547.5K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Safaid Ishq Episode 9

Safaid Ishq by Sania Saeed

سلمان شاہ کو حویلی سے گئے ہفتہ گزر چکا تھادادا سائیں سمیت گھر کا ہر فرد جانتا تھا کہ یہ سلمان شاہ کا اپنی ضد پوری کروانے کا طریقہ ہے………..دادا سائیں سوچ سوچ کر پریشان ہورہے تھے……کہ آخریہ سب کیسے ہو گیا مگر اس بار وہ بھی ضد پر اڑ چکے تھے وہ سلمان کی کوئی بےجا ضد نہیں مانیں گے کیونکہ اس بار نشانہ انکی رسم و رواج تھا اپنے رسمورواج کے لئے تو وہ اپنی جان تک قربا ن کرسکتے تھے تو کیا وہ اپنی اولاد قربان کرنے کاحوصلہ رکھتے تھے…………….؟؟ یہ سوچ ایک ظالم وڈیرے کو بھی کمزور کرنے والی تھی وہ ایک پوتا گنوا چکے تھے کیا وہ دوسرا پوتا قربان کرنے کا حو صلہ رکھتے تھے……..وہ بیٹھے بیٹھے سوچ میں گم تھے جب مردان خانے میں عباد شاہ داخل ہوا.دادا سائیں آپ حکم کریں…..سلمان شاہ کو ابھی آپکے پاس لے آوں زندہ یا مردہ……عباد شاہ دادا سائیں کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہی اپنی بات کا آغا کر چکا تھا….

بکواس بند کرو اپنی عباد شاہ……دادا سائیں غرائے تھے…..تمہاری ہمت کیسے ہوئی سلمان شاہ کے لئے ایسی بات کرنے کی….

پر دادا سائیں اس نے ہمارے دلاور کی بیوہ پر غلط نگاہ ڈالی….اسے شرم نہیں آئ….

عباد شاہ وہ ہمارا اور سلمان کا مسئلہ تم اپنے کام سے کام رکھو….عباد شاہ پیر پٹخھتے مردان خانے سے نکل گیا تھا…..

پہلی بار زندگی میں پیر بخش شاہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا ….

کیونکہ ان کے سامنے اس بار حریف انکا جان سے پیارا پوتا تھا.

##########:::::#####::::::::::#########::###

ابیہا پچھلے ایک ہفتےسے اپنے کمرے کی ہو کر رہ گئی تھی…..کیونکہ ایک بدفع وہ کمرے سے باہر نکلی تھی….پر حویلی والوں کی نظروں اسے اپنے لئے شک کا بیج نظر آیا تھا…سب اسے شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے جیسے اس سب میں اسکا اپنا ہاتھ ہو….جیسے اس نے سلمان شاہ کو کہا ہو وہ ایسا کرے…وہ ناداں تو اس سب سے حویلی والوں کی طرح انجان تھی…ابیہا سب کی کاٹ دار نظریں برداشت نہیں کر پائی تھی….اس دن کے بعد وہ کمرے سے نہیں نکلی تھی…..ملازمہ اسے کھانا دے کر چلی جاتی تھی………..وہ اس ہفتے میں اپنے رب کے بہت قریب ہوگئی تھی….نماز…دعائیں…تہجد…..کوئ ایسی عبادت نہیں تھی جو اس نے نہ کی ہوں….اب وہ سب کچھ اپنے اللہ پر چھوڑ چکی تھی…..جب انسان اپنا فیصلہ اپنے اللہ پر چھوڑ دیتا ہے تو وہ پر دسکون ہو جاتا ہے…..

مگر سلمان شاہ کے لئے اسکے دل میں قدورت پیدا ہوگئی تھی جو اب شاید ہی جلدی مٹ سکے….ابیہا کے دل میں سلمان شاہ کےلئے ناپسندیدگی کا جذبہ جنم لے چکا تھا جو وقت کے ساتھ ختم ہو سکتا تھا.

#######””””””””########:::::::::؛::::::::###########::::::::::::

دادا سائیں ……داداسائیں….سلمان شاہ پورے آٹھ دن بعد حویلی آ چکا تھا اور آتے ہی حویلی میں دادا سائین کی گردان شروع کر چکا تھا….سامنے برآمدے سے آتی بھابھی سے اسکا سامنہ ہوا تھا جس نے اسے فورأ سلام کیا تھا……..سلمان بھا آپ بیٹھے تو اتنے دن بعد آئے ہیں میں چائے بنواتی ہوں……سلمانشاہ کو دیکھ کر اسنے کہا تھا……چائے کی کوئ طلب نہیں ہگ مجھے بھابھی سائیں……دادا سائیں کہاں ہیں مجھے ان سے ملنا ہے وہ مردان خانے میں بھی نہیں تھے……اسنے انہیں ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے پوچھا تھا…….وہ دادا سائیں نے اپنے کمرے میں آرام کر رہے ہیں …….اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے سلمان دادا کے کمرے کی طرف قدم بڑھا چکا تھا….. .اسنے دروازہ نوک کیا اور اندر داخل ہوگیا تھا……اسلام علیکم دادا سائیں…..

