Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

کیا۔۔۔۔
فون پر شیرا کے فرار ہونے کی خبر سن کر وہ اپنی کرسی سے اٹھا اُسے شدید جھٹکا لگا کیوں کے شیرا کو اُس نے اپنی ذمےداری پر خاص نگرانی میں رکھا تھا

کیسے بھاگ گیا وہ۔۔۔۔۔اور تم لوگ کیا جھک مار رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے زور سے کہنے کے ساتھ ہی ٹیبل پر ہاتھ مارا دوسری جانب سے کوئی صفائی دے رہا تھا

سب سمجھ رہا ہوں میں۔۔۔۔۔۔کے اتنی سخت پابندی میں رکھنے کے بعد بھی وہ کیسے بھاگ گیا۔۔۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔۔۔ایک ایک کی انویسٹیگیشن کروں گا جس نے بھی یہ کیا وہ بچے گا نہیں مجھ سے

بارہ گھنٹے کا وقت دے رہا ہوں ڈھونڈھو اُسے۔۔۔۔۔۔ورنہ تم سب کی خیر نہیں

اُس نے غصے سے دھمکی دیتے ہوئے فون بند کر دیا اُسے یقین تھا اُس کام میں کوئی اندر کے ہی شخص نے اُس کی مدد کی ہے لیکن اس وقت اُس کا شیرا کو ڈھونڈھنا زیادہ ضروری تھا اُس سے پہلے کے وہ دیش سے باہر جاتا
💜💜💜💜💜💜💜💜

۔۔۔۔۔۔تمہارے اس ملک سے باہر نکلنے کا سارا انتظام کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی ایک ویرانے میں رکی تھی اور شیرا کے ساتھ موجود اُس کا ساتھی اُس سے سرگوشی میں بات کر رہا تھا اُسے باہر نکلنے میں مدد کرنے والا

نہیں میں یھاں سے نہیں جاؤنگا جب تک اُس اے سی پی کو ختم نہیں کر دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔اس ملک سے باہر نہیں جا سکتا میں
شیرا نے اُس کی بات کاٹ کر کہا

پاگل مت بنو شیرا پولیس تمہیں ہر جگہ ڈھونڈھ رہی ہے۔۔۔۔اپنا بدلہ تم بعد میں بھی لے سکتے ہو۔۔۔ابھی اپنی جان بچانے کی سوچو۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس شخص نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا

میری جان سے زیادہ اُس آدمی کی موت معنی رکھتی ہے میرے لیے دو سال سے میں ایک پل بھی سکون کی نیند نہیں سو پایا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔اب تو سکون اُس کے خون سے نہا کر ہی ملے گا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم جا کر اُس تک یہ خبر پہنچاؤ کے میں کہاں چھپا ہوں۔۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہے مجھے ڈھونڈنے کے لیے وہ جہنم تک پہنچ جائے گا۔۔۔۔۔۔
شیرا نے دانت پیستے ہوئے آخری بات مکمل کی اُسے اپنی آزادی سے زیادہ اب اپنا بدلہ لینا تھا

ایک بار پھر سے سوچ لو۔۔۔۔۔خطرے کو دعوت دے رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی مشکل سے آزادی ملی ہے کہیں دوبارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔۔۔۔۔اور اپنے آدمیوں کو تیار رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔اُس کی موت اتنی درد ناک ہونی چاہیے کے اُس کی چینخ سن کر زمین بھی کانپ جائے
شیرا نے اُسے ٹوکتے ہوئے کہا اُس شخص نے فون اٹھا کے کان سے لگا لیا

کہا تھا میں نے تیری موت میرے ہاتھوں ہی ہوگی۔۔۔۔۔میرے بھائی کو میری آنکھوں کے سامنے مار دیا تونے ۔۔۔۔۔۔۔اب تو شیرا کا انتقام دیکھے گا اے سی پی
شیرا سامنے دیکھتے ہوئے زار سے مخاطب تھا اُسے زار کو مارنے کا ویسا ہی جنون تھا جیسا زار کی آنکھوں میں اُس کے بھائی کی جان لیتے وقت تھا
💜💜💜💜💜💜💜

