Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Satrangi Ishq Mera By Sanaya Khan

سب جانتے تھے ۔۔۔۔۔جانتے تھے نا میں کون ہوں۔۔۔۔۔چوری کا الزام بھی جان بوجھ کر لگایا مجھ اور وہ نیکلس بھی تم نے ہے ڈالا تھا میرے بیگ میں ۔۔۔ مجھے جیل میں بند کرکے رکھا تم نے یہ جانتے ہوئے کے میں نے کچھ نہیں کیا وہ کافی دیر سے چلتے جا رہے تھے لیکن جنگل اور گھنا ہوتا جا رہا تھا زار نے اُس کی بات پر بنا اُسے دیکھے مسکرایا

میں نے یہ سب تمہارے پاپا کے کہنے پر کیا تھا

اچھا اور وہ دال چاول کھلانے بھی میرے پاپا نے ہے بولا تھا تم سے ۔۔۔۔ہے نا روحی جلدی چل کر چار قدم کا فاصلہ طے کرتی اُس کے برابر میں آئی

نہیں وہ میں نے اپنی مرضی سے کھلایا تاکہ سبق ملے تمہیں اور دوبارہ بھاگنے کی کوشش نہ کرو وہ بنا اُسے دیکھے بولا روحی نے اُسے گھورا اور چلتی رہی

میں اور نہیں چل سکتی۔۔۔۔۔۔۔بہت تھک گئی ہوں جب اُس کی ہمت جواب دے گئی تو وہ رک گئی

میرے پاس تمہارے نخرے اٹھانے کا ٹائم نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔اندھیرا پھیل رہا ہے چلو یہاں سے زار نے پلٹ کر کہا شام گہری ہو رہی تھی اور اُسے وہاں سے نکلنے کی بہت جلدی تھی

میں نے کہا نا میں نہیں چل سکتی ۔۔۔۔۔بھوک کے مارے حالت خراب ہو رہی ہے ایک تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوپر سے اتنی دیر سے بس چلے جا رہے ہو چلے جا رہے ہو رکنے کا نام نہیں لے رہے۔۔۔۔۔۔ وہ عاجزی سے بولی زار کو واقعی احساس ہوا کے وہ تھک گئی ہو گی کیوں کے وہ خود بھی تھک چکا تھا

سمجھنے کی کوشش کرو ہمارا یہاں سے نکلنا بہت ضروری ہے رات ہونے کے بعد ہم کچھ نہیں کر پائے گے وہ دھیرے سے اُسے سمجھاتے ہوئے بولا

ٹھیک ہے پھر تم مجھے پیٹھ پر اٹھا کر لے چلو۔۔۔۔ روحی نے بنا اُسے دیکھے کہا زار نے اُس کی بات پر ماتھے پر شکنیں لا کر اُسے دیکھا

میں تمہارے باپ کا نوکر نہیں ہوں جو تمہاری غلامی کرونگا۔۔۔۔۔ وہ اُس کی بات کر جواب دے کے بنا رکے اپنے راستے پر چل دیا تھا روحی فوراً اٹھ کر اُس کے پیچھے بھاگی تھی کے کہیں سچ میں چلا ہی نا جائے

کتنے بدتمیز ہو تم۔۔۔۔۔ایک بار نکلنے دو یہاں سے تمہاری یہ اکڑ اور سنکی باتیں تو پاپا ہی نکالے گے۔۔۔۔ روحی اُس کے ساتھ چلتی اُسے دھمکاتے ہوئے بولی

میں ایسی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔۔۔۔کیوں کے میں جو ہوں اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے ہوں۔۔۔ نا میں کسی کے احسان لیتا ہوں نہ میرا خرچہ اوپر کی کمائی سے چلتا ہے اس لیے مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے۔۔۔۔۔تمہارے باپ کا بھی نہیں

وہ اپنی دھن میں چلتا اُس کی بات کا جواب دیتا ہوا بولا

اگر اتنا ہی گھمنڈ ہے خود پر تو کیوں میرے پاپا کے آرڈرز مان رہے ہو۔۔۔۔۔چلے جاتے نا مجھے اُن غنڈوں کے حوالے کرکے۔۔۔۔۔کیا ضرورت تھی میری غلامی کرنے کی۔۔۔ اُس نے آخری جملے پر زور دیا زار نے غصے سے اُس کی جانب دیکھا

وہ میرا فرض تھا۔۔۔۔تمہیں پروٹیکٹ کرنا میری ڈیوٹی ہے ۔۔۔۔۔۔اور میں صرف اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا۔۔۔۔۔جس میں تمہارے ذاتی کام یا تمہارے نخرے اٹھانا شامل نہیں ہے اوکے۔۔۔۔ اُسے روحی کی بات بری لگی تھی وہ جان بوجھ کر تیز چلتا اُس سے آگے ہو گیا روحی کافی دیر تک خاموشی سے چلتی رہی زار نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا چہرے سے ہی نڈھال محسوس ہو رہی تھی اُس نے اطراف میں نظر ڈالی وہ لوگ ندی کے قریب تھے

شام ہو گئی ہے آگے بڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔۔یہیں رک جاتے ہے وہ روحی کی جانب دیکھتے ہوئے بولا

تھینک گاڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اب اور تھوڑی دیر چلتی تو بے ہوش ہو جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روحی اُسی جگہ زمین پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔ وہ آکر اس کے پاس ہی ایک پیڑ سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا

بہت بھوک لگی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