Rate this Novel
Episode 21
سورج کی کرنیں اُس کے چہرے پر پڑنے لگی تو اُس نے آنکھیں کھول کردیکھا سامنے زار کو اُسے طرح بیٹھے خود کو تکتے پایا جیسے رات کو تھا جب وہ بات کرتے کرتے سو گئی تھی
یہ کیا سوئی جب بھی تم مجھے اسی طرح دیکھ رہے تھے اور اب آنکھیں کھلی تب بھی ایسے ہی بیٹھے ہو سوئے نہیں تم ساری رات
روحی مسکراتی ہوئی بولی وہ ایک پیر آگے کیے اور دوسرا سیٹ سے نیچے لٹکائے بیٹھا اُسے دیکھ رہا تھا
تم سامنے ہو اور آنکھیں بند کرنے کا دل کرے۔۔۔۔۔۔ہو ہی نہیں سکتا
ہاں کیوں کے تم دیوانے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی دھیرے سے ہنسی تھی اُس کے انداز پر
ایسا ہی سمجھ لو۔۔۔۔۔۔دیوانہ ہی ہوں میں۔۔۔تمہاری آنکھوں کا۔۔۔۔۔تمہاری خوشبو کا۔۔۔۔تمہارے ہونٹوں کا
وہ سیدھا ہو کر اُس کے قریب ہوا تھا
بس۔۔۔۔۔۔۔۔مت بھولو اس وقت ہم سڑک پر کھڑے ہے اور لوگ آتے جاتے ہمیں دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے دور سے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسے روکا
ویسے ہمارا رومانس بھی اتنا ایڈونچرز رہا ہے اب تک کے عادت سی پڑ گئی ہے۔۔۔۔۔کیا جنگل۔۔۔۔۔کیا میدان۔۔۔۔۔کیا سڑک ۔۔۔۔۔۔کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔۔۔۔۔۔
زار نے پیچھے ہو کر ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنس دی
زار کی باتیں اُس کے ذہن میں کسی فلم کی طرح چل رہی تھی
کل سے مسلسل زار کی کالز آرہی تھی لیکن اس نے ایک دفعہ بھی اس سے بات نہیں کی ۔۔۔۔بلکہ اپنا فون بند کر دیا۔۔۔۔۔دروازے پر دستک ہوئی تو اپنے بکھرے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئی چہرہ دونوں ہاتھوں سے صاف کیے وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی عزیز صاحب اندر آکر اس کے پاس بیٹھ گئے
ہم جانتے ہیں آپ اُداس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ بھی جانتے ہیں کے بہت جلد آپ یہ سب بھول کر ایک نئی شروعات کریں گی
روحی اُسے طرح بیٹھی رہی سامنے چہرہ کیے
ہم چاہتے ہیں آپ ایک بار ابرار سے نکاح کے بارے میں سوچیں
وہ کچھ پل رک کر بولے روحی نے اُنھیں حیرت اور بے یقینی سے دیکھا کوئی اتنا بھی بے حس کیسے ہو سکتا ہے
آگے بڑھیں گی تو پچھلا سب خود بخود بے معنی لگنے لگے گا ۔۔۔۔۔۔اگر آپ کو ابرار نہیں پسند تو آپ ہمیں بتا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی نظروں کو پڑھتے ہوئے بولے
اگر آپ نہیں جانتے تو میں آپ کو بتا دوں پاپا کے میرا نکاح زار سے ہو چکا ہے اس لیے آئندہ اس طرح کی باتیں نہ کریں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے
وہ کوئی نکاح نہیں تھا بس ایک فریب تھا اس لڑکے نے اپنی باتوں سے بہکا کر بس ایک کھیل کھیلا تھا آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ہم نہیں مانتے اس نکاح کو
وہ اُس کی بات ختم ہوتے ہی بولی تھے اور اب اُنھیں غصّہ آنے لگا تھا
اس نے میرے گلے پر تلوار رکھ کر مجھ سے اجازت نہیں مانگی تھی ۔۔۔میں نے اپنی مرضی اپنی خوشی سے یہ نکاح کیا ہے اور بھلے ساری دنیا نا مانے میں اس نکاح کو مانتی ہوں۔۔۔۔اس رشتے کو مانتی ہوں۔۔۔۔۔۔اور مرتے دم تک اس بات پر قائم رہو ں گی۔۔۔۔۔سن لیں آپ
