Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

اب بتاؤ کیا چل رہا ہے تمہارے شاطر دماغ میں اور اس طرح کی حرکتیں کر کے روحی کا کون سا بھلا کر رہی ہو تم

وہ چاروں بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر موجود ریسٹورنٹ میں بیٹھی تھی رات ہونے کی وجہ سے شور شرابہ اور لوگوں کی کمی تھی
میں صرف روحی کا مائنڈ چینج کرنے کی کوشش کر رہی ہوں تاکہ ا سے احساس ہو کہ زار کتنا ہرٹ ہوا ہے اور اسے ساتھ دینا چاہیے زار کا
مشی کی بات پر نینا نے ں فورا جواب دیا تینوں خاموشی سے اسے دیکھنے لگی اس کی بات میں دم تھا

ہم نے تو یہی چاہا تھا اسی لیے یہاں لائے تھے اسے ۔۔۔ ۔۔۔ اور کوشش بھی کی ان دونوں کو ملوانے کی لیکن کیا ہوا وہ مانی کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنی بات ختم کرکے ان سب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا

نہیں بلکہ اس نے صاف منع کردیا اور ہمیں بھی روک دیا کچھ کرنے سے۔۔۔۔ . . . ۔ لیکن دیکھو قسمت نے خود زار کو اس کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا۔۔ . . کبھی سوچا ہے اتنی بڑی جگہ اتنے بڑے شہر میں وہ آ کر اس کے دروازے پر ہی کیوں رکا ۔۔۔ . . کیا یہ قسمت کا ایک اشارہ نہیں

بات تو تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو ویسے ۔۔۔۔اور دیکھو دونوں آج بھی ایک دوسرے کو اتنا ہی چاہتے کوئی کمی نہیں آئی
نیہا نے بھی اس کا ساتھ دیا

بلکل اور اگر اس موقع کو کھو دیا نا تو ہم کبھی اپنی دوست کی مسکراہٹ واپس نہیں لا پائیں گی

اور اسے سمجھانے کی کوشش کریں گے تو وہ سمجھے گی بھی نہیں
زمل نے بھی اداس شکل بنائی اپنی بات ظاہر کی اور نینا نے مشی کی طرف دیکھا تو اس نے بات سمجھتے ہوئے سر ہلا دیا

اسے احساس دلانا ہے کہ زار کا بھی حق ہے اس پر ۔۔۔۔۔وہ اسے چاہتا ہے تو اسے چاہت کا بدلہ اس طرح نہیں ملنا چاہیے ۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔اپنے پاپا کے ڈر سے ساری زندگی ایسے نہیں گزار سکتے ان دونوں کو ایک ہونا چاہیے اٹلیسٹ ایک کوشش کرنی چاہیے اسے ۔۔
نینا نے اپنی سوچ ان سب کے آگے رکھی اور وہ لوگ اس کی بات سمجھ گئے تھے
💓💓💜💜💜💜💜

پتہ ہے میں اس سے کتنا پیار کرتا تھا۔۔۔۔۔۔اتنا
زار نے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر پیچھے تک لے گیا

پوری دنیا سے بھی زیادہ پیار کرتا تھا میں اس کو ۔۔۔۔۔۔لیکن اس نے کیا کیا۔۔۔۔چھوڑ دیا مجھے۔۔۔۔۔۔۔اپنے اس۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ہٹلر باپ کے کہنے پر۔۔۔۔۔۔پھر بھی میں۔۔۔۔۔۔۔ میں اس کی بات کبھی نہیں مانتا اگر اس نے مجھے میری محبت کا واسطہ نا دیا ہوتا
اس نے اداس شکل بنا کر کہتے ہوئے بوتل منہ سے لگائیں

اور اس کا وہ ہٹلر باپ۔۔۔۔مچھڑ کہیں کا۔۔۔۔۔پتہ نہیں خود کو کس جنگل کا شہنشاہ سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔۔اس کو بولا۔۔۔۔۔۔کے پیار کرتا ہوں آپ کی بیٹی سے۔۔۔۔۔۔چاہتا ہوں اُسے بہت۔۔۔۔۔لیکن نہیں۔۔۔ ۔۔۔۔ اُسے پیار سے کیا لینا دینا ۔۔۔اُسے تو اپنے جیسا ڈائناسور داماد چاہیے تھا اپنی بیٹی کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔پیچھے ہی پڑ گیا کے نہیں ہونے دونگا میری بیٹی سے شادی۔۔۔۔۔نہیں مانوں گا تجھے داماد
جیسے مجھے داماد بنانے سے ان کی مونچھیں نیچے جھک جاتی۔۔۔۔اُن کا سر گنجا ہو جاتا۔۔۔۔۔۔ہٹلر راجپوت ۔۔۔۔۔۔۔

زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہوش میں تو کبھی نہ نکال پایا لیکن اب بے ہوشی میں اپنے سسر جی کو کوس رہا تھا روہی نے غصہ ہو کر سختی سے اسے پکارا زار نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھورا اور دوبارہ و یٹر کی جانب دیکھا

لیکن اس کے باپ پر مجھے اتنا غصّہ نہیں ہے جتنا اس پر ہے۔۔۔۔۔اس کے باپ سے تھوڑی محبت کی تھی میں نے اس سے کی تھی نا۔۔۔۔۔اسے تو۔میرا ساتھ دینا چاہیے تھا نا

اسے تو معلوم تھا میں کتنا چاہتا ہوں اسے۔۔۔میں نے اسے کہا تھا روحی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز مجھے کبھی اکیلا مت چھوڑنا۔۔۔۔۔میں نہیں جی پاونگا تمہارے بنا۔۔۔۔۔۔اور اس نے بھی وعدہ کیا تھا کہ نہیں جائے گی کبھی لیکن توڑ دیا وعدہ ۔۔۔۔ ۔

روحی اپنا غصہ بھول کر اداسی سے اسے دیکھنے لگی

آخر یہ بھی تو اسی ڈائناسور کی بیٹی ہے نا۔۔۔۔اس کو کہا سے نظر آتا میرا دکھ۔۔۔۔۔۔دونوں باپ بیٹی بلکل ہارٹ لیس ہے ۔۔۔۔کوئی فیلنگ نہیں ان کے اندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو تو یہ بھی یاد نہیں رہا کے میرا نکاح ہوا تھا اس سے۔۔۔۔۔بیوی ہے یہ میری ۔۔۔۔اسے میرے بارے میں سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔لیکن اس نے اپنے باپ کے بارے میں سوچا۔۔۔۔۔۔میں تو کچھ تھا نہیں نا اس کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے مچھڈ باپ نے کہا ۔۔۔۔۔۔روحی چھوڑ دو زار کو ورنہ میں مر جاؤں گا۔۔۔۔۔اور روحی چلی اپنے باپ کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔یہ بھی نہیں دیکھا کے زار زندہ ہے کے نہیں

اس کے الفاظ اور اس کا بولنے کا انداز بھی اسی طرح بدل رہا تھا جیسے آنکھوں کا رنگ ۔۔۔۔کبھی اُداسی ۔۔۔۔کبھی غصّہ۔۔۔۔۔کبھی شکوے۔۔۔۔۔

اگر یہ میرا ساتھ دیتی نا تو میں اس کے باپ سے کیا پوری دنیا سے بلکہ جناتوں سے بھی لڑ جاتا۔۔۔۔۔۔ایک موقع نہیں دیا مگر مجھے نا اس نے نا اس کے باپ نے۔۔

وہ رک کے زمین کو دیکھنے لگا پھر سر اٹھا کر روحی کی جانب دیکھا

اگر اس کا باپ مجھے معافی مانگنے کو کہتا نا تو میں جھک جاتا اُن کے قدموں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کے اُن کے لیے اپنی بیٹی کی خوشی سے بڑھ کر اُن کی انا ہو سکتی ہے۔۔۔۔لیکن میرا ایگو میرے پیار سے بڑا نہیں ہے۔۔۔۔۔

روحی کا دل کیا اپنا سر اُس کے پیروں پر رکھ دے۔۔۔۔ اور اُس کا ہر دکھ اپنا لے

یار یہ بوتل تو خالی ہے۔۔۔۔۔مجھے دوسری بوتل دے نا

اُس نے خالی بوتل کو پورا انڈیل کر غور سے دیکھتے ہوئے پھر ویٹر سے کہا روحی نے فوراً سر نفی میں ہلا کر اُسے روک دیا

سوری سر۔۔۔۔۔سب ختم ہو گئیں۔۔۔بار بند ہو چکا ہے

ویٹر نے روحی کے اشارے پر عمل کرتے ہوئے کہا تو و اُسے حیرت سے گھورنے لگا پھر پاس بیٹھے آدمی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں گلاس تھا اُس کے ہاتھ سے گلا چھین کر روحی کے روکنے سے پہلے جلدی سے دو گھونٹ لے لیے وہ آدمی اُسے غصے سے گھورنے لگا زار نے گلاس واپس اُس کی طرف بڑھایا

سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسکراتے ہوئے اُس کے گلے لگ گیا اُس آدمی نے اُسے دھکا دے کے خود سے دور کیا روحی نے آگے بڑھ اُسے چیئر سے نیچے گرنے سے بچا لیا وہ سرخ آنکھیں سے اُسے دیکھنے لگا پھیر اپنے کندھے سے اُس کا ہاتھ جھٹک کر دوبارہ ویٹر کی طرف دیکھا

