Rate this Novel
Episode 25
گھڑی رات کے گیارہ بجا رہی تھی اُس کا دل پہلے ہی بے وجہ بے چین ہو رہا تھا اور اب اُن سب کا دیر کرنا روحی نے پریشان ہو کر مشی کا نمبر ملانے کے لیے فون اٹھایا لیکن اُس کے پہلے ہے سامنے سے اُس کا فون آگیا
مشی کہاں ہو تم لوگ۔۔۔۔کتنی دیر ہو گئی ہے
فون کان سے لگاتے ہی اُس نے پریشانی سے کہا
روحی ہم لوگ یہاں پھنس گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں سے نکل نہیں پائے گے۔۔۔۔۔شہر میں کرفیو لگ گیا ہے اور سارے راستے بھی بند ہے۔۔۔ہمیں یہیں رکنا پڑیگا
کیا۔۔۔۔۔۔لیکن کیوں۔۔۔۔۔۔
روحی کی گھبراہٹ اور بڑھ گئی
پتہ نہیں شاید کوئی مسئلہ ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ لوگ کہہ رہے ہیں کے کچھ دہشت گرد اس علاقے میں گھس آئے ہے اسلئے یہ سب کر رہے ہیں
مشی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے تم لوگ اپنا خیال رکھنا پلیز ۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے پریشانی نے ماتھا سہلاتے ہوئے کہا
ہماری فکر مت کرو ہم بلکل سیف جگہ ہے اس ہوٹل میں ہی رک رہے ہم لوگ اور یہاں پولیس کا بھی پہرہ ہے۔۔۔بس تم دھیان سے رہنا۔۔۔۔۔دروازہ بند کرکے رکھنا اور باہر مت نکلنا ٹھیک ہے
مشی نے اُسے تسلی دیتے ہوئے فون بند کر دیا
💜💜💜💜💜💜
روحی نے کھڑکیاں بند کرکے پردے ٹھیک سے پھیلا دیئے اور آکر صوفے پر بیٹھ گئی مشی سے بات کرکے تسلی ہونے کے بعد بھی اُسے عجیب سی گھبراہٹ ہو رہی تھی لیکن کیوں یہ سمجھ نہیں آرہا تھا اچانک دروازہ پر دستک ہوئی اور روحی گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھ گئی اس لیے کیوں کے دستک بہت عجیب تھی صرف ایک دفعہ اور وہ بھی بہت زور سے دروازہ بجا تھا وہ خوفزدہ ہو کر بند دروازے کو دیکھنے لگی اگلی دستک آدھے منٹ بعد ہوئی اور تین دفعہ دروازے پر ہاتھ مارا اور ساتھ ہے ایسا لگا جیسے کوئی بھاری چیز دروازے پر آکر گری ہو۔۔۔۔۔۔پھر خاموشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی گھبراتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی اس خیال سے کے شاید دستک دینے والا جا چکا ہے ۔۔۔بہت ہمت کرکے دروازہ کھولا دروازہ کھولتے ہی اُس کی نظر زار پر پڑی اور وہ سانس لینا بھول گئی وہ دروازے سے تین فٹ کے فاصلے پر بنے ستون سے پشت لگائے اُس کے سہارے سے کھڑا تھا آنکھیں بند تھی اور اُنھیں کھولنے کی کوشش مسلسل کی جا رہی تھی سانسیں بے ترتیب چل رہی تھی اور خون پانی کی طرح بہتا ہوا اُس کے کپڑوں کو رنگین کر گیا تھا وہ اُس کی حالت دیکھ کر اپنی جگہ سن رہ گئی کچھ بھی کرنے یا سوچنے کی صلاحیت شل ہو کر رہ گئی تھی
زار نے بند ہوتی آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھا تو چہرے پر حیرت کے تاثرات واضح ہوئے دماغ سن ہو چکا تھا اور یہ بس ایک خیال جیسا لگ رہا تھا پھر بھی اُس کی موجودگی کا یقین کرنے کے لیے آنکھیں کھولنے کی کوشش بڑھا دی اور سیدھا ہوتے ہوئے اُسے دیکھا لیکن ستون سے ہٹتے ہی اُس کا توازن بگڑا اور وہ زمین پر منہ کے بل گرتا اس کے پہلے روحی کے قدم خود بخود آگے بڑھے اور اُسے دونوں ہاتھوں سے تھامے گرنے سے بچایا لیکن وہ اُسے گرنے سے بچانے کے چکر میں خود زمین پر بیٹھتی چلی گئی زار کا سر اُس کے کندھے سے لگا ہوا تھا وہ بے سود ہو کر زمین پر بیٹھا تھا
زار یہ کیا ہو گیا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے اُس کے آنکھ کے قریب پیشانی پر لگے زخم کے گرد اُنگلیاں پھیرتے ہوئے اُسے دھندلی آنکھوں سے دیکھا اپنے گلے میں موجود اسکارف نکال کر اُس کے زخم سے بہتے خون کو روکنے لگی اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے لیکن زار کی دھیمی چلتی سانسیں اور بند آنکھیں اُسے خوفزدہ کر رہی تھیں اُس نے اپنی ساری ہمت جمع کرکے زار کو سہارا دے کر اٹھایا اور اندر لے آئی اُسے بیڈ پر لٹا کر اُس کے پیروں کو جوتوں سے آزاد کیا
