Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

پاپا کہاں لے جا رہے ہیں آپ مجھے
بنا کچھ کہے وہ اُسے صبح صبح گاڑی میں بٹھائے کہیں لے جا رہے تھے کل کے تماشے کی۔خبر اخبار میں بھی چپ چکی تھی اور عباس صاحب سے بھی اُنہیں کافی سنا پڑا تھا

ایئرپورٹ۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے مختصر سا جواب دیا
آپ آج کے آج ہی سنگاپور جا رہی ہے

کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب
روحی نے اُنہیں بے یقینی سے دیکھا اُسے یقین نہیں ہو رہا تھا کے اس کے پاپا کبھی اس کے ساتھ اتنے بھی سخت ہو سکتے ہیں

آپ کی بھلائی کے لیے۔۔۔۔۔

اس وقت آپ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے آپ کا دماغ خراب ہو چکا ہے۔۔۔اسی لیے آپ کا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے
انہوں نے اپنا جواب دے کر اُسے خاموش کر دیا وہ اُن کی جانب دیکھتی آنسو بہانے لگی

آپ کے آنسووں کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہونے والا ہم نے آج تک کوئی کسر نہیں چھوڑی آپ کی ہر ضد ہار خواہش ہر ضرورت کو آپ کی زبان تک آنے سے پہلے پورا کیا ۔۔۔ہم نہیں جانتے تھے کے ہمیں اس کی ایسی سزا ملے گی۔۔۔۔۔۔اب ہم آپ کے آگے کمزور پڑ۔کر آپ کا۔مستقبل برباد نہیں ہونے دے گے

زار کے بنا میرا کوئی مستقبل نہیں ہے۔۔۔مجھے اس سے میلوں دور تو بھیج سکتے ہیں آپ لیکن میرے دل۔سے نہیں نکال سکتے اُسے
اس فوراً جواب دیا تھا اپنے دکھ کو پیچھے رکھ کے سختی دکھاتے ہوئے اُن کی گاڑی سنسان سڑک پر دوڑ رہی تھی اور پیچھے ہی ایک اور گاڑی اُن کے ساتھ چل رہی تھی صبح کی سرد ہوا بھی اُسے متاثر نہیں کر رہی تھی وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی صرف زار کے بارے میں سوچ رہی تھی
گاڑی ائرپوٹ پر آکر رکی ڈرائیور نے دروازہ کھولا دونوں باہر نکلے

ہم دشمن نہیں ہے آپ کے۔۔جو کر رہے ہیں۔۔۔آپ کی بھلائی کے لیے کررہے ہیں۔۔۔۔آپ کا اچھا برا آپ سے زیادہ سمجھتے ہے۔۔۔۔۔۔بھلے ہی آج آپ ہمیں غلط سمجھے ۔۔۔لیکن ایک دن آپ کو احساس ہوگا کے ہم نے جو کیا صحیح کیا۔۔۔۔
اس کے مقابل کھڑے ہو کر وہ نرمی سے بولے روحی سر جھکائے کھڑی رہے انہوں نے اس کی پیشانی پر پیار کیا

رحیم اور فرحانہ آپ کے ساتھ جائے گے۔۔آپ کا خیال رکھنے کے لیے۔۔۔اور ہم نے آپ کی پھپھو سے بھی بات کر لی ہے آپ اُن ہی کے گھر رہے گی
دوسری گاڑی سے آتے ملازموں کو دیکھ کر بولے اس نے کوئی جواب نہیں دیا نا اُن کی طرف دیکھا بس اندر چلی گئی اور رحیم اور فرحانہ بھی اس کا سامان لیے اس کے پیچھے چل دیئے

💜💜💜💜💜💜

زار کو جب پتہ چلا کے وہ اس سے دور جانے والی ہے وہ بنا وقت ضایع کیے ایئرپورٹ پہنچا ۔۔۔۔۔روحی اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ گئی وہ اُسے بتانا نہیں چاہتی تھی کیوں کے کل کی طرح پھر اُسے مار پیٹ کرتے نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن وہ معلوم کے ہی لیتا تھا روحی کو دیکھ کر وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھائے اس کی طرف بڑھا اس تک۔پہنچنے سے پہلے کچھ ہی فاصلے پر رحیم سامنے آگیا اس کا راستہ روکنے کے لئے ۔۔۔۔۔۔۔زار نے روحی سے نظریں ہٹا کر اُسے دیکھا قہر برساتی نظریں ہی اُسے پیچھے ہٹانے کو کافی تھی روحی اب کے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے سینے سے لگ گئی زار بس کھڑا رہا بنا اُسے تھامے

پاپا مجھے سنگاپور بھیج رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسی طرح اُس سے لگے بولی زار نے اُس کے بازؤں سے تھام کر اُسے سیدھا کیا