اور تجھے پتہ ہے۔۔۔۔۔۔اس سے بھی بڑھ کر جو ذمےدار ہے نا میری بربادی کا۔۔۔۔۔۔وہ ہے میرا دل۔۔۔۔۔۔۔ادھر دیکھ۔۔۔۔۔

وہ شخص روحی کو افسوس بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا زار نے اپنے دل کی جگہ ہاتھ رکھ کر کہا

اسے دیکھتے ہی ٹرین کے جیسے بھاگنے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔ دو سال میں میرے دل نے کبھی بھولنے نہیں دیا اسے۔۔۔۔۔کتنی کوشش کی میں نے۔۔۔۔۔ کتنا سمجھایا اس دل۔کو لیکن۔۔۔۔اسے تو مجھے تڑپتا دیکھ کر مزا اتا تھا اسی لیے اور زیادہ یاد کرتا تھا اسے ۔۔۔۔۔انسان کے پاس دل ہونا ہی نہیں چاہیے

لیکن اگر میں چاہتا نا تو اس اذیت سے نکل سکتا تھا۔۔۔۔۔بیوی ہے نہ یہ میری ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا ہاتھ پکڑ کر لے آتا اسے اور اس کا باپ بھی نہیں روک سکتا تھا مجھے۔۔۔لیکن کمبخت دل نہیں مانتا تھا۔۔۔۔۔۔محبت تھی نا اس لیے۔۔۔۔۔۔اگر اسے پانا میری ضد ہوتی تو اسے حاصل کیے بنا نہیں رہتا کبھی۔۔۔۔۔کبھی تکلیف برداشت نہیں کرتا۔۔۔۔۔مگر مجھے اُس ایک قسم نے روک لیا

وہ پھر کہتا چلا گیا اور دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر اُن پر سر رکھ دیا پھر جیسے کچھ یاد آنے پر سر دوبارہ اٹھا کر سامنے دیکھا

اور ۔۔ جس دن۔۔۔۔۔۔۔

بس کرو زار۔۔۔۔۔۔۔بہت تماشا ہو گیا

روحی نے اب کی دفعہ آگے بڑھ کر اُسے ٹوکا

تماشہ ۔۔۔۔۔۔۔دیکھا۔۔۔۔اس نے میری زندگی کا تماشہ بنا دیا اُس کا کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔اور آج چار باتیں سچ کیا کہہ دی اس سے برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔اسے میری نہیں بلکہ لوگو کی پرواہ ہے کے لوگ کیا سوچے گے ۔اس کی آنکھیں سب دیکھ سکتی ہے بس میرا درد نہیں دیکھ سکتی۔۔۔

اُس کی بات پر بگڑتے ہوئے اُس کی جانب رخ کرکے بولا پھر اپنی جگہ سے اٹھ گیا

لیکن بس۔۔۔۔انف۔۔۔۔۔۔بہت ہوگیا پیار کا رونا۔۔۔۔۔۔۔

Now no more mohabbat

No more pain

No more imotions

اب میں لائف کو انجواۓ کروں گا

اُس نے بلند اواز میں کہہ کر دونوں ہاتھ پھیلائے اور ڈانس فلور کی طرف بڑھا وہاں لوگو کے درمیان میں لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھتا ہوا اُس طرف جانے لگا جہاں کچھ لڑکیاں چھوٹے چھوٹے کپڑوں میں کھڑی ڈانس کر رہی تھی اُس طرف روشنی کافی کم تھی اور لال رنگ میں سب عجیب سا نظر آرہا تھا آتے جاتے لڑکے اُن لڑکیوں کے ساتھ بہت بد تمیزی سے برتاؤ کر رہے تھے

Hey baby I’m coming۔۔۔۔۔۔۔۔۔

و اُن کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرکے زور سے آواز نکالنے لگا لیکن اتنے تیز میوزک میں اُس کی آواز کسی کو کیا سنائی دیتی لیکن روحی سمجھ گئی کے وہ کہاں جا رہا ہے اور فوراً بھاگ کے اُس کی طرف بڑھی وہ وہاں پہنچتا اُس کے پہلے روحی نے اُس کا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا زار نے اُس کی طرف غصے سے دیکھا اور اُس کا ہاتھ جھٹک دیا اب کی دفعہ روحی کا ہاتھ اُس کی کالر پر تھا

زار رکو۔۔۔۔۔تم وہاں نہیں جاؤ گے۔۔۔۔۔۔

اُس کے لہجے میں غصّہ تھا زار نے اُس کے چہرے سے نظر ہٹا کر اُس کے گریبان پر رکھے ہاتھ کو دیکھا

ہاتھ ہٹاؤ فوراً۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ تمہارا ہاتھ کاٹ کر تمہارے پیر۔۔۔۔۔۔۔۔مطلب دوسرے ہاتھ میں دے دوں گا

