Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

شام ہونے لگی تھی روحی مسلسل کھڑکی کے باہر دیکھ رہی تھی اُس کا دل بہت بے چین تھا لیکن وہ یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کے زار یہ اُس کی امی پریشان نہ ہو جائے

ابراہیم اسی شہر میں رہتا ہے نہ
اُنہوں نے زار کو مخاطب کیا اُس نے پیچھے دیکھتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا

کون ابراہیم۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے پوچھا

دوست ہے میرا ۔۔ہم ساتھ پڑھتے تھے۔۔۔اور ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا ممبئی میں

زار نے سامنے لگے شیشے میں اُسے دیکھتے ہوئے بتایا

میں سوچ رہی تھی کیوں نہ کچھ دن ابراہیم کے پاس رک جاؤں
رفعت سوچتے ہوئے بولی زار نے اُنھیں حیرت سے دیکھا

تم تو جانتے ہو زیادہ سفر کرنے سے میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے اب تم دونوں کے ساتھ کہاں تک جاؤنگی ۔۔۔اس لیے فلحال یہیں رک جاتی ہوں جب تک سب ٹھیک نہیں ہو جاتا
وہ زار کی سوالیہ نظروں پر تفصیل سے سمجھاتے ہوئے بولیں زار سامنے دیکھ کر ڈرائیو کرتا رہا

شاید آپ صحیح کہہ رہی ہیں۔۔۔۔میں ابراہیم کو فون کرتا ہوں۔۔۔۔
وہ اُن کی بات سوچتے ہوئے بولا واقعی اُن کی بات اُسے صحیح لگی کے اگر کوئی مشکل بھی آئے تو اُنھیں سامنا نا کرنا پڑے

آئے ایم سوری امی۔۔۔۔۔۔میری وجہ سے آپ کو بھی اتنی پرابلمز جھیلنی پڑ رہی ہے
روحی بھی ان اُنھیں زار کی طرح امی کہنے لگی تھی جو اُنھیں بہت اچھا لگ رہا تھا

پاگل ہو ۔۔۔۔امی بھی کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔اورسوری بھی کہہ رہی ہو

پتہ نہیں سب کچھ پہلے جیسا ہوگا بھی یا نہیں
وہ اُداسی سے سے جھکائے بولی رفعت نے ہاتھ سے اُس کا سے اوپر کیا

بہت جلد سب ٹھیک ہوگا۔۔۔دیکھنا مجھے یقین ہے
تمہارے ابو کو بہت جلد احساس ہو جائے گا اور وہ خود تم دونوں کو واپس بلائے گئے ۔۔۔۔میرا دل کہتا ہے
اُنہوں نے اُسے پیار سے کہتے ہوئے گلے لگا کیا

اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔۔۔۔
روحی آنکھیں بند کئے بولی

💜💜💜💜💜💜
ابراہیم آیا نہیں اب تک
وہ لوگ ایک سنسان جگہ کھڑے تھے جہاں زار نے ابراہیم کو بلایا تھا
کہا تو تھا یہیں آئیگا ۔۔۔۔۔آتا ہی ہوگا
زار نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا

اچھا دھیان سے سن لو ۔۔۔۔۔۔۔ایک دوسرے کا دھیان رکھنا۔۔۔فون کرتے رہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔روحی کو بلکل تنگ مت کرنا زار۔۔۔اور اپنے کھانے پینے کا دھیان رکھنا لا پرواہی مت کرنا
رفعت اُن دونوں کو مخاطب کرکے اپنا ہدایت نامہ سناتے ہوئے بولیں روحی اُن کی بات پرمسکرائی جب کے زار نے بیزاری سے آنکھیں گھمائی

میرے اندر ایک سی سی ٹی وی کیوں نہیں لگوا دیتی آپ پھر نظر رکھتیں رہنا کچھ پوچھنے بتانے کی ضرورت ہے نہیں
وہ اسی بیزاری سے بنا پلٹے بولا رفت نے اُسے خفگی سے دیکھا
کیسے بات کر رہے ہو زار۔۔ یہ امی ہے تمہاری
روحی حیرت سے بولی

چھوڑو بیٹا مجھے تو عادت ہے ۔۔۔۔اس نے کبھی امی سمجھا کہاں مجھے۔۔۔۔۔میری تو قسمت ہی پھوٹی ہے

آپ ایسا کیوں کہہ رہیں ہے امی۔۔۔۔زار تو آپ سے بہت پیار کرتا ہے
وہ رفعت کی بات پر مزید حیران ہوئی

یہ تو کبھی غلط فہمی میں بھی مجھے پیار نا کرے
رفعت نے منہ بگاڑ کر کہا

سچ کہہ رہی ہوں میں زار نے مجھے خود کہا ہے کہ وہ اپنی امی سے بہت پیار کرتا ہے

ہائے سچی۔۔۔ زار بیٹا کہاں چھپا رکھی تھی یہ محبت
روحی کی بات پر وہ مصنوعی حیرت سے اُسے دیکھتی خوشی سے جھومتے لہجے میں بولی

