Rate this Novel
Episode 26
روحی جلدی سے گلاس میں پانی لے کر اُس کے پاس آئی سر کے نیچے بازو رکھ کر خود سے لگاتے ہوئے اُسے تھوڑا اوپر اٹھایا اور گلاس اس کے ہونٹوں کے قریب رکھا
زار پانی پی لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے حرکت آنکھیں بند کیے تھا روحی نے دھیرے سے کہا تو اس کی آواز سنتے ہی زار کا ذہن بیدار ہونے لگا وہ پانی پینے کی بجائے آنکھیں کھول کر اُس کی طرف دیکھنے لگا روحی اس کے آنکھیں کھولنے پر سکون محسوس کر رہی تھی اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھی لیکن زار کی آنکھیں دھیرے دھیرے بڑی ہو کر اُسے غصے سے دیکھ رہی تھی
پانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے گلاس اس کے ہونٹوں سے لگا تے ہوئے کہا زار نے اُسی انداز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گلاس پر ہاتھ مار کر اُسے زمین پر گرا دیا اس اچانک عمل پر روحی گھبرا کر اُسے دیکھنے لگی زار نے اس کے گلے پر ہاتھ رکھ کر اُسے زور سے دھکا دیتے ہوئے خود سے دور کیا وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھ گئی اور زار کا سر دوبارہ بیڈ پر گرا جس سے تکلیف کا احساس بہت شدت سے ہوا روحی کو معلوم تھا کہ وہ یہ سب کیوں کے رہا ہے اس کا غصّہ واجب تھا لیکن اُسے زار کی فکر ہو رہی تھی
زار نے ایک جھٹکے سے اپنے اوپر اوڑھی چادر کو ایک طرف پھینک دیا اور بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف بڑھا اس کے قدم اب بھی لڑکھڑا رہے تھے سر گھوم رہا تھا اور درد مسلسل بڑھتا جا رہا تھا
زار رک جاؤ پلیز۔۔۔۔۔۔۔
روحی بھی اس کے پیچھے چل دی وہ کمرے سے نکل کر باہر کے دروازے کی طرف جا رہا تھا لیکن اچانک رک گیا اور دیوار پر ہاتھ رکھ کر دوسرا ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا درد کی ایک شدید لہر اٹھی تھی جو اس کے برداشت کے باہر تھی اور یہ اس کے چہرے پر نظر آرہا تھا سر بھی بری طرح بھاری ہو رھا تھا روحی بھاگ کے اس کی طرف بڑھی اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن زار نے جلدی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے انگلی اٹھا کر اُسے روکا اس نے کچھ کہا نہیں لیکن اس کی سرخ آنکھیں بتا رہی تھی کے وہ روحی کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا اس نے ہاتھ ہٹایا تو ہتھیلی پر خون لگا ہوا تھا روحی کی دھڑکنیں تیز ہو گئی
زار میری بات سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم ٹھیک نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے اس کے اتنے سخت ری ایکشن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس کے بازو کو دونوں ہاتھوں سے تھاما تھا زار کو چند سیکنڈ لگے اس کے ہاتھ جھٹکنے میں۔۔۔۔۔ اُسے کڑے تیوروں سے گھور کر وہ دوبارہ دروازے کی طرف بڑھا تھا درد کی پرواہ نہ کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روحی بھی اس کے پیچھے نکلی دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی ایسا تھا جیسے کسی برف پر کھڑے ہو۔۔۔خون جما دینے والی سردی تھی۔۔۔۔۔۔۔ وہ بنا شرٹ بنا جوتوں کے تھا اوپر سے حالت نازک تھی اتنی سردی کو برداشت کرنا کسی نارمل انسان کے لیے بھی ممکن نہیں تھا اس کے ہونٹ کانپتے لگے تھے روحی نے اس کے گیٹ کے باہر جانے سے پہلے ہی سامنے آکر اس کا راستہ روک دیا