وہ اُس کے دھندلے نظر آتے چہرے کو دیکھ کر لڑکھڑاتی آواز میں بولا اور اُس کے ہاتھ کو دھکا دے کر اُسے پیچھے دھکیل دیا وہ جا کر۔کسی سے ٹکرائی تھی اور اُس آدمی نے شرافت سے اُسے سہارا دے کر سیدھا کیا

Zar is free now

زار۔لاپرواہی سے ہنس کر اُسے دیکھ پیچھے ہوتا ہوا پلٹ گیا اور اُن لڑکیوں کے درمیان کھڑا اُن کے ساتھ ڈانس کرنے لگا چہرے پر جلانے والی مسکراہٹ اور آنکھوں میں ضد لیے روحی کی طرف دیکھا وہ بے یقینی سے اُسے دیکھ رہی تھی اُسے لگا کے یہ زار ہو ہے نہیں سکتا زار کا ہاتھ ایک۔لڑکی کی کمر پر تھا اور وہ لڑکی اس کے گلے میں بانہیں ڈالے مسکرا رہی تھی روحی نے آنکھیں بند کر لی اور جب کھول کر اُسے دیکھا تو وہ ہنستا ہوا اُسے دیکھ رہا تھا روحی نے بہت ہمت کرکے قدم اُس کی طرف بڑھائے

زار چلو یہاں سے۔۔۔۔۔۔

زار اُس لڑکی کے کندھے پر تھوڑی رکھے قدموں کو حرکت دے رہا تھا روحی نے اُس کا بازو کھینچ کر الگ کیا

۔اسٹاپ ۔۔۔۔۔دکھتا نہیں ہم بزی ہے ۔۔۔۔

وہ اُسے دور لے جانے لگی تو اُس کا ہاتھ جھٹک کر کہا اور اپنا ہاتھ اُس لڑکی۔کی طرف بڑھایا

Wil you be mine tonight

اُس۔کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اُس لڑکی نے مسکرا کر ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دے دیا تو۔زار نے اُس کے ہاتھ پر ہونٹ رکھ دیا روحی اُسے بے ترتیب ہوتی سانسوں کے ساتھ دیکھنے لگی اُس کے پیروں کے نیچے زمین ہلنے لگی تھی

چلو یہاں سے کہیں دور لے چلو مجھے بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زار نے اُس لڑکی کے کندھے پر سر گراتے ہوئے کہا

زار یہ کیا پاگل پن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کر کیا رہے ہو تم سمجھ بھی آرہا ہی تمہیں

روحی اُسے کھینچ کر سیدھا کھڑے کرتے ہوئے رونے کے درمیان بولی اور پہلی دفعہ زار نے اُسے سنجیدگی سے دیکھا جیسے وہ پورے ہوش میں ہو

ہر حد کو توڑ کر خود کو آزاد زندگی دینے کی کوشش کر رہا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس قید میں پچھلے دو سال سے تڑپ رہا ہوں اُس سے نکلنے کی کوشش کررہا ہوں

اُس کا لہجہ بھی اتنا ہی سنجیدہ تھا وہ سن ہو کر اُسے دیکھے گئی کوئی بات یہ کوئی جواب نہیں سوجھا زار اُس لڑکی کے ساتھ جب باہری دروازے سے نکلنے لگا تب و ہوش میں آئی اور اُس کی طرف بھاگی وہ لوگ لفٹ لے کر اوپر جانے لگے تھے اور روحی بنا دیر کیے سیڑھیاں چڑھ گئی لفٹ سے نکل کر وہ اُس لڑکی کے کندھے پر سے رکھے روم کی طرف بڑھنے لگا لڑکی اندر گئی اور وہ بھی دروازہ کھول کر اندر جانے لگا لیکن روحی نے سامنے آکر دروازہ بند کر دیا

زار چلو یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس کا رخ بدلا

سنا نہیں تم نے آج کی رات میں اس کے ساتھ ہوں۔۔۔۔تم کل آنا اوکے۔۔۔۔۔۔

وہ اُس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے دوبارہ دروازے کے ہنڈیل پر ہاتھ لیجاتے ہوئے بولا روحی نے اگلے ہی لمحے ہاتھ اٹھا کر اُس کی بات کا جواب دیا سنسان کوریڈور میں تھپڑ کی آواز گونجی اور وہ سن ہو کر دیوار کو دیکھنے لگا

ہوش میں آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا بکواس کیے جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔

وہ اُسے بے یقینی سے دیکھ کر غصے سے بولی زار نے اُس کی جانب ایسے دیکھا کے نا اُس کی آنکھوں میں کوئی غصّہ تھا۔۔۔۔نا نشے میں ڈوبی بوجھل پلکیں با ڈھیر ساری شکایتیں اور سوال روحی کو اگلے ہی لمحے اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا تو دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیے پھر اُس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے آنسو صاف کیے

