Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

زار نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی اپنے گرد لپٹی چادر بیڈ پر پھینک دی اور بیڈ سے اتر کر سائیڈ میں رکھے اپنے جوتے پہننے لگا وہ فورا ہوش میں آئی اور اس کی طرف بڑھی
یہ کیا کر رہے ہو تم کہاں جارہے ہو

اس کی طرف دیکھ کر پریشانی سے بولی لیکن زار نے جیسے سنا ہی نہ ہو اپنا کام جاری رکھا اور جوتے پہن کر دروازے کی طرف بڑھا

تم بول کیوں نہیں رہے ہو کچھ پوچھ رہی ہوں میں ۔۔۔۔زار

روحی نے جھنجھلا کر کہتے ہوئے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا زار نے پلٹتے ہوئے اس کا ہاتھ بری طرح جھٹکا اور اس کی طرف آگ برساتی آنکھوں سے دیکھا

ہاتھ مت لگانا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اپنی زبان سے میرا نام مت لو نفرت کرتا ہوں میں تم سے ۔۔۔۔۔اور جب تم میرا نام لیتی ہو تو مجھے خود سے بھی نفرت محسوس ہوتی ہے

اس نے روہی کو غصے سے دیکھتے ہوئے دانت پیس کر کہا ایک پل کو وہ اس کے اس طرح بات کرنے پر خوفزدہ ہوئی لیکن پھر ہمت کرکے بولی

تمہاری ناراضگی مجھ سے ہے نا جو چاہے کر لو نکال لو اپنا غصہ لیکن خود کو تو چوٹ مت پہونچاؤ تم ٹھیک نہیں ہو زار تمہارا باہر جانا صحیح نہیں ہے

وہ روتے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی یہ سوچ کر کہ شاید اس پر ترس کھا کر ہی وہ رک جائے گا لیکن زار کا دل پتھر بن چکا تھا وہ اتنی آسانی سے پگھلنے والا نہیں تھا

جھوٹی ہمدردی جتا نا بند کرو میں تمہاری خدمت کا محتاج نہیں ہوں خود کو سنبھالنا جانتا ہوں مرنا قبول ہے مجھے لیکن تمہارے ہاتھ زندگی نہیں چاہیے
زار نے اسی انداز میں کہا بنا اس کی کسی بھی بات کی پرواہ کیے اور پلٹ گیا
اتنی نفرت کرتے ہو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی نےاس کی پشت کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے کہا وہ آگے قدم بڑھاتے بڑھاتے رکا اور دوبارہ روحی کی جانب پلٹ کر اس کی طرف بڑھا آنکھیں اب بھی آگ برسا رہی تھے

نفرت بہت چھوٹا لفظ ہے اگر اس کی انتہا سے اوپر بھی کچھ ہے تو وہ محسوس کرتا ہوں تمہارے لیے
اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سخت لہجے میں کہا اس کے لفظ اتنے تکلیف ده نہیں تھے جتنی اس کی آنکھیں دل میں چبھ رہی تھی

تم میری زندگی کا وہ زہر ہو جس نے نہ مجھے جینے کے قابل نہیں چھوڑا نا موت آنے دی بس پل پل کی تکلیف اور ہر لمحہ کی اذیت دی مجھے
روحی کیلئے اس کی آنکھوں میں دیکھنا مشکل ہو گیا تھا اس لئے وہ نظر جھکا گی

اتنی نفرت کرتا ہوں تم سے کہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں اپنی زندگی سے ہر وہ پل مٹا دیتا جس میں تم ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روہی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اپنی بات کو ختم کرکے وہ لب بهینچے اسے دیکھ رہا تھا

اپنے جسم سے دل نکال کر پھینک دیتا تاکہ مجھ میں تمہارا ایک ذرہ برابر بھی کچھ باقی نہ رہے