آپ کے سموسوں میں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے طرح بیزار لہجے میں بولا لیکن اپنی مسکراہٹ روک نہیں پایا شیشے سے اب بھی روحی کو ہی دیکھ رہا تھا اب کے روحی نے بھی شیشے دیکھتے ہوئے اُس سے آنکھیں ملائی

یہ ایسا ہی ہے۔۔۔۔۔۔ اسے بہت مزا آتا ہے اُنھیں تنگ کرنے میں جو اسے پیار کرتے ۔۔۔تبھی تو جان بوجھ کے اپنے جذبات چھپا کر سختی دکھاتا ہے۔۔۔آپ کے ساتھ بھی یہی کیا اور میرے ساتھ بھی
وہ اُسے خاموشی سے اُسے طرح دیکھنے لگا لیکن اُس کی آنکھیں مسکرا رہے تھی

میرے ساتھ تو حد ہی کر دی ۔۔۔۔۔۔۔کوئی لڑکی بھی اتنا اٹیٹود نہیں دکھاتی جتنا یہ دکھا رہا تھا ۔۔۔۔
اب کی دفع وہ سے نیچے کرکے دھیرے سے ہنسا تھا اور دوبارہ شیشے میں دیکھنے لگا

ہاں دیکھا تھا میں نے کتنی دکھی تھی میری بچی
رفعت نے ہمدردی سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا

امی آپ کو نہیں لگتا کے اس بات کی سزا ملني چاہیے زار کو

ہاں بلکل ملنی چاہیے

تو میں کیا کروں۔۔۔۔۔اسے چھوڑ کر واپس چلی جاؤں
وہ سوچتے ہوئے بولی اور اگلے ہی پل زار نے پلٹ کر اُسے سنجیدگی سے دیکھا

نہیں یہ کچھ زیادہ ہو جائے گا
اُس نے فوراً اپنے الفاظ واپس لیے رفعت اُس کے گھبرانے پر ہنس دیں زار نے بھی دوبارہ سامنے رخ کرکے مسکرا دیا

تو پھر ایسا کرتی ہوں میں آج سے بات ہی نہیں کروں گی زار سے
وہ اُس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی

امی آپ ذرا باہر جا کر ابراہیم کو دیکھیے میں روحی سے بات کرکے آتا ہوں
وہ سنجیدگی سے کہتا اُسے مسلسل گھور رہا تھا

ایسی کیا بات ہے جو میرے سامنے نہیں کر سکتے
رفعت نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا تو زار نے اُنھیں دیکھا

آپ کے سامنے اسے مارنا اچھا نہیں لگے گا اسلئے
اُس کی بات پر ِرفعت نے منہ بنایا

جب دیکھو صرف مرنے مارنے کی بات کچھ اور تو آتا ہی نہیں اسے۔۔۔۔۔۔خبردار جو میری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا
وہ اُتر کے باہر نکل گئی لیکن اُسے وارن کرنا نہیں بھولیں اُن کے باہر نکلتے ہی زار نے اپنی کھڑکی کا شیشہ بند کیا اور وہیں سے اٹھ کر پچھلی سیٹ پر آیا روحی حیران پریشان سے اُسے دیکھنے لگی تب تک آکر وہ اُس کے قریب بیٹھ گیا

جی تو کیا کہہ رہی تھیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا ایک پل تو وہ گھبرائی لیکن اگلے ہی لمحے ہمت سے سیدھی ہوئی

یہی کے تم نے جو غلطی ہے اُس کی سزا تو ملے گی ہی
سزا دینے کے اور طریقے ہے لیکن دور جانے یا بات نا کرنے کا خیال بھی دماغ میں مت۔لانا آئی سمجھ
۔وہ اُس کی طرف جھکتا گیا اور روحی نیچے ہوتی گئی

تو پھر تم ہی بتاؤ کیا کروں
وہ اُسے پیچھے کرتے ہوئے غصے سے بولی

تمہارے پاس ہاتھ ہے میرے پاس
اُس نے ہاتھ چہرے پر رکھا روحی دھیرے سے مسکرائی

لگا دو اُس دِن کی طرح زوردار۔۔۔۔۔
وہ بھی ہلکے سے مسکرایا روحی نے وہ لمحہ یاد کیا اور اُسے سنجیدگی سے دیکھا

I am sorry۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھیرے سے بولی زار نے اُس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی

سوری نہیں کہتے ۔۔۔۔۔۔۔
ہونٹوں سے ہٹا کر انگلی پیشانی پر پڑے بالوں تک لے جا کے اُنھیں پیچھے کیا
روحی نے اُس کا ہاتھ ہٹایا پیچھے ہوئی اور دروازہ کھول کر باہر نکلی وہ بھی مسکرا کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا باہر نکلا تھوڑی ہی دیر میں ابراہیم بھی آگیا