روحی نے اُن کی جانب رخ کرکے کہا
اور اگر وہ ہی اس رشتے کو ختم کردے تو
عزیز صاحب اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولے
میں جانتی ہوں وہ کبھی ایسا نہیں کریگا۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے مضبوط لہجے میں کہا
اور ہم بھی جانتے ہیں کے ہم اس سے یہ کروا کر رہیں گے
وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گیۓ روحی اٹھ کر اُن کے پیچھے آئی
رک جائیے پاپا۔۔۔۔۔آپ جو چاہتے تھے میں نے کیا۔۔۔۔۔۔لیکن آپ کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔۔۔اور اگر آپ کو اتنا ہی شوق ہے میری شادی کا تو میری لاش کو سرخ جوڑا پہنائے گا کیوں کہ جیتے جی میں کبھی کسی اور کو اپنی زندگی میں نہیں آنے دوں گی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کے مقابل آکر بولی تاکہ وہ دیکھ سکے کے اُس کا ارادہ مضبوط ہے یہ نہیں
💜💜💜💜💜💜💜
زار اپنے آفیس میں بیٹھا اس وقت بھی اُسے فون کیے جا رہا تھا
فون اٹھاؤ ڈیم اٹ۔۔ ۔۔۔۔۔
اب بھی بس رنگ جا رہی تھی اُس نے نے بیزاری سے ہاتھ ٹیبل پر مارا دروازے پر دستک ہوئی اور دروازہ کھول کر کمشنر اور اُن کے پیچھے عزیز صاحب اندر داخل ہوئے وہ بجائے کھڑے ہونے کے اپنی چیئر سے ٹیک لگائے پیر آگے کرکے بیٹھ گیا
سر تم سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
کمشنر نے شروحات کی زار نے مصنوعی حیرت سے اُنھیں دیکھا
کہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم کوئی بات نہیں کرنا چاہتے بس ان کاغذات پر سائن کرو اور اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرو
اُنھیں نے طلاق کے کاغذات ٹیبل اور پھینکے۔
کونسے پیپر ہے یہ
طلاق کے کاغذات ہے۔۔۔۔
جواب کمشنر صاحب نے دیا عزیز صاحب سے اُسے یہی امید تھی لیکن اتنی جلدی
پہلا باپ دیکھ رہا ہوں جو نکاح کے چار دن میں ہی اپنی بیٹی کا طلاق کروانے کو اتنا بے چین ہے
خبردار۔۔۔۔۔وہ کوئی نکاح نہیں تھا ۔۔۔۔۔بس تمہاری ایک چال تھی ہماری بیٹی کو پھنسانے کی۔۔۔۔۔۔ہم روحی کو اچھی طرح جانتے ہیں بہت معصوم ہے وہ اچھا برا نہیں سمجھتی اپنا۔۔۔کسی کے بھی فریب کو حقیقت سمجھ لیتی ہے لیکن ہم اُسے ہر برائی سے محفوظ رکھنا جانتے ہے ۔۔۔۔۔اور اب ہم کوئی وجہ باقی نہیں رکھنا چاہتے جس سے آپ کا خیال بھی اس کے دماغ میں آئے
وہ اُس کی بات کاٹ کے غصے سے بولے زار کرسی سے اٹھ کر اُن کے سامنے آیا
میں بھی اپنی بیوی کو بہت اچھی طرح سے سمجھتا ہوں۔۔۔بہت اموشنل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کسی نے دو سیریس باتیں کی کے جذباتی ہوجاتی ہے ۔۔۔اپنے بارے میں سوچتی ہی نہیں ۔۔۔بس سامنے والے کا خیال کرتی ہے ۔۔۔۔۔اُسے نظر ہی نہیں آتا کے سامنے والا مطلبی ہے خودغرض ہے۔۔۔۔۔اس کے اموشن کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔۔۔۔۔۔وہ تو بس دکھاوے پر یقین کر لیتی ہے۔۔۔لیکن میں بھی اسے صحیح غلط سکھانا جانتا ہوں
ہم یہاں تمہاری بکواس سننے نہیں بلکہ ان کاغذات پر دستخط لینے آئے ہیں
عزیز صاحب بگڑ کر بولے زار نے کندھے اُچکائے
یہ تو نا ممکن ہے
ہم نا ممکن کو ممکن کرنا جانتے ہے بتاؤ اپنی قیمت
