Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

چلو اسی بہانے تم بھی ہمارے ساتھ آرہی ہو بہت انجوائے کرے گے ہم
سب تیار ہو کر باہر آئی تھی روحی کو دیکھ کر زمل خوش ہوتے ہوئے بولی اس نے سرمئی ٹی شرٹ پر سفید جیکٹ اور سفید ہی جینس پہنی تھی ہلکا سا میک اپ اور بالوں کو سٹریٹ کرکے ایک طرف پن کیا ہوا تھا کانوں میں سفید دھاگے اور ڈائمنڈ سے بنے ائیر رنگ جو کندھے تک آرہے تھے

سیريسلی زمل تمہیں لگتا ہے میں انجواۓ کرنے کے لیے جا رہی ہوں۔۔۔۔زار کو باہر جانے سے روکنا تھا مجھے۔۔۔۔۔میں نے کہا تھا اُسے ڈھونڈھ رہے ہیں وہ لوگ لیکن یہ نینا۔۔۔۔۔۔
اس نے بگڑ کر کہا اور نینا کو دیکھا جو ہمیشہ سے زیادہ تیار ہوئی تھی سلور چمکتا ہوا ٹاپ اور بلیک جینس پر چھوٹا سا بلیک جیکٹ اور بلیک ہیلس

ریلیکس روحی ۔۔۔۔۔۔۔۔اب اتنے دن تک تو وہ لوگ اُسے ڈھونڈھنے پر نہیں لگے ہونگے نا۔۔۔۔کب تک اُسے قید رکھوگی تم۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اب وہ کافی بہتر ہے

مجھے تم سے کوئی بحث نہیں کرنی نینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کے تمہیں سمجھانا فضول ہے۔۔۔اور اگر میں نے زار کو روکا تو وہ کبھی نہیں رکے گا بلکہ ضد آئے گی اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اُسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی اس حالت میں
وہ نینا کو غصے سے دیکھتی ہوئی بولی نینا دھیرے سے ہنسی

تم اُسے زندگی بھر کے لیے چھوڑ چکی ہو روحی اب اکیلا چھوڑنے میں کیا حرج ہے اتنی ہی فکر ہوتی تو اُسے پہلے بھی نہ چھوڑتی تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے نا
نینا نے اُسے برا لگنے کی پرواہ کیے بغیر کہا روحی کے ساتھ مشی زمل نیہا بھی اُسے حیرت سے دیکھنے لگی

نینا کیسی باتیں کر رہی ہو تم
مشی نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا روحی سن ہو کے اُسے دیکھے گئی

سچ کڑوا ہوتا ہے ۔۔۔۔لیکن سچ ہوتا ہے
نینا نے مشی کی طرف دیکھ کر کہا اور اپنا ہاتھ چھڑا کر باہر نکل گئی

اٹس اوکے روحی۔۔۔۔۔۔تم اس کی باتوں کو دل سے مت لگانا پتہ ہے نا کیسی ہے وہ
نیہا نے روحی کو شاک میں دیکھ کر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

اس نے کچھ غلط بھی تو نہیں کہا ۔۔۔خیر میری وجہ سے تم لوگ اپنا موڈ مت خراب کرو۔۔۔۔۔اے ایم اوکے۔۔۔۔۔
اس نے سر جھٹکتے ہوئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بمشکل مسکرا کر کہا

