Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

دو سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت کو آگے بڑھنا تھا بڑھتا گیا اور پیچھے چھوڑ گیا بس یادیں اور غم روحی کے لیے خود سے لڑنا مشکل تھا لیکن وہ مجبور تھی زار کو سزا تو دی ہی ساتھ خود بھی سزا کاٹ رہی تھی اُس سے دور ہونے سے زیادہ یہ بات اُسے کھائے جا رہی تھی کے اُس نے زار سے ہر وعدہ توڑ دیا دو سال میں وہ جس قدر بدل چکی تھی عزیز صاحب کے اندر موجود ایک باپ کا دل خود کو ملامت کرتا تھا لیکن انا اُس گلٹ کو ظاہر نہیں ہونے دیتی تھی شاید وہ ہار نہیں ماننا چاہتے تھے لیکن جیت بھی کہیں نظر نہیں آرہی تھی

کیا کہہ رہی ہو یار۔۔۔۔ہم سب جا رہے ہے اگر تم نا ہونگی تو مزا کیسے آئیگا
عزیز صاحب نے خود اُس کی دوست مشی کو بلوایا تھا تاکہ اُسے لے کے کہیں باہر جائیں اور اُس کا موڈ بدل سکے لیکن وہ راضی نہیں تھی

مشی میرا بلکل دل نہیں چاہ رہا

تمہارا دل سوائے رونے کے اور کچھ چاہتا ہے بھلا۔۔۔۔۔۔اچھا بتاؤ پچھلی دفعہ گھر سے باہر کب نکلی تھی تم
مشی خفگی سے اُسے دیکھنے لگی اور وہ اُس کے سوال پر بیزاری سے بس آنکھیں گھما گئی

میں بتاتی ہوں۔۔۔۔۔۔تین مہینے پہلے جب تم بیمار ہو گئی تھی تب تم ہاسپٹل جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی وہ بھی انکل کے غصّہ کرنے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاد آیا

ہاں تو ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔باہر نکل کر کروں بھی کیا۔۔۔۔۔ضروری ہے کیا

کم آن روحی۔۔۔گرو اپ
مشی اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی

تم کب تک پچھلی باتیں یاد کرکے خود کو ہرٹ کرتی رہو گی ۔۔۔۔۔۔بریک اپ تو بہت عام چیز ہے ہر کسی کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔ اُسی بات کو لے کر زندگی بھر بیٹھ نہیں جا یا کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔بھولو اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کوئی چند دن کا لوو افیئر نہیں تھا مشی ۔۔۔۔۔۔نکاح ہوا تھا ہمارا۔۔۔۔۔۔پیار کرتی ہوں میں اُس سے۔۔۔۔۔۔۔نہیں بھول سکتی کیوں کے اُسے یاد کرنا اور پیار کرنا ہی میرے بس میں ہے اور وہ میں مرتے دم تک کرتی رہوں گی۔۔۔۔کوئی نہیں روک سکتا مجھے
وہ اس کی بات پر خفگی اور غصے سے بولی

روحی کیا ملے گا اس سے۔۔۔۔کیا سب صحیح ہو جائے گا
مشی نے اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھا وہ رخ دوسری جانب کر گئی جیسے کوئی بات نہیں کرنی

اچھا بابا نہیں کہتی اس بارے میں کچھ لیکن تمہیں میرے ساتھ چلنا ہی ہوگا بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی نے اُس کا چہرہ اپنی جانب کیا

تم جاؤ یہاں سے مجھے کہیں نہیں جانا
وہ اُسے روٹھے ہوئے انداز میں بولی مشی اُداس ہو کر اُس کے کمرے سے نکل گئی

مشال۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر نکلتے دیکھ عزیز صاحب کی آواز پر جاتے جاتے رکی وہ صوفے سے اٹھ کر اُس کے پاس آئے

کیا ہوا بات کی آپ نے روحی سے۔۔۔۔۔۔

بات تو میں نے کی پر وہ کسی بات کو سمجھنے کی حالت میں ہے ہی کہاں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا غصّہ ضبط کرتے ہوئی بولی عزیز صاحب چپ زمین کو دیکھنے لگے

سوری انکل ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ایک بات کہنا چاہتی ہوں آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔
مشی کے پوچھنے پر اُنہوں نے سے اٹھا کر اثبات میں ہلا دیا

