Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

آپ نے منالی جانے سے منع کیوں کر دیا
ناشتے کی ٹیبل پر وہ اُن کے ساتھ والی۔کرسی پر بیٹھے تھی عزیز صاحب نے بنا دیکھے کہا

بس یونہی پاپا۔۔۔۔۔۔بہت لمبا سفر ہے ۔۔۔اور ٹھنڈ بھی تو کتنی بڑھ گئی ہے اس لیے دل نہیں کر رہا
اس نے اپنی طرح سے بہانے بنائے

ایک وقت میں آپ کو گھر میں قید ہو کر رہنا بلکل پسند نہیں تھا۔۔۔آپ ہم سے ناراض رہتی تھی کے ہم آپ کو کہیں جانے نہیں دیتے۔۔۔اور اب آپ گھر سے باہر ہی نہیں نکلنا چاہتی

ایسی کوئی بات نہیں پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے بولی

تو پھر آپ کو ضرور جانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں کل ایک ضروری کانفرس کے لیے ملک سے باہر جانا ہے ہفتہ بھر ہم وہیں رکے گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ گھر میں اکیلی رہ کر کیا کریں گی ۔۔۔۔۔۔منالی بہت ہی خوبصورت جگہ ہے آپ کا موڈ بھی فریش ہو جائے گا۔۔۔۔۔
ہم مشال سے کہہ دیتے ہے آپ ٹکٹ بک کردیں۔۔۔۔۔آپ پیکنگ کر لیجئے
انہوں نے فیصلہ کرنے والے انداز میں کہا

جی پاپا۔۔۔۔۔
وہ بس اتنا ہی کہہ سکی اس نے بس ایک دفعہ ہی اُن کے فیصلے سے انکار کیا تھا اور اب تو کسی بات سے فرق ہے نہیں پڑتا تھا

💜💜💜💜💜💜💜
لوناولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن تم نے تو کہا تھا ہم لوگ منالی جا رہے ہیں
وہ لوگ اپنے سفر پر روانہ تھے مشی نے کسی طرح معلوم کروایا تھا کے زار کا ٹرانسفر پونے میں کہیں ہوا ہے تو انہوں نے منالی جانے کا پروگرام کینسل کرکے لوناولہ جانے کا طے کیا تھا پونے میں لوناولا سے زیادہ خوبصورت جگہ تو شاید ہی کوئی ہوگی

ہاں لیکن پھر پلان چینج کر دیا
اس کی بات پر ایک پل کو وہ گڑبڈائی

۔۔۔منالی بہت دور ہے نہ اور ہم چاروں لڑکیاں کہاں اتنی دور بھٹکتی پھرے گی۔۔۔۔لوناولا بھی کتنا خوبصورت ہے اور زیادہ دور بھی نہیں ہے اسلئے ہم نے پلان چینج کردیا
زمل نے جلدی سے بات مکمل کے اس کے پہلے کے روحی کو شک ہو جاۓ

عجیب ہو تم لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے منالی جانے کے اتنے ساری ڈیفینیشن دے رہے تھے اور اب لوناولہ۔۔۔۔خیر جو بھی ہو ہم صرف چار دن ہی رہے گی وہاں اوکے
روحی نے سر جھٹکتے ہوئے کہا

وہاں جانے کے بعد سوچے گے
نینا خود میں بڑبڑاتی بولی روحی نے اُسے حیرت سے دیکھا

اچھا ٹھیک ہے جب تم کہو گی تب واپس آجائے گے لیکن ابھی تو انجواۓ کرو نا یار

نینا نے اس کے دیکھنے پر کہا

💜💜💜💜💜💜💜

انہوں نے پہلے ہی ایک گیسٹ ہاؤس بک کر رکھا تھا جو بہت ہی خوبصورت اور پرسکون جگہ پر تھا وہاں آتے ہے سردی کافی بڑھ گئی تھی وہاں کا منظر کچھ ویسا ہی تھا جیسا اوٹی کا تھا اس کی بہت ساری یادیں تازہ ہو گئی تھی

اس رات وہیں آرام کرنے کے بعد صبح صبح ہی وہ چاروں روحی کو جگا کر اپنے ساتھ لے آئی تھی وہ لوگ لونولا سے بہت دور اس شہر میں آئے تھے جہاں اُنہیں زار سے ملنا تھا اور ایک واٹر پارک میں آکر آگے کے بارے میں پلان بنا رہے تھے

یہاں تک تو لے آئے ہم لیکن پولیس اسٹیشن کیا کہہ کر لے جائے گے اُسے۔۔۔۔۔۔۔
روحی کے واشروم جانے کا فائدہ اٹھا کر چاروں آگ کے بارے میں سوچ رہی تھی