اس کے دیکھنے پر وہ رک کر بولا اور روہی نے ایک بار پھر سے اس سے نظر چرآی زار نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑ کر کر اسے قریب کھینچا اور خود سے لگایا اس طرح کے ایک انچ کا بھی فاصلہ باقی نہ رہا ۔۔۔۔۔ وہ ہر بڑا کر اسے دیکھنے لگی

اور جاننا چاہتی ہو کتنی نفرت کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔۔تو میری آنکھوں میں دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیا

تمہیں دیکھ کر میرے اندر جو آگ جل رہی ہے وہ نظر آئے گی تمہیں
اس کی آواز بالکل سرگوشی جیسی تھی

تمہارے ایک فیصلہ سے میری زندگی میں جو طوفان آیا ہے اس کی مچائی ہوی تباہی نظر آئے گی تمہیں ۔۔۔۔۔۔
اس کی سرخ آنکھیں اس کی ہر بات کی سچائی بیان کر رہی تھی اور وہ بس اسے دیکھے جا رہی تھی

اور ہر وہ احساس جو اس وقت میرے دل میں ہے سب نظر آئے گا تمہیں دیکھو۔۔۔

زار نے ایک دفعہ پھر اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیا تھا اس کی گرفت بہت سخت تھی لیکن روہی کو اس کی شکایت کرتی آنکھیں زیادہ تکلیف دے رہی تھی

ہاں دیکھ رہی ہوں میں بہت غصہ ہے بہت ناراضگی ہے لیکن ان میں پیار بھی نظر آرہا ہے وہ چھپا نہیں پا رہے تم

روحی نے بے ساختا بنا چاہے یہ کہہ دیا اور زار اسے حیرت سے دیکھنے لگا

تمہاری آنکھیں کہہ رہی ہیں کہ زار جھوٹ بول رہا ہے
وہ ہرگز اسے کوئی امید نہیں دینا چاہتی تھی نہ ہی اپنے پیار کا اظہار کرنا چاہتی تھی لیکن یہ بات سیدھے اس کے دل سے زبان پر آ گئی تھی اس کے ہونٹ دھیرے سے مسکرا رہے تھے یہ دیکھ کر زار کا غصہ مزید بڑھ گیا

بکواس مت کرو روحی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دور ہو جاؤ میری نظروں سے اور پھر کبھی سامنے مت آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کبھی نہیں دیکھنا چاہتا تمہیں
اس نے ایک جھٹکے سے روہی کو خود سے الگ کر کے پیچھے دھکیلا تھا لیکن وہ جانے لگے اس کے پہلے رو ہی نے اس کا بازو پکڑ لیا اور اپنا سر اس سے لگا دیا

زار۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں جانے دوں گی تمہیں
وہ سر اٹھاے اسے بے بسی سے دیکھتے ہوئے بولی اگر اس کی جان کا سوال نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی اپنی بات پر اس طرح اڑی نہ رہتی

تکلیف میں نے بھی سہی ہے ہار میری بھی ہوئی ہے تم تو مجھ سے نفرت کر سکتے ہو غصہ دکھا سکتے ہو لیکن میں کس سے شکایت کروں

زار نےاس کی بات یا اس کے آنسو کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا ہاتھ جھٹک کر اس سے الگ کیا وہ پلٹا تو روہی فورا اس کی پشت سے لگ گئی اور دونوں ہاتھ اس کے سامنے باندھے

رک جاؤ زار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری بات مان لو پلیز مت جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نہیں جانے دوں گی تمہیں
زار نے اس کے ہاتھ اپنے سینے سے ہٹاتے ہوئے پلٹ کر اسے دیکھا

کس حق سے روکو گی

میری محبت مجھے یہ حق دیتی ہے
روحی نے فورا اس کے سوال کا جواب دیا

محبت کو بد نام مت کرو اتنی بے عزتی مت کرو محبت کی ۔۔۔۔محبت کیا ہوتی ہے یہ جانتی بھی نہیں تم