کمرے میں داخل ہوتے ہی اسنے سلام پیش کیا تھا…..دادا سائیں جو اپنے ہاتھ میں کوئی کتاب تھامے کھڑے تھت ایک دم چونکے تھے…دادا سائیں کیسے ہیں آپ وہ ایک ان کے گلے لگا تھا……..اور انہیں پہلے بیٹھایا صوفے پر پھر خود بھی ساتھ میں بیٹھا تھا……

کیا سوچاآپ نے پھر…..وہ فورا مدعے پر آیاتھا

کس بارے میں….دادا سائیں انجان بنے تھے

آپ بہتر جانتے ہیں میں کس بارے میں مخاطب ہوں دادا سائیں…….وہ بھی کوئ لحاظ رکھے بغیر بولا تھا…

وہ میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں سلمان شاہ ایسا ممکن نہیں ہے یہ تمہاری بلاوجہ کی ضد ہے……دادا سائیں نے بھی صاف لفظوں میں کہا تھا…

میں نے آپ سے کہا تھا آپکو یہ کر نا ہوگا دادا سائیں……سلمان شاہ پھر سے ضد پر آڑا تھا اپنے جوتے کی نوک سے غصہ سے قالین کو کچلا تھا……

سلمان شاہ میری جان تم سمجھوں اپنے دادا کی بات کو ایسا ممکن نہیں ہے یہ ہماری رسم و رواج نہیں ہے…….اب کی بار دادا سائیں نے پیار کا پینترا اپنایا تھا اسے سمجھانے کے لیے….

دادا سائیں جب اسلام ایک بیوہ کو دوسری شادی کی اجازت دیتا ہے تو آپ کوں ہوتے ہیں منا کرنے والے…سلمان شاہ نے اس بار مضبوط جواز پیش کیا تھا….

تمہیں آج تک کسی بات میں اسلام نہیں آیا آج اپنے مفاد کے لئے اسلام کا بتا رہے ہو ہمیں سلمان شاہ….دادا سائیں نے ابرو اچکا کر سلمان کو دیکھا تھا…….

دادا سائیں مجھے ابیہا چاہیئے بس چاہیئے .تو چاہیئے……

.

….سلمان شاہ انکی بات کو خاطر میں لائے بنا اپنی بات پر ابھی بھی قائم تھا…وہ ابیہا کے بارے میں ایسےبات کر رہا تھا جیسے وہ کوئی چیز ہو…..

سلمان شاہ ایسا ممکن نہیں ہے تم کسی بھی لڑکی پر ہاتھ رکھو ہم شام سے پہلے اسے تمہارے پاس لے آئیں گے مگر ابیہا نہیں….دادا سائیں نے تحمل سے ایک بار پھر اسے سمجھانا چاہاتھا……..

دادا سائیں صرف و صرف ابیہا…..وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور طیش کے عالم میں دروازے کی طرف بڑھاتھا پر اسکے قدم ایک لمحے کو تھمے تھے…..وہ مڑا تھا…..

دادا سائیں شام تک کوئی فیصلہ کر لیجیئے گا ورنہ یا تو میں نہیں یا پھر ابیہا نہیں….وہ میری ہے صرف و صرف میری……..اپنی بات کہہ کر وہ جا چکا تھا….

داداسائین کو ایک مرتبہ پھر سوچو کے گرداب میں چھوڑ کر وہ چلا گیا تھا وہ اب ڈر رہے تھے اسکی باتوں سے انہوں نے آج تک خود کو اتنا بے بس نہیں پایا تھا جتنا وہ سلمان شاہ کے سامنے خود کو پا رہے تھے…..

شاید محبت چیز ہی ایسی ہے پھر وہ انکا خون بھی تھا…….یہ بڑے جوگھروں کے ہوتے بیٹوں پر آنچ نہیں آنے دیتے چاہے ان کے لئے انہیں اپنی بیٹیاں کیوں نہ قربان کرنی پڑیں…….دادا سائیں اب واقعی میں پریشان ہوچکے تھے…##########