کوئی سالڈ بہانہ بنانا پڑیگا
زمل نے نیہا کی بات پر سوچتے ہوئے کہا لیکن روحی کو آتے دیکھ چپ ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں

کیا چل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
روحی اُن چاروں کے چہرے دیکھتے ہوئے پوچھا

کچھ نہیں روحی ہم تو بس یونہی باتیں کر رہے تھے
نینا نے جلدی سے بات بنائی

کوئی مجھے بتائے گا کے ہم لوگ یہاں کیوں آئے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ پارک بہت فیمس ہے میں نے بہت سنا ہے اس کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں اچھا نہیں لگا
نینا نے ہے جواب دیا

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم۔لوگ لوناولہ گھومنے کے لیے آئے تھے لیکن وہاں کی اچھی اچھی جگہ دیکھنے کی بجائے ہم لوگ ساٹھ کلو میٹر دور یہ واٹر پارک دیکھنے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
روحی اُن کی حرکتوں پر تو حیران تھی ہی ساتھ صبح صبح اس سنسان جگہ آنے سے بھی پریشان تھی ٹھنڈک سے اس کا چہرہ سفید ہو رہا تھا

دراصل میری ایک فیس بک فرینڈ یہیں رہتی ہے میں اُس سے ملنا چاہتی تھی لیکن اب وہ مل ہی نہیں رہیں نا فون اٹھا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو لگتا ہے کسی نے اُسے کڑنپ کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔چلو ہم پولیس سٹیشن جا کر رپورٹ لکھوا دیتے ہیں
زمل بہانا بنانے اور اُسے کسی طرف پولیس اسٹیشن تک لے جانے کے ارادے میں کچھ کا کچھ بولتی گئی
روحی اُسے حیرت سے دیکھنے لگی اور باقی نینا نے اُسے كہنی ماری

کیا بول رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔میں بتاتی ہوں روحی دراصل یہ کس اور وجہ سے پولیس سٹیشن جانا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر پہلے نا ایک لڑکے نے اُس کے ساتھ بہت بد تمیزی سے بات کی ۔۔۔۔یہ اُس پر بہت غصّہ ہے اور جب سے رٹ لگا رکھی ہے کے اُس کے خلاف شکایت لکھوانی ہے
نینا نے آگے آکر ایک مضبوط بہانا بنایا

کونسا لڑکا۔۔۔۔۔۔۔کب ہوا یہ
روحی حیرت سے دونوں کو دیکھتی بولی

ابھی کچھ دیر پہلے جب تم واشروم گئیں تھی
نینا نے فوراً جواب دیا روحی کو سمجھ نہیں آیا صرف پانچ منٹ میں ایسا کیا ہوگیا

۔ہاں روحی چلو نا ہم اُس کے خلاف پولیس کملینٹ کرتے ہیں
زمل نے بھی اس کی بات دہرائی

لیکن یہاں تو کوئی لڑکا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔وہ تو چلا بھی گیا ہوگا۔۔۔۔چھوڑو نا۔۔۔۔۔جانے دو۔۔۔
روحی نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی

میں جانتی تھی کوئی میرا ساتھ نہیں دیگا۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے نہیں کرتی رپورٹ ۔۔۔۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے بھلے وہ آئندہ کسی اور کے ساتھ یہی کریگا ہمیشہ کرتا رہیگا لیکن ہمیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمل خفا ہوکر ہاتھ باندھے مصنوعی رونا رو رہی تھی

اچھا بابا۔۔۔۔۔۔چلو جیسا تم چاہو کرو۔۔۔۔لیکن برا تو مت مانو نا۔۔۔۔چلو لکھواتے ہے کمپلینٹ
روحی اس کے ناراض ہونے پر بولی اور زمل خوشی سے مشی نینا اور نیہا کو دیکھنے لگی

💜💜💜💜💜
ہم نے کہا نا ہمیں آپ کے پاس نہیں لکھواني کمپلنٹ پلیز آپ اپنے سینیئر کو بلائے
وہ لوگ کافی دیر سے وہاں بیٹھے تھے زار وہاں نہیں تھا اور زمل نے رٹ لگا رکھی تھی کے اُسے انسپکٹر کے پاس کمپلینٹ نہیں لکھوانی۔۔۔۔۔۔۔انسپکٹر کے ساتھ روحی بھی زچ ہو چکی تھی نینا بھی اس کیا پورا ساتھ دیتے ہوئے دھرنے پر بیٹھی تھی اُنہیں بس زار کو سامنے لانا تھا

کیا مسئلہ ہے نینا کیوں بحث کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے بیزاری سے کہا