تم ایسے نہیں ہو زار یہ گندگی تمہیں اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی۔۔۔۔۔۔تم ایک اچھے انسان ہو۔۔۔۔۔۔یہ سب تمہاری زندگی کا حصہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔خود کو گناہ کی طرف مت دھکیلو ۔۔۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں تم یہ سب مجھے تڑپانے کے لئے کر رہے ہو۔۔۔۔۔بس کردو۔۔۔۔۔۔

وہ اُس کے قریب ہو کر اُس کے سینے سے لگ گئی زار نے اُسے بازو سے پکڑ کر الگ کرکے اُس کی آنکھوں میں دیکھا

غلط فہمی ہے تمہاری میں یہ سب تمہیں تڑپانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی تڑپ کو ختم کرنے کے لیے کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔تم کیا چاہتی ہو میں ساری زندگی تمہارے چھوڑ جانے کا دکھ لے کر روتا رہو۔۔۔۔نہیں بس بہت ہو۔۔

Im not still a one woman man۔۔۔۔۔

وفا۔۔۔۔۔۔محبت۔۔۔۔۔۔جذبات۔۔۔۔سب فریب ہے۔۔۔اس فریب سے پیچھا چھڑانا ہے مجھے

اُس پل وہ کہیں سے بھی نشے میں نہیں لگا جیسے سارا نشا ختم ہو گیا ہو لیکن اُس کی آنکھیں جو پوری طرح سرخ ہو چکی تھی روحی کو ڈرا رہی تھی

جانتی ہوں تکلیف ہوئی ہے تمہیں۔۔۔۔لیکن کیا اس سے تمہاری تکلیف کم ہو جائے گی ۔۔۔۔کیا تمہیں یقین ہے کہ اس سے سب ٹھیک ہو جائے گا

سب تو کبھی ٹھیک نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔جو زخم تم نے دیئے ہے وہ نہیں بھرے گے اتنی آسانی سے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ چند لمحے مجھے ہوش سے بے گانہ کرکے اُس تکلیف کے احساس کو کم ضرور کر دے گے

اُس نے روحی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُس کی بات کا جواب دیا اور اُسے جھٹکا دے کر خود سے دور کیا

۔۔۔اب خدا کے لیے چلو جاؤ میری زندگی سے۔۔۔۔۔جینے دو مجھے چین سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس نے روحی کی طرف دیکھ کر کہا اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا وہ چند پل بند دروازے کو دیکھتی رہی پھر مرے مرے سے قدم اٹھا کر سیڑھیاں اترنے لگی اُس کی سانسیں رکنے لگی تھی جنہیں وہ منہ کھولے لینے کی کوشش کر رہی تھی

💜💜💜💜💜💜💜💜

کافی دیر ہو گئی ہے ہمیں اب چلنا چاہیے

مشی نے گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا

لیکن زار اور روحی تو اب تک آئے نہیں۔۔۔۔۔

نیہا نے بوریت سے کہا

میں فون کرتی ہوں اُسے۔۔۔۔۔۔۔

رہنے دو نا ہو سکتا ہے دونوں بات کر رہے ہو۔۔۔۔کیوں ڈسٹرب کرے۔۔۔۔ایسا کرتے ہیں ہم لوگ فلم دیکھنے چلتے ہیں

نینا نے اُسے روکتے ہوئے کہا

اتنی رات کو فلم۔۔۔۔۔۔۔۔گیارہ بج رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

زمل نے منہ بناتے ہوئے کہا

تم لوگ چلو تو صحیح۔۔۔مجھے سب پتہ ہے

۔ہاں چلو یہاں بیٹھ کر کیا کرنا ہے تھوڑی دیر انجوائے کر لیتے ہیں

نیہا نے اُس کا ساتھ دیتے ہوئے کہا وہ چاروں اپنی جگہ سے اٹھ گئیں

میں روحی کو میسیج کرکے بتا دیتی ہوں اور یہ بھی کہہ دیتی ہوں کے زار کے ساتھ گھر آجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نینا نے باہر نکلتے ہوئے اپنا فون نکال کے کہا

💜💜💜💜💜💜💜💜💜

اُس نے روحی کو جواب دے کے دروازہ بند کر دیا اور دروازے سے لگ کر کھڑا ہو گیا دل۔میں درد ہو رہا تھا اُس کے آنسو دیکھ کر لیکن و خود کو پتھر بنے دیکھ رہا تھا