سوری تھوڑا لیٹ ہو گیا
وہ گاڑی سے اُتر کر آتے ہی معذرت کرتا ہوا زار سے ملا زار نے کچھ کہنا چاہ تو اُس نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا

کچھ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔میں آنٹی کا پورا خیال رکھوں گا اُنھیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔۔۔۔تم بے فکر ہو کر جاؤ

تھینک یو یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار نے مسکراتے ہوئے کہا

دیکھا آنٹی۔۔۔
اُس نے خفگی سے پہلے زار کو دیکھا پھر رفعت کو۔وہ مسکرا دیں زار اُن کے پاس آیا اور اُن کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے

آپ کو یہاں چھوڑ کر جانے کا بلکل دل نہیں کر رہا امی

میری فکر مت کرو ۔۔۔اپنا اور روحی کا خیال رکھنا ۔۔میرے پاس میرا دوسرا بیٹا ہے نہ
وہ ابراہیم کی جانب دیکھ کر مسکرائی

اچھا سن ۔۔۔۔۔۔یہ کچھ کیش ساتھ رکھ لے۔۔۔ضرورت پڑے گی
ابراہیم نے اپنی جیب سے دو ہزار کے نوٹوں کا بنڈل نکل کر اُس کی طرف بڑھایا

لیکن۔۔۔۔۔۔
No formality Okey
وہ اُسے بولنے کا موقع دیے بنا بولا زار ہنس دیا اُس کے ہاتھ سے پیسے لے کر جیب میں رکھے

ٹھیک ہے میں چلتا ہوں ۔۔۔ آپ کو فون کرتا رہونگا اور بہت جلد واپس آؤنگا آپ کو لینے
زار رفعت سے ملتے ہوئے بولا روحی بھی اُن کے گلے لگی اُنھوں نے پیار سے اُس کی پیشانی چومی

اپنا خیال رکھنا اور بلکل اُداس مت ہونا ۔۔۔۔۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھے بولی روحی نے بس سر ہلا دیا
💜💜💜💜💜💜💜

وہ خاموش بیٹی سامنے دیکھ رہی تھی اُس نے کتنی دیر سے ایک لفظ تک نہیں کہا تھا زار نے گاڑی چلاتے ہوئے کئی بار اُس کی طرف دیکھا اور اُسے ویسے ہی پریشان پایا

کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
دھیرے سے پوچھا روحی نے اُس کی جانب دیکھا اور کچھ پل بس دیکھتی رہی

ہم نے کچھ غلط تو نہیں کیا نا زار
اپنے دل۔کا ڈر اُسے بتاتے ہوئے بولی

ہم نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔۔۔
زار نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے
وہ دوبارہ سامنے دیکھنے لگی زار نے گاڑی کو بریک لگا اور رخ اُس کی طرف کیا اور اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے

میرے ہوتے ہوئے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔کچھ غلط نہیں ہوگا جان۔۔۔۔۔بس تم میرا ساتھ دینا
میرا ہاتھ کبھی مت چھوڑنا ۔۔۔تم میری طاقت ہو ۔تم ساتھ ہو تو میں ہر مشکل سے لڑ سکتا ہوں ۔۔۔ہر سچویشن کا سامنا کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔کوئی چیز نہیں ہرا سکتی مجھے
تم کبھی میرا ساتھ مت چھوڑنا ۔۔۔۔تمہارے بنا نہیں رہ پاؤنگا ۔۔۔۔ایک بار کوشش کی تھی لیکن ہار گیا میں۔۔۔اور یہ بھی جان گیا کے تمہارے بنا رہنا ایک صحرا میں زندگی گزارنے جیسا ہے۔۔۔وہ تو شروعات تھی محبت کی ۔۔ اب تو یہ محبت عشق سے جنون تک پہنچ چکی ہے۔۔۔۔۔اب اگر تم سے جدا ہوا تو بکھر جاؤنگا میں۔۔۔۔۔سانس تو چلے گی لیکن دل نہیں دھڑکے گا۔۔۔۔۔۔کوئی احساس باقی نہیں رہیگا ۔۔۔۔۔۔یہ دنیا زار کو جیتے جی مرتا ہوا دیکھے گی
روحی نے اُس کے ہونٹوں پر ہتھیلی رکھ دی
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال جذبات سے بھری اواز میں بول رہا تھا روحی بس اُسے دیکھتی رہی اُس کے ہر لفظ کی سچائی اُس کی آنکھیں بیان کرتی تھی
میں تمہارا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑوں گی
نہیں بکھرنے دونگی تمہیں۔۔۔۔
نہیں ہارنے دوں گی تمہاری محبت کو
وہ اُس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا کر بولی زار نے اُس کی پیشانی سے پیشانی ٹکا دی۔۔۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