اُس نے جلدی سے اپنا فون اٹھایا لیکن پھر خیال آیا کہ یہاں تو نا کسی جگہ کو جانتی ہے نہ کوئی ڈاکٹر کا پتہ ہے جسے فون کرکے بلوا لے سمجھ نہیں آیا اب کیا کریں وہ زار کو وہیں چھوڑ کر باہر نکلی تاکہ کسی سے مدد لے سکے لیکن اُس ویرانے میں کوئی نہیں تھا شدید سردی اور اندھیرے میں سنسان سڑک آس پاس کے گھر بھی اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے نا اُس کے پاس زار کو ہاسپٹل تک لے جانا کا کوئی ذریعہ تھا نا کوئی ساتھ جو اُسے ہمت دے سکے
وہ واپس اندر آئی اور فرسٹ ایڈ باکس اٹھائے اُس کے قریب بیٹھ گئی خون سے سرخ شرٹ کے نچلے بٹن کھول کر اُسے ہٹایا اور زخم کے اوپر کاٹن دھیرے دھیرے سے رکھ کے اُسے صاف کرنے لگی۔۔۔۔۔وہ کمزور دل والی معمولی سے خراش پر رو دینے والی چھوٹے سے زخم کو دیکھنے کی ہمت نہیں تھی اُس میں اور چاقو سے لگے اتنے گہرے گھاو پر مرہم پٹی کرنا اُس کے لیے آسان نہیں تھا ۔۔۔۔۔اسی لیے اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔اور گلا سوکھ رہا تھا اُس نے اُن گھاؤ کے اوپر پٹی باندھنے کے بعد اُس کے چہرے گردن اور ہاتھوں پر لگے تمام زخموں پر بنڈیج کی اس درمیان وہ ہوش سے بلکل بیگانہ تھا اور اُس کی سانسیں بھی دھیرے دھیرے چل رہی تھی روحی نے نرم گیلے کپڑے سے اُس کے چہرے پر جگہ جگہ لگے خون کے نشانات کو صاف کیا شرٹ کے باقی بٹن کھول کر اُسے نکال الگ رکھ دیا اور دھیرے دھیرے ہاتھ چلاتے ہوئے تمام نشانات کو صاف کر دیا ۔۔۔۔۔۔
چادر کو اُس کے کندھے تک اوڑھا کر وہ اُس کے سرہانے بیٹھ گئی اور اُسے دیکھتی رہی دو سال میں ایک پل کے لیے بھی اُس کا چہرہ بھولی نہیں تھی چاہے اتنے وقت بعد وہ اُس کے سامنے تھا لیکن اُس کی تصویر ہر وقت روحی کی آنکھوں میں تھی اُس نے ہاتھ اٹھا کر زار کی پیشانی پر آتے بالوں کو دھیرے سے پیچھے کیا اور نیچے لے جاتے ہوئے اُس کی گردن پر رکھا
زار ۔۔۔آنکھیں کھولو ۔۔۔۔۔۔
دیکھو میری طرف۔۔۔
اُس کی جانب جھکتے ہوئے سرگوشی میں اُسے پکارا لیکن زار نے کوئی حرکت نہیں کی تھی اُس کی آنکھیں اُسی طرح بند تھی کیوں کے اگر وہ ہوش میں ہوتا تو روحی کو دیکھ کر اتنے سکون سے سو نہیں پاتا۔۔۔۔
💜💜💜💜💜💜💜💜
زار کا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں تھا اور وہ سے بیڈ سے لگائے بیٹھی بس اُس کے چہرے کو دیکھے جا رہی تھی رات اپنے اختمام پر تھی اور سردی بہت بڑھ گئی تھی زار کی انگلیوں میں حرکت محسوس کرکے اُس نے نظریں چہرے سے ہٹا کر اُس کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر دوبارہ اُس کے چہرے کو اُس کے بند ہونٹ کھلے اور آنکھیں بھی حرکت کرنے لگی روحی کی اندر جیسے جان بھر گئی ہو وہ سیدھی ہو کر بیٹھی اُسے دیکھنے لگی زار کے لب ہل رہے تھے لیکن آواز نہیں آرہی تھی وہ کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا اور روحی اُنھیں غور سے دیکھتے ہوئے سمجھنے کی
زار۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھے اُس کا نام پکارا اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کہنے کی کوشش کر رہا ہے
پانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے ہونٹ بند کرکے دوبارہ کھولے اور بہت مشکل سے ایک لفظ ادا کیا تھا وہ بھی بہت دھیمے روحی جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور پانی لینے کچن کی طرف گئی زار کے ہونٹ اب بھی اُسی طرح حرکت کر رہے تھے اور سانس تیز چل رہی تھی وہ اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا
