Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

اس نے آنکھیں کھولیں تو خود کو ہسپتال کے بستر پر موجود پایا جب وہ سب گھر واپس آئی تو انہوں نے روحی کو اپنے کمرے میں بیہوش پڑے دیکھا سب مل کر فوراً اُسے ہسپتال لے کر آئیں اور ساتھ ہی عزیز صاحب کو بھی فون کرکے بتا دیا وہ بھی سب چھوڑ کر کچھ ہی گھنٹوں میں ہسپتال پہنچے سب باہر ہی بیٹھی تھی اور ڈاکٹر کے باہر آنے کا انتظار کر رہی تھی عزیز صاحب کے وہاں پہنچتے ہی ڈاکٹر بھی باہر آگیا
اُن کی طبیعت اب بہتر ہے ۔۔۔۔۔آپ لوگ چاہے تو مل سکتے ہیں اُن سے۔۔۔۔۔
انہوں نے باہر آکر اُنہیں خبر دی تو عزیز صاحب نے سکون کی سانس لی
آپ میرے ساتھ آئیں سر مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے
ڈاکٹر نے تسلی بخش خبر دینے کے بعد عزیز صاحب کو مخاطب کرکے بات کرنے کو کہا تو اُنہیں ٹینشن ہونے لگی مشی اور باقی سب اندر چلی گئی جب کے ڈاکٹر کے کہنے پر عزیز صاحب اُن کے پیچھے چل دیئے
💜💜💜💜💜💜💜💜
روحی آنکھیں کھول ایک ایک کو دیکھ رہی تھی جو کب سے خاموش منہ لٹکائے کھڑی اُسے دیکھ رہی تھیں

تم لوگ یوں منہ بنائے کیوں کھڑی ہو جیسے میں مر گئی ہوں ۔۔۔۔ارے بابا ٹھیک ہوں میں بلکل
روحی مسکرا کر بولی اور اٹھ کر ٹیک لگائے بیٹھ گئی مشی اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے اُس کا ہاتھ تھامے اُسے دیکھنے لگی

تمہیں دیکھ کر بہت ڈر گئے تھے ہم کل رات۔۔۔۔۔۔۔کیا ہوگیا تھا روحی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور زار ۔۔۔۔۔۔۔

چلا گیا وہ۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔۔۔شاید کبھی معاف نہیں کریگا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے بہت ہرٹ کیا اُسے۔۔۔۔۔۔تم نے ٹھیک کہا تھا نینا۔۔۔۔۔۔میں نے دوسری بار زیادتی کی ہے اُس کے ساتھ
اُس نے مشی سے بات کرتے ہوئے آخر میں نینا کو دیکھا
تم نے اُسے روکا کیوں نہیں روحی

تم جانتی ہو میں یہ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکا کر بولی

اور خود کو یوں تکلیف دے سکتی ہو۔۔۔۔۔دیکھو ذرا خود کو کیا حالت بنا کر رکھی ہے اپنی

میں بلکل ٹھیک ہوں مشی کچھ نہیں ہوا مجھے۔۔۔۔۔بس ذرا سا چکر آگیا تھا ۔۔۔۔۔
اُس نے نارمل انداز میں کہا لیکن چاہ کر بھی نارمل نہیں رکھ پائی اور مشی کے دیکھنے پر تو وہ ہوسکا بھی ٹوٹ گیا تب ہی اُداسی سے اُسے دیکھا

اُسے جاتا دیکھ سانس رک رہی تھی میری ۔۔۔۔۔۔۔اُس نے جو کہا شاید اتنا تکلیف دہ نہیں تھا پر جس طرح وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

میں بتا نہیں سکتی مشی۔۔۔۔اُس کی نظریں میرے دل میں تیر کی طرح چبھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا کوئی میرا دل اپنے پیروں تلے کچل رہا ہو۔۔۔۔۔بہت ہرٹنگ مومنٹ تھا وہ مشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں بھر آئی تھی اور مشی نے اُسے گلے لگا لیا