میں پاپا سے بات کر لیتی ہوں جانے سے پہلے میرا فون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی جیب تلاشتے ہوئے بولی تب اُسے یاد آیا کے اس کا فون زار کے روم میں ہے وہ اس کے روم کی طرف بڑھی جلدی جلدی قدم بڑھاتے ہوئے وہ اندر داخل ہوتے ہی زار سے بری طرح ٹکرائی وہ باہر ہی نکل رہا تھا اس کے ٹکرانے سے لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہو گیا جلدی سے خود سنبھلتے ہوئے روحی کو پکڑ کر گرنے سے بچایا اور دیوار سے لگ گیا روحی گھبرا کر اُسے دیکھنے لگی اس کی سانس تیز ہو کر زار کے گلے پر پڑ رہی تھی اور زار جو اُسے خود کو ہاتھ لگانے سے روکتا آرہا تھا اس کی کمر پر مضبوطی سے ہاتھ رکھ کر اُسے خود سے لگائے اس کی آنکھوں میں کھو گیا تھا روحی اس کے اس طرح دیکھنے پر نروس ہونے لگی اور کے سینے سے ہاتھ ہٹائے پیچھے ہونے کی کوشش کی لیکن زار کی گرفت بہت مضبوط تھی وہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہو پائی اور پھر اُسے دیکھنے لگی زار کے دیکھنے سے اُسے نہ کچھ کہنے کی ہمت ہو رہی تھی نا اس کی طرف دیکھنے کی ۔۔۔۔۔۔اس نے دھیرے سے دونوں ہاتھ پیچھے لے جا کر زار کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹائے۔۔۔۔۔۔اور پیچھے ہوئی لیکن اگلے ہی لمحے زار نے اس کا بازو پکڑ اُسے کھینچ کر پھر سے خود سے لگا لیا تھا روحی اُسے حیرت سے دیکھنے لگی اب وہ اس کی آنکھوں میں جیسے دیکھ رہا تھا صاف نظر آرہا تھا کے یہ روحی کے خود کو آزاد کرنے کی ضد پر کیا گیا تھا
روحی کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی کی آواز پر اس نے گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھا اور پھر زار کی طرف لیکن وہ بے پرواہ اُسی طرح اس کا بازو پکڑے اس پر اپنی گرفت مضبوط کرتا رہا روحی نے دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی لیکن اس کے کوشش کامیاب نہیں ہوئی زار نے کبھی اس طرح کی حرکت نہیں کی تھی اس لیے اسے گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی اور حیرت بھی

روحی دیر ہو رہی ہے ہمیں نکلنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی باہر سے اُسے آوازیں دے رہی تھی اس نے ہار مان کر اپنی کوشش چھوڑ دی

زار ۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے زار کی جانب دیکھ کر کہا زار نے مغرور سا مسکرا کر ہاتھ کو کھینچتے ہوئے اُس معمولی سے فاصلے کو بھی ختم کر دیا
کیا کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی آجائے گا۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کر بولی اس نے لب بھینچ کر کندھے اچکا دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روحی پریشان سی اُسے دیکھتی رہی اور اس کی آنکھیں بھرتی دیکھ زار نے فوراً اُسے چھوڑ دیا وہ جلدی سے پیچھے ہوتی ہوئی دروازہ کھول کر باہر بھاگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜

گھر سے نکلنے سے کلب پہنچنے تک اس نے ایک دفعہ بھی زار کی جانب نہیں دیکھا اس سے نظریں چراتی رہی کلب میں ویسٹرن میوزک اور رنگین لائٹوں نے سماں باندھا ہوا تھا ہر کوئی اپنی ہی مستی میں دھن تھا۔۔۔۔۔کہیں شراب کے جام ٹکراتے ۔۔۔کہیں لڑکیاں مد ہوش ہو کر لڑکوں کے باہوں میں جھومتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ بے شرمی اور بے غیرتی کا نمونہ بنے اسٹیج پر چند لڑکیاں ڈانس کر رہی تھی اور کچھ مرد اُن کی طرف بڑھ کے اُن کا ساتھ دے رہے تھے

آپ تو اتنے نروس ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔جیسے پہلی دفعہ اس ماحول میں آئے ہے۔۔۔۔۔۔
نینا نے زار کو آس پاس دیکھتے ہوئے ایک گہرائی سانس لیتے دیکھ کر کہا تو وہ دھیرے سے مسکرایا

جی نہیں آیا تو کئی بار۔۔۔۔۔لیکن اس ماحول کا حصہ کبھی نہیں بنا

حیرت کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نینا نے اُسے دیکھتے ہوئے کہا وہ دھیرے سے ہنسا اور پھر سنجیدہ ہو کر روحی کو۔دیکھا

لوگ کہتے ہیں ان رنگین روشنیوں میں بہت سکون ملتا ہے ۔۔۔۔ آج آزما کر دیکھ ہی لیتے ہے کے یہ دو سال کے زخم بھرنے کی طاقت رکھتی ہے یا نہیں
اس کے چہرے کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا تو روحی اداسی سے اُسے دیکھنے لگی وہ آگے بڑھ گیا اور روحی اُسے دیکھتی رہی مشی نے نینا کا ہاتھ پکڑ کر اُسے پیچھے کھینچا اور وہ چاروں تھوڑا فاصلے پر ہوئیں

تم لوگ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
نینا نے مصنوعی گھبراہٹ سے کہا

روحی کو دیکھ رہی ہو تم ۔۔۔تمہاری وجہ سے کتنی اپسیٹ ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی بگڑ کر بولی

یار کیا ہو گیا ہے تم لوگو کو ۔۔۔۔۔۔یہ سب میں اُس کے لیے تو کر رہی ہوں نا۔۔۔۔۔

اچھا اُسے یوں پریشان کرنے کے لیے کر رہی ہو یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔بہت بھلا کر رہی ہو تب تو
نیہا نے بھی مشی کا ساتھ دیا

