارو کے دکھ میں رات بھر تڑپا ہے تو سونے دوں تھوڑی دیر
وہ آئینے کے آگے کھڑا تھا اور رفعت نے بلنکت اٹھا کر فولڈ کرتے ہوئے کہا
امی ۔۔۔۔طنز مت کیجئے۔۔۔۔۔پلیز
وہ بے زاری سے بولا اور موبائل اٹھا کر چیک کرنے لگا
اور نہیں تو کیا۔۔۔۔اتنا تو میرے مرنے کا بھی دکھ نہیں ہوگا تمہیں جتنا اس زندہ لڑکی کے لیے رو رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی بھی کیا مصیبت ہے جو اتنا تڑپ رہے تھے
وہ بلنکیٹ وہی پھینک کے اس کے پیچھے آکر کھڑی ہوئی تھی
اسی لیے نہیں بتا رہا تھا آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔جانتا تھا آپ نہیں سمجھے گی
وہ موبائل بیڈ پر پھینک کر کپڑے نکالنے لگا۔
میں سب سمجھتی ہوں بیٹا۔۔۔لیکن کیا تم سمجھو گے کے تمہیں تکلیف میں دیکھ کر میرے دل پر کیا بیتی ہے
وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے زار کو مزید شرمندہ کر گئی وہ اس کی جانب پلٹ کے اُن کے گلے لگا
امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لڑکی کو بتا کیوں نہیں دیتے۔۔۔۔ جب اس سے اتنا پیار کرتے ہو تو خود کو اذیت کیوں دے رہے ہو کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔
اس کا چہرہ تھامتے ہوئے بولیں
مسئلہ یہ ہے کہ میرے دل نے اپنی اوقات بھول کر محبت کی ہے ۔۔۔۔۔۔اس سے جسے میں شاید کبھی پا نہیں سکتا۔۔۔
وہ اُن کے ہاتھ ہٹاتا پلٹ کر دیوار کو دیکھنے لگا
ایسا کیوں کہہ رہے ہو بیٹا۔۔۔۔۔۔
رفعت نے اُداسی سے پوچھا وہ اُن کی جانب پلٹا
کیوں کے وہ چاند ہے امی اور میں مٹی کا ایک ذرہ۔۔۔۔۔۔جو اُسے چھونے کی حسرت میں قربان ہو سکتا ہے پر اُسے چھو نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔وہ محلوں کی شہزادی اور میں۔۔۔۔۔۔میں کچھ بھی نہیں
وہ دھیرے سے ہنسا
ایسا کیوں کہہ رہے ہو بیٹا۔۔۔۔تم خود کو کم کیوں سمجھ رہے ہو ۔۔۔۔تم نے اپنی محنت اور کوشش سے اتنا بڑا مقام حاصل کیا ہے۔۔۔۔جو کوئی اتنے کم وقت میں نہیں پا سکتا۔۔۔
امی۔۔۔۔۔۔۔یہ محنت ایمانداری کوشش یہ سب کسی کے لیے معنی نہیں رکھتا اس کے اہمیت صرف ہمیں ہی پتہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔اور دنیا صرف نام رتبہ دولت خاندان یہی سب دیکھتی ہے جو میرے پاس نہیں ہے محبت کو قیمتی ضرور سمجھا جاتا ہے لیکن اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ۔۔۔قیمت صرف تب ہوتی ہے جب دو برابر کر لوگو میں ہو۔۔۔۔۔۔۔
میں اس کے آگے کچھ ظاہر نہیں کرنا چاہتا کیوں کے مجھے پتہ ہے کے ہمارا ایک ہونا نا ممکن ہے ۔۔۔۔یہ جانتے ہوئے اگر میں اس کے دل میں امید جگا کر اُسے زندگی بھر کر غم دے دوں تو لعنت ہے میری محبت پر ۔۔۔۔۔
کیا ہوگا۔۔۔۔۔ مجھے بے وفا ہی سمجھے گی نا وہ۔۔۔۔۔۔کچھ دن روئے گی ۔۔۔مجھے یاد کریگی۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے محبت کرنے پر پچتائے گی۔۔۔۔پھر برا خواب سمجھ کر بھول جائے گی مجھے۔۔۔۔اپنی زندگی میں خوش رھے گی ۔۔۔۔
وہ چپ ہو کر ایک غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے کھڑا تھا
بنا لڑے ہی ہار مان لینا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
رفعت مایوس ہو کر بولی
ہاں کیوں کے اس لڑائی کا انجان بہت تکلیف دہ ہوگا اس تکلیف سے اُسے اور خود کو بچانا چاہتا ہوں
میرا بیٹا اتنا بزدل تو نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
جذبات انسان کو کمزور کر دیتے ہیں امی۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر آنکھیں بند کر لی
میں۔۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔ بس اب دوبارہ اس کا ذکر مت کیجئے گا۔۔۔۔۔