💜💜💜💜💜💜💜

پینک اٹیک تھا۔۔۔اکثر جب انسان کسی گہرے صدمے کا شکار ہوجاتا ہے یا کسی ایسی سچویشن میں پھنس جاتا ہے جہاں اس کے لیے فیصلہ لینا بہت مشکل ہو۔۔۔۔۔اور وہ اس کا سامنا نا کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔مطلب ذہنی تناؤ کی وجہ سے انٹرنل باڈی افیکٹ ہوتی ہے اُسے پینک اٹیک کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ صرف ایک بار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح ہم زندگی سے ہار مان کر خودکشی کا سوچتے ہے یہ بلکل ویسا ہی ہے اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے بھلے ہی چند منٹ کے لیے انسان کی حالت باہر سے بری نظر آتی ہے لیکن اس کے ذہن میں جو بات ہے وہ آسانی سے ختم نہیں ہوتی اور کسی بھی وقت وہ اپنا اثر دکھا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے
عزیز صاحب ڈاکٹر کے کیبن میں بیٹھے تھے اور ڈاکٹر تفصیل سے اُنھیں روحی کے بارے میں سمجھا رہا تھا حالانکہ اُنھیں اس کی ضرورت نہیں تھی وہ جانتے تھے دو سال سے اُسے دیکھ رہے تھے اُنھیں پتہ تھا کے اُن کی بیٹی کے ذہن پر کونسا بوجھ ہے

جب تک وہ انسان ڈپریشن میں ہے اس طرح کے اٹیک ہو سکتے ہیں اور ضروری نہیں کے ہر بار نتیجہ برا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں بس ایک ہی علاج ہے ذہنی سکون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کی بات کو وہ غور سے سن رہے ہیں

اس سے لڑنے کے لیے تھراپی شروع کرنا ہوگا کچھ ہفتے تک یہ سیشن چلے گا تاکہ ذہن میں جو باتیں مسلسل پریشان کیے جا رہی ہے اُن سے مریض کو باہر نکالا جائے۔۔۔۔۔۔یہ اس کا سب سے بہتر علاج ہے ۔۔۔۔میں آپ کو صلاح دوں گا کے جتنی جلدی ہو اس پر سوچ کر فیصلہ کر لیں

ہم جانتے ہیں اس بیماری کا علاج کیا ہے۔۔۔۔۔ اُنہوں نے دل ہی دل میں خود کو بتایا تھا اور ایک نئے فیصلے پر پہنچ کر اپنی جگہ سے اٹھ گئے

شکریہ ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اٹھ کر ڈاکٹر سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا

پریشان نہ ہو آپ۔ ۔۔۔۔۔۔کل تک آپ اُنہیں گھر لے جا سکتے ہیں
ڈاکٹر نے اُنھیں تسلی دیتے ہوئے کہا

💜💜💜💜💜💜💜

ٹینشن مت لیجئے بلکل بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا
وہ ڈاکٹر کے کبین سے باہر نکلے تو باہر مشی کو کھڑے پایا اُنھیں دیکھتے ہی وہ بولی اُنہوں نے سر اثبات میں ہلا دیا

وہ بھلے ہی مرجائے گی لیکن آپکا وعدہ نہیں توڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے آپ بلکل فکر مت کیجئے۔۔
مشی کے اگلے جملے پر اُنہوں نے اُسے حیرت سے دیکھا اُس کا طنز و بخوبی سمجھ گئے

