Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

سورج کی روشنی کافی تیز ہو چُکی تھی جب اُس کی آنکھ کھلی رات کی بہ نسبت کچھ بہتر محسوس ہو رہا تھا لیکن درد اب بھی تھا۔۔۔اُس نے دُکھتے سَر پر ہاتھ رکھتے ہوئی ذہن پر زور دے کر رات کے کچھ دھندلے منظر یاد کرنے کے کوشش کی نظریں گھمائی تو روحی کو اپنے پائنتی زمین پر بیٹھے پایا اُس کا سر بیڈ پر تھا اور دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے گہری نیند میں تھی۔۔۔۔زار نے اُسے دیکھتا بس دیکھتا ہی رہا وہ خود سے وعدہ کر چکا تھا اُس سے کبھی نہ ملنے کا۔۔۔۔۔۔اُسے یاد نہ کرنے کا۔۔۔۔اور کبھی اُس کا چہرہ نا دیکھنے کا۔۔۔۔۔۔لیکن کچھ چیزیں ہمارے چاہنے سے نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔جیسے دو سال میں وہ اُسے بھول نہیں سکا تھا۔۔۔ اپنی محبت کو نفرت میں نہیں بدل سکا اور جیسے وہ لاکھ چاہ کر بھی اس وقت اُس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا سکتا تھا۔۔۔۔۔لیکن روحی کے آنکھیں کھولتے ہی وہ ہوش میں آیا ۔۔۔۔اُس کے دیکھنے سے پہلے ہی غیر محسوس طریقے سے نظریں ہٹا لی اور چھت کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔روحی اُسے جاگتا دیکھ کر فوراً اپنی جگہ سے اٹھی
زار تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم ٹھیک تو ہو نہ۔۔۔ ۔۔۔۔
اُس نے بےچینی سے پوچھا لیکن جواب دینا تو دور ایسا تھا جیسے اُس نے سنا بھی نا ہو روحی کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا
تمہیں ابھی ڈاکٹر کے پاس چلنا چاہیے تمہارے زخم بہت گہرے ہے۔۔۔۔۔۔
روحی نے اُس کی بے رخی کی کوئی پرواہ نہیں کی لیکن اس دفعہ بھی وہ بت بنا رہا لیکن چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آکر گئی تھی جو کہہ رہی تھی کے زخم دینے والے کو اتنی پرواہ کیوں روحی اُسے بے بسی سے دیکھتی رہی اُس کی بے رخی صحیح بھی لگ رہی تھی لیکن دل بھی دکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ مزید کوشش کرنے کی بجائے خاموشی سے باہر نکل گئی جانتی تھی زار اُس کی کوئی بات نہیں مانے گا۔۔۔۔۔۔زار نے سے کو حرکت دے کر اُسے جاتے ہوئے دیکھا اور تھکے تھکے انداز میں آنکھیں بند کر لی

💜💜💜💜💜💜💜💜

دروازے پر کوئی مسلسل دستک دے رہا تھا اُس نے ہاتھ میں موجود ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اُس نے دروازہ کھولا دو آدمی کالے کپڑوں میں چہرے کو ڈھکے سامنے کھڑے تھے روحی کو گھبراہٹ ہوئی لیکن اُس نے ہمت سے کام لیا
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم ایک آدمی کو۔ڈھونڈھ رہے ہیں جو زخمی ہے کیا وہ یہاں آیا ہے۔۔۔۔۔۔
ایک شخص اُس تاثرات پر غور کرتے ہوئی بولا روحی کو اندازہ ہو گیا کے شاید وہ لوگ ہی زار کو مرنا چاہتے تھے تبھی اُنھیں اُس کے زخمی ہونے کہا پتہ ہے

جی نہیں ۔۔۔۔۔یہاں تو کوئی نہیں آیا
وہ نارمل انداز میں بولی

تو پھر یہ خون کے نشان یہاں کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے نے ہاتھ سے زمین پر سوکھے خون کے نشانات کی طرف اشارہ کیا روحی نے گھبرا میں زمین پر دیکھا اندر گرے نشانات کو اُس نے صاف کیا تھا لیکن باہر نہیں

مجھے نہیں پتہ پر یہاں کوئی نہیں آیا
وہ خود کو سنبھالتے ہوئے بولی

گھر میں کون کون ہے۔۔۔۔۔۔

میرے ممی ڈیڈی ہے اور بھائی ہے۔۔۔۔بس ہم لوگ ہی ہے اور ہم ابھی آئے ہے یہاں صفائی بھی نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔ شاید یہ پہلے کے نشان ہو
روحی نے جان بوجھ کر اپنے اکیلے ہونے کا نہیں بتایا تاکہ وہ لوگ شک نا کرے اور زیادہ لوگوں کے ہونے کہا سن کر اندر نا آئے وہ لوگ باہر چلے گئی تو روحی نے دروازہ بند کرکے سکون کی سانس لی پھر دروازہ تھوڑا سا کھول کر دیکھا وہ لوگ گیٹ کے پاس رک گئے تھے

لڑکی جھوٹ تو نہیں بول رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاصلہ کم تھا اس لیے روحی اُن کی بات سن سکتی تھی دونوں اب ایک دوسرے سے مخاطب تھے