اُنہوں نے چیک بک نکال کر اُسے ٹیبل پر رکھی
رہنے دیجئے نہیں چکا پائینگے آپ
وہ دھیرے سے ہنسا
ایسا کچھ نہیں جو ہم نا کر پائیں
عزیز صاحب دانت پیستے ہوئے بولے
سورج کی سمت بدل سکتے ہیں آپ۔۔۔۔۔نہیں نا۔۔۔۔۔۔بس یہ سجھ لیجئے اتنا ہی نا ممکن ہے مجھ سے یہ کروانا۔۔۔۔۔آپ اپنی تمام دولت کے ساتھ خود کو بھی بیچ دیں تو بھی میری قیمت ادا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔چلے جائیے یہاں سے۔۔۔۔
بہت آرام سے آخری الفاظ ادا کرکے وہ واپس اپنی چیئر پر بیٹھ گیا
ہم تمہارے محتاج نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے پاس اور بھی طریقے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارا نام و نشان ہماری بیٹی کی زندگی سے مٹا دینگے ہم
وہ اُسے گھورتے ہوئے بولے اور باہر چلے گئے
💜💜💜💜💜💜
اسنے اب کی دفعہ بہت جھجھکتے ہوئے فون اٹھایا
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا حرکت ہے یہ ۔۔۔فون کیوں نہیں اٹھا رہی تم۔۔۔دو دن سے تمہیں فون کرکے پاگل ہو رہا ہوں میں ۔,۔۔۔۔دماغ خراب ہو گیا ہے کیا تمہارا
اُس کی آواز سنتے ہی وہ بھڑک اٹھا
پلیز زار مجھے بار بار فون مت کرو میں تم سے بات نہیں کر سکتی
مجھے تم سے ملنا ہے۔۔۔۔۔۔ابھی کے ابھی گھر سے باہر نکلو
زار اُس کی بات کو نظر انداز کرکے بولا
میں تم سے نہیں مل سکتی
کچھ سننا نہیں چاہتا میں۔۔۔۔۔۔۔تمہارے گھر کے باہر ہوں جلدی پہنچو یہاں
بات کاٹ کے سختی سے بولا
زار پلیز جاؤ یہاں سے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی۔۔۔۔۔۔
پہلی دفعہ بہت ہی سخت لہجے میں زار نے اُس کا نام لیا تھا وہ چپ رہ گئی
پانچ منٹ میں یا تو تم گھر سے باہر نکل کر مجھ سے ملو۔۔۔۔ورنہ چھٹویں منٹ میں میں اندر پہنچ جاؤں گا اور اس کے بعد جو بات ہوگی تمہارے پاپا کے سامنے ہوگی
وہ اُس سے کہتا فون بند کر گیا اور روحی بس فون کان سے لگائے کھڑی رہی جب وہ نیچے آئے تو اُسے دیکھ کر عزیز صاحب حیران ہوئے کیوں کے آج دو دن بعد وہ کمرے سے باہر نکلی تھی
میں زار سے ملنے جا رہی ہو
وہ اُن کے پاس آکر دھیرے سے بولی اُن کے چہرے پر سختی در آئی
پلیز پاپا مجھے بس ایک بار اس سے بات کرنے دیجئے
روحی نے اُن کے انکار سے پہلے التجا کی
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔سمجھا دینا اُسے کے آئندہ آپ کے سامنے کبھی آنے کی کوشش بھی نہ کریں ورنہ ہم اُسے جان سے مار دیں گے
وہ سر جھکائے اُن کی بات سن کر باہر نکل گئی گیٹ کے باہر نکل کے گھر سے کچھ دوری پر ہی اُس کی گاڑی دیکھ کر وہ اُس کی جانب بڑھی دور سے ہی اُسے دیکھ کر زار کی جان میں جان آئی اُس کے پاس آنے پر زار نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا وہ آکر اندر بیٹھ گئی اور اُس کے بعد زار بھی اندر آگیا
زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے کہنے کے لیے لب کھولے تو زار نے انگلی رکھ دی
شہش۔۔۔۔۔۔۔کچھ مت بولو۔۔۔
اُسے چپ کروا کر اپنے سینے سے لگا لیا اور سختی سے خود میں سماتا گیا
زار پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی بڑھتی شدتوں سے خود کو بچاتے ہوئے روحی نے اُسے دور کیا زار نے ایک گہری سانس لے کر اُسے دیکھا