روحی مجھے ان لوگوں پر یقین نہیں ہوتا یہ کبھی ایمانداری سے ہمارے مسئلے ہل نہیں کرتے مجھے اسی لیے ان کے سینیئر سے بات کرنی ہے تاکہ یہ لوگ بس کمپلنت لکھ کر بھول نہ جائے
زمل نے صفائی دی اور روحی سر پر ہاتھ رکھے کرسی پر۔بیٹھ گئی

دیکھیے میں ہی یہاں کا سینیئر ہوں۔۔۔۔۔۔آپ بے فکر رہیں ہم آپ کو شکایت کا موقع نہیں دینگے
انسپکٹر اُسے سمجھاتے ہوئے بولا

آپ سمجھتے کیوں نہیں۔۔۔۔مجھے نہیں بتانا آپ کو
زمل رونی صورت بنائے بولی وہ مزید کچھ کہتا اس کے پہلے کسی کی آواز آئی

عارف۔۔۔مجھے كل کے کیس کی فائل تیار کرکے دو فوراً
آواز زار کی تھی جو روحی نے بھی سنی اس کا دل ایک پل کو دھڑکنا بھول گیا سب نے زار کی جانب دیکھا سوائے روحی کے وہ تھوڑے فاصلے پر بنے کیبن کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تھا اور دیوار سے لگی ریگ میں رکھی فائلوں کو نکال کر دیکھ رہا تھا

یس سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارف نے دور سے ہی اس کی بات کا جواب دیا مشی نے روحی کی طرف دیکھا جو بہت ہمت جمع کرکے سر اٹھائے اس کی جانب دیکھ رہی رہی زار کی اُن کی جانب پشت تھی اور وہ صرف اس کا چہرہ تھوڑا سا ہی دیکھ سکتی تھی اس کی آنکھیں میں خوف تھا زار کا سامنا کرنے کا وہ جلدی سے اٹھ کر پیچھے چلتی ہوئی دروازے کی جانب بھاگ گئی اس سے پہلے کے وہ اُسے دیکھ لے مشی نے اُسے باہر نکلتے دیکھا تو خود بھی اس کے پیچھے نکلی لیکن اس کے پہلے وہ ٹیکسی لے کے جا چکی تھی نینا زمل نیہا بھی باہر آئی
مجھے لگتا ہے ہمیں اس کے پیچھے جانا چاہیے ۔۔۔۔۔
انہوں نے زار سے بات کرنے اور روحی سے ملوانے کا ہار پلان رد کرتے ہوئے اپنی گاڑی میں بیٹھے اس کے پیچھے چل دی

روحی تم وہاں سے چلی کیوں آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ کیا کر رہی ہو
وہ واپس گیسٹ ہاؤس پہنچی تھی جہاں وہ لوگ ٹھہرے ہوئے تھے راستہ بھر رونے سے اس کی آنکھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا تھا آتے ہے اس نے اپنے بیگ میں کپڑے رکھنے شروع کر دیے تھے مشی کی بات پر وہ غصے سے چاروں کی طرف بڑھی

کیا چل رہا ہے یہ سب ۔۔۔۔۔۔۔۔سچ سچ بتاؤ کیا کر رہی ہو تم لوگ

ہم تمہیں اور زار کو ایک بار ملوانا چاہتے تھے بس
نینا نے آگے آکر اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

ہمیں ہمیشہ تمہیں اُداس دیکھ کے اچھا نہیں لگ رہا تھا بس ایک کوشش کرنا چاہتے تھے تمہاری اُداسی دور کرنے کی
زمل نے بھی اس کی خاموشی پر اپنی بات کہتے اس کا ہاتھ پکڑا

اور تم لوگو کو لگا کے ایسا کرنے سے سب ٹھیک ہوجائے گا اگر اتنا آسان ہوتا تو کیا میں خود یہ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔تم لوگ سب جانتی ہو جانتی ہو کے میرا اور اسکا ملنا ممکن نہیں پھر بھی اُسے میرے سامنے لا کر کھڑا کر دیا کیوں۔۔۔۔۔ میرے زخموں کو مزید گہرا کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاکہ اگر وقت گزرنے کے ساتھ میری تکلیف کم ہو گئی ہو تو وہ اور بڑھ جائے
وہ خفگی سے اُنہیں دیکھتی بولی

نہیں روحی۔۔۔۔۔
مشی اس کی طرف بڑھی تو وہ دو قدم پیچھے ہوئی

پلیز مشی۔۔۔۔۔۔کچھ مت بولو۔۔۔۔۔۔میں بس یہاں سے جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔

روحی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز ہمیں غلط مت سمجھو۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے صرف تمہیں اور زار کو ملوانے کے لیے یہ سب کیا۔۔۔۔۔۔۔اتنا وقت گزر چکا ہے ہمیں لگتا ہے اب انکل کا دل بدل چکا ہے۔۔۔۔وہ تم دونوں کو الگ نہیں کرینگے اب۔۔۔۔۔۔بلکہ تمہاری خوشی کے لیے مان جائے ہے

اور اگر ایسا نہیں ہوا تو۔۔۔۔۔۔صرف ایک امید کی بنا پر تم مجھ سے ایک اور گناہ کروانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔مان لو تمہاری بات پر عمل کرکے میں زار سے دوبارہ مل۔لوں اس سے معافی مانگ لوں اور وہ مجھے معاف بھی کر دے۔۔۔لیکن اگر پاپا نہیں مانے تو۔۔۔۔۔۔کیا میں زار سے معافی مانگنے کے بھی قابل رہوں گی۔۔۔۔۔کیا نظریں ملا سکوں گی کبھی خود سے اُسے دوسری دفع دھوکہ دینے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی بات پر روحی فوراً بولی تھی اس کی آنکھ سے آنسو ایک کے بعد ایک گر رہے تھے وہ بیڈ پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی

ایک بار کا بوجھ ہی نہیں اٹھایا جا رہا مجھ سے مشی۔۔۔۔۔اور تم ایک اور گناہ کی جانب لے جا رہی ہو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے بھی اس نے خود کو مجھ سے دور رکھا تھا۔۔۔شاید وہ جانتا تھا کے اس کے حصے میں یہ دکھ آسکتا ہے اسلئے اپنی محبت سے سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا میں نے مجبور کیا اُسے۔۔۔۔زبردستی کی اس کے ساتھ کے اپنے پیار کو۔ظاہر کرے۔۔۔۔۔۔۔۔اس پل سے ہی اس کی زندگی میں مشکلیں آتی رہیں اور وہ اُن کا سامنا کرتا رہا۔۔۔۔میرے لیے صرف میرے لیے سب سے لڑتا رہا کیا کیا نہیں کیا اس نے ۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے ایک دن چھوڑ دیا اُسے ۔۔۔۔۔اُسے اتنی شدید محبت کرنے کی سزا دی میں نے۔۔۔۔۔۔ایک اور بار میں یہ نہیں کر سکتی مشی۔۔۔۔۔۔۔۔ایک اور بار اپنی مرضی سے اس کی زندگی میں دخل دے کے پھر مجبوری کےتحت اُسی محبت کا سہارا لے کر ہمیشہ کے لیے دور ہوجانے کی قسم نہیں دے سکتی اُسے۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے سر جھکائے بولی مشی آکر اس کے پاس بیٹھتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی

سوری روحی۔۔۔۔۔۔معاف کردو ہمیں پلیز

معافی مت مانگو ۔۔۔میں بہت خوش قسمت ہوں کے۔اللہ نے مجھے اتنے اچھے دوست دیے ہے۔۔۔۔۔۔تم لوگوں نے تو میری ہی خوشی کے لیے یہ سب کیا۔۔۔۔۔لیکن میری خوشیاں مجھ روٹھ چکی ہے شاید میری سزا یہی ہے ۔۔۔۔۔
وہ اس سے الگ ہوتے ہوئے بولی اور باقی تینوں کی جانب بھی دیکھا

تم مت جاؤ روحی ہم وعدہ کرتے ہے ۔۔۔۔۔ہم اب کچھ نہیں کرینگے
زمل بھی آکر اس کی دوسری طرف بیٹھ گئی اور اُسے یقین دلاتے ہوئے بولی

نہیں زمل میں یہاں نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔کیوں کے میں نہیں چاہتی غلطی سے بھی میرا اس سے سامنا ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے یہاں سے جانا ہوگا

ایسا نہیں ہوگا روحی۔۔۔۔۔وہ یہاں سے بہت دور ہے۔۔۔۔۔تمہارا سامنا نہیں ہوگا اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز اب جب آگئی ہو تو کچھ وقت اپنی دوستوں کو دے دو۔۔۔۔۔ہمارے لیے رک جاؤ نا پلیز
نینا نے اس سے ركویسٹ کرتے ہوئے کہا وہ مزید انکار نہیںکر سکتی تھی خاموش بیٹھی رہائی اپنی دوستوں کا دل دکھانے کا دل نہیں کر رہا تھا

ٹھیک ہے لیکن پہلے مجھے کچھ اچھا سا کھلاؤ بہت بھوک لگ رہی ہے
اس نے اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے نارمل سے انداز میں کہا اور سب خوشی سے اس کے گلے لگ گئیں

💜💜💜💜💜💜💜