کتنی دیر لگا دی کب سے انتظار کر رہی تھی میں۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لڑکی اُسے اندر آتا دیکھ مسکراتے ہوئی بیڈ سے اٹھ کر اُس کے پاس آئی زار نے اُسے ایک نظر دیکھ کر لب بھینچے اور سنجیدگی سے کچھ سوچتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھا اُس کا نشا جیسے کمزور پر گیا تھا وہ لڑکی اُس کے قریب آئی اور اُس سے لگ کر کھڑے ہوتے ہوئے اُس کے چہرے پر انگلی پھیرنے لگی اُس کا دھیان کہیں اور ہی تھا۔۔۔نا وہ اُس کی کسی حرکت کو۔محسوس کر رہا تھا نہ دیکھ رہا تھا

So shall we start

لڑکی اپنا ہاتھ اُس کے چہرے سے گلے تک لاتے ہوئے بولی اور اُس کے شرٹ کی بٹن کھولنے لگی دو بٹن پہلے سے ہی کھلے تھے تیسرا بٹن کھول کے اُس نے چوتھے پر ہاتھ رکھا تو زار نے اُس کا ہاتھ پکڑ کے پیچھے کیا اور اُسے انگلی سے رکنے کا اشارہ کیا و لڑکی اُس کا چہرہ دیکھنے لگی زار نے اُسے پیچھے کیا اور پلٹ کر دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکل گیا

باہر اُس نے کوریڈور کے آخر تک دیکھا لیکن وہ کہیں نہیں تھی چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک گہری سانس لی اور جلدی سے نیچے کی طرف جانے لگا

💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜

اس نے نینا کا میسیج دیکھ کر موبائل لا پرواہی سے صوفے پر پھینکا اور خود بھی وہیں بیٹھ گئی زار کے رویے پر انسوں بہاتے ہوئے ساتھ ساتھ خود کو بھی کوسنے لگی زار کا اُس لڑکی سے اتنی بیباکی سے گلے لگنا اور اُسے ہاتھ لگانا سب سوچ کر ہی اُسے تھرتھراہٹ محسوس ہونے لگی اُس نے اپنا اوپری جیکٹ نکالا اور صوفے پر پھینک کر روم میں آگئی ڈراور میں نیند کی گولیاں تلاشنے لگی جو آجکل اُسے سکون دیتی تھی لیکن آج وہ بوتل بھی خالی اُسے منہ چڑا رہی تھی کے آج سکون نہیں ملے گا اُس نے بوتل زور سے دیوار پر ماری اور پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی بیڈ پر گر گئی

روحی۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے چند منٹ میں ہی زار کے پکارنے پر وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ کر دروازہ کی طرف دیکھنے لگی زار نے اندر آکر جب اُسے دیکھا تو سکون کی سانس لی اور آنکھیں بند کرکے کھولیں اگلے ہی لمحے چند قدم کا فاصلھ مٹا کر اُس کے قریب آیا اور اُسے اپنے بازؤں کے گھیرے میں لیتے ہوے سختی سے خود میں بھینچ لیا روحی نے آنکھیں بند کرکے خود کو اُسے سونپ دیا

مجھ سے ایک پل برداشت نہیں ہوتا تمہارے بنا ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کوئی نشہ کوئی حسن وہ سکون نہیں دے سکتا جو تمہاری ایک جھلک دیکھنے سے ملتا ہے مجھے اپنی سانسیں بے معنی لگتی ہے تمہاری خوشبو کے بنا

اُس کے بالوں میں اور کمر پر اضطرابی کیفیت میں ہاتھ چلاتے ہوئے اُسے خود میں سماتا رہا اس کے۔ وجود سے آتی شراب کی بدبو الگ اسے پریشان کر رہی تھی

زار۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔اُس کے اتنے شدید عمل پر روحی نے سانس بحال کرتے ہوئے اُس کا نام پکارا زار نے بالوں سے ہاتھ سامنے لاکر اُس کے گلے میں ڈالتے ہوئے اُس کا چہرہ اوپر اٹھا یا اور ہونٹوں کو فوکس کرتے ہوئے جھک کر اُنھیں اپنے لبوں میں قید کر لیا روحی نے اُس کی شرٹ کو پیچھے سے مٹھیوں میں جکڑ لیا
ایک پل کے لئے ا اسے کوئی ہوش نہیں رہا تبھی وہ اس جذبات کے سمندر میں ڈوبتی چلی گئی۔

۔زار اس کی کمر پر موجود ہاتھ کو دھیرے سے حرکت دے کر سامنے پیٹ تک لے آیا اور بنا ہٹائے اوپر لے جاتے ہوئے اس کی گردن پر رکھا اس کے اس عمل سے روحی کو اپنے جسم میں بجلی دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی اور اس نے جلدی سے آنکھیں کھولیں اور اس کے ہاتھ ہٹا کر لبوں کو آزاد کروا یا اور ایک قدم پیچھے ہوئی زار اس کی جھکی نظروں کو دیکھتے ہوئے دوبارہ اس کے قریب ہوا اور اس کی گردن پر لب رکھتے ہوئے ایک ہاتھ سے گلے میں موجود بالوں کو پیچھے کیا روحی نے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرنا چاہا