آپ اتنے سیلفش کیسے ہو سکتے ہے۔۔۔۔۔۔کیا آپ کو روحی کی حالت نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ کیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی نے ہمت کرکے اپنا غصّہ ظاہر کر دیا وہ اُسے حیرت سے دیکھتے رہے

میں اُسے بچپن سے جانتی ہوں ۔۔۔۔۔۔میں نے پہلے کبھی اُسے ایسے نہیں دیکھا تھا اور اب مجھے تکلیف ہوتی ہے اُسے دیکھ کر۔۔۔۔پھر آپ تو اُس کے پاپا ہے کیا آپکو برا نہیں لگتا ۔۔۔۔۔
وہ ڈرتے ہوئے اپنی بات کہہ رہی تھی اور عزیز صاحب نے ہاتھ پیچھے باندھتے ہوئے رخ دوسری جانب کر کیا وہ سچ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے

آپ جا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرد لہجے میں مشی کو مخاطب کرکے کہا

جی انکل میں جا ہی سکتی ہوں اور کر بھی کیا سکتی ہوں اپنی دوست کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بھلے آپ مجھے کچھ بھی کہہ لیں ایک بات ضرور کہوں گی ۔۔۔کے روحی بہت بد قسمت ہے کے آپ اُس کے پاپا ہے۔۔۔۔۔سب کچھ ہو کے بھی کچھ نہیں ہے اُس کے پاس ۔۔۔۔۔اور اُس کی موت کی وجہ بھی آپ ہی بنے گے ۔۔۔۔۔۔۔آپ کی ضد مار ڈالے گی اُسے پھر اُس کے کفن پر ہیرے جواہرات جڑوا کر اس دولت کو اُس کے ساتھ دفن کر دینا۔۔۔۔خدا حافظ
وہ اپنی روانی میں وہ بات کہہ گئی جو عزیز صاحب کو شاید کبھی سننے کی امید نہیں تھی وہ جا چکی تھی لیکن عزیز صاحب اب بھی اُس کی باتوں کو سن رہے تھے اور انسان باتوں کو بھی جو پچھلے کچھ دنوں سے اُن کا دل کر رہا تھا دل اور دماغ کی جو جنگ اُن کے اندر چل رہی تھی وہ نا ہار ماننا چاہتے تھے نا روحی کو اس طرح اُداس دیکھ سکتے تھے بس اپنی انا کے آگے اپنی شرمندگی کو چھپائے رکھنا چاہتے تھے

💜💜💜💜💜💜💜

بتا۔۔۔۔آخری دفعہ پوچھ رہا ہوں۔۔۔
زار نے زمین پر گرے شخص کو گلے سے پکڑ کر اٹھایا تھا اور اُسے خطرناک نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھ رہا تھا وہ شخص چپ رہا زار نے دوسرے ہاتھ کا مکہ بنا کر پوری قوت سے اُس کے جبڑے پر مارا وہ دوبارہ زمین پر گرا تھا اور زار دوبارہ اُسے اٹھانے کو جھکا

زار ۔۔۔۔۔۔۔ریلکس۔۔۔۔۔
ساتھ کھڑے انسپکٹر نے اُسے روکا

تم جاؤ میں کوشش کرتا ہوں
اُس کی سختی سے کہیں مجرم مر ہی نا جائے اس خیال سے اُسے روکا زار وہاں سے چلا گیا اپنے کیبن میں پہنچا تو رفعت کو وہاں موجود پایا

ہائے۔۔۔۔یہ کیا ہو گیا ہاتھ پے۔۔۔۔۔۔خون نکل رہا ہے
اُس کے کچھ پوچھنے سےپہلے ہی وہ آگےبڑھ کے اُس کا ہاتھ تھامے اُسے دیکھنے لگیں

کچھ نہیں ہوا چھوڑیئے
اُس نے بیزاری سے ہاتھ نکلا

آپ یہاں کیوں آئی ہے امی۔۔۔۔۔

تم نے ناشتا بھی نہیں کیا ٹفن لے کر آئی ہوں

اچھا اب جائیے آپ میں کھا لوں گا
وہ مصروف سے انداز میں ہاتھ ٹشو سے صاف کرتے ہوئے بولا

ہرگز نہیں۔۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم نہیں کھاؤ گے ۔۔۔کام کے چکر میں بھول جاؤگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے سامنے کھاؤ تب تک نہیں جانے والی میں۔۔۔۔۔
وہ آرام سے آکر کرسی پر بیٹھ گئیں