۔۔۔جب اس نے آپ کے لیے اپنی خوشیاں قربان کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی خواہشوں کو مار دیا۔۔۔۔۔۔۔تو زندگی کیا چیز ہے۔۔۔۔۔۔زندگی بھی قربان کر دیگی آپ کی خاطر ۔۔۔۔۔اچھی بیٹی بننے کا اور اپنے پاپا کو تکلیف نہ دینے کا پاگل پن سوار ہے اس پر ۔۔۔۔تبھی تو اس رشتے کو بھول گئی وہ جسے نبھانا اس کا پہلا فرض ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بار پھر اس کے سامنے اس کی محبت آئی تھی اس کی خوشیاں آئیں تھیں۔۔۔۔لیکن اس نے اُنہیں ٹھوکر مار دی۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کے اُسے تو اپنے پاپا کے علاوہ کوئی نظر ہی نہیں آتا۔۔۔ اسی لیے تو ایک بار پھر اپنی تقدیر سے لڑ رہی ہے۔۔۔لیکن شاید اب کمزور ہوگئی ہے اسی لیے اس حالت میں پہنچ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن آپ فکر مت کیجئے آپکی انا کو ٹوٹنے نہیں دیگی کبھی۔۔۔چاہے خود قبر میں کیوں نے پہنچ جائے۔۔۔۔۔۔آپ نے بہت اچھی چال چلی تھی کسی صورت نہیں ہار ے گے آپ۔۔۔مبارک ہو

وہ آخر میں مسکرائی عزیز صاحب کے چہرے کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کے اُسے خوف آرہا تھا لیکن پھر بھی وہ مضبوط بنی رہی

تمیز سے بات کیجئے۔۔۔۔۔۔ہم آپ کا لحاظ کر رہے ہیں۔۔۔کیوں کے آپ ہماری بیٹی کی سب سے اچھی دوست ہے

واؤ انکل۔۔۔۔۔
مشی اُن کے بات پر ہنسی

۔اپنی بیٹی کا تو کوئی خیال کیا نہیں آپ نے مجھ پر یہ احسان کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساری دنیا کی پرواہ ہے آپکو سوائے اپنی بیٹی کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں ماں باپ کی قربانیوں کا کوئی سلہ نہیں ہوتا لیکن پہلی بار دیکھ رہی ہوں کے اپنے اولاد سے بار بار قربانیاں لی جا رہی ہے۔۔۔۔۔تھینک گا ڈ میرے ڈیڈ آپ جیسے نہیں ہے ورنہ پتہ نہیں میرا کیا ہوتا
مشی اپنی بات ختم کرکے وہاں سے چلی گئی اور وہ اُس کی پشت کو دیکھتے رہ گئے

💜💜💜💜💜💜💜💜💜

I am sorry roohi
میں تمہیں یوں تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔۔میں تو بس سب ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی تھی یار پر میری وجہ سے
عزیز صاحب اندر جانے کی بجائے اُس روم کی کھڑکی کے پاس کھڑے رک کر اُسے دیکھنے لگے تھے شاید اُس کے سامنے جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی
نینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔۔تم نے جو کیا وہ میرے لیے کیا ۔۔۔۔۔اور تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔میں تو بہت لکی ہوں کے مجھے تم جیسے دوست دیے اللہ نے
وہ نینا کی بات کاٹ کر بولی
۔۔۔۔۔لیکن یہ میری تقدیر کا لکھا ہے جو بدل نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔یہ کہانی ادھُوری ہی رہنی ہے

یہ تقدیر خدا نے نہیں۔۔۔۔۔ تمہارے پاپا نے لکھی ہے

مشی نے غصے سے کا لیکن وہ مسکرا کر اُسے دیکھنے لگی

خدا کے بعد ماں باپ کا ہی تو درجہ ہوتا ہے نہ مشی۔۔۔۔اور میرے پاپا تو میرے ماں اور باپ دونوں ہے تو کیا اُنھیں حق نہیں میری زندگی کے فیصلے لینے کا
یہ تو صرف ایک زندگی ہے اگر مجھے کئیں زندگیاں بھی ملے تو اُنھیں بھی اپنے پاپا کے نام کر دوں
عزیز صاحب اپنی بیٹی کی باتوں پر اپنے سینے پر ہاتھ رکھے اُسے دیکھنے لگے