جو چاہے کہہ لو پر جانے نہیں دو گی تمہیں
روحی کو اس کی کسی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ دروازے کے سامنے کھڑی ہو گئی اس کا راستہ روک کر

ہٹ جاؤ میرے راستے سے کہیں میرے صبر کا باندھ نا ٹوٹ جائے
پہلی دفعہ زار نے کوئی بات دھیرے سے کہی لیکن آنکھیں اب بھی اسی طرح دیکھ رہی تھی

جو ہو جائے ۔۔۔مجھے پر واہ نہیں
ایک اور حق ہے میرا تم پر بیوی ہوں تمہاری اسی حق سے روک رہی ہوں سمجھ لو

بیوی ۔۔۔۔۔۔۔
زار نے ایک لفظ دوہرایا اس کا غصّہ مزید بڑھ

اس رشتے کا مطلب بھی پتہ ہے تمہیں۔۔۔۔ ۔۔۔تم نے مجھے سمجھا کبھی اپنا شوہر ۔ ۔ ۔ ۔ بیوی والا کوئی کام کیا کبھی ۔ ۔ ۔ ۔ نبھایا کبھی یہ رشتہ۔۔۔۔۔۔ بنی کبھی میری بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حق جتانے کی بات کر رہی ہو میرے کون سے حق ادا کیے تم نے یہ تو بتاؤ ۔۔۔
وہ غصے سے کہتا ہوا اس کے قریب آیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا
آئی ایم سوری
روہی نظر جھکا دی اور لب کاٹنے لگی

تمہارے سوری سے کچھ نہیں ہوگا
کیا میرے دو سال واپس آ جائیں گے جن میں میں پل پل مرتا رہا

ایک پل بھی سکون سے نہیں رہا میں دو سال میں کیا میرا وہ سکون لوٹا سکتی ہو ۔۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے اچانک اس میں بہت انرجی آگئی ہو ہر درد بھول چکا تھا دو سال کا غبار نکالنے کا موقع ملا تھا

میرے وہ آنسو لوٹا سکتی ہوں جو میں نے تمہاری بے وفائی پر بہائے

میری ماں مجھے دیکھ کر جتنا تڑپتی رہی کیا اس کا ازالہ کر سکتی ہو تم جواب دو
اس کی نظریں نفرت برسا رہی تھیں جن کو سہنے کی روحی میں بالکل ہمت نہیں تھی
تم جو چاہو اس کے لیے تیار ہوں میں ہر سزا کے لئے تیار ہوں ۔۔۔۔۔۔اگر مجھے مار کر تمہیں سکون ملتا ہے تو مار دو ۔۔۔۔۔پچھلا کچھ لوٹا نہیں سکتی میں لیکن شاید آگے سب ٹھیک ہو جائے
وہ روتے ہویے اس کی طرف دیکھ کر بولی

بہت افسوس رہے گا کہ مار نہیں سکتا تمہیں ۔۔۔بس اپنی تقدیر کا لکھا بھگتتا رہوں گا ۔۔بس ایک احسان کر دو مجھ پر زندگی میں کبھی میرے سامنے مت آنا
وہ غصے سے نہیں بلکہ اداسی سے بولا روحی کا ہاتھ چوکھٹ سے ہٹایا اور باہر نکلنے لگا روحی بھی اس کے پیچھے روم سے نکلی اور اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اس کے سامنے آئی

زار ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات مان لو پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چوٹ لگی ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔۔ باہر جانا صحیح نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ تکلیف ہوگی تمہیں ۔۔۔۔۔مت جاؤ
روحی اس سے التجا کرنے لگی زار نے ایک۔ پل خاموشی سے اسے دیکھا اور دھیرے سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹایا

تم اگر سامنے رہی تو زیادہ تکلیف ہوگی یہ زخم معنی نہیں رکھتے لیکن دل پر جو گهاو لگے ہیں وہ تازہ ہو رہے ہیں وہ جان لے لیں گے میری ۔۔۔۔۔