ہو سکتا ہے وہ بس یہاں تک آکر کہیں اور چلا گیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے نے اپنی بات کہیں روحی کہیں سے بھی اتنی ہوشیار نہیں لگی اُنھیں کے جھوٹ بول سکے یہ زار کو چھپا سکے

لیکن اُسے ڈھونڈھنا پڑے گا ورنہ شیرا ہمیں نہیں چھوڑے گا
پہلے شخص نے کہا اور وہ دونوں چلے گئے لیکن شیرا کا نام سن کر روحی کا جی گھبرانے لگا۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر وہ اُسے یہ بات بتاتی تو وہ بنا اپنی پرواہ کیے ابھی اُن سے مقابلہ کرنے لگ جاتا اور یہ اُس کے لیے خطرناک تھا
💜💜💜💜💜💜

ہیلو۔۔۔۔۔مشی۔۔۔۔۔۔کہاں ہو تم لوگ۔۔۔۔۔۔کب واپس آوگی۔۔۔۔۔
اندر آکر اُس نے پہلا کام مشی کو فون کرنے کا کیا کیوں کے فلہال اُس کی دوست ہی اُس کا سہارا تھی

ہاں روحی ہم لوگ بس یہی معلوم کر رہے تھے۔۔۔۔ شاید تھوڑی دیر میں راستے فری ہو جائے گے

مشی جلدی آجاؤ پلیز۔۔۔۔۔۔ میں بہت پرابلم میں ہوں
روحی نے لب کاٹتے ہوئے کہا

کیا ہوا روحی ۔۔۔۔۔تم ٹھیک تو ہو نہ
مشی نے گھبرا کر پوچھا

میں ٹھیک ہوں لیکن۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے زار کے آنے سے لے کر اُن دو لوگو کے جانے تک ساری بات بتا دی مشی حیران ہو کے اُس کی بات سنتی رہی

میں اُس کا سامنا نہیں کر سکتی مشی نا اُسے اکیلا چھوڑ سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔تم جلدی آجاؤ پلیز۔۔۔۔اُسے ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے۔۔۔۔

ہم بس آرہے ہیں تھوڑی دیر میں تم ٹینشن مت لو اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی نے اُسے تسلی دیتے ہوئے کہا اُس نے فون بند کر دیا
💜💜💜💜💜💜
روحی جب دوبارہ کمرے میں آئی تو بہت ہمت کرکے اور خود کو اُس کے ہر رویے کے لیے تیار کرکے وہ بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا چادر اپنے گرد لپیٹے روحی کا آنا محسوس ضرور کیا لیکن دیکھا نہیں روحی اندر آئی اور دودھ کی ٹرے میز پر رکھ کر ایک ہاتھ میں گلاس اور دوسرے میں کچھ ٹیبلیٹس لیے اُس کی طرف بڑھی
زار۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکی اور لب بھینچ کر خود کو نارمل کیا
یہ ہلدی والا دودھ پی لو ۔۔۔۔۔تمہیں آرام ملے گا اور یہ کچھ پین کلرز ہے
اُس نے زار کی طرف دیکھنے سے گریز کیا تو بات آسان لگنے لگی
روحی نے گلاس اُس کی طرف بڑھایا اور دوسرا ہاتھ کھول کر اُس کے سامنے کیا جس میں چار گولیاں تھی
زار نے اُس کے ہاتھوں کو دیکھا اور پھر اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے ہتھیلی اُس کے سامنے کی۔۔۔۔۔۔۔روحی نے جلدی سے گولیاں اُس کے ہاتھ میں رکھ دی۔۔۔۔اُسے اچھا لگا زار کا بنا ضد کیے اُس کی بات ماننا لیکن اگلے ہی پل وہ اُس کی حرکت پر حیران ہوئی جو وہ اپنی مُٹھی بند کرکے گولیوں کی مسل رہا تھا اُس نے زار کی جانب دیکھا وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا سنجیدگی سے۔۔۔۔
اُس نے مُٹھی کھولی تو گولیاں پاوڈر بن چکی تھی اُس نے ہاتھ اوپر اٹھایا اور زور سے پھونک ماری اگلے گی لمحے پاوڈر روحی کے چہرے اور بالوں پر تھا اُس نے آنکھیں بند کرکے اُنھیں بچا لیا تھا پھر آنکھیں کھول کے اُسے خفگی سے دیکھا وہ اب بھی اُسی طرح دیکھ رہا تھا
اُس کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس لیا اور اُسے ٹیڑھا کرکے دودھ زمین پر گرانے لگا
زار یہ کیا کر رہے ہو تم

وہ فوراً ایک قدم پیچھے ہوئی اور ہاتھ بڑھا کر اُس کا ہاتھ روکنا چاہا لیکن اُس کے پہلے ہے زار نے گلاس چھوڑ کر زمین پر گرا دیا روحی کا ہاتھ اپنی جگہ تھم گیا۔۔۔۔وہ کچھ بول نہیں پائی لیکن آنکھیں بھیگ گئیں اور زمین کو دیکھنے لگی
💜💜💜💜💜💜💜