روحی چلو نا ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم اکیلی یہاں رہ کر کیا کروگی
نینا نے ایک اور بار کوشش کی اُسے منانے کی شام ہو گئی تھی اور اُن لوگو نے باہر جانے کی تیاری کی تھی چاروں جانے سے پہلے ایک دفعہ پھر اُس کے پاس آئیں تھیں

نہیں نینا میرا دل نہیں کر رہا تم لوگ جاؤ انجواۓ کرو
وہ مسکراتے ہوئے بولی
مجھ پتہ ہے تم اس ڈر سے نہیں آرہی ہو نہ کے کہیں زار وہاں نا مل جائے ۔۔۔۔۔۔یار نہیں ہوگا ایسا وہ نہیں آئیگا ہم بہت دور ہے اُس کے ایریا سے

ایسی بات نہیں ہے نیہا۔۔۔۔۔بس میں کچھ دیر اکیلی رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔

ٹھیک ہے ہم تمہیں فورس نہیں کرینگے ۔۔۔ٹیک کیئر
نیہا نے ہار مانتے ہوئے کہا

کچھ بھی ضرورت ہو تو کال کر لینا ہم تھوڑی دیر میں واپس آجائے گے
مشی نے اُسے گلے لگاتے ہوئے کہا اُس نے سر اثبات میں ہلا دیا اُن کے باہر جاتے ہیں اُس نے اپنا فون پیر کے نیچے سے نکال لیا جس کے شروع ہوتے ہی زار کی تصویر جگمگا رہی تھی اُس وقت کی جب اُن کا نکاح ہوا تھا

💜💜💜💜💜💜💜💜
ایک پرانی سے کھنڈر نما عمارت تھی جہاں اس وقت وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ کھڑا تھا

ہو سکتا ہے وہ اندر ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔تم لوگ ہوشیار رہنا۔۔۔۔۔۔سنبھل کے۔۔۔۔۔۔
اُس نے سب کو تاکید کی اور اندر جانے کہا اشارہ کیا وہ لوگ الگ الگ راستوں سے اندر کی جانب بڑھنے لگے زار نے اپنی گن نکال کر لوڈ کی اور اندر کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کے اندھیرے میں ایک سائے کو بھاگتا دیکھ اُس کے قدم رک گئے

اے۔۔۔ركو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اندر جانے کی بجائے اُس کے پیچھے بھاگا وہ شخص اُس سے کافی دوری پر تھا اس لیے زار کے لیے اندازہ لگانا مشکل تھا کے وہ شیرا ہے یا کوئی اور وہ اُس کا پیچھا کرتے ہوئے کافی دور تک بھاگتا رہا سامنے والے کی رفتار بھی کافی تیز تھی لیکن جب اُس کی رفتار کم ہوئی اور دونوں کے درمیان کا فاصلھ کم ہوا زار نے رک کر اُسے بندوق کے نشانے پر لیا

رک جاؤ ورنہ گولی چلا دونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شخص اچانک رک گیا زار بندوق اُس کی طرف کیا اُس کے قریب بڑھتا رہا وہ شخص پیچھے مڑا لیکن وہ شیرا نہیں تھا زار اُسے پہچاننے کی کوشش کرتا اس کے پہلے آس پاس سے نکل کر شیرا کے سارے ساتھیوں نے اُسے گھیر لیا اور آخر میں شیرا بھی باہر نکل کر اُس کے سامنے آیا

آئیے آئیے۔۔۔۔اے سی پی صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت دعائیں مانگی آپ سے ملاقات کے لیے۔۔۔۔۔آخر آج آپ کے دیدار ہو ہی گئے
شیرا کمینگی سے مسکراتے ہوئے بولا زار کی سانسیں اب تک تیز چل رہی تھی اُس نے بندوق والا ہاتھ نیچے کیا اور اطمینان سے اُسے دیکھنے لگا

اپنی شامت سے اتنی محبت۔۔۔۔۔مرنے کی بہت جلدی ہے تجھے شاید۔۔۔۔ ہاں بھائی کی یاد آرہی ہوگی۔۔۔۔۔کہے تو پہنچا دوں اُس کے پاس
زار نے اُسی کے انداز میں کہا شیرا کی مسکراہٹ غصے میں بدل گئی