ایسا مت کہو ۔۔۔۔۔۔۔۔

روحی نے اس کے الفاظ پر تڑپ کے کہا

میرا راستہ چھوڑو ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زار نے دھیرے سے کہا روحی نے سر نفی میں ہلا دیا

روہی میں نے کہا میرا راستہ چھوڑو ۔۔۔۔۔۔۔

زار نے اُسے ہٹانے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن اچانک اس کا سر چکرایا تو ہاتھ سے سر کو تھامے آنکھیں بند کر لی اور پیچھے ہوتا ہوا دیوار سے لگ گیا

زار۔۔۔۔۔کیا ہوا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روحی گھبرا کر اس کی طرف بڑھی اس نے آنکھیں کھولی اور انگلی اٹھا کر روحی کو ہاتھ لگانے سے روکا دیوار سے لگے ہوئے زمین پر بیٹھ گیا

دیکھا میں نے کہا تھا نہ تم کیوں نہیں سنتے میری بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درد ہو رہا ہے نہ ۔۔۔۔۔۔

روحی بھی زمین پر بیٹھتے ہوئے بولی اور ہاتھ اس کے شولڈر پر رکھنا چاہا زار نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا جیسے اُسے درد گوارا ہے لیکن روحی کی ہمدردی نہیں

نہیں ہورہا درد۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہورہا مجھے دور ہو جاؤ مجھ سے

زار نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور اٹھنا چاہا لیکن روحی نے دونوں ہاتھوں سے اس کا بازو پکڑ لیا وہ اٹھ نہیں پایا غصے سے دانت پیس کر روحی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر زمین پر گرا یا اور خود اس کے اوپر جھکا روحی گھبرا کر اُسے دیکھنے لگی اس کی تیز سانسیں روحی کے چہرے پر اپنی تپش چھوڑ رہی تھی

بس کرو ورنہ اب کچھ غلط کر جاؤں گا جس کا شاید بعد میں مجھے بھی افسوس ہو

اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ایک پل کو وہ اس کے اس طرح دیکھنے پر خوفزدہ ہوئی لیکن اگلے ہی پل وہ پیچھے ہوا تو سکون کی سانس لی

زار اگر تم باہر نکلے تو میں اپنی جان دے دوں گی

وہ اٹھ کے جانے لگا تو وہ زمین سے اٹھتے ہوئے بولی وہ اُسے دیکھ کر طنزیہ ہنسا

سوائے اس کے کچھ نہیں آتا نہ تمہیں اس دن قسم دی تھی اپنی بات منوانے کے لئے اور آج جان دینے کی بات کر رہی ہوں لیکن اب کچھ نہیں ہونے والا اب میں تمہارے آگے نہیں جھکنے والا

وہ سرد لہجے میں کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا

تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔

روحی نے زور سے کہتے ہوئے پاس ہی ٹیبل پر رکھا چاقو اٹھا لیا زار دوڑ کر اُس کے پاس آیا اور چاقو ہاتھ سے چھین کے زمین پر پھینکا

پاگل ہو گئی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔

جب تک تم ٹھیک نہیں ہو جاتے جانے کی بات نہیں کرو گے

روحی با اپنی بات پر قائم رہی وہ اُسے حیرت سے دیکھنے لگا

میں تمہیں خود کو معاف کرنے پر مجبور نہیں کروں گی نا ہی کوئی حق جتاؤں گی تم پر بس ایک مہمان کی طرح رک جاؤ غیر سمجھ کر رک جاؤ

وہ دھیرے سے بولی زار نے سر جھٹک دیا اور اُسے غصے سے دیکھ کر روم میں چلا گیا اور روحی صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی
💓💜💜💜💜💜💜

