Rate this Novel
Episode 33
جب مشی نے باہر آکر اُن تینوں کے سامنے عزیز صاحب کے کہے گئے الفاظ دہرائے تو سنسان کوریڈور میں نیہا اور زمل کی چینخ گونجی جب کے نینا سن ہو کر کھڑی تھی
یہ کیا کر رہی ہے آپ لوگ ۔۔۔۔۔۔یہ ہاسپٹل ہے۔۔۔۔۔یہاں شور کرنا منع ہے۔۔۔۔۔۔۔
نرس دوڑتی ہوئی اُن کے پاس آئی اور غصے سے بولی
معاف کیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔
مشی نے شرمندگی سے کہا تو وہ اُن چاروں کو گھورتی آگے بڑھ گئی
نینا کیا ہوا
مشی نے نینا کو ہلاتے ہوئے ہوش میں لا کر پوچھا
ابھی ابھی تم نے جو کہا وہ سچ تھا یا مذاق
نینا نے بھوویں اٹھائے اُسے دیکھا
سچ تھا یار میں نے خود سنا ہے انکل نے کہا کہ وہ روحی کی خوشی میں خوش ہے۔اور اُن دونوں کا رشتہ ایکسیپٹ کرنا چاہتے ہیں
مشی نے خوش ہوتے ہوئے اپنی بات دہرائی اور ان کی دفعہ پہلے سے زیادہ خوفناک چینخ کوریڈور میں گونجی مشی نے اُس کا منہ دبانا چاہا لیکن دیر ہو چکی تھی اور نرس بھڑک کر اُن کی طرف آئی
آپ لوگ باہر نکل جائے پلیز
سوری ہم اکسائٹمنٹ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی ایکسایٹمنٹ کے چکر میں مریضوں کی تکلیف بڑھ جائے گی۔۔۔۔
نرس ہاتھ سے اُنھیں باہر دھکیلتی ہوئی بولی
ٹھیک ہے ہم جا رہے ہے
وہ لوگ وہاں سے سیدھے روحی کے پاس پہنچی
روحی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نینا بھاگ کر اُس سے لگ گئی وہ ہڑبڑا کے اُسے دیکھنے لگی
آرام سے آرام سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماروگی کیا مجھے
تم نے زار کو فون کیا۔۔۔۔۔۔بتایا اُسے
نینا نے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو سوچ کیا رہی ہو فون کرو نا اُسے۔۔۔۔
نینا نے جلدی سے فون اٹھا کے اُس کے ہاتھ میں دیا اُس نے نمبر ڈائل کر کے فون کان سے لگایا رنگ جاتی رہی لیکن فون اٹھایا نہیں گیا
فون اٹھا نہیں رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے فون مان سے ہٹاتے ہوئے کہا
غصّہ ہو کر گیا تھا مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاید اسلئے
میں ٹرائی کرتی ہوں
نینا نے اپنا فون نکالتے ہوئے کہا اور اُس کے نمبر پر فون ملایا دو رنگ کے بعد زار نے فون اٹھا لیا
ہیلو میں نینا بول رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے پوچھنے سے پہلے ہی وہ جلدی سے بولی زار نے آنکھیں گھمائی اُس نے نیا نمبر دیکھ کے فون اٹھا لیا تھا
دیکھیے مجھے آپ میں سے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔۔آئندہ فون مت کیجئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے غصے سے کہا اور فون بند کر دیا
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نینا کی بات منہ میں ہی رہ گئی اور وہ فون کو حیرت سے دیکھنے لگی
اُس نے تو بات بھی نہیں سنی فون بند کر دیا
بہت غصے میں ہے ۔۔۔۔۔۔
اُس نے کہا تھا آئندہ کبھی میرے سامنے بھی نہیں آئیگا۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں اب کیا ہوگا
روحی اُس کے غصے کا سوچ کر پریشان ہوتی ہوئی بولی
۔۔۔۔تم نے اتنا ستایا ہے نہ اُسے تو اب منانا بھی پڑیگا۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑے نخرے تو تمہیں بھی اٹھانے ہوگے ۔۔۔۔۔۔۔
نینا آخر میں مسکراتی ہوئی بولی
💜💜💜💜💜💜💜
شاید کسی نے غلط خبر دی تھی یہاں تو کوئی نہیں ہے
ایک فون کال پر کسی نے رپورٹ کی تھی کے دو لوگوں کا بہت بڑا جھگڑا ہوگیا ہے