میں نہیں تو جائے گا وہاں ۔۔۔۔۔۔۔یاد ہے نہ تیری موت کی لکیر میرے ہاتھ میں ہے تیار ہو جا مرنے کے لیے
۔شیرا نے اپنی بندوق نکال کر اُس کے سر کے نشانے پر رکھ دی زار نے بھی اگلے ہی لمحے اپنا ہاتھ اٹھا کر گن اُس کی طرف کر دی

یوں سمجھ تیار ہوں۔۔۔۔مگر اس زمین سے ایک گندے وجود کو ختم کرکے ہی جاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔مجھے اپنی پرواہ نہیں پر تو بھی نہیں بچے گا۔۔۔۔ اور تجھے مارے بنا میں نہیں مرونگا

زار نے شعلہ بار نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا وہ جانتا تھا کے اگر اُس نے شیرا پر گولی چلائی تو اُس کے ساتھی اگلے ہی لمحے حملہ کر دینگے لیکن وہ اس انجام کی بجائے یہ سوچ رہا تھا کے اُسے کسی بھی صورت بس شیرا کی جان لینی ہے اُسے نہیں چھوڑنا کسی بھی صورت۔۔۔۔ اُس کے گولی چلانے کے پہلے ہی کسی نے پیچھے سے اُس پر حمله کر دیا تھا اور وہ اس اچانک وار پر زمین پے منہ کے بل گرا تھا اور گن چھوٹ کر دور جا گری تھی

شیرا زور زور سے ہنسنے لگا تھا۔۔۔۔۔زار کے اٹھتے ہی اُس کے آدمی بنا اُسے موقع دیے اُس پر وار کرنے لگے تھے وہ خود کو بچانے کی کوشش کرتا رہا اُن سے لڑتا رہا لیکن اُس کے لیے اتنے لوگوں سے سامنا کرنا وہ بھی بنا کسی ہتھیار کے بہت مشکل تھا اپنی ہمت قائم رکھے اُس نے ایک کے بعد ایک کئیوں کو مات دے کر زمین پر گرا دیا تھا کے وہ دوبارہ اٹھنے بھی نا پائے اُنھیں میں سے کسی کی زمین پر پڑی لوہے کی راڈ اٹھا کر اُس نے اپنی طرف بڑھنے والوں کو پوری طاقت سے مارنا شروع کیا تھا اُسے اپنے لوگو پر بھاری پڑتا دیکھ شیرا کی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی کچھ آدمی تو بلکل بےجان ہو کر زمین پر پڑے تھے اور کچھ اب بھی اُس سے مقابلہ کر رہے تھے اور شاید وہ اُنھیں بھی اسی حال میں پہنچا دیتا اگر اچانک ایک شخص اُس کے اوپر چاقو سے وار نا کرتا چاقو آدھا اُس کے پیٹ میں جا چکا تھا زار کے ہاتھ سے راڈ چھوٹ کر زمین پر گری تھی اور اُس کی آسمانی رنگ کی شرٹ سرخ ہونا شروع ہوئی تھی اُس کے چہرے پر درد سے زیادہ غصے کے آثار تھے۔۔۔۔۔اور شیرا کی مسکراہٹ لوٹ آئی تھی اُسے تکلیف میں دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔اُس شخص نے چاقو نکال کر دوبارہ وہی عمل دوہرایا تھا لیکن اب کی دفعہ دوسری جگہ ۔۔۔۔۔۔۔شیرا نے اُسے گرنے سے پہلے روک دیا تھا اُس کی کالر پکڑ کر۔۔۔۔۔

تجھے کیا لگا اتنی آسانی مار دونگا تجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی تڑپ تو دیکھنا چاہتا تھا تیری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زار کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نفرت سے بولا تھا زار نے اچانک پوری طاقت سے پیر اٹھا کر اُس کے پیروں کے درمیان مارا تھا وہ چینخ کر دو قدم پیچھے ہو کر تیلملاتے ہوئے زمین پر گرا تھا اور سارے آدمی گھبرا کر اُس کی طرف بڑھے تھے زار لڑکھڑاتے قدموں سے پیچھے پلٹ کر جلدی جلدی چلنے کی کوشش میں آگے بڑھا تھا اُسے یہاں سے نکل جانا صحیح لگا کیوں کے اب وہ اُن کا سامنا نہیں کا سکتا تھا