افف۔۔۔۔کیا مصیبت ہے۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر سامنے بیٹھ گیا جانتا تھا ویسے نہیں جانے والی ہیں اس لیے انکی بات ماننے میں ہی بھلائی تھی

زار۔۔۔۔وہ باہر لڑکی کون ہے
اُس نے ٹفن کھول کر پہلا اسپون منہ میں رکھا تھا تب وہ اُسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگیں

کون لڑکی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے دوسرا بائٹ لیا

وہی جو باہر بیٹھی ہے عارف کے پاس
عارف وہیں کا ایک افسر جس سے ان کی کافی پہچان ہو چکی تھی

بہن ہے اُسکی۔۔۔۔۔۔
اُس نے لاپرواہی سے جواب دیا

اچھا۔۔۔۔۔یہ تو بہت خوشی کی بات ہے
رفعت مسکراتے ہوئے بولی

اس میں خوشی کی بات کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمھیں کیسی لگی وہ۔۔۔۔۔
رفعت نے اُس کے طرف ہوتے ہوئے پوچھا وہ منہ تک لے جاتا اسپون روک کر اُنھیں دیکھنے لگا اب سمجھ اچکا تھا کے موضوع کیا ہے

مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنوعی حیرت سے گھورتے ہوئے پوچھا

مطلب بہت خوبصورت ہے نا ۔۔۔۔۔۔
رفعت نے مسکراتے ہوئے کہا وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کر اُن کی طرف آیا اور ہاتھ پکڑ کے اُنھیں کرسی سے اٹھایا

اٹھیے فوراً سے۔۔۔۔۔۔۔

کیوں کیا ہوا
وہ ہڑبڑا کر اُسے دیکھنے لگیں

کچھ نہیں ہوا آپ یہاں سے نکل جائیں بس
وہ اُن کا ہاتھ پکڑے باہر لے آیا

میری امی کو گھر چھوڑ کر آؤ ۔۔۔۔۔اور دروازے تک چھوڑ کر آنا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔ پانچ منٹ وہیں رکنا جب تک تسلی نہیں ہو جاتی کے چلی گئیں ہے واپس مت آنا سمجھے
باہر نکل کر ایک سپاہی کو مخاطب کرکے کہا رفعت نے اُسے غصے سے دیکھا

پر زار میری بات تو سنو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ایک بار دیکھو تو صحیح کتنی پیاری لڑکی ہے
وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے اُس کی جانب بڑھی اور دور سے ہی لڑکی کو دیکھتے ہوئے بولیں وہ تیوری چڑھا کے اُنھیں دیکھنے لگا

آپ جا رہی ہے یا میں نکل جاؤں یہاں سے
ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا

جا رہی ہوں۔۔۔۔۔بتاؤ کونسا بیٹا اپنی ماں کو اس طرح دھکّے دے کر نکالتا ہے بھلا
وہ بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل گئی اور زار دوبارہ اپنے کیبن میں آگیا آجکل اُس کی امی کو نیا شوق چڑھا تھا اُسے خوبصورت لڑکیاں دکھانے کا اُس نے سے جھٹکتے ہوئے اسپون اٹھایا لیکن ہاتھ درمیان میں ہی رک گیا اچانک کچھ یاد آگیا تھا جس نے اُس کے چہرے اور آنکھوں کا رنگ بدل دیا اُس نے اسپون واپس رکھ دیا
Next sham tak try krti hun
💜💜💜💜💜💜💜

وہ نہیں آرہی۔۔۔۔۔۔۔
مشی نے بیگ کرسی پر رکھا اور خود بھی وہیں بیٹھ گئی باقی پانچوں جو اُسے امید سے دیکھ رہے تھے سب مایوس ہو گئے

تم نے بات کی اس سے ۔۔۔۔۔۔یار کسی بھی طرح اُسے راضی کرنا تھا نا
نہا نے مایوسی سے کہا

میں نے بہت سمجھایا اُسے بہت منانے کی کوشش کی لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔

اگر ہم سب مل کر اُسے منائے تو
نینا نے اپنی طرف سے آئیڈیا دیا

کوئی فائدہ نہیں وہ نہیں مانے گی آجکل تو ڈھنگ سے بات بھی نہیں کرتی اپنی ہی دنیا میں کھوئی رہتی ہے بس
زیمل نے ہاتھ چہرے پر رکھتے ہویے کہا

سچ یار بہت برا لگتا ہے اس کی حالت دیکھ کر اور انکل پر غصّہ بھی آتا ہے۔۔کوئی اتنا بھی روڈ کیسے ہو سکتا ہے
مشی ان تینو سے لاتعلق بیٹھی تھی