اور تم جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں خفگی سے دیکھتے ہوئے پوچھا خفگی اس بات کی کے اُسے روحی نے کیوں نہیں بتایا اور جانے کے لیے تیار کیسے ہو گئی

میں کیا کروں زار۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بےبسی سے دیکھتے ہوئے بولی

میرے ساتھ چلو۔۔۔۔۔۔

۔۔۔میں تمہارے پاپا سے بار بار مقابلہ نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔لیکن تمہیں کھو بھی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ چلو روحی۔۔۔۔۔۔پیار کرتی ہو نا مجھ سے
وہ اُس کے سامنے ہاتھ بڑھا کر بولا روحی نے اُس کے ہاتھ کو دیکھا پھر اُسے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے ہی تھے کے زار نے اُن پر انگلی رکھ کر خاموش کر دیا

کسی کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہمارا ساتھ کبھی نہیں دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں کبھی نہیں سمجھے گے۔۔۔۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں یہ راستہ غلط ہے مگر۔۔۔صحیح غلط مت سوچو۔۔۔۔صرف اتنا سوچو کے میں پیار کرتا ہوں تم سے اور تمہیں خود سے کسی قیمت پر دور نہیں کر سکتا
زار جانتا تھا کے وہ کیا کہنے والی ہے اُس کے بنا کہے ہی اُس کے ہر سوال کا جواب دے دیا روحی اس کشمکش میں تھی کے کیا کرے کیا نا کرے لیکن زار کے آخری جملے نے اُسے ہاتھ بڑھا کر اُس کے ہاتھ میں دینے پر مجبور کیا زار اُسے لیے وہاں سے نکل گیا اور ملازم نے جلدی سے عزیز صاحب کا نمبر ملایا کیوں کے زار کو روک پانا اُس کے اکیلے کے بس کا نہیں تھا

💜💜💜💜💜💜💜

تمہیں اس طرح روحی کو نہیں لانا چاہیے تھا زار
رفعت پہلے تو اُسے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں پھر پوری بات معلوم ہونے اور پریشانی سے بولیں

تو میں کیا کرتا امی۔۔۔۔۔کیسے جانے دیتا اسے ۔۔۔۔۔۔اگر وہ لاکھ کوشش کے بعد بھی ہمیں سمجھنے کو راضی نہیں ہے تو میں کیوں صحیح غلط کا لحاظ کروں۔۔۔۔میں روحی کو کھونا نہیں چاہتا اسی لیے اب وہ کہیں نہیں جائے گی یہیں رہے گی ہمارے ساتھ
روحی اُن دونوں کی بات سے لاپرواہ صوفے پر کھوئے کھوئے سے انداز میں بیٹھی تھی

تم اسے یہاں نہیں رکھ پاؤ گے زار۔۔۔۔۔۔اُن کی بیٹی ہے یہ۔۔۔۔۔۔وہ کبھی بھی آکر اسے یہاں سے لے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ہم اُنہیں نہیں روک پائے گے۔۔۔۔۔

تو آپ کیا چاہتی ہے ۔۔۔۔جانے دوں روحی کو۔۔۔۔۔ہار مان لوں میں۔۔۔۔۔۔جو وہ چاہتے ہیں اُسے قبول کر لوں
نہیں امی ۔۔۔۔ایسا نہیں کر سکتا میں۔۔۔۔۔۔۔روحی اب اُن کے ساتھ نہیں جائے گی ۔۔۔وہ جو کر سکتے ہیں کر لیں میں تیار ہوں اُن کا سامنا کرنے کے لیے

اگر تم نے طے کر ہی لیا ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔لیکن فلہال روحی کو لے کر کہیں دور چلے جاؤ جہاں یہ لوگ تمہیں ڈھونڈھ نا سکے
رفعت اُسے سمجھانے کی ناکام کوشش کرنے کی بجائے دوسرا حل بتاتے ہوئے بولیں جانتی تھی یہاں رہنا دونوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے

لیکن کیوں ۔۔میں نے کچھ غلط نہیں کیا پھر میں کیوں بھاگوں۔۔۔۔۔اُنہیں جو کرنا ہے کر لیں میں۔۔۔۔۔۔

سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔میں جانتی ہوں تم لڑنے سے پیچھے نہیں ہٹوگے لیکن روحی کا سوچو بار بار تم اس کے پاپا کے خلاف کھڑے اُن کا سامنا کرو یہ نہیں اچھا لگتا ہوگا اُسے ۔۔۔۔
رفعت اُس کی بات کاٹ کر بولیں زار نے روحی کی طرف دیکھا جو اب بھی خاموش زمین کو تک رہی تھی