پکڑو اُسے۔۔۔
شیرا نے اُسے جاتے دیکھ دہاڑ کر کہتے ہوئے زمین سے اٹھا زار گلی کے موڑ پر پلٹ کر آگے بڑھتے ہوئے ایک گاڑی کے پیچھے ہو کر زمین پر بیٹھ گیا تھا اُس کے زخم سے خون بہت تیزی سے بہہ رہا تھا اور اُس کا دماغ سن ہونے لگا تھا

کہاں گیا وہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ اُس کی جانب بڑھے تھے لیکن اُسے دیکھ نہیں پائے شیرا نے غصے سے کہا

ڈھونڈھو اُسے ۔۔۔ڈھونڈھو۔۔۔۔۔۔یہی ہوگا وہ۔۔۔۔۔یہاں سے جانا نہیں چاہیے۔۔۔۔۔ ۔بچنا نہیں چاہیے آج۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خود بھی آگے پیچھے ہو کر اُسے ڈھونڈھ رہا تھا اُس کے آدمی گلی کے آخر تک پھیل کر ایک ایک جگہ تلاش کر رہے تھے ایک آدمی نے خون کے نشانات کو غور سے دیکھتے ہوئے اُن کی جانب جانے لگا اندھیرا بہت تھا اس لیے نشان صاف نہیں تھے لیکن اُس نے دیکھا وہ گاڑی کی طرف جا رہے تھے زار نے محسوس کر لیا کے کوئی اُس کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن وہ اٹھ نہیں سکتا تھا ورنہ شیرا اُسے دیکھ لیتا اُس نے بس خود کو تیار رکھا پاس پڑا پتھر اٹھایا اور اُس شخص کے وہاں آتے گی اُسے زمین پر کھینچ کے گرا دیا اور پتھر سے اُس کے سر پر و ار کیا اُس اچانک حملے پر وہ کچھ نہیں کر پایا اور بے ہوش ہو کر زمین پر پڑ گیا

کہاں چھپا ہے اے سی پی۔۔۔۔۔۔۔۔باہر نکل ۔۔۔۔۔۔تو اپنی موت سے بھاگ نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔تیرا مرنا طے ہے

شیرا غصے سے چلا رہا تھا اور اُس کے آدمی زار کو ڈھونڈھ کر تھک چکے

باس لگتا ہے وہ نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے آدمی نے کہا تو شیرا نے اُس کا گلا پکڑ لیا

کہیں نہیں جا سکتا وہ ۔۔۔۔۔۔یہیں ہوگا ڈھونڈھو اُسے۔۔۔۔
وہ غصے سے چلایا پولیس کے سائرن کی آواز کہیں دور سے سنائی دے رہی تھی

پولیس ۔۔۔۔۔۔۔باس ہمیں نکلنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ا اُسی آدمی نے کہا شیرا واپس اپنی گاڑی کی طرف بڑھا لیکن جاتے جاتے رک گیا

اُسے ڈھونڈھو۔۔۔۔وہ یہیں کہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے بچ نہیں سکتا وہ آج ۔۔۔۔۔مجھے کسی بھی قیمت پر اُسے دیکھنا ہے زندہ یا مردہ
وہ اپنے آدمیوں کو جتاتا ہوا چلا گیا اور اُس کے آدمی بھی وہاں سے چلے گئے زار نے اپنی جگہ سے اٹھ کر دیکھا گلی میں کوئی نہیں تھا وہ باہر نکلا اور اُس گلی کے باہر نکلنے لگا اُس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے اور آنکھیں بند ہو رہی تھی لیکن وہ جانتا تھا کے شیرا کے آدمی یہیں ہونگے اور اُسے تلاش کرتے رہے گے وہ وہاں سے نکلنا چاہتا تھا دیوار اور رستے میں آتی کسی بھی چیز کا سہارا لیتے ہوئے وہ آگے بڑھا اُس ویرانے میں نظر آتے چند گھروں میں سے اُس گھر کی جانب جہاں لائٹ جل رہی تھی

💜💜💜💜💜