وہ اپنے ایک سب انسپکٹر کے ساتھ اُس جگہ پہنچا تھا وہ ایک پرانی فیکٹری تھی جو شائد کافی وقت سے بند تھی وہاں کسی کو نہ پا کر اپنے ساتھ موجود انسپکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اُس نے سر ہلا دیا دونوں باہر جانے کے لیے پلٹ گئے لیکن دروازے تک ہی پہنچے تھے کے پیچھے سے کسی نے اُس کے سر پر کسی بھاری چیز سے وار کیا تھا اُس کے منہ سے ایک آہ نکلی اور اُس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا وار اتنا شدید تھا کے اُس کے حواس گم ہونے لگے اور سامنے کا منظر دھندلانے لگا پھر بھی اُس نے پیچھے پلٹ کر مارنے والے کو دیکھا اُس کے ساتھ موجود انسپکٹر کے ہاتھ میں لوہے کی راڈ تھی زار نے غصے سے دانت پیستے ہوئے اُس کا کالر پکڑ کر کھینچا الٹے ہاتھ سے اُس کے منہ پر وار کیا وہ دور جا گرا وہ ڈر گیا کے اب تو خیر نہیں لیکن زار کا دماغ سن ہونے لگا تھا اور چند پلوں کے بعد وہ بےہوش ہو کر زمین پر گر پڑا اُس انسپکٹر نے سکون کی سانس لے کر اُسے دیکھا اور جلدی سے اٹھ کر فون کان سے لگایا
شیرا تمہارا کام ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے فون پر شیرا کو خبر دی تھوڑی دیر میں ہی شیرا وہاں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پہنچ گیا
شاباش۔۔۔۔۔۔شیرا کو خوش کر دیا تم نے۔۔۔۔۔اس کا انعام ملے گا تمہیں
شیرا زار کو بیہوشی کے حالت میں دیکھتے ہوئے خوش ہو کر بولا
بس اب اسے زندہ مت چھوڑنا ۔۔۔۔۔۔اگر یہ بچ گیا تو میری موت طے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نکلتا ہوں یہاں سے۔۔۔۔۔۔
انسپکٹر خوفزدہ ہو کر بولا اور تیزی سے وہاں سے نکل گیا شیرا زمین بیٹھتے ہوئے زار کو دیکھنے لگا اُس کے چہرے کو ہاتھ میں دبوچے اپنی طرف کیا
پتہ ہے تو اُس دِن کیوں نہیں مرا۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کے وہ موت تیرے لیے آسان ہو جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔تجھے تڑپا تڑپا کر مارنے کا میرا ارمان ادھورا رہ جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بھول ہی گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔کے تو موت کا خوف رکھنے والوں میں سے نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تیری کمزوری تو کچھ اور ہے
وہ خباثت سے مسکرایا اور جھٹکے سے اُس کا چہرہ چھوڑ کے اٹھ گیا زار کا موبائل بج رہا تھا اُس نے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا تو اُس نے جیب سے موبائل نکال کر شیرا کی جانب بڑھایا سکرین پر روحی کا نام چمکتا دیکھ اُس کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی
💜💜💜💜💜💜💜💜
روحی نے زار کا فون ملایا لیکن رنگ بج رہی تھی وہ اٹھا نہیں رہا تھا دو دن سے یہی ہو رہا تھا وہ اب پریشان ہو گئی تھی آج اُن لوگو نے واپس ممبئی جانا تھا اُس نے اُداسی سے فون کو دیکھا اور بیڈ پر رکھ دیا لیکن اگلے ہی سیکنڈ فون بجا تو فوراً اٹھا کر کان سے لگا لیا
ہیلو زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں تھے تم ۔۔۔۔فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے فون اٹھاتے ہی جلدی سے کہا بنا یہ جانے کے دوسری طرف زار نہیں کوئی اور ہے
افف یہ عاشقی۔۔۔کاش کوئی ہم سے بھی اتنی محبت کرے
شیرا حسرت بھری لہجے میں بولا تھا وہ اپنے دماغ پر زور دے کے اُس آواز کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی
ک ک۔ک۔ون بول رہا ہے۔۔۔۔۔۔
میں وہ ہوں جس کے ہاتھوں تمہارے یار کا مرنا لکھا ہے۔۔۔بچانا چاہتی ہو اُسے۔۔۔۔
