Rate this Novel
Episode 14
وہ گاڑی کو کافی دوری پر ہی روک کے باہر نکلا تھا وہ ایک کھلا میدان تھا جہاں شیرا اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا تھا زار اس کے بھائی کو ساتھ لیے اس کی طرف بڑھا
وہی رک جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
شیرا نے کافی اونچی آواز میں اُسے آگے بڑھنے سے روکا تھا
اچھا ہوا جو تو جلدی آگیا۔ مجھ سے اب اور انتظار نہیں ہو رہا تھا۔۔۔میرے بھائی کو میری طرف بھیج
شیرا اُسے طرح چلاتے ہے بولا تاکہ آواز اس تک پہنچ سکے
روحی کہاں ہے ۔۔۔۔۔
زار نے اس کی بات ماننے کی بجائے روحی کا پوچھا اس نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا اور وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر روحی کو باہر لے آیا شیرا نے روحی کو جانے کا اشارہ کیا وہ بھاگتی ہوئی زار کی طرف بڑھی زار نے تیجا کی ہتھکڑی کھول دی وہ اپنے بھائی کی طرف چلا گیا
روحی بھاگتی ہوئی آکر سیدھے اس کے سینے سے لگی تھی اور اس دفعہ زار نے ہر بات کو پیچھے چھوڑ کے اُسے اپنی باہوں میں مضبوطی سے قید کر لیا تھا اس کے دل کو بہت سکون ملا اس نے روحی کا چہرہ تھامتے ہوئے اوپر کیا
تم ٹھیک ہو نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا روحی نے سر دھیرے سے ہلا دیا زار نے اس کی پیشانی سے ہونٹ لگا دیے اور آنکھیں بند کر کے کھولیں
کیا اس نے تمہیں ہاتھ لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا روحی نے سر نفی میں ہلا دیا زار نے اس کا ہاتھ اٹھا کر انگلیاں لبوں سے لگائی
تم جا کر گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔۔۔اور باہر مت آنا۔۔۔۔ٹھیک ہے
اس کا ہاتھ یونہی تھامے رہا روحی نے سر ہلا دیا لیکن وہ وہاں سے ہٹ نہیں پائی کیوں کے زار نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا
جاؤ۔۔۔۔۔
اُسے رکتے دیکھ کر وہ دوبارہ بولا روحی نے اپنے ہاتھ کی جانب دیکھ کر اُسے احساس دلایا تو اس نے ہاتھ چھوڑنے کیا بجائے اُسے اپنی جانب کھینچ کر سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔۔چند پل۔اپنے دل کو سکون پہنچانے کے بعد اُسے الگ کرکے جانے کہا اشارہ کیا وہ اُسے دیکھتی ہوئی گاڑی کی طرف چلی گئی اور زار نے اس کے اندر جا کر دروازہ بند کرنے تک اُسے دیکھا
شیرا اپنے بھائی کی آزادی پر خوش ہو کر اُسے گلے سے لگائے جھوم رہا تھا زار کو اپنی جانب بڑھتا شیرا اور تیجا دونوں حیرت سے دیکھنے لگے ساتھ ہی اس کے ساتھی بھی ہوشیار ہو گئے اور اپنی اپنی بندوقیں نکال لی تیجا کمینگی سے ہنسا
آئیے۔اے سی پی صاحب۔۔۔۔۔۔
زار اُن سب پر نظر ڈالتا ہوا آگے بڑھا وہ تقریبا سترہ اٹھارہ لوگ تھے