تم لوگ میرے ساتھ چلو ۔۔۔میں تم کو سب سمجھاتی ہوں
نینا نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا اور مشی کا ہاتھ پکڑ لیا

لیکن روحی۔۔۔۔۔۔
اس نے روحی کی طرف دیکھا جو زار کو بار سائڈ کی طرف جاتے دیکھ پریشان ہو رہی تھی

چلو نا یار ۔۔۔وہ اکیلی تھوڑی ہے زار ہے نا اس کے ساتھ کچھ دیر دونوں کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔تم لوگ چلو
نینا اُن سب کو ساتھ لیئے باہر نکل گئی
💜💜💜💜💜💜💜

روحی نے پیچھے پلٹ کر دیکھا لیکن کسی کو موجود نا پاکر سر جھٹکتے ہوئے جلدی سے زار کی طرف بڑھی جو بار ٹیبل کے پاس اسٹول پر جا کر بیٹھا تھا

زار۔۔۔۔۔۔۔یہاں مت بیٹھو ۔۔۔۔۔چلو یہاں سے
وہ اُس کے پاس آکر جلدی سے بولی وہ ٹیبل پر کہنی ٹکائے ہاتھ ٹھوڑی پر رکھے اُسے دیکھنے لگا اُس نے نظریں دوسری جانب کر لی

جی سر کیا پیے گے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔
بار ٹینڈر نے اُسے مخاطب کیا تو وہ روحی سے نظریں ہٹا کر اُس کی طرف گھوما
جو تمہاری مرضی ہو پلا دو یار۔۔۔۔۔ہم تو اپنی زندگی بھی دوسروں کی مرضی سے گزار رہے ہیں ۔۔۔تو ڈرنک کیا چیز ہے
وہ دھیرے سے ہنستے ہوئے بولا قطار سے لگی چار پانچ کرسیوں پر سب ہاتھ میں گلاس لیے بیٹھے تھے اپنی اپنی دھن میں مگن

زار۔۔۔۔۔۔۔۔چلو یہاں سے تم ڈرنک نہیں کروگے
روحی نے دھیرے سے مگر سختی سے کہا

اب تم مجھے بتاؤ گی کے مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
زار نے جہ کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے کہا ویٹر نے اُس کے سامنے ٹرے رکھی جس میں تین چھوٹے چھوٹے گلاس رکھے تھی
Thanks۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار نے ایک گلاس اٹھا کر منہ سے لگانا چاہا لیکن روحی نے روک لیا

رک جاؤ زار۔۔۔۔۔۔اس گندگی کو منہ مت لگاؤ۔۔۔۔۔یہ تمہارے اصولوں کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔تمہیں نفرت ہے ان چیزوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے دکھ دینے کے لیے اپنے ساتھ زیادتی مت کرو
وہ اُس کا ہاتھ پکڑے روتی ہوئی بولی زار نے اُس کے ہاتھ کو دیکھا پھر اُس کے چہرے کو

ہاتھ ہٹاؤ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
سختی سے بولا اور خود ہی دوسرے ہاتھ کی مدد سے اُس کا ہاتھ جھٹکا

ہر بار وہ نہیں ہوگا جو تم چاہو گی۔۔۔۔۔میں نے اپنے اصول بدل دیے ہے۔۔۔۔۔اب جو میرا دل کرے گا میں وہی کروں گا۔ ۔۔۔۔۔
اُس نے غصے سے کہا اور گلاس ہونٹوں سے لگا کہ ایک گھونٹ اندر لیا شراب کے حلق تک جاتے ہی اُس کی جلن محسوس ہوئی تو اچانک کھانسنے لگا

زار۔۔۔۔۔۔
روحی نے گھبرا کر اُس کا نام پکارا

اسٹاپ۔۔۔۔۔کہا نا تم سے ہاتھ نہیں لگا سکتی مجھے تم
زار نے اُس کے کسی بھی عمل سے پہلے سختی سے کہا آس پاس بیٹھے اور کھڑے لوگ زار کو دیکھنے لگے تھے اُس نے دوسرا گلاس اٹھا کر آنکھیں بند کی اور ایک سانس میں باقی کا گھونٹ اندر لیا اُس نے پہلی دفعہ شراب پی تھی اور شاید وہ بہت اسٹرونگ تھی تبھی اُس کی آنکھیں بھی جلنے لگی اور وہ اُنھیں رگڑتے ہوئے کھولنے لگا

پلیز مت پیو زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
This is not good for you۔۔۔۔۔۔