یہ کیا کر رہی ہو تم ۔۔۔۔۔کیوں اگنور کر رہی ہو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترس گیا تھا تمہیں دیکھنے کے لیے۔۔۔۔۔اب تمہیں دور نہیں جانے دوں گا میں۔۔۔۔
روحی اُسے دیکھتی رہی وہ بے چین تھا اور اُس کا چہرہ یہ بیان کر رہا تھا
تمہارے پاپا کبھی ہمیں نہیں سمجھے گے روحی۔۔۔۔۔پتہ ہے وہ مجھے خریدنے آئے تھے تاکہ میں تمہیں چھوڑ دوں۔۔۔۔۔۔تم بتاؤ کیا میرے جیتے جی یہ ممکن ہے کے میں تمہیں خود سے الگ کر دوں ۔۔۔۔۔۔وہ ہماری محبت کے دشمن بنے ہوئے ہے بس کسی بھی طرح ہمیں الگ کر دینا چاہتے ہے ۔۔۔۔۔ ہم لوگ واپس چلے جاتے ہے۔۔۔۔کہیں دور ۔۔۔۔۔جہاں وہ ہمیں الگ نا کر سکیں ۔۔۔۔۔۔
زار نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا وہ کبھی اس طرح بات نہیں کرتا تھا جیسے آج کر رہا تھا جیسے ڈر لگ رہا ہو بے چینی ہو رہی ہو
زار۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنا ہاتھ زار کے ہاتھ سے نکالا
میں تم سے دوبارہ نہیں مل سکتی ۔۔۔۔۔۔پلیز آئندہ مجھے فون مت کرنا نا مجھ سے ملنے کی کوشش کرنا
روحی نے جیسے اُس کی بات سنی ہی نہ ہو
فضول باتیں مت کرو۔۔۔۔۔۔۔میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا۔۔۔۔۔۔۔۔میں تم سے دور نہیں رہوں گا اب ایک پل بھی ۔۔۔۔
وہ فوراً بولا تھا اور اُس کے قریب ہو کر پیشانی سے پیشانی لگا دی تھی
میں فیصلہ کر چکی ہوں زار
وہ آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی
نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔تم فیصلہ نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔جب پیار ہم دونوں کرتے ہے تو فیصلہ اکیلے تم نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا نکاح ہو چکا ہے اب تم صرف میری ہو۔۔۔۔۔۔ الگ ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا
اُسے طرح اُس کے قریب ہوئے بولا روحی بمشکل اُس سے پیچھے ہوئی
میں پاپا کی جان کی دشمن نہیں بن سکتی زار۔۔۔۔۔۔اُنہیں کچھ ہو گیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا اُنہیں۔۔۔۔۔۔وہ صرف تمہیں اموشنلی بلیک میل کر رہے ہیں تمہارے ڈر کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔۔۔وہ صرف ہم دونوں کو الگ کرنے کے لئے یہ سب کر رہے ہیں روحی تمہیں کیوں سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب اُن کا پلان ہے
وہ غصے سے بولا تھا بنا ایک بھی پل ضایع کیے
اور اگر یہ سچ ہوا تو۔۔۔۔۔۔۔۔اگر سچ میں اُنہیں کچھ ہو گیا تو۔۔۔۔۔۔۔
روحی اُسے دیکھتے ہوئے بولی اور زار ایک پل کو چپ ہو کر اُسے دیکھنے لگا
میں اُنہیں تکلیف نہیں دینا چاہتی زار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی خاموشی پر دھیرے سے بولی زار سرخ ہوتی آنکھوں میں ناراضگی لیے اُسے دیکھ رہا تھا
اور میں۔۔۔۔۔مجھے تکلیف دے سکتی ہو تم۔۔۔۔۔تمہارے پاپا تمہارے لیے سب کچھ ہے اور میں کچھ بھی نہیں۔۔۔۔میرا کیوں نہیں سوچتی تم ڈیم اٹ۔۔۔۔۔۔میں پیار کرتا ہوں تم سے شوہر ہوں تمہارا۔۔۔حق ہے میرا تم پر ۔۔۔۔۔کیا تمہیں یہ سب نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔
روحی اُس کے سختی سے بات کرنے پر ہاتھ آنکھوں پر رکھے رو دی