شیرا نے ہنستے ہوئے کہا جب کے اب وہ سمجھ گئی تھی کے یہ وہی ہے جس نے اُسے کڑنیپ کیا تھا زار کی جان کا دشمن
زار کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے زار سے بات کرنی ہے
وہ گھبرا کے بولی
اس وقت وہ تم سے بات کرنے کی حالت میں نہیں ہے ۔۔۔۔
۔ڈرو مت صرف بےہوش ہے مرا نہیں۔۔۔۔۔اور اگر تم چاہتی ہو کے وہ زندہ رہے تو فوراً میرے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچ جانا ورنہ آخری دیدار بھی نصیب نہیں ہوگا تمہیں اُس کا
شیرا نے فون بند کر دیا اور وہ بے یقینی سے دیوار کو دیکھتی رہی اُسے لگا یہ حقیقت نہیں محض ایک خیال ہے لیکن جب موبائل کی میسیج ٹیون بجی تو اُس نے کانپتے ہاتھوں سے مسیج کھولا۔۔۔۔۔۔
زار۔۔۔۔۔۔۔۔
زار کی تصویر تھی اورساتھ ایک ایڈریس اُس نے اپنے کرتے کے گلے کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔زار کے ہاتھ پیچھے باندھ رکھے تھے اور کرسی پر اُسے رسی سے باندھا ہوا تھا اُس کی آنکھیں بند تھی۔۔۔۔ خون کی ایک لکیر گردن سے نیچے تک آکر اُس کے شرٹ کو رنگین کر رہی تھی اُس نے ایک جھٹکے سے اپنے پیروں پر پڑا کمبل پھینکا اور بیڈ سے اُتر کر باہر نکلی
💜💜💜💜💜💜
اُس کے منہ پر پانی پھینکا گیا تو اُس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول نے کی کوشش کی جب ہوش سنبھلے تو شیرا کو دیکھا جو اُس کے سامنے کرسی لگا کے بیٹھا کمینگی سے مسکرا رہا تھا اُس نے غصے مٹھیاں بھینچ کر اپنے ہاتھ آزاد کرنے کی کوشش کی
سلام اے سی پی صاحب۔۔۔۔۔۔سنا ہے آجکل آپ بہت زورو شور سے ہماری تلاش میں لگے ہے ۔۔۔۔۔۔ہمیں آپ کو اتنی تکلیف میں دیکھ کر اچھا نہیں لگا اس لیے سوچا کیوں نہ ہم خود ہی آپ سے مل لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخر آپکو آپکے انجام تک بھی تو پہنچانا ہے
شیرا اُسے شان سے بیٹھا بولا
تو نہیں بچے گا اب۔۔۔۔۔۔غلطی کر دی تونے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار نے رک کر کہا اُس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی
غلطی تو تو نے کی تھی میرے بھائی کو مار کر۔۔۔۔۔۔ اب جا کے تو اس شیر کے پنجے میں آیا ہے دیکھ آج کیا حشر کرتا ہوں تیرا ۔۔۔۔۔۔۔میں نے پہلے تجھے مارنے کی سوچ کر غلطی کی تھی تجھے تو تڑپانا ہے جیسے میں تڑپا ہوں اپنے بھائی کی موت پر۔۔۔۔۔آج تیری باری ہے
زار دھیرے سے ہنسا
پہلے تو تونے مجھ پر دھوکے سے وار کیا۔۔۔۔۔ پھر میرے ہاتھ باندھ کر میرے سامنے اپنی بہادری جھاڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کمال کا شیر ہے تو
اگر ہمت ہے تو ایک بار مجھے کھول دے اُس کے بعد بات کرتے ہیں۔۔۔۔پتہ چل جائیگا کے کون شیر ہے اور کون گیدڑ۔۔۔۔۔۔۔
دل تو میرا بھی بہت ہے کے اپنے ان ہاتھوں سے تیرے جسم کو زخموں سے بھر دوں لیکن اس سے تجھے زیادہ فرق نہیں پڑےگا۔۔۔بہت سخت چیز ہے تو۔۔۔۔۔اس لیے اس بار تیرے دل پر وار کریگا شیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس لڑکی کی وجہ سے تونے میرے بھائی کو مارا تھا نہ اب اُسی لڑکی کو تیری آنکھوں کے سامنے بے عزت کروں گا میں۔۔۔۔۔۔
شیرا کی الفاظ پر زار کی آنکھوں کی طرح اُس کا چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا اُس کا دل کیا شیرا کو زندہ گاڑ دےمگر اُس کے ہاتھ بندھے تھے
کیا کہا تھا تونے۔۔۔۔۔۔۔وہ میری جان ہے۔۔۔۔۔۔تو اب دیکھ کیسے میں تیری جان کی جان نکالتا ہوں۔۔۔۔۔
شیرا اپنی جگہ سے اٹھ گیا تھا اور زار نے اپنے ہاتھ کو جھٹکا دے کر آزاد ہونے کی کوشش کی
💜💜💜💜💜💜💜