روحی نے اُسے بے بسی سے دیکھے لیکن وہ اُسے سن ہی کب رہا تھا
اُس نے تیسرا گلاس اٹھایا اور آنکھوں کے آگے کرکے مسکرایا اُس کا ذہن بہکنے لگا تھا اور سب ہلتا ہوا نظر آرہا تھا

One more shot for this new life
گلاس کو دیکھتے ہوئے کہہ کر اُس نے گھونٹ لیا اور آنکھیں بند کرکے اوپر چہرہ کیے ہنسا روحی اُسے پریشان سے دیکھے گئی کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کے کیا کرے
Welcome to the hell zaar
اُس نے سر نیچے کرکے دوبارہ گلاس ہونٹوں سے لگا کر اُسے خالی کیا اور مسکرا کر گلاس کو دیکھنے لگا

یار تم تو بہت کام کی چیز ہو ۔۔۔۔۔پہلے کیوں نہیں ملی۔۔۔۔۔کتنی ضرورت تھی مجھے تمہاری پتہ ہے
اپنی بھاری پلکیں زبردستی کھول کر دیکھتے ہوئے وہ گلاس سے کسی انسان کی طرح بات کر رہا تھا۔
تینوں گلاس خالی ہو گئے تھے اس نے تینوں کو غور سے دیکھا پھر ویٹر کو ہاتھ سے اشارہ کرکے گلاس مانگا
رُکو
یار کیوں پانی ملا کر اس کی انرجی کم کے رہے ہو۔۔۔۔۔دو مجھے
ویٹر نے بوتل سے شراب آدھی گلاس میں ڈال کر اُس میں پانی ڈالنے لگا تو زار نے بلند آواز میں چلا کر اُسے روکا اور اُس سے بوتل مانگی

میڈم صحیح کہہ رہی ہے۔۔۔زیادہ پینا آپ کے لیے صحیح نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
ویٹر نے اُس کے برتاؤ کے علاوہ اُس کے سر پر بندھی پٹی پر بھی غور کیا جب کے اُس کے اتنی تمیز سے کہنے کے باوجود زار نے اُسے غصے سے نچلا ہونٹ دانت میں دبائے دیکھا اور جھک کر اُس کا کالر پکڑ لیا وہ گھبرا گیا اور ساتھ روحی بھی

اے ے ے۔۔۔۔۔ میں کیا اس کا نوکر دکھتا ہوں کیا تجھے ۔۔۔۔۔۔کے جو یہ بولے گی وہ کروں گا۔۔۔۔۔۔بوٹل دے ادھر بوٹل دے ۔ ۔۔۔
اُس ڈرے ہوئے کو اور ڈراتا ہوا بولا ویٹر نے فوراً اُسے بوتل دے دی تو سکون سے واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا اور بوتل منہ سے لگا کر ایک گھونٹ اندر لیا

اس کی بات کبھی نہیں ماننا۔۔۔۔اگر اس کا بس چلے نا تو کسی دِن بولے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار مجھے تم زندہ اچھے نہیں لگتے۔۔۔۔چلو مر جاؤ جلدی سے ۔۔۔ ۔۔۔
اُس کی آنکھیں جس طرح بوجھل ہو رہی تھی اُس کے الفاظ بھی لڑکھڑا رہے تھے اور دماغ بھی گھوم رہا تھاوہ کسی ناسمجھ بچے کی طرح بات کے رہا تھا روحی بس بت بن کر کھڑی تھی

پتہ ہے میں کون ہوں۔۔۔۔۔۔۔
I am ACP zaar
سب جانتے ہیں کے میں کبھی ہار نہیں مانتا۔۔۔۔۔جیتنا میری عادت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ جو لڑکی ہے نا۔۔۔۔۔۔کہاں گئی۔۔۔۔۔
اُس نے اپنی بائیں طرف دیکھا جہاں کرسیاں لائن سے لگی تھی اور روحی کو نہ دیکھ کر کنپٹی پر انگلی رکھے سوچنے لگا اور پھر دائیں جانب دیکھ کر بھنویں اٹھائی وہ اپنی جگہ پر ہی تھی لیکن زار کے حواس گم تھے

ہاں یہ۔۔۔ تجھے پتہ ہے,۔۔۔۔۔اس نے بہت برا کیا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔ بہت برا کیا۔۔۔۔
ویٹر سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ اسکا بچھڑا بھائی ہو اور ویٹر اُسے بیزاری سے دیکھ رہا تھا روتی صورت بنائے اُس نے پھر بوتل منہ سے لگائی
💜💜💜💜💜💜💜