اچھا ہوا تم لوگ آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بہت اکیلی پڑ گئی تھی۔۔۔۔۔۔میں نے بہت مشکل سے اُسے یہاں روکا ہے

اُس نے دروازہ کھول کر اندر آتے ہی مشی کے گلے لگ گئی ۔

یہ کپڑے جو تم نے زار کے لیے منگوائے تھے

مشی نے اپنے ہاتھ میں موجود شاپرض اُس کی طرف بڑھائے

لیکن روحی تم نے زار کو یہاں کیوں روکا۔۔۔۔اُسے جانے کیوں نہیں دیا

نینا نے اُسے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا

وہ لوگ اُسے ڈھونڈھ رہے ہیں نینا ۔۔۔۔۔۔۔۔مارنا چاہتے ہیں اُسے ۔۔۔۔۔۔

کیسی باتیں کر رہی ہو وہ کوئی بچہ تھوڑی ہے ۔۔۔۔اے سی پی ہے اُن سے نپٹنا جانتا ہے

نینا کو اُس کی باتوں پر حیرت بھی ہو رہی تھی اور غصّہ بھی آرہا تھا

میں جانتی ہوں لیکن اس وقت وہ اس حالت میں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔اگر میں اُسے جانے دیتی تو وہ اپنی پرواہ نہیں کرتا۔۔۔۔اور مشی اگر اُسے کچھ ہو جاتا تو

اُس نے دوبارہ مشی کی طرف دیکھا جانتی تھی اُس سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا اُسے

پر روحی کیا تمہیں نہیں لگتا اُسے زبردستی یہاں روک کے تم نے اُسے ایک امید دی ہے

زمل نے اُس کی بات ختم ہونے پر کہا اور نینا ن اشارے سے اُس کی تائید کی

ہاں بلکل ایک طرف تو تم کسی صورت اُس کا ساتھ نہیں دینا چاہتی اپنے پاپا کی بات سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتی اور دوسری طرف اپنی حرکتوں سے اُسے الگ سوچنے پر مجبور کر رہی ہو

نینا کی بات پر وہ اُسے دیکھنے لگی واقعی اُس کی بات صحیح تھی

میں کچھ نہیں جانتی مجھے جو صحیح لگا میں نے وہ کیا۔۔۔۔اُس کی جان کا سوال نا ہوتا تو میں کبھی ایسا نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔اور میں اُسے کچھ سوچنے پر مجبور نہیں کر رہی ہوں بس کچھ وقت کی بات ہے جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا

لیکن اگر اس بار کچھ غلط ہوا نا تو یاد رکھنا یہ دوسری بار زیادتی کروگی تم اُس کے ساتھ

نینا نے اُس کی بات ختم ہوتے ہی کہا اُس کا مقصد صرف روحی کو یہ سمجھانا تھا کے اب مزید زار کو انکار نہ کرے اگر وہ کچھ سوچتا بھی ہے تو

خیر تم بھی اپنی جگہ صحیح ہو۔۔۔۔چلو ہم چینج کرلے اُس کے بعد آرام سے بات کرتے ہیں

نیہا نے بات ختم کرتے ہوئے کہا اور سب اندر چلی گئی سوائے مشی کا

تم صحیح ہو روحی تم نے کچھ غلط نہیں کیا تمہاری فکر جائز ہے پریشان مت ہو ایسا کچھ نہیں ہوگا

مشی نے اُس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا

وہ ٹھیک نہیں مشی ۔۔اگر وہ لوگ ایسے میں اُس کے ساتھ لڑتے تو وہ خود کو بچا نہیں پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا ضدی ہے دوائی تک لینے کو تیار نہیں

تم فکر مت کرو۔۔۔۔۔میں ڈاکٹر کو لے کر آتی ہوں۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے

مشی اُسے تسلی دیتے ہوئے باہر چلی گئی اور کو نینا کی باتیں سوچ کر پریشان ہونے لگی

💜💜💜💜💜💜