زار رک جاؤ پلیز۔۔۔۔۔دیکھو خون نکل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اندر چلو۔۔۔۔۔۔۔پلیز ضد مت کرو۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے سامنے کھڑی روتے ہوئے بولی زار نے اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے سائڈ میں دھکا دیا اور اس دفعہ وہ زمین پر گری تھی لیکن زار نے اس کے گرنے کی پرواہ نہیں کی اور باہر نکل گیا روحی اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگی سنسان سڑک پر وہ لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھنے لگا بلکل کسی ضدی بچے کی طرح روحی اس کے پیچھے پیچھے چلتی رہی اُسے واپس چلنے کے لیے منانا مشکل تھا اور اُسے اس حالت میں اکیلا چھوڑنا نا ممکن تھا چند قدم چلتے ہی اس کی رفتار بلکل سست ہو گئی تھی اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھی اور سامنے کا منظر دھندلانے لگا تھا وہ رک گیا تو روحی نے جلدی سے آگے بڑھ کر اُسے تھام لیا کے کہیں زمین پر نا گر جائے اس کا ذہن سن ہو چکا تھا اس لیے وہ آنکھیں بند کئے اس کے کندھے پر سر رکھ گیا روحی نے اُسے خود سے لگائے واپس گھر کی طرف لے آئی اب بھی وہ کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا یا اس کے ساتھ جانے سے انکار کر رہا تھا کیوں کے صرف اس کے ہونٹ حرکت کر رہے تھے
💜💜💜💜💜💜💜
کوئی کام نہیں ہوتا تم لوگوں سے ایک آدمی کو نہیں ڈھونڈ سکے تم لوگ . مجھے کسی صورت وہ چاہیے ورنہ ایک ایک کو ختم کر دوں گا سمجھے
اس کے آدمی ساری رات زار کو تلاش کرتے رہے اور خود کو پولیس سے بچاتے رہے پھر بھی جب خالی ہاتھ لوٹے تو شیرا ان پر برس پڑا
شیرا اس وقت یہاں سے نکلنے کی کرو پولیس تمہیں پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہی ہے دیکھتے ہی گولی مار دیں گے تمہیں پھر کیا کرو گے کیسے مارو گے اسے
اس کے ساتھی نے اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے غصے سے کہا
اور ویسے بھی جیسی ہم نے اس کی حالت کی تھی مجھے نہیں لگتا کہ وہ اب تک زندہ ہوگا
نہیں جب تک میں اس کی لاش نہیں دیکھ لیتا اس کی موت کا یقین نہیں کرسکتا اتنی آسانی سے مرنے والوں میں سے نہیں ہے وہ
شیرا نے رخ اس کی جانب کر کے کہا اسے یقین تھا زار زندہ ہے
ٹھیک ہے میں اس کے بارے میں پتہ لگاتا ہوں وہ کہاں ہے کیسا ہے سب معلوم کرتا ہوں لیکن فی الحال تم یہاں سے چلو
اس شخص نے شیرا کو یقین دلاتے ہوئے چلنے والی بات پر زور دیتے ہوئے کہا
💜💜💜💜💜💜💜
روحی نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس کے اوپر چادر اوڑھائی اس کے ہونٹ ٹھنڈ سے نیلے پڑ رہے تھے روحی نے اس کے ہاتھ کی ہتھیلی رگڑتے ہوئے اسے گرمی پہنچانے کی کوشش کی ساتھ ہی نم آنکھوں سے اسے دیکھتی جا رہی تھی وہ ہوش میں نہیں تھا لیکن پوری طرح بے ہوش بھی نہیں تھا اس کے ہر عمل کو محسوس کر سکتا تھا
میں جانتی ہوں نفرت کرتے ہو تم مجھ سے میں تم سے نظر ملانے کے بھی لائق نہیں ہوں زار ۔۔۔۔۔۔۔۔تم بالکل صحیح ہو تمہارا غصہ بالکل جائز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔معاف کر دینا مجھے
روحی نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھا زار کا رویہ دیکھنے کے بعد اب اسے ڈر لگ رہا تھا کہ جانے ہوش میں آنے کے بعد وہ کیا کرے گا