بھیا۔۔ زار صاحب نے میری جان لینے کا عہد کیا ہوا ہے۔۔کیوں کے میرے لیے آپ نے ان کی معشوقہ کو کڑنیپ کیا۔۔۔۔۔عاشق کی جان پر بن آئی تھی اس لیے اپنا انتقام لینے آئے ہیں جناب
تیجا طنز کرتا ہوا ہنسا زار بھی اس کی بات پر دھیرے سے ہنسا لیکن رکا نہیں آگے بڑھتا رہا اپنی آستین کے بٹن کھول کر اوپر چڑھاتے ہوئے آکر اُن دونوں کے ٹھیک سامنے کھڑا ہوا
لگتا ہے تجھے زندگی پیاری نہیں جو موت کی طرف قدم بڑھا رہا ہے
شیرا نے دانت پیستے ہوئے کہا
میں تجھ سے ایک بہت ضروری بات پوچھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔بس وہی پوچھنے آیا ہوں
زار نے اطمینان سے کھڑے ہو کے دونوں ہاتھ جیب میں رکھتے ہوئے کہا دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو سنجیدگی سے دیکھا
سچ سچ بتا۔۔۔۔۔۔۔ تو مرد ہی ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔
اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار کی بات پر تیجا غصے سے اس کی طرف بڑھا لیکن شیرا نے ہاتھ آگے کر کے اُسے روک دیا
کیوں کے اگر تو سچ میں مرد ہوتا تو اپنے مطلب کے لیے ایک لڑکی کو استعمال نہیں کرتا ۔۔۔مرد کی طرح مجھ سے سامنا کرتا۔۔۔۔
زار نے تلخی سے کہا شیرا چپ رہ کر اُسے دیکھنے لگا
یا تجھ میں ہمت ہی نہیں ہے مجھ سے مقابلہ کرنے کی
ہمت اور طاقت کا پتہ تو تب چلے گا بیٹا۔۔۔۔۔جب تیرا شیرا سے سامنا ہوگا
اس کی باتیں شیرا کو غصّہ دلا رہی تھی
تو دیر کس بات کی۔۔۔۔۔جگہ کافی اچھی ہے ۔۔۔۔مجھے میرے سوال کا جواب بھی مل جائے گا اور شاید تیری عزت بھی رہ جائے
سوچ لے کہیں یہ تیری زندگی کا آخری دن اور آخری مقام نا بن کر رہ جائے
تو اپنی سوچ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر ہار گیا تو
تو جو تو کہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیرا مانے گا
زار اس کی بات پر دھیرے سے ہنسا لیکن اگلے ہی پل سنجیدہ ہوا
اگر تو ہار گیا تو میں تیرے بھائی کو مار دوں گا
ایک جست میں اس نے یہ جملہ کہا تھا اور شیرا سمیت سب حیران ہو کر اُسے دیکھ رہے تھے شیرا نے ہاتھ اٹھا کر ایک گھونسا اس کے منہ پر مارا تھا اور وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا تھا اس حملے کے لیے وہ ہرگز تیار نہیں تھا اس کے ہونٹ کے کنارے سے خون نکلا تھا جسے ہاتھ سے رگڑ کر تھوڈی تک پہنچنے سے روکا تھا شیرا اس کی جانب بڑھا اس کے اوپر اگلا وار کرتا اس کے پہلے زار نے اس کی مٹّھی کو ہاتھ سے پکڑ کر روک دیا تھا اور لات اس کے پیٹ میں مار کر اُسے زمین پر گرایا اس کے گرنے کے ساتھ ہی شیرا کے سب ساتھی بندوق زار کی جانب کیے آگے بڑھنے لگے تھے کے شیرا نے اُنہیں ہاتھ دکھا کر روک دیا
رکو۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی بیچ میں نہیں آئے گا۔۔۔۔بندوقیں نیچے رکھ دو۔۔