زار کی جگہ میری زندگی میں کبھی کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔۔۔چاہے وہ دور کیوں نہ ہو لیکن ہمیشہ میرے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اُس کا نام میرے نام کے ساتھ مرتے دم تک جڑا رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔بس میری زندگی میں اُس کی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔اور یہ زندگی تو پاپا کی ہی دی ہوئی ہے نہ تو کیا حق ہے مجھے اس بات پر افسوس کرنے کا
روحی اُن چاروں کی خاموشی اور اُداسی کو محسوس کر سکتی تھی اُس کے سامنے سب چپ تھی عزیز صاحب وہاں سے ہٹ گئے اور دروازے کی طرف بڑھ کے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے اُنھیں دیکھ کر روحی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور دھیرے سے مسکرا دی جب کے وہ چاروں باہر نکلنے لگی

آپ یہیں رک جائیں مشال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز صاحب کے کہنے پر مشی وہیں رک گئی اور نینا زمل اور نیہا باہر چلی گئی عزیز صاحب آکر بیڈ کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گئے

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی۔۔۔۔۔۔۔اس لیے تو یہاں نہیں بھیجا تھا آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔
عزیز صاحب اُداسی سے اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولے

میں ٹھیک ہوں پاپا۔۔۔۔۔۔۔بس وہ الٹا سیدھا کھانا اور بدلتا موسم اس وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمیں بہلانے کی کوشش مت کیجئے ۔۔۔۔۔۔ہم آپ کا جھوٹ سمجھتے ہیں۔۔۔اس لیے صرف سچ بولیے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات کاٹ کے بولے روحی اُنھیں حیرت سے دیکھنے لگی
کیا اس طرح سزا دینا چاہتی ہیں آپ ہمیں
عزیز صاحب نے اُس کی طرف دیکھ کر ندامت سے کہا تو وہ تڑپ کے اُنھیں دیکھنے لگی

نہیں پاپا
اُس نے اُن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں میں دباتے ہوئے بولی جب کے مشی کو اپنے کچھ دیر پہلے والے برتاؤ پر افسوس ہوا

ہم جانتے ہیں ہم نے زیادتی کی ہے آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔لیکن صرف آپ کا بھلا چاہا ہم نے۔۔۔۔۔آپ کو اس حال میں پہنچانا ہمارا مقصد نہیں تھا

ہم نے دکھ دیے آپ کو ۔۔۔۔لیکن آپ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہم سے بدلہ لینے میں
روحی اُنھیں حیرت اور پریشانی سے دیکھتی ہوئی سر نفی میں ہلا دی

آپ کو کیا لگتا ہے۔۔۔۔۔آپ کو اس حال میں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ہمیں۔۔۔۔۔۔نہیں روحی۔۔۔۔۔۔بلکہ دل دکھتا ہے ہمارا ۔۔۔۔۔۔ہر دِن اپنے فیصلے پر پچھتاوے کے ساتھ خود کے باپ ہونے پر لعنت بھیجتے ہیں ہم۔۔۔۔
اُس نے اُن کے ہاتھ پر سر رکھ دیا

ہمیں زار میں کبھی کوئی برائی نظر نہیں آئی بلکہ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملی لیکن اُس نے جب ہم سے کہا کے وہ کچھ بھی کرکے ہم سے جیتے گا تب ہماری انا ہم پر حاوی ہو گئی ہم کچھ نہیں دیکھ پائے نا آپکی خوشی نہ اُس کا آپ کے لیے ہم سے لڑ جانا کچھ بھی نہیں بس ایک بات دماغ میں رہ گئی کے اُس نے ہمیں چیلنج کیا ہے جسے ہمیں ہارنا نہیں ہے
مشال کے ساتھ روحی بھی سن ہوکر اُنھیں دیکھنے لگی لفظ جیسے کہیں کھو گئے تھے عزیز صاحب نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھا

لیکن یہ جیت بھی ہماری ہار ہے۔۔۔۔ہم کچھ نہیں چاہتے بس ہمیں ہماری بیٹی چاہیے پہلے کی طرح ہنستی مسکراتی ۔۔۔ہم سے جھگرتی ہوئی۔۔۔۔عزیز راجپوت کا جھکنا نا ممکن ہے لیکن ایک باپ اپنی بیٹی کو دکھ دینے کے لیے جھک کر معافی مانگ رہا ہے

نہیں پاپا ایسا مت کہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔۔۔آپ کبھی غلط نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔آپ دنیا کے سب سے اچھے پاپا ہے
وہ جلدی سے کہتی ہوئی اُن کے سینے سے لگ کر بچے کی طرح رو دی مشی بھی سے جھکائے اپنی آنکھ کے کنارے کو صاف کرنے لگی

ہماری وجہ سے اس حالت تک پہنچنے کے بعد بھی آپ یہ کہہ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے یونہی سینے سے لگائے اُسے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بول روحی نے پیچھے ہو کر اُنھیں دیکھا

نہیں پاپا بلکہ اُس ہر بات کے لیے جو آپ کو اوروں سے خاص بناتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔مما کے جانے کے بعد کبھی اُن کی کمی محسوس نہ ہونے دینے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔میرے ذرا سا رونے پر پریشان ہو جانے کے لیے۔۔۔۔۔۔میری ڈول ٹوٹنے پر میرا کمرہ ڈھیر ساری ڈولز سے بھر کر مجھے سرپریز دینے کے لیے۔۔۔۔۔
جس کے سامنے ساری دنیا جھک کر سلام کرتی ہی اُسے اپنی بیٹی سے بات کرتے وقت اپنے گھٹنوں پر بیٹھتے ہوئے اُسے منانے کے لیے

کتنی چیزیں کتنی باتیں ہے جو آپ کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا میں اتنی بیوقوف تو نہیں کے آپ کی ایک بات کے لیے اُن سب باتوں کو فراموش کر دوں

گناہ گار ہے ہم۔۔۔۔۔۔ آپ کی خوشیوں کے دشمن بنے رہے اب تک لیکن اب نہیں۔۔۔۔۔آج ہم آپ کو اپنی ہر قسم ہر وعدے سے آزاد کرتے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا اُنہوں نے روحی کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا وہ حیرت سے اُنھیں دیکھ رہی تھی سمجھ نہیں آرہا تھا کے خوش ہو یا اپنے پاپا کو اس طرح دیکھ کر رویے

آج ہم آپ کی زندگی کا یہ فیصلہ لیتے ہیں کے ہماری بیٹی بس خوش رھے گی۔۔۔۔۔۔ہم نا اُس کے لیے دولت چاہتے ہیں نہ عیش و آرام۔۔۔۔بس اُسے خوش دیکھنا چاہتے ہیں
ہم آپکے فیصلے پر دل سے راضی ہے ہمیں زار پر یقین ہے اُس نے پہلے بھی جیسے آپکی حفاظت کی ہے ساری زندگی ویسے ہی آپکا خیال رکھے گا
اُنہوں نے اُس کے پیشانی پر پیار کیا اپنی جگہ سے اٹھ گئے اُن کے مسکرانے پر وہ بھی روتے میں مسکرا دی وہ باہر جاتے جاتے رک کے مشی کی طرف دیکھنے لگی

اور آپ کی یہ دوست بہت بدتمیز ہے۔۔۔۔۔۔۔ہم سے اونچی آواز میں بات کرتی ہے۔۔۔۔۔۔جو دل۔میں آئے کہہ دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے آپ کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔۔سمجھا دیں انہیں
اُنہوں نے پلٹ کر روحی کو دیکھتے ہوئے کہا اور دوبارہ مشی کو غصے سے دیکھا اُس نے کان پکڑے

Sorry uncle
دھیرے سے مسکرا کر بولی اُنہوں نے اُس کے گال پر ہلکی سے چپت لگائی اور مسکرا کر باہر نکل گئے
💜💜💜💜💜💜💜