روحی پلیز میں تمہیں ہر ٹ کرنے کے لیے یہ سب نہیں کہہ رہا۔۔۔۔حق نہیں جتا رہا ہوں تم پر بس اتنا بتانا چاہتا ہوں کے نہیں رہ سکتا تمہارے بنا۔۔۔۔بہت چاہتا ہوں تمہیں۔۔ تمہارے لیے واپس آیا تھا تمہیں کھونے کے لیے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر مشکل سے لڑ سکتا ہوں لیکن تم سے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیار کرتے ہو نا مجھ سے۔۔۔۔۔۔
روحی نے اُس کے درمیان میں کہا اُس نے سر نیچے کر لیا کچھ نہیں بولا
تو پھر سمجھو مجھے۔۔۔۔۔۔۔میری مجبوری کو سمجھو۔۔۔۔۔۔ یہ میرے لیے بھی آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔۔میں دو ٹکڑوں میں بٹ کر رہ گئی ہوں میری مشکلیں مت بڑھاؤ۔۔۔۔۔چلے جاؤ یہاں سے اور کبھی مت آنا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ایسا سمجھنا مجھ سے کبھی ملے ہی نہیں تھے
زار نے اُس کے اس طرح کہنے پر سے نفی میں ہلاتے ہوئے کچھ کہنا چاہا
کچھ مت کہنا اب۔۔۔تمہیں میری قسم ہے۔۔۔۔۔۔۔
لیکن روحی نے اُسے روک دیا اُس کی قسم پر زار کے الفاظ بھول گئے وہ نے یقینی سے اُسے کتنی ہی دیر دیکھتا رہا پھر رخ بدل کر سامنے دیکھنے لگا کسی بے جان مورت کی طرح
زار۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
روحی نے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا لیکن زار نے اُسے ایسا کرنے نہیں دیا ہاتھ فوراً ہٹا کے اوپر کر لیا
جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔
سرد لہجے میں بنا اُس کی جانب دیکھے بولا
Just get out۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے زوردار آواز نے روحی کو خوفزدہ کر دیا تھا وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کے سرخ چہرے کو دیکھتی ہوئی پیچھے ہوئی اور ہاتھ منہ پر رکھے روتی ہوئی باہر نکل گئی
💜💜💜💜💜💜
زار کیا ہوا بیٹا۔۔۔روحی سے ملے تم۔۔کیا کہا اُس نے
وہ دیر رات کو گھر واپس آیا تھا رفعت کب سے بے چین تھیں اُس کے آتے ہی سوالات شروع کے دیے لیکن وہ کھوئے کھوئے انداز میں چلتا ہوا آکر صوفے پر بیٹھ گیا
کیا بات ہوئی اُس سے ۔۔۔۔ ۔
وہ بھی اُس کے پاس بیٹھ کر اُس سے پوچھنے لگی زار اُن کی جانب خالی خالی نظروں سے دیکھا
کیا دیکھ رہے ہو بتاؤ نا کیا کہا اُس نے
اُس نے کہا کہ دوبارہ مجھ سے کبھی نہیں ملنا چاہتی۔۔۔۔۔مجھے چھوڑ دیا اُس نے
میری محبت کا واسطہ دیا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہا بھول جاؤ ۔۔۔۔۔۔بس بھول جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔بھول جاؤ
اُن کی جانب بے تاثر نظروں سے دیکھتا ہوا بولا کسی مشین کی طرح پھر سامنے دیکھنے لگا رفعت کو کچھ اور جاننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی نا یہ پوچھنے کی کے زار کو کیا ہوا ہے
سب ختم کر دیا اُس نے۔۔۔۔۔۔۔ہمارے درمیان جو رشتا تھا اُس کا بھی لحاظ نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وعدہ کیا تھا مجھ سے کے کبھی ہاتھ نہیں چھوڑے گی۔۔۔۔۔پر چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی آنسو کا ایک قطرہ نکل کر اُس کے پیر پر گرا اور رفعت نے اُس کا سر اپنے کندھے سے لگا لیا
💜💜💜💜💜💜💜