ہاں نا اپنی ہی بیٹی کی لائف میں ویلن بن کر بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔۔کیا کرے اب
نینا نے بھی نہا کی تايد کی

کیا سوچ رہی ہو۔۔
زمل نے ۔مشی کو مخطب کیا تو اس نے باری باری ان تینوں کو دیکھا

مجھے لگتا ہے شاید انکل کو بھی اب روحی کی حالت دیکھ کر برا لگتا ہے۔۔۔۔۔ وہ ظاہر نہیں ہونے دیتے پر شاید اُنہیں اپنے فیصلے پر تھوڑا بہت افسوس ضرور ہے

اس نے اپنے دماغ میں چلنے والی بات ان تینوں کے سامنے رکھی

یار یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔شاید۔۔۔۔۔لگتا ہے ۔۔۔تھوڑا بہت۔۔۔۔۔۔صاف صاف بتاؤ نا کیا کہنا چاہتی ہو
نینا نے جھنجھلا کر کہا

میرا مطلب میں شیور نہیں ہوں۔۔۔۔لیکن مجھے لگتا ہے انکل بدل گئے ہے۔۔۔پتہ ہے آج میں نے اُن سے اتنا کچھ کہہ دیا روحی کو لے کر۔۔۔۔۔۔سیلفش۔۔۔۔خودغرض۔۔۔۔۔۔ بہت برا بھلا کہہ دیا لیکن انہوں نے مجھے ایک لفظ بھی نہیں بولا
وہ انہیں تفصیل سے سمجھاتے ہوئے بولی

دو سال ہو گئے اب تک روحی زار کو نہیں بھولی اُن کی ہر امید ختم ہوگئی اس نے زار سے نکاح تک نہیں ختم کرنے دیا اُنہیں۔۔۔۔۔۔شاید وہ سمجھ گئے ہو کے انہوں نے غلطی کی
اس کی بات پر نینا نے کہا

ہاں بلکل ۔۔ اور پھر روحی کی اُداسی۔۔۔۔۔۔۔اس کا خود کو اکیلے اکیلے میں رہ کر اذیت دینا۔۔۔۔ دن بدن زندگی سے دور ہوتی جانا شاید یہ سب دیکھ کر اُن کا دل پگھل گیا ہو

زیمل نے بھی ان دونو کی بات پر گور کرتے ہویے کہا

لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ زار کو واپس نہیں بلوا لیتے
نیہا نے سوچتے ہویے کہا

ہو سکتا ہے اُن کا ایگو بیچ میں آرہا ہو ۔۔۔۔یہ بھی ہو سکتا ہے کے وہ زار کے آگے جھکنا نہیں چاہتے۔۔۔۔۔کیوں کے اپنی بات سے پیچھے ہٹ کر خود زار کو واپس روحی سے ملوانا مطلب ہار قبول کرنا جو وہ کبھی نہیں کرنا چاہے گے
مشی نے سوچتے ہویے کہا

لیکن اگر زار اور روحی خود ہی مل جائے تو۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں لگتا کہ اب وہ اُنہیں الگ کرنے کی کوشش کرینگے۔۔۔۔۔کیوں نا ہم زار اور روحی کو ملوا دیں ایک بار

زیمل نے مسکراتے ہویے تینوں کو دیکھا

روحی کبھی نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔وہ الریڈی گلٹی ہے کے زار کو چھوڑ دیا اس نے۔ ۔۔۔۔اور ہم لوگ بھی شیور نہیں ہے ۔۔۔اپنی جانب سے اندازے لگا رہے ہیں بس تو اُسے کیا کہہ کر ملوائے گے زار سے

مشی نے پریشان ہوتے ہویے کہا اور اس کی بات سے نینا اور نیہا دونو متفق تھی جانتی تھی واقعی۔ روحی نہیں مانے گی

میں کونسا پراپر میٹنگ کروانے کا کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔ایکسیڈینٹلی ملوا دیتے ہیں اچانک ایک دوسرے کے سامنے آجائے گے اور پھر سب ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔
زیمل نے۔ ان کے۔ مایوس چہروں کو دیکھتے ہویے کہا تینوں نے ایک دوسرے کو سنجدگی سے دیکھا۔ پھر زیمل کو

You are great
تینوں ۔ایک آواز۔ میں بولیں تھی اور زمل کھل کر ہنس دی
💜💜💜💜💜💜