اُنہیں کچھ بھی کہنے سے روکتے ہوئے وہ واشروم میں جا چکا تھا اور وہ بس اُسے سمجھنے کی کوشش نے تھیں
💜💜💜💜💜💜
اس کے روبرو آکر اس سے صاف صاف بات کرنے کا فیصلہ کرتی وہ پولیس سٹیشن آئی تھی لیکن اندر جانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی تھی شاید وہ پہلی لڑکی تھی جو اس مسئلے کا سامنا کر رہی تھی اُسے اپنی محبت کا جواب مانگنا پڑ رہا تھا لیکن اُسے یہ کرنا تھا اپنی انا خودداری اور سیلف رسپکٹ کو پر رکھ کر اس اذیت سے آزاد ہونے کے لیے
Excuse me
اندر قدم رکھ کے اس نے سامنے بیٹھے سپاہی کو مخاطب کیا
مجھے۔۔۔۔۔ اے سی پی زار سے ملنا ہے
جھجھکتے ہوئے بولی سپاہی ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا
سر کوئی لڑکی آپ سے ملنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک لیڈی لوئر کے ساتھ بیٹھا کوئی کیس ڈسکس کر رہا تھا سب سے پہلے روحی کا ہی خیال آیا پھر بھی نام پوچھا تو اس کے اندازہ صحیح ثابت ہوا
ٹھیک ہے بھیج دو۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک گہری سانس لی اور کرسی سے اٹھ کر دوسری طرف آیا
مونا۔۔۔۔ مجھے تمہاری ہیلپ چاہیے
وہ ساتھ بیٹھی لڑکی کو مخاطب کرکے بولا اس نے سر اثبات میں ہلا دیا
سپاہی کے بتانے پر وہ اندر کی طرف بڑھی اس کے کیبن کے طرف آگئی جہاں باہر ہی اس کے نام کا بورڈ لگا ہوا تھا اس نے انگلیوں سے اس کے نام کو چھوا۔۔۔۔۔اور دروازہ دھیرے سے کھول کر اندر قدم رکھا لیکن اندر کا منظر دیکھ کر اس کے پیروں تلے زمین ہلی زار کسی لڑکی کے گلے لگا ہوا اور اُس کے چہرے پر جو ہنسی دیکھنے وہ ترستی تھی وہی ہنسی کسی اور کو باہوں میں لیے۔۔۔۔زارنے اُس کی جانب دیکھا اور مونا سے الگ ہوا
تم یہاں۔۔۔۔۔اچانک۔۔۔۔کوئی کام تھا ۔۔۔
وہ اُسے متوجہ کرتا مسکرایا تھا وہ چار قدم آگے بڑھی زار کو غور سے دیکھا اور پھر اُس لڑکی کو
یہ مونا ہے۔۔۔۔۔میری گرل فرینڈ
اُس کے کہنے پر مونا نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا لیکن روحی نے زار کا چہرہ دیکھا
ہم آج ڈیٹ پر جا رہے ہیں بس اسی کا پلین بنا رہے تھے
روحی کی نظروں کا سامنا نہ کرتے ہوئے اُس نے مونا کی جانب دیکھا جو روحی کے چہرے کو دیکھ کر اپنا ہاتھ واپس کھینچ چکی تھی
تم یہاں کیسے۔۔۔۔۔کوئی کام تھا
وہ ایسے برتاؤ کرتا رہا جیسے اُسے روحی کی اندرونی کیفیت کا اندازہ ہی نا ہو اور وہ صرف اپنی دنیا میں خوش ہو روحی نے اُس سے نظریں ہٹا کر نیچے کی اور اُسے کی طرح بی ہیو کرنے کے لئے خود کو تیار کیا
پاپا نے کہا کہ خاص لوگو کو خود جا کر اپنی شادی کا انویٹیشن دے دو۔۔۔۔۔۔بس وہی کرنے آئی تھی میری شادی کی خوشی تم سے زیادہ کسی اور کو تو ہو ہی نہیں سکتی ہے نا۔۔۔۔۔
وہ اُسے جانچتے ہوئے بولی زار نے سر ہلا دیا وہ جانتا تھا یہ صرف اُسے تکلیف دینے کا بہانہ ہے آج بھی سیول ڈریس میں تھا وہائٹ جینز پر ڈارک بلیو شرٹ پہنے آج بھی وہ اُسے اپنے دل۔کے اتنے ہی قریب محسوس ہو رہا تھا
ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ضرور آؤنگا
وہ بھی اپنی کیفیت کو چھپانا خوب جانتا تھا روحی اُس لڑکی پر پھر زار پر نظر ڈالتی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئی باہر نکلتے ہی اُس کے صبر کا باندھ آنسو بن کے بہنے لگا وہ روتی ہوئی اپنی گاڑی کی جانب بڑھی وہی کھڑی بے آواز آنسو بہاتی رہی دروازہ کھول کر گاڑی کے اندر بیٹھتے بیٹھتے رک گئی اور دروازہ زور سے بند کیا ڈرائیور بھی اُس کی حرکت پر حیران تھا وہ اپنے انسوں صاف کرتی ہوئی دوبارہ اندر کی جانب بڑھی لیکن اس بار کوئی ڈر کوئی جھجھک نہیں بلکہ چہرے پر سختی اور غصّہ لیا بنا رکے سیدھے اُس کے کیبن میں داخل ہوئی وہ مونا سے بات کرتے ہوئے کھڑا تھا روحی سیدھی اُس کے سامنے آکر رکی اور اُس کی شرٹ پکڑ کر اپنی جانب کھینچی مونا حیران تھی لیکن زار کا چہرہ ہر طرح کے تاثرات سے خالی تھا اب تک کے چھپائے ہوئے دکھ کی ایک جھلک صرف آنکھوں میں تھی
ایسا کیسے کر سکتے ہو تم میرے ساتھ ۔۔۔
مجھے اس دکھ کے کنویں میں دھکیل کر خوشیاں کیسے منا سکتے ہو
یہاں میرا جینا مشکل ہورہاہے اور تم اتنے نارمل ہو کے بات کر رہے ہو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
یہاں میری جان پر بنی ہوئی ہے اور تم اس لڑکی کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کے پلین بنا رہے ہو
کیوں کر رہے ہو تم یہ سب کیوں۔۔۔۔۔۔ ۔
اس کی سرخ آنکھیں زار کو تکلیف دے رہی تھی لیکن وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو بھی نہیں پونچھ سکتا تھا مونا کو وہاں سے چلے جانا ہی مناسب لگا اسی لیے وہ باہر نکل گئی
اگر یہی سب کرنا تھا تو کیوں آئے میری زندگی میں
کیوں دکھائے مجھے یہ جھوٹے سپنے۔۔۔۔۔مجھے مجبور کر دیا خود کے لیے دن رات رونے پر
جواب دو مجھے ۔۔۔۔اب اگر میرا دل تمہیں نہیں بھول رہا تو میں کیا کروں۔۔۔۔
اس کی شرٹ کھینچنے کے ساتھ وہ بھی اس کے قریب ہوا تھا دل۔تو چاہا کے اُسے ابھی باہوں میں بھر کر اس کا ہر دکھ سمیٹ لے لیکن اس نے خود کو روکے رکھا
کیسے برداشت کروں اس تکلیف کو زار جو تمہارے اس رویے سے مجھے ہو رہی ہے
کیسے نکالوں تمہیں اپنے دل سے
کیسے سجاؤں اس نئی زندگی کے سپنے جو میرے لیے موت کے برابر ہے کیوں کہ اس میں تم نہیں
اس کو شرٹ چھوڑ کر وہ اس کے سینے پر سے رکھے رو دی تھی وہ دھیرے سے پیچھے ہوا اور رخ دوسری جانب کیا
تم نے شاید مجھے سمجھنے میں غلطی کر دی میں نے کبھی تم سے پیار کیا ہی نہیں۔۔۔۔میرے دل میں ایسا کچھ نہیں ہے روحی
نظریں وہ چراتے ہے جن کے دل میں چور ہوتا ہے۔۔۔یا جو سچائی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔۔۔۔اگر یہی سچ ہے تو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو پھر سے یہی بات
اس کے بازو کو کھینچتی اس کا رخ اپنی جانب کیے بولی اس نے سانس کو گلے کے درمیان ہی روک کر اُسے دیکھا بہت ہمت کی ضرورت تھی اس کی بات کا جواب دینے کے لیے لیکن اُسے کرنا تھا
اپنے دماغ سے یہ فضول باتیں نکال دو روحی ۔۔۔میں ان باتوں پر یقین نہیں کرتا۔۔۔۔۔ میں نے تمہیں کوئی سپنے نہیں دکھائے ۔۔۔۔۔کوئی وعدے نہیں کیے تم سے۔۔۔۔۔۔تم میرے لیے صرف ایک کیس کا حصہ تھی جس کے ختم ہوتے ہی میں بھول چکا ہوں تمہیں
اس نے لہجے کو سخت اور چہرے اور سنجیدہ رکھے کہا روحی اس کی بے حسی پر اُسے دیکھتی ہی رہ گئی
اور اگر تم میرے کس کرنے والی بات کو لے کر اس غلط فہمی میں ہو تو سن لو وہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی نا محبت تھی نا پیار تھا نا جذبات
بس ایک کمزور لمحہ تھا جس میں غلطی کر بیٹھا میں۔۔۔۔جو ہو جاتی ہے اکثر جب ایک لڑکا لڑکی اکیلے ہوتے ہیں
That was just an attraction
وہ بیزاری سے بولا مقصد صرف خود کو اس کی نظروں میں گرانا تھا
روحی نے اس کی بات پر بے قابو ہو کر ایک تھپڑ اس کے دائیں گال پر رکھ دیا تھا وہ اسی طرح چہرہ پھیرے کھڑا رہا
اللہ کرے کے میں مر جاؤں لیکن تمہیں کبھی یاد نا کروں
I hate you
وہ چینخ کر بولی تھی اور باہر کی جانب بھاگ گئی زار نے اس کے جانے کے بعد خالی دروازے کو دیکھا اور پیچھے ہوتے ہوئے دیوار سے لگ گیا
💜💜💜💜💜💜