نہیں زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا مت کرو
اس کی آنکھوں میں جذبات کا مچلتا ہوا طوفان دیکھ کر وہ گھبراتی ہوئی بولی

مت روکو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور دوری برداشت نہیں کر سکتا تم سے۔۔۔۔۔۔ہر فاصلے کو ختم کردو اب۔۔۔۔۔۔دم گھٹتا ہے تمہارے بنا ۔۔۔۔۔۔۔۔

زار نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور اس کی پیشانی سے پیشانی ٹکا دی روحی نے کچھ کہنے کے لئے دوبارہ لب کھولنے چاہے تو زار نے ان پر انگلی رکھ کر اسے چپ کروا دیا

کوئی انکار نہیں ۔۔۔۔کوئی مجبوری نہیں۔۔۔۔۔بھول جاؤ سب کچھ صرف ایک بات یاد رکھو زار مرتا ہے تم پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زار نے سرگوشی میں کہتے ہوئے اس کے لبوں سے انگلی ہٹاکر وہاں اپنے ہونٹ رکھ دیے اور وہ بے بس ہو کر اس کی گرم سانسیں اپنے اندر محسوس کرتی رہی زار نے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا کر اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنی انگلیاں اس کی انگلیوں میں پھنساتے ہوئے پیچھے لے جا کر اپنی پیٹھ پر رکھا اس کے لبوں کو ریلیز کرکے ہونٹ ٹھوڈی تک لاتے ہوئے گلے سے نیچے لے جانے لگا ساتھ ہی روحی کو اپنے شولڈر سے ٹی شرٹ سرکتی ہوئی محسوس ہوئی تو اس نے جلدی سے زار کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹا یا زار نے سر اٹھا کر اس۔ کی آنکھوں میں دیکھا

۔زار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم ہوش میں نہیں ہو۔۔۔۔۔۔
اس۔ نے فورا پلٹ کر چہرہ دوسری جانب کر لیا زار نے آگے آکر اس کی پشت سے لگتے ہویے سر اس کے بالوں میں دئے انھیں ہونٹوں سے چھوتا رہا

میں کبھی ہوش میں نہیں آنا چاہتا۔۔۔۔۔۔آج ہر حد پار کردینے کی ہمت دی ہے اس بے ہوشی نے۔۔۔۔
اس کے کان ۔کے۔ قریب سرگوشی کرتے ہویے کان کی لو کو چوم کر گردن پر لب رکھے

یہ غلط ہے زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ ٹی شرٹ کے اندر سے پیٹ پر رینگتا محسوس ہوا تو تڑپ کر بولی

کچھ غلط نہیں۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اسی طرح سرگوشی میں کہتے ہوئے اس کا رخ اپنی جانب موڑا اور اسے بیڈ پر لٹا تے ہویے خود اس پر جھکا روہی اسے کھا لی کھا لی نظروں سے دیکھنے لگی جب زار اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگا کر اسے دیکھتا ہوا اس کے چہرے پر جھکنے لگا روحی نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا

نہیں زار ایسا مت کرو۔۔۔۔۔۔میں نے پاپا سے وعدہ کیا تھا
زار کی نظر اس کے ہونٹوں پر تھی اور وہ اس کی کوئی بات جیسے سننے کے بلکل موڈ میں نہیں تھا

آج تمہیں ہر وعدو توڑنا ہوگا۔۔۔۔۔۔آج تمہیں میرا سوچنا ہوگا میری محبت کا سوچنا ہوگا ہمارے رشتے کو یاد رکھو بس ۔۔۔۔

اپنا ہاتھ اس کے چہرے پر لے جا کر بکھرے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا روہی کو لگا اس کا کوئی انکار کام نہیں آئے گا شاید وہ اس بار اپنی ضد پوری کرکے ہی مانے گا اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور بس اس کے ہر لمس کو محسوس کرتی رہی لیکن بند آنکھوں کے سامنے اس کے پاپا کا چہرہ گھوم رہا تھا اور ان سے کیا ہوا وعدہ یاد آ رہا تھا وہ ا سے پیچھے کرکے جھٹ سے اٹھ بیٹھی

میں یہ نہیں کر سکتی زار۔۔۔۔۔
اب کی دفعہ کافی سختی سے بولی تھیں جیسے پکا ارادہ ہو ایک ہی پل میں زار کے چہرے پر غصہ نظر آنے لگا تھا اس کی اتنی بے حسی پر اس کا دل بھرنے لگا تھا اس نے روحی کے گلے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب کھینچا