ٹھیک ہے ۔۔۔۔ آپ بھی چلیے ہمارے ساتھ

میں۔۔۔۔۔۔۔
رفعت نے حیرت سے پوچھا

میں آپ کو یہاں اکیلے چھوڑ کر نہیں جا سکتا امی۔۔۔۔وہ لوگ مجھے ڈھونڈھنے کے لیے آپ کو ٹارچر کر سکتےہیں۔۔۔۔آپ ہمارے ساتھ ہی چلیے

ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفعت اُس کی بات سمجھتے ہوئے سر ہلاتی اندر چلی گئی زار نے روحی کو دیکھا اور آکر اُس کے قریب بیٹھا

کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے کندھے پر لب رکھتے ہوئے اُسے متوجہ کیا

کیا ہم صحیح کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی نے اُسے خالی نظروں سے دیکھا

تمہیں بھروسہ ہے نا مجھ پر۔۔۔۔۔۔۔
زار نے اُسے بہت غور سے دیکھا

خود سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک پل میں ہی جواب اُس کے دل سے نکلا تھا

پھر ڈرو مت۔۔۔۔۔۔چلو
زار نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا

💜💜💜💜💜💜💜

گاڑی روکو زار۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ شہر سے کافی دور پہنچ ہے تھے جب رفعت کے کہنے پر اُس نے گاڑی روکی اور پیچھے دیکھا روحی بھی اُن کے ساتھ پیچھے ہی بیٹھی تھی

کیا ہوا سب ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاہے ہم کہیں بھی چلے جائیں جس دن انہوں نے تم دونوں کو ڈھونڈھ لیا وقت نہیں لگائے گے الگ کرنے میں ۔۔۔۔اور تم کس حق سے روکو گے اسے ۔۔۔۔۔جب لوگ سوال اٹھائے گے کیا جواب دوگے کی کیا رشتہ ہے تم۔دونوں میں
اُن کی اس اچانک بات پر زار کے ساتھ روحی نے بھی اُنھیں حیرت سے دیکھا

۔اس لیے تم دونوں اپنے رشتے کو مضبوط کرلو۔۔۔نکاح کرکے
وہ اپنی بات پر مسکرائی اور زار اور روحی نے ایک دوسرے کو سنجیدگی سے دیکھا

اس کے بعد یہ چاہے تو بھی تم دونوں کو الگ نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔
رفعت نے روحی کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا

نکاح کروگی مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زار اُس کی جانب دیکھ کے دھیرے سے مسکراتا ہوا بولا بدلے میں وہ بھی مسکرا دی
💜💜💜💜💜💜💜

وہ اُسے اپنے ساتھ زندگی بھر کے لیے جوڑ چکا تھا اپنی محبت کو رشتے کا نام دے چکا تھا پچھلے کچھ گھنٹوں کی ساری پریشانی کہیں گم تھی چہرے پر خوشی تھی جب وہ مسجد سے باہر نکلا روحی اور رفعت ریستوران نے بیٹھی تھی اُس کا فون بجا تو وہ وہاں سے نکل کر گاڑی تک آیا اور فون کان سے لگایا

What the hell are you doing zaar
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔۔۔منسٹر صاحب کی بیٹی کو کہاں لے کر گئے ہو تم
کمشنر کے الفاظ اُس کی توقع کے عین مطابق تھے

اُن کی قید سے دور۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاگل باتیں مت کرو۔۔۔مجھے یقین نہیں ہو رہا تم جیسا پریکٹیکل انسان اس طرح کی فضول حرکتیں کر رہا ہے۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے بات بگڑے روحی کو لے کر واپس آؤ منسٹر صاحب سے معافی مانگو اور بات ختم کرو کم سے کم اپنی نوکری کے بارے میں سوچو۔ ۔۔

مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے ہر نقصان کے لیے تیار کر لیا ہے خود کو اب تو جان جائے یا جہاں جائے

تمہاری ساری دیوانگی نکل جائے گی اگر اُن کے ہاتھ لگ گئے تو سارے ڈیپارٹمنٹ کو تمہیں ڈھونڈھنے پر لگا دیا ہے وہ اپنی بیٹی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں
اور میں اپنی محبت کے لیے ہر حد پار کر سکتا ہوں

وہ فون بند کرتے کرتے رکا اور دوبارہ کان سے لگایا

اور ہاں منسٹر صاحب کو ایک خوشخبری سنا دیجئے گا ۔۔۔اُن کی بیٹی اب میری بیوی ہے نکاح ہو چکا ہے ہمارا۔۔ اسلئے۔اب اس کی فکر چھوڑ دیں وہ میری ذمےداری ہے

یہ کیا بے وقوفی کر دی تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمشنر کی بات ادھُوری سن کر اُس نے کال کاٹ دی پھر فون بند کر دیا اور سیٹ پڑ پھینک کر اندر چل دیا
💜💜💜💜💜💜💜💜