وہ زار کو زخمی شیر کی طرح گھورتے ہوئے بولا زار نے اُسے داد دینے والے انداز میں دیکھا شیرا اٹھ کر اس کی جانب بڑھا دونوں میں کافی دیر تک یہ جنگ چلتی رہی شیرا سے لڑنا اس کے لیے آسان نہیں تھا وہ اس کے مقابلے کا تھا لیکن وہ اس کا سامنا کرتا رہی شیرا نے اس پر کئی وار کیے تھی اور زار نے ہر وار کا جواب دوگنا دیا تھا جس نے شیرا کی حالت خراب کر دی تھی تبھی وہ وار کرنے کے قابل نہیں رہا زار کے مکے اور مکے کھاتا جب گرا تو اٹھنے کے لائق بھی نہیں رہا زار نے اپنی بندوق نکال کر اس کے سے پر تان دی وہ گھبرایا ہوا اُسے دیکھنے لگا اور اس کے ساتھی بھی لیکن زار نے اس پر گولی نہیں چلائی بلکہ بندوق کا رخ بدل کر اس کے بھائی کی جانب کیا
اے۔۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔نہیں
شیرا اُسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس میں اتنی جان نہیں تھی کے اٹھ بھی پائے
اس کے پہلے کے تیجا بھاگ کر اپنی جان بچاتا گولی گن سے نکل کر اس کے سینے کے پار ہو چکی تھی وہ اگلے دو سیکنڈ میں زمین پر گرا تھا اس کے ساتھیوں نے بندوقیں اٹھا کر اس کی جانب کی تھی اور اتنی ہی تیزی سے زار نے اپنی گن کا رخ شیرا کے سر پر کیا تھا
اپنے ہتھیار پھینکو۔ ۔۔۔۔۔۔ورنہ تم لوگوں کے باپ کو مار کر تم سب کو یتیم کر دوں گا
وہ دھاڑا تھا اور اُن لوگو نے دوبارہ ہتھیار پھینک دیے تھے زار نے اپنا فون نکال کر پولیس کی ٹیم کو بلایا شیرا بیٹھ کر زمین پر رینگتا ہوا اپنے بھائی تک پہنچا اور با آواز روتے ہوئے اس کا سر اپنے پیر پر رکھا
کیا ہوا۔۔۔۔۔بہت تکلیف ہو رہی ہے
زار اس کے سر پر بندوق لگائے کھڑا تلخیء سے بولا
اب پتہ چلا کے کسی اپنے کی موت کا غم کیا ہوتا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہی غم دیتا آیا یے نا تو آج تک لوگوں کو۔ ۔۔۔کسی ماں سے اس کا بیٹا چھین کر ۔۔۔۔۔کسی بہن کے بھائی کی جان لے کر۔۔۔۔۔۔کسی معصوم بچے کو یتیم کرکے ۔۔۔۔محسوس کر ان سب کی تکلیف کو ۔۔۔۔۔۔محسوس کر
زار نفرت سے کہتا ہوا اس کی طرف جھکا تھا کچھ ہی دیر میں وہاں بہت سارے سپاہی اور افسر بھی پہنچ گیے تھے اور شیرا کے تمام ساتھیوں کو گرفتار کر لیا تھا زار نے شیرا کو گردن سے پکڑ کر اٹھایا اور انسپکٹر کے حوالے کیا شیرا اسے زخمی شیر کی طرح دیکھ رہا تھا
میں چھوڑوں گا نہیں تجھے۔۔۔۔۔۔مجھے سکون اب تیری موت سے ہی ملے گا۔۔۔۔۔میرے یاتھوں ہی مرے گا تو ۔۔۔۔خدا بھی تجھے نہیں مار سکتا۔۔۔میری زندگی کا مقصد صرف تیری موت یے۔۔۔اج میں اپنے ہاتھوں میں تیری موت کی۔لکیر بناتا ہوں
وہ زار کو دھمکاتا ہوا بولا ایر اپنی ہتھیلی آگے کرکے دوسرے ہاتھ کے ناخن سے لکیر بنانے لگا
لے جاو اسے۔۔۔۔۔۔
زار نے۔لاپرواہی سے سر جھتکتے ہوے کہا انسپکٹر شیرا کو کھینچتا ہوا ساتھ لے گیا لیکن وہ انکھوں ہی آنکھوں میں اسے دھمکانا نہیں بھولا