تمہیں کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم پر حق رکھتا ہوں میں ۔۔۔۔۔میرے ساتھ یہ کیوں کرتی ہو تم ہمیشہ ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے ادھورا کیوں چھوڑ دیتی ہو ہر بار۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں ہر بار اپنی مرضی چلا کر آخر میں مجھے خود سے دور کر دیتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔جواب دو
زار اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غصے اور خفگی سے بولا روہی اس کے جذبات کا کبھی خیال نہیں کرتی تھیں اور یہ بات اسے اندر ہی اندر جلا دیتی تھی

مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی اتنی سخت گرفت پر سسکتے ہوئے بولی

مجھے بھی درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سانس لینا مشکل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔نا جی پا رہا ہوں نہ مر سکتا ہوں۔۔۔۔۔مجھے بتاؤ میں کیا کروں

اس نے روہی کے گلے سے ہاتھ ہٹا کر اس کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کھینچتے ہوئے خود سے لگایا

تم میری زندگی میں آئی ۔۔۔۔۔۔۔مجھے اپنے پیار کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا۔۔۔۔۔۔۔میرے پیار کو جنون میں بدل دیا اور ایک دِن خود فیصلہ سنا کر خود سے دور کر دیا۔۔۔۔۔۔تم نے غلط فیصلہ لیا تم میرے ساتھ غلط کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ بہت غصے سے بولا تھا روحی کو اس سے خوف آیا اور وہ گھبرا کر اسے دیکھنے لگی لیکن جب زار کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر اس کے ہاتھ پر گرا تب اس کی گھبراہٹ حیرت میں بدل گئی اور حیرت دکھ میں

اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بہت دھیرے اور رکتے رکتے پوچھا زار اسے دیکھنے لگا اور پھر دیکھتا گیا کتنی دیر تک دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے

میرے ساتھ زبردستی کر سکتے ہو ۔۔۔۔مجھے مجبور بھی کرسکتے ہو ۔۔۔۔۔۔لیکن میرا دل راضی نہیں ہے تو کیا مجھے زندگی بھر خود پر شرمندہ ہوتے دیکھ پاؤگے
ذار کے پاس اس کی بات کا شاید کوئی جواب نہیں تھا وہ چپ تھا اور ر وہی نے دوبارہ وہی بات کی جو و پہلے بھی کہہ چکی تھی زار نے اس سے نظر ہٹا کر نیچے دیکھا اور وہاں سے اٹھ کر بیڈ سے اتر گیا

ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔جا رہا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔
بنا اس کی جانب دیکھے بولا اور اپنی شرٹ کے کھلے بٹن بند کرکے چہرے پر ہاتھ پھیرا روحی اتر کر اس کے پاس آی زار نے اس کی جانب دیکھا

اور پھر کبھی تمہارے سامنے نہیں آؤنگا۔۔۔۔۔۔تم سے شکایت کرنے بھی نہیں اور تمہارا حال جاننے بھی نہیں۔۔۔۔۔زندگی میں کبھی اپنی شکل نہیں دکھاؤ گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔
بہت اطمینان سے کہتے ہوئے اس نے روہی کو اندر تک بے چین کر دیا

تم ساری زندگی اپنا وعدہ نبھاتی رہنا۔۔۔۔اور میں تم سے محبت کرنے کی سزا بھگتوں گا
چند پل خاموش رہنے کے بعد آنکھوں میں خفگی لئے اسے دیکھتے ہوئے دھیرے سے بولا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا لیکن باہر نکلنے سے پہلے اسے پلٹ کر دیکھا

مجھے مرتے دم تک افسوس رہیگا کے میں نے اپنی محبت۔۔۔۔تم پر ضایع کردی

اس کے الفاظ تیر کی طرح روحی کے سینے میں چبھے اور اس کا۔ دل دهڈکنا بھال گیا اور جب وہ گیا تو لگا روحی کی سانسیں بھی تھم گیی ہے کچھ ہی منٹ بعد وہ ہوش کھو کر زمین پر گری لیکن تب تک زار اس سے دور جا چکا تھا

💜💜💜💜💜💜💜

کل نہیں لکھ پائی کیونکہ مصروف تھی۔۔۔۔۔۔ لیکن آج کی ایپی لانگ ہے۔۔۔۔۔۔اس لیے کوئی شکایت نہ کرے بلکہ ایپی کیسی لگی یہ بتائیں۔۔۔۔۔

اور اب ہم کلائمکس پر آچکے ہیں چند قسطیں بچی ہے آپ لوگ اندازہ لگائے کے آگے کیا ہوگا۔۔۔۔روحی اور زار مل پائے گے یہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔روحی کی حالت کا اُس کے پاپا پر اثر ہوگا یہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور ہاں

شیرا ابھی زندہ ہے کیا لگتا ہے کیا انجام ہوگا کہانی کا ۔۔۔